دیکھو سورج ڈوب رہا ہے….


zafar kakarبیانیوں کی جنگ چھڑی ہے۔ دیس کے کچھ باسی بضد ہیں کہ سچ ان کے پاس محفوظ پڑا ہے۔ سوچتے ہیں دھند میں لپٹا یہ کیسا سچ ہے جسے ظاہر کرنے کے لئے آگ جلانی پڑ رہی ہے۔ دیکھیں ایک سچ ہابیل کا تھا اور سچ قابیل کا بھی تھا۔ ہم اس سچ کے ساتھ ہیں جس میں انسان کا خون بہانے کی نوبت نہ آئے۔ دیس کے مفلس باسیوں کو ایک خواب دکھایا گیا ہے جس کی تعبیر میں صرف خون سے رنگ بھرا گیا۔ ایک تصویر ہم نے بھی بنائی تھی۔ دیس کے کینوس پر انسانیت کا ایک چہرہ تراشا تھا۔ ایک دیدہ زیب چہرہ جس پر ایک خوشنما مسکان تھی۔ کچھ لوگوں نے وہ چہرہ مسخ کر دیا ہے مگر ہمارے ہاتھوں میں اس کا احساس اب بھی مہک رہا ہے۔ دلوں میں ایک ساز تھا جو انسان کی خوشی کا نغمہ بجاتا تھا۔ کچھ لوگوں نے مگر اس ساز کے سبھی تار مگر چٹخا دیئے۔  اب یوں ہے کہ سانسیں اکھڑ چکی ہیں۔ مگر سانس ہی اکھڑی ہے، ابھی سانس کی ڈوری باقی ہے۔ جب تک زندہ ہیں، یہ وعدہ رہا کہ ان اکھڑی پھونکوں سے ہم اس دیئے کو جلائے رکھیں گے جسے بجھانے پر اندھیروں کے باسی بضد ہیں۔ آپ کو سارے سچ مبارک ، سارے بیانیے مبارک ،ہم مگر یہ ساز چھیڑتے رہیں گے کہ جو بیانیہ انسانیت کے چہرے کو لہو لہو کرتا ہے وہ سچ نہیں ہو سکتا۔ کیا کریں ان آنکھوں نے وہ بچی دیکھی ہے جس کا باپ اسلام آباد کی سبزی منڈی میں ایک بیانیے کا شکار ہوا۔ ان آنکھوں نے وہ ماں دیکھی ہے جس کا بیٹا اے پی ایس میں مار دیا گیا۔ ان آنکھوں نے وہ باپ دیکھا جس نے اپنے بچے کو قرآن حفظ کرنے بھیجا تھا مگر لاش بھی نہ دیکھ سکا۔ یہ تحفے اسی سچ کے ہیں جس پر آپ کا قبضہ ہے۔
یہ خاکسار شاعری لکھنا نہیں جانتا۔ ایک مہمل خیال ہے جو دکھ کی کہانی بیان کرتا ہے۔

تن لاگے یا من لاگے ہے …. دیکھو سورج ڈوب رہا ہے
تیرے قصے سارے سچے
میرے قصے سب جھوٹے ہیں
تیرے میرے اس قصے میں …. دیکھو سورج ڈوب رہا ہے
غم کے بادل امڈ رہے ہیں
ہر پنگھٹ ویران پڑا ہے
دیس کے ہر کونے میں دکھ ہے
کتنے انسانوں نے جانے
دکھ کے جھولے لٹکائے ہیں
اس نیلے پربت کی چھت سے
جھول رہے ہیں اس میں نوحے
خوف سے سہمی آنکھوں کے
درد ہیں، بے کس لوگوں کے
کچھ لاشے ہیں،مظلوموں کے
تن لاگے یا من لاگے ہے…. دیکھو سورج ڈوب رہا ہے

تیرا قصہ سچ ہے لیکن
اس قصے کی خاطر ہم نے
دیوانے کا خواب بنا تھا
راکھ ذرا تعبیر کی دیکھو
وہ دیکھو اک چھابڑی والااور ننھی سی گڑیا اس کی
گڑیا نے اک جھپی ڈالی
دھیرے سے اور لاڈ سے بولی
بابا جب تو رات کو لوٹے
مجھ کو بھی کچھ آڑو لادے
پیار سے باپ نے ماتھا چھوما
صبح سویرے باپ پری کا چھابے میں آڑو چمکائے
آنکھوں میں کچھ خواب سجائے
دل میں سوچے!
رات کو جب میں گھر جاوں گا
اتنا ہی سوچا تھا اس نے
پاس ہی اس کے بم پھوٹا تھا
آگ، دھواں اور راکھ تھا سب کچھ
وہ دیکھو اک ہاتھ پڑا ہے جس نے اک آڑو تھاما ہے
اب سگنل پر ننھی گڑیا ہرراہی کا ہاتھ پکڑ کر
دھیرے دھیرے بول رہی ہے
صاحب دے دو !صاحب دے دو

تیرا قصہ سچ ہے لیکن
وہ دیکھو اک ماں بھی کھڑی ہے
جس کے دو ننھے گڈے تھے
دونوں کو دوری پہنا کر اس نے پڑھنے بھیج دیا تھا
اک گڈے کی انگلی تھامے شام کو اس کا خاوند لوٹا
اک گڈے کی لاش اٹھائے!
چھلنی ہے اب ماں کا سینہ ،غم کے گہرے سناٹے ہیں
میرا بچہ کس نے مارا!
روتے روتے کٹ گئی رات
صبح سویرے پھر سے اٹھی
بچے کو وردی پہنا کر پھر سے اس کو پڑھنے بھیجا
دیکھو پھیلی اس کی جھولی
نہ جنت کی چاہ ہے کوئی
نہ راحت درکار ہے اس کو
رب سے دیکھو کیا گریہ ہے؟
بچہ زندہ لوٹ کے آئے!

تیرا قصہ سچ ہے لیکن ….
وہ دیکھو اک باپ کھڑا ہے
ماتھے پر محراب کا گٹہ اور چہرے پر ریش کی خوشبو
اپنے رب کا سچا عاشق
رب کا لکھا پڑھ نہ پائے
چومے جائے چومے جائے
پھر اک رات کی تنہائی میں
اس کے دل میں خواہش جاگی
رب کا لکھا اس کا بیٹا اپنے سینے پر لکھوائے
سونپ دیا بیٹے کو اس نے
کچی مسجد ، مدرسے کو
پتھر کی دیوار کے پیچھے دن بیتے اور راتیں بیتیں
بیٹا اس کا پڑھتا جائے، سر کو ہلائے پڑھتا جائے
وہ دیکھو کچھ لوگ آئے ہیں
ان لوگوں نے حافظ جی کے سینے پر بارود سجایا
لمحوں میں یہ ننھا اور معصوم سا پتلا راکھ بنا ہے
ماتھے پر محراب سجائے باپ کھڑا ہے
کفن سے عاری لاش کے ٹکڑے
دیکھ رہا ہے
غم سے سینہ چھلنی ہے، خاموش کھڑا ہے
کچھ بندوقوں والے آئے
آنکھوں میں کاجل کی ریکھا
عود، عنبر اور مشک لگائے
دھیرے سے مسکائے
باپ کے کاندھوں کو تھپکایا اور بتایا
خوش قسمت ہے جس کا بیٹا مر کر جیون پائے
رات کی تنہائی ہے ،
بوڑھا دل ہے اور آنسو ہیں
رب کا لکھا کون پڑھے گا

میرے قصے سارے جھوٹے تیرے قصے سارے سچے
تن لاگے یا من لاگے ہے …. دیکھو سورج ڈوب رہا ہے
میں نے تو بس اتنا کہا تھا
دیوانوں کے خواب ہیں جھوٹے
کب تک ہم ماضی سے لپٹیں، خوابوں میں تلوار چلائیں
ظلمت میں گھوڑے دوڑائیں، سلطانوں کی مدحت گائیں
مرد مجاہد ڈھونڈ کر لائیں،
پھر اس کی آنکھوں میں جھانکیں…. اور تقدیر کا رونا روئیں
انسانوں کا خون بہائیں
میں نے تو اک خواب بنا تھا، انسانوں کو خوش دیکھا تھا
میرا خواب بہت سادہ ہے، پنگھٹ کو آباد لکھا ہے
اس دنیا کا ہر اک باسی
مسجد جائے، مندر جائے ،
گرجے میں گھٹنوں پر بیٹھے
چاہے تو ناقوس بجائے
سارے اچھے، سارے پیارے
سب بندے ہیں اس خالق کے
میرا قصہ تو بس یہ ہے
انسانوں کا لہو بہانا ٹھیک نہیں ہے
سورج ڈوب رہا ہے دیکھو …. تن لاگے یا من لاگے ہے


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 81 posts and counting.See all posts by zafarullah

7 thoughts on “دیکھو سورج ڈوب رہا ہے….

  • 28-01-2016 at 9:22 pm
    Permalink

    دیکھو سورج ڈوب رہا ہے….
    مسخ شدہ لاشیں اٹھاہیں ماں سوچ رہی ہے
    کہ مذہب کیا ہے اور ریاست کیا……?

  • 28-01-2016 at 10:43 pm
    Permalink

    صرف ایک لفظ………….آہ

  • 28-01-2016 at 11:39 pm
    Permalink

    بھئی ظفر صاحب ان جملوں نے تو دل نکال کر رکھ دیا۔

    ہر پنگھٹ ویران پڑا ہے
    دیس کے ہر کونے میں دکھ ہے
    کتنے انسانوں نے جانے
    دکھ کے جھولے لٹکائے ہیں
    اس نیلے پربت کی چھت سے
    جھول رہے ہیں اس میں نوحے
    خوف سے سہمی آنکھوں کے
    درد ہیں، بے کس لوگوں کے
    کچھ لاشے ہیں،مظلوموں کے

  • 29-01-2016 at 4:50 am
    Permalink

    سچ،سچ اور صرف سچ لکھا ہے،کاش یہ سورج طلوع ہو؛مگر کیسے ہو جب ہمیں خود ہی اندھیرے کا احساس نہیں،ہم خود ہی روشنی میں جانا نہیں چاہتے۔

  • 29-01-2016 at 6:53 am
    Permalink

    میں نے تو اک خواب بنا تھا، انسانوں کو خوش دیکھا تھا
    میرا خواب بہت سادہ ہے، پنگھٹ کو آباد لکھا ہے
    اس دنیا کا ہر اک باسی
    مسجد جائے، مندر جائے ،
    گرجے میں گھٹنوں پر بیٹھے
    چاہے تو ناقوس بجائے
    سارے اچھے، سارے پیارے
    سب بندے ہیں اس خالق کے
    میرا قصہ تو بس یہ ہے
    انسانوں کا لہو بہانا ٹھیک نہیں ہے

    یہ خواب ضرور سچ ہو گا

  • 29-01-2016 at 2:45 pm
    Permalink

    اپنے رب کا سچا عاشق
    رب کا لکھا پڑھ نہ پائے
    بہت منفرد اور mind blowing ، سیدھی دل کے پار اتر جانے والی تحریر، اس دھرتی کہ جہاں سچ لکھنا اور سچ کہنا بہت مشکل ہوچکا ہے، آپ کا یہ بیباکانہ اندازتحریر بہت بڑی نعمت محسوس ہورہا ہے، اللہ کرے کہ زور قلم ہو

  • 29-01-2016 at 6:35 pm
    Permalink

    اپنے رب کا سچا عاشق
    رب کا لکھا پڑھ نہ پائے
    بہت منفرد اور mind blowing ، سیدھی دل کے پار اتر جانے والی تحریر ہے، اس دھرتی کہ جہاں سچ لکھنا اور سچ کہنا بہت مشکل ہوچکا ہے، آپ کا یہ بیباکانہ اندازتحریر بہت بڑی نعمت محسوس ہورہا ہے، اللہ کرے کہ زور قلم ہو

Comments are closed.