گل امید فروزاں رہے تیری خوشبو


tahir bhattiایک چھوٹے زمیندار نے پانچ ایکڑ کے کھیت میں کماد بو رکھا تھا جس میں سور گھس گئے۔ اس نے کوک فریاد کی تو بستی اور ارد گرد کے ڈیروں سے کوئی سو ڈیڑھ سو لٹھ بردار، آٹھ دس بندوقچی ، پچیس تیس کتے اور تماش بین لونڈوں لپاڑیوں کا ایک غول اکٹھا ہوا اور ایک ہڑبونگ مچا کر ایک طرف سے داخل ہوا اور سوروں کو مارنے کی کسی معقول حکمت عملی کے بغیر ان کو بھگانے لگا۔ سور آگے آگے اور بے حکمت ہجوم پیچھے پیچھے….

کچھ ہی دیر میں سارا کماد روند ڈالا گیا اور سور بھاگ کے ساتھ والے بیلے میں گھس گئے۔ کسان نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو سارا کماد لمبا لیٹا ہوا ہے یعنی پورا تباہ ہو گیا ہے۔ تاسف میں ڈوبا ہوا ایک جملہ اس کے منہ سے نکلا کہ” سوراں ولوں وی گئی تے ٹانڈے وی نہ بچے” مطلب یہ کہ سوروں سے بھی بگڑ گئی اور فصل بھی نہ بچ سکی!

ہمارے ملک میں بیانئے کی جو مٹی پلید ہو رہی ہے وہ اس کسان کے کماد سے کم نہیں۔ آپ کے دیکھتے دیکھتے بیڑے غرق ہو رہے ہیں اور ہر مصیبت کے بعد آپ کو ایک نئی اصطلاح چاہئے ہوتی ہے۔ باچا خان کی فلاسفی اور مودودی صاحب کا جہاد، جناح صاحب کی گیارہ اگست کی تقریر اور دولتانہ کا یو ٹرن، ایوب خاں کا ون یونٹ اور یحی خاں کے قومی ترانے، بھٹو کی دوسری ترمیم اور ضیا کا XX آرڈیننس مجریہ 1984۔ اسحق خاں کی وفا اور فاروق لغاری کی بے وفائی، مشرف کے آپریشن اور زرداری کی مفاہمت، مولوی عبدالعزیز کی کارکردگی اور چوہدری نثار کی پھرتی اور آخر پر وزیر اعظم صاحب کی معاملہ فہمی اور چیف صاحب کا استغنا….

یہ ہمارے کارناموں کی فہرست ہے اور اس میں سارے فلسفے اور حکمت عملیاں گوندھ کر جو بیانیہ ہمارے سر پہ چڑھ کر ناچ رہا ہے وہ یہ کہ

ہمارے پاس خارجہ پالیسی کوئی نہیں بلکہ ڈنگ ٹپاﺅ انداز سے کام چلا رہے ہیں۔
داخلی طور پر وہ تضاد کہ الامان….
ٹیچروں کے ہاتھ میں بندوق دے کر فوج کو ذہن سازی کا فریضہ سونپنے کی دھن میں ہیں۔
میڈیا اپنے ملک کا چوتھا ستون بننے کی بجائے پانچواں کالم بننے کے چکروں میں ہے اور کالموں اور مکالموں پہ وہ وقت آ پڑا ہے کہ
فضائے شہر عقیدوں کی دھند میں ہے اسیر۔
نکل کے گھر سے اب اہل نظر نہ جائیں کہیں.

اچھے خاصے دبنگ بولنے اور لکھنے والے ہوتے ہیں اور فساد کی جڑ اور ظلم کے گڑھ کا ذکر آتے ہی ہکلانے لگتے ہیں۔ بھائیو! اس سے پوچھو کی قرآن کریم نے تو حکم دیا ہے کہ ” جب انسانوں پر حکومت کرو تو عدل سے کرو اور شریعت اپنے آپ پر نافذ کرو اور جتنی مرضی کرتے جاﺅ لیکن دوسروں پر بالجبر اجازت نہیں“۔

دوسرا یہ کہ ریاست طبقات اور گروہوں کے درمیان حکم ہے، فریق نہیں اور عدلیہ فیصلے سنایا کرے، محفوظ نہ کیا کرے کہ اس سے دھڑوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اپنے مریض کے مذہب کو دیکھ کر دوائی نہیں دیتا تو قانونی دادرسی بھی اسی پیشہ وارانہ دیانت سے کرنی ہو گی۔ اپنا عقیدہ بیان کرو، سر آنکھوں پہ مگر مسلط نہ کرو۔ جب قرآن میں خدا فرما رہا ہے کہ میں نے عقائد و ایمان میں اپنی مشیت نافذ نہیں کی بلکہ انسانی ضمیر کو آزادانہ انتخاب کا اختیار دیا ہے تو پھر ہم کسی کو خدا کی مشیت نافذ کرنے کا حق کیسے دے سکتے ہیں۔ یہ باتیں کریں اور جمود توڑیں۔ پرویز ہود بھائی کی بات نہ مانیں مگر ان کے صاحب علم انسان ہونے کے شرف پر زبان درازی نہ کریں۔ جاوید غامدی تہذیب سے کہہ رہے ہوں تو مہذب رائے زنی کریں۔ ایران اور سعودیہ اپنا وسیع تر مفاد لڑائی میں ہی سمجھیں تو وقار کے ساتھ اپنے گھر بیٹھیں۔ اس ثالثی سے پہلے اپنے گھر میں تو امن اور صلح کی فضا پیدا کر لیں۔ وزیر اعظم اگر ”سرن“ جیسے عظیم سائنسی ادارے میں ڈاکٹر عبدالسلام کو قابل فخر اثاثہ کہہ آئے ہیں تو لٹھ لے کے پیچھے نہ پڑ جائیں۔ وہ جو روز آ کے ہمارے بچے مار جاتے ہیں ان امن کی فاختاوں کے انڈے پینے والے کوﺅں اور منحوس گدھوں پر بصیرت سے بھر پور نگاہیں مرکوز کریں۔ اور قومی سطح پر عوام دوست بیانئے کی روایت کو فروغ دیں۔ اوپر سے نافذ اور مسلط کئے گئے بیانیے کو رد کریں اور تب تک بولتے رہیں جب تک بیانیہ آپ کے مکالمے کی بازگشت نہ بن جائے۔

باچا خان بہت اچھے انسان تھے مگر ان کی بعض باتیں ہمارے آج پر معروضی طور پر منطبق نہیں ہوتیں۔

ابواعلیٰ مودودی صاحب عالم تھے مگر ان کی کوتاہی نے اسلام کو بزور شمشیر نافذ کرنے کا داغ اسلام پر لگایا ہے اور ایسا طرز فکر یادگار چھوڑ گئے ہیں جو دلوں کے زنگ تلوار سے چھٹانے پر اعتقاد رکھتا ہے۔ اللہ ان کو معاف کرے۔

قائد اعظم محمد علی جناح داڑھی اور تسبیح کے بغیر ہی ریاست کی اور اس سے پہلے مسلم لیگ کی سربراہی کرتے رہے لیکن ان کی اپنی پہلی کابینہ میں ایک مرکزی وزیر ہندو،ایک احمدی اور افواج کا سربراہ مسیحی تھا اور آپ خود سب کو کہہ کے فوت ہوئے ہیں کہ

” آپ آزاد ہیں…. اپنے چرچ یا مسجد جانے کے لئے…. “

اب اگر عقائد پہ ایک دوسرے کو مارنے کا سلسلہ شروع کیا ہے تو خیال رہے کہ ’چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں‘…. اور ایک بات اور۔ جن کو آپ ٹارگٹ کر کے مار رہے ہیں وہ نہیں مریں گے۔ انسان جب عقائد کو تسلیم کر لیتے ہیں تو لکڑی کا ٹکڑا کشتی کا روپ دھار لیتا ہے ۔ جن کشتیوں پر انسان سوار ہوتے ہیں ، وہ اکثر دس بیس برس کے وقفے سے آزمائی جاتی ہے۔ 1953ءمیں ایک طوفان اٹھا تھا ، بیس برس بعد ایک اور سیلاب چڑھا تھا اور ایک دہائی بعد ایک اور امتحان درپیش ہوا تھا ۔ وہ کشتی سلامت ہے بلکہ ہم عصر دنیا کے تقاضوں سے  ہم آہنگ بھی ہے۔

سعی لا حاصل چھوڑیں …. آئیے، اپنے سکول، بچے، ادارے، ریاست، معیشت اور معاشرت بچائیں اور باہمی گفتگو اور مکالمے سے ایسا ذاتی بیانیہ تعمیر کریں جس میں ہم سب کے لئے امن اور خوشحالی ہو….

سوروں سے تو بگڑ ہی گئی ہے…. اب کماد بچانے کی فکر کرنی چاہیے۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “گل امید فروزاں رہے تیری خوشبو

  • 28-01-2016 at 8:09 pm
    Permalink

    عمدہ، امید افزا۔ زندگی سے بڑا بیانیہ کوئی نہیں!

  • 29-01-2016 at 1:14 am
    Permalink

    جناب، آخری سطر یوں کر لیں، “کمآد تو بچی نہیں، اب سوروں سے تو نہ بگاڑیں.”

  • 29-01-2016 at 10:43 am
    Permalink

    ہر دو احباب کا شکریہ۔
    ظفر عمران صاحب؛ سور اور کماد ایک دوسرے سے تبدل کا پہلے ہی باہمی تعلق رکھتے ہیں۔ آپ اس طرح پڑھ لیں تو بھی ٹھیک ہے۔

  • 30-01-2016 at 1:19 pm
    Permalink

    بھٹی صاحب، بہت عمدہ، بہت متوازن دانشمندانہ تحریر۔ ہم آپ کے ممنون ہیں۔

Comments are closed.