گلی کی نکڑ پر آخری مکان


zahid hassanلاہور میں شملہ پہاڑی سے گڑھی شاہو جاتے ہوئے کوئین میری سکول کے اختتام پر ایک گلی دائیں کو داخل ہوتی ہے۔ اردگرد کم و بیش ایک ہی جتنے رقبے پر بنے مکانوں میں آباد لوگوں سے تعارف کرواتے ہوئے آپ کو دور تک لیے چلی جاتی ہے۔ یہ ’دولتانہ ہاﺅس‘ ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ ایک ’دولتانہ ہاﺅس ‘ میں کئی گھر آباد ہیں۔ ان گھروں میں سے ایک گھر میں نسرین انجم بھٹی اور زبیر رانا رہائش پذیر تھے۔ نسرین انجم بھٹی اور زبیر رانا لاہور کے ان گنے چنے کرداروں میں سے تھے جن کی شخصیات کے اردگرد ایک پراسرار اور بھید بھرا ہالہ برقرار رہتا ہے۔ زبیر رانا نے عشق کا جو مارکسی تصور دیا تھا۔ نسرین انجم بھٹی، کراچی میں 26 جنوری 2016 ءکے دن اپنی موت تک اس تصور کے ساتھ دل و جان سے وابستہ رہیں۔ ”نیل کرائیاں نیلکاں“ ’بن باس‘ اور ’اٹھے پہر تراہ‘ کی یہ منفرد لب و لہجہ رکھنے والی شاعرہ کس قدر زندگی سے مطمئن نظر آتی تھی۔ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود اس کی ذات کا وہ سکون، وہ دھیما پن اس کے ساتھ رہا۔

ابھی پورا برس بھی نہیں بیتا جب فہمیدہ ریاض ایک ادبی میلے میں شرکت کرنے کے لیے آئیں۔ ملاقات پر کہنے لگیں ۔ ’زاہد! میں آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے لیے بعض سینئرز ادبا سے بچوں کے لیے کہانیاں لکھوانے کی ذمہ داری لے بیٹھی ہوں۔ اس کے لیے نسرین انجم بھٹی اور الطاف فاطمہ کے ساتھ ملنا چاہتی ہوں اور ان دونوں کے یہاں تم میرے ساتھ چلو گے“۔ دوسرے روز دونوں کے یہاں جانے کا ارادہ بندھا۔ Nasreen-Anjum-Bhatti-1شام کو زاہد نبی نے بتایا کہ ”نسرین کی صحت کے حوالے سے صورت حال بے حد پیچیدہ ہے۔ انہیں دوسرے تیسرے روزکیمو تھراپی کے لیے جانا پڑتا ہے۔ بہرحال میں مناسب صورت حال معلوم کر کے تم سے رابطہ کرتا ہوں“۔ دوسرے روز، دونوں خواتین سے ملاقات ہو گئی لیکن نسرین وہ نسرین، ہر گز نہیں تھیں جس سے میں واقف تھا۔ فہمیدہ ریاض بار بار نسرین کا نام پکارتیں اور آہ بھرتیں۔ بالآخر نسرین کہانیاں لکھنے کے لیے رضامند ہو گئیں۔ اس کے معاشی حالات کچھ ایسے تھے کہ اسے رضامند ہونا پڑا اور اس نے ایک کہانی لکھی۔ اور ابھی دو ماہ پہلے ہی تو فہمیدہ ریاض صاحبہ اور میں اس سے دوبارہ ملنے گئے تھے۔ فہمیدہ، ان سے دستخط لینا چاہتی تھیں …. پھر پتہ چلا کہ ’دولتانہ ہاﺅس‘ میں جاتے ہوئے گلی کی نکڑ پر بائیں سمت میں آخری مکان کی یہ کرایہ دار اپنی بہن کے ساتھ کراچی چلی گئی ہیں۔ وہاں ان کا علاج جاری رہا اور پھر 26 جنوری کی صبح ساڑھے دس بجے کے قریب کراچی سے آصف فرخی کا فون آیا۔ کہہ رہے تھے ’آج علی الصبح نسرین کا انتقال ہو گیا ہے۔ دوست احباب کو مطلع کر دو۔ ابھی اس کے دفن کی جگہ کے بارے میں طے نہیں ہوا“۔ نسرین انجم بھٹی، ہم سے ایک نظم کے مصرعوں کی طرح اوجھل ہوئیں۔ عین اس روز جب اس کی سالگرہ کا دن تھا۔ لاہور کی امانت جو کراچی کے سپرد کی گئی تھی۔ اس سے کوئی پوچھنے والا بھی نہیں کہ ’سالگرہ منانے کا یہ کون سا طریقہ ہے؟‘


Comments

FB Login Required - comments