صالح خان ترین مغرب کی اخلاقی بے راہ روی سے بیزار کیوں ہوئے؟


ہم ٹہلتے ٹہلتے بھائی صالح خان ترین کے گھر کے سامنے سے گزرے تو دیکھا کہ وہ اپنے فون کو ٹکٹکی جما کر دیکھ رہے ہیں اور پریشانی کے آثار چہرے سے ہویدا ہیں۔ سانسیں تیز چل رہی ہیں، چہرہ سرخ ہے اور اس پر پسینے کے قطرے نمایاں ہیں۔

ہم نے دروازے پر دستک دے کر ان کو متوجہ کیا اور اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے پھرتی سے فون بند کیا اور ہمیں اپنے قریب پڑی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔

ہم: بھائی صالح ترین، خیریت تو ہے، آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

صالح ترین: خیریت کہاں ہونی ہے۔ بس قرب قیامت کی نشانیاں ہیں۔

ہم: کیا ہوا؟ کیا ڈاکٹر قیامت بخود کا پروگرام دیکھ لیا ہے؟

صالح ترین: نہیں۔ آج کی قسط رہ گئی۔ بہرحال قیامت کے آثار واضح ہیں۔ حیرت ہے کہ زلزلے کیوں نہیں آتے کہ زمین پھٹ جائے اور گنہگار اس میں غرق ہو جائیں۔ حضرت علامہ نے ان کو سو برس پہلے ہی بتا دیا تھا کہ تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی، جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا، ناپائیدار ہو گا۔

ہم: کوئی آثار ہمیں بھی تو بتائیے۔

صالح ترین: مغرب نے بے حیائی کی تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ فحاشی کے نئے نئے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔

ہم: اچھا؟ سنی سنائی بات کر رہے ہیں یا عینی شہادت ہے؟

صالح ترین: ہم تمہیں جھوٹے لگتے ہیں جو سنی سنائی باتیں کریں گے؟ یہ موبائل پر ہی اب تو سب کچھ دکھائی دے جاتا ہے۔ ہم روز دیکھتے ہیں مغرب کی اخلاقی پستی کو۔

ہم: اخلاقی حالت تو ہماری قوم کی بگڑی جا رہی ہے۔ یہاں تو گدھے کو بیف کہہ کر کھلایا جاتا ہے اور کتے کو مٹن کہہ کر بیچا جاتا ہے۔ حلال حرام کی تمیز ہی نہیں رہی۔ وہاں ایسا ہونا تقریباً ناممکن ہے۔

صالح ترین: ان گوریوں کے لباس دیکھے ہیں تم نے؟

ہم: کھانے پینے کی ہر شے میں ہم ملاوٹ کرتے ہیں۔ اینٹ کو مرچ اور رنگے ہوئے پتوں کو چائے کی پتی کہہ کر بیچتے ہیں۔ ایسی ناقص خوراک کی وجہ سے کینسر کتنا عام ہو گیا ہے۔ وہاں خوراک تو خالص ملتی ہے۔

صالح ترین: مغرب نے تو بے حیائی کی ایسی حد پار کی ہے کہ وہاں اب ہم جنس پرستوں کو شادی کرنے کی اجازت بھی دی جانے لگی ہے۔

ہم: غضب خدا کا یہ کہ ہمارے ہاں کے سفاک تاجر جعلی دوائیں بھی بنا کر بیچتے ہیں۔ سفید چاک کی گولی بنا کر اینٹی بائیوٹک کے طور پر بیچ دیتے ہیں۔ نہ جانے کتنی انسانی جانیں اس طرح جاتی ہیں۔ دوائی بھی اصلی ہوتی ہے ان کی۔

صالح ترین: وہ تو سڑکوں پر سرعام ایسے چوما چاٹی شروع کر دیتے ہیں جیسے اپنے بیڈ روم کی تنہائی میں ہوں۔ وہ بھی غیر عورتوں کے ساتھ۔ حیا نام کی تو چیز ہی نہیں ہے وہاں۔

ہم: بات بے بات جھوٹ بولنا ہم اپنی شان سمجھتے ہیں۔ کسی کمتر سے تمیز سے بات نہیں کرتے۔ طاقتوروں کی خوشامد کرتے ہیں اور ان کی شان میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے ہیں۔

صالح ترین: حجاب لینا تو دور کی بات ہے، وہ تو ایسے مختصر سکرٹ پہنتی ہیں کہ کوئی شریف آدمی نظر بھر کر دیکھ بھی نہ سکے۔ گھبرا کر نظریں اوپر اٹھا کر چہرہ دیکھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ادھر درمیان میں ہی مزید فحاشی پر اٹک جاتی ہیں۔

ہم: ہمارے ہاں وقت کی پابندی کا رواج نہیں ہے۔ وعدہ پورا نہیں کرتے۔

صالح ترین: وہاں زنا عام ہے۔ مرد و زن شادی کے بغیر اکٹھے رہتے ہیں۔

ہم: وہاں کی عدالتیں انصاف دیتی ہیں۔ کمزور شخص بھی اپنا حق لے سکتا ہے۔ حکومت غریب افراد کو وظائف دیتی ہے۔ بچوں کو مفت تعلیم کی سہولت دی جاتی ہے۔ شہریوں کی عزت نفس کا تحفظ کیا جاتا ہے۔

صالح ترین: وہ کیسی فحش فلمیں بناتے ہیں۔

ہم: وہاں انسانیت کی خدمت کے لئے کیسی کیسی ایجادات ہوتی ہیں۔ بیماریوں کی دوا بنائی جاتی ہے۔ کمپیوٹر جہاز وغیرہ بنتے ہیں۔

صالح ترین: وہاں بن بیاہی مائیں بچے پیدا کرتی ہیں۔ خدا گنہگار قوموں پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے۔ ان پر شدید عذاب آئے گا اور ان میں سے بہت سے لوگ مریں گے۔ پوری قوم ہی مر جائے تو تعجب نہیں ہو گا۔

ہم: بھائی صالح ترین، یہاں ہمارے وطن میں ابھی کچھ عرصے پہلے ایک خواجہ سرا کو اس لئے قتل کر دیا گیا تھا کہ وہ جسم فروشی پر آمادہ نہیں تھا۔ قصور کا سکینڈل بہت مشہور ہے جس میں سینکڑوں بچوں سے زیادتی کی خبر سامنے آئی تھی۔ یہاں چھوٹی بچیوں سے زنا بالجبر کی خبریں تواتر سے سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایک مرتبہ تو ایک درندے نے چھے ماہ کی بچی کے ساتھ بھی زیادتی کی تھی۔ ہسپتالوں سے بچے چوری کر لئے جاتے ہیں۔ بچے اغوا کر کے معذور کیے جاتے ہیں بھکاری بنا دیے جاتے ہیں۔ ایدھی کو اپنے فلاحی مراکز کے باہر جھولے رکھنے پڑ گئے تھے کہ ایک گناہ کے بعد دوسرا گناہ مت کرو اور ننھی جانوں کو قتل کرنے کی بجائے مجھے دے دو۔ اخلاقی پستی تو یہاں مغرب سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ ہم منافق اور دھوکے باز ہیں، اور وہ ایسے نہیں ہیں۔ جو فحش فلمیں وہ بناتے ہیں، ویسی ہی یہاں بھِی بنتی ہیں، اور فحش مواد سرچ کرنے والوں میں پاکستانیوں کا نمبر بہت بلند بیان کیا جاتا ہے۔ تو جو اخلاقی پستی آپ اہل مغرب کی بتا رہے ہیں، وہ سب برائیاں تو پاکستانیوں میں بھی موجود ہیں۔ لیکن جو ان کی خوبیاں ہیں، وہ یہاں عام نہیں ہیں۔ شاید اسی لئے وہاں سات آٹھ سکیل کا زلزلہ بھی آ جائے تو درجن بھر افراد ہی مرتے ہیں، جبکہ ہمارے ملک میں ہزاروں لاکھوں لوگ زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ تعمیراتی کام دیانت داری سے کرتے ہیں اور زلزلہ پروف ہیں، ہم اس میں بھی دو نمبری دکھا جاتے ہیں۔

تباہ ہم ہو رہے ہیں یا وہ؟ اخلاقی پستی کا شکار ہم ہیں یا مغرب؟ مغرب کے لوگ دوڑ دوڑ کر یہاں آباد ہو رہے ہیں یا یہاں کے لوگ وہاں جانے کی آرزو میں ہر جھوٹ کو روا رکھتے ہیں اور جان کو خطرے میں ڈالنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں؟ آپ کو وہاں صرف فحاشی کی برائی دکھائی دیتی ہے، یہاں کے معاشرے میں فحاشی سمیت باقی ساری برائیاں بھی موجود ہیں جو کہ آپ دیکھنے سے انکار کر دیتے ہیں، اور دعوی اخلاقی برتری کا کرتے ہیں۔ فرق بس یہی ہے کہ ان کا معاشرہ منافق نہیں ہے، ہمارا ہے۔

صالح ترین: تم تو ہو ہی گوروں کے ایجنٹ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1027 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar