یہ اسلام کا معرکہ نہیں ہے


mujahid aliوزیراعظم پاکستان نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سالمیت کو کوئی خطرہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہمدردی اور حمایت کے یہ اعلانات پاکستان کا اچانک دورہ کرنے والے سعودی عرب کے نائب ولی عہد ، ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران کئے گئے ہیں۔ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے فرزند، وزیر خارجہ عادل الجبیر کے دورہ اسلام آباد کے دو روز بعد ہی تشریف لائے تھے۔ پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں ایران کے ساتھ سعودی تنازعہ اور اسلامی ملکوں کے 34 رکنی فوجی اتحاد میں پاکستان کے کردار پر بات کی گئی۔ اگرچہ اس دورہ کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو¿ا لیکن پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک پریس ریلیز میں بتایا ہے کہ جنرل راحیل شریف نے سعودی نائب ولی عہد کو بتایا کہ سعودی عرب کی سرحدی سلامتی کو کسی خطرے کی صورت میں پاکستان کا ردعمل شدید ہو گا۔ امید کرنی چاہئے کہ اس بیان کی اہمیت ایک مہمان کے ساتھ جذبہ خیر سگالی سے زیادہ نہیں ہو گی۔ بصورت دیگر نہ پاکستان اس عہد پر پورا اتر سکتا ہے اور نہ سعودی عرب کی سلامتی کو خود اپنی عاقبت نااندیشی کے سوا کسی دوسرے ملک سے کوئی خطرہ لاحق ہے۔
سعودی عرب میں نئے سال کے آغاز پر اچانک 47 افراد کو موت کی سزا دی گئی تھی۔ ان میں مقبول سعودی شیعہ رہنما شیخ نمر الباقر النمر بھی شامل تھے۔ ایران اور دنیا بھر کی شیعہ آبادی کی طرف سے اس سزائے موت پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اگرچہ سعودی حکام یہ اعلان کرتے ہیں کہ شیخ نمر کو مسلح بغاوت پر اکسانے اور دہشت گردی کے الزام ثابت ہونے پر سزا دی گئی ہے۔ لیکن شیخ النمر سعودی عرب کے حکمران شاہی خاندان کے نمایاں ناقدین میں شامل تھے۔ انہوں نے کبھی مسلح بغاوت یا جدوجہد کی حمایت نہیں کی۔ لیکن سعودی عرب میں شاہی خاندان پر تنقید کو بھی بغاوت اور دہشت گردی قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا بھر کے انسان دوستوں کے علاوہ ایران اور سعودی عرب و پاکستان سمیت متعدد ملکوں کی شیعہ آبادیوں نے اس سزا کو قتل ناحق قرار دیا ہے۔ پاکستان اور دیگر ملکوں میں اس سزا کے خلاف شدید مظاہرے بھی کئے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں خاص طور سے مقدمہ کی سماعت کے دوران فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے نہ کرنے اور وکیل کی سہولت فراہم نہ کرنے پر احتجاج کر رہی ہیں۔ اس فیصلہ کے خلاف مظاہرہ کرنے والے ایک ہجوم نے 2 جنوری کو تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کر دیا۔ اس سانحہ کی بنیاد پر سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر لئے اور اب ایران کے خلاف دوست ملکوں کی تائید و حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی اسلام آباد آمد بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔ سعودی عرب ، ایران کے ساتھ اپنے تنازعہ میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ اسے اس فوجی اتحاد میں شامل کرنے کا خواہشمند ہے جو سعودی عرب کی قیادت میں قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستان سمیت جن ملکوں کی شمولیت کا اعلان کیا گیا تھا، سعودی حکمرانوں نے ان میں سے کسی کے ساتھ بھی مشورہ کرنے یا ان کی پیشگی رائے لینے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔
پاکستان نے اس فوجی اتحاد کے حوالے سے کسی گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ خاص طور سے ایران کے ساتھ سعودی تنازعہ کے بعد پاکستان کے لئے اس اتحاد میں عملی شرکت مشکل ہو گئی ہے۔ ایران اس اتحاد کو ایران کے خلاف سعودی مہم جوئی کا حصہ کہتا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ بھی اس اتحاد کو سنی طاقتوں کا اتحاد قرار دے چکے ہیں۔ اس اتحاد کے علاوہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دو طرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے لئے بھی بات چیت ہوتی رہی ہے۔ اب سعودی عرب اس سلسلہ میں باقاعدہ معاہدہ کے ذریعے ایران کے خلاف محاذ آرائی میں پاکستان کو اپنے ساتھ ملانے کی خواہش رکھتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس حوالے سے میانہ روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں ملکوں کو مصالحت سے کام لینے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حکومت کو یہ اندیشہ بھی لاحق ہے کہ سعودی۔ ایران تنازعہ نے اگر سنی شیعہ تصادم کی صورت اختیار کر لی تو پاکستان کی قابل ذکر شیعہ آبادی کی ہمدردیوں کی وجہ سے ایران کے خلاف سعودی منصوبے کا حصہ بننا آسان نہیں ہو گا۔ اس سے قبل پاکستان نے شام میں بیرونی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے جنگ بندی کی حمایت کر کے سعودی پالیسی کی مخالفت بھی کی تھی۔ اسلام آباد کے سرکاری ذرائع کہتے ہیں کہ حکومت اب بھی اسی حکمت عملی پر قائم ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف کی طرف سے سعودی عرب کی حفاظت کے عزم کا اظہار ایک غیر واضح اور خطرناک حکمت عملی کا اشارہ ہے۔ پاکستان کی فوج بھارت کے علاوہ افغانستان اور کسی حد تک ایران کے ساتھ سرحدی تنازعہ میں ملوث ہونے کے سبب کسی دوسرے ملک میں جا کر کسی دوسری حکومت کی جنگ لڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ آپریشن ضرب عضب کی صورت میں پاکستان کی فوج اندرون ملک ایک مشکل اور طویل جنگ میں مصروف ہے۔ اس جنگ میں مالی وسائل کے علاوہ کثیر تعداد میں فوجی قوت بھی بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں پاک فوج کا شعبہ تعلقات عامہ کچھ عرصہ پہلے یہ واضح کر چکا ہے کہ پاکستان کسی دوسرے ملک میں فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اگرچہ پاکستان کے گہرے دوستانہ مراسم ہیں لیکن پاکستان صرف اس لئے اس ملک کی حفاظت کا بیڑا نہیں اٹھا سکتا کہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ سعودی عرب میں واقع ہیں یا یہ کہ سعودی بادشاہ خود کو خادم حرمین الشریفین کہلوا کر اعزاز حاصل کرتا ہے۔ سعودی شاہ کی یہ حیثیت صرف اس صورت میں قابل قدر اور غیر متنازع ہو سکتی تھی اگر وہ علاقے اور دنیا کے تمام مسلمان ملکوں اور لوگوں کے بارے میں یکساں ہمدردی اور احترام کا رویہ اختیار کرتے۔ اس کے برعکس سعودی عرب نے اپنے مالی وسائل اور سیاسی و مذہبی حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تمام مسلمان ملکوں میں اپنا نظریاتی رسوخ بڑھانے اور کسی حد تک فرقہ وارانہ گروہ بندی کی حوصلہ افزائی کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان سے لے کر مشرق وسطیٰ اور نائیجیریا تک متعدد دہشت گرد گروہ سامنے آئے ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین اس وقت ان مباحث میں مصروف ہیں کہ سعودی عرب جس سلفی اسلام کی تبلیغ اور پرچار کرتا ہے، وہ کس حد تک دنیا میں دہشت گردی اور سیاسی اسلام کی بنیاد پر بنا ہے۔
اس بحث سے قطع نظر سعودی عرب اپنے سخت گیر مسلک کو ہی درست قرار دیتا ہے۔ اس کی حکومت اور مذہبی رہنما دوسرے عقائد اور نظریات کو غیر شرعی یا بدعت قرار دے کر مسترد کرتے ہیں۔ اس لئے ایسی مذہبی اور سیاسی پالیسی کا نگران حکمران خواہ خود کو خادم الحرمین الشریفین کہہ کر تمام مسلمانوں کا لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتا رہے، اس کی یہ حیثیت متنازع اور ناقابل قبول رہے گی۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو عملی طور پر کسی ملک سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی ملک نے سعودی عرب پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس کے برعکس شاہ سلمان کے چہیتے صاحبزادے شہزادہ محمد کی قیادت میں یمن پر حملہ کر کے شام کے بعد ایک نیا تنازعہ شروع کیا گیا ہے۔ اب وہی نائب ولی عہد ایران کے خلاف عالمی محاذ آرائی کا سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
شہزادہ محمد بن سلمان اپنے والد کے انتقال کے بعد سعودی عرب کا حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ شاہ سلمان بھی تخت اپنے ہی بیٹے کو سونپنا چاہتے ہیں۔ لیکن حکمران سعودی خاندان کے طاقتور حلقے بدستور ان ارادوں کی تکمیل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ اس لئے ابھی تک شہزادہ محمد بن سلمان صرف نائب ولی عہد ہیں۔ البتہ شاہ سلمان نے مطلق العنان حکمران ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بیٹے کو کم عمری اور ناتجربہ کاری کے باوجود وسیع اختیارات دئیے ہیں۔ وہ ملک کے وزیر دفاع ہیں اور سکیورٹی اور خارجی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں۔ اس حیثیت میں انہوں نے آل سعود میں اپنے مخالفین کو متاثر کرنے کے لئے یمن کی جنگ کا آغاز کیا تھا تاکہ ان کی صلاحیتوں کی دھاک بیٹھ سکے اور مخالفین بالآخر ان کی وراثت پر اعتراض نہ کریں۔ اس مہم جوئی میں ناکامی کے بعد اسلامی فوجی اتحاد کا ڈول ڈالا گیا اور جب وہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھی تو ایران کے خلاف محاذ کھولا گیا ہے۔ شیخ نمر کو سزائے موت دینے کا فیصلہ سوچ سمجھ کر اور اس کے ردعمل کو ذہن میں رکھ کر کیا گیا تھا۔
اس سعودی پالیسی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ کسی صورت بھی عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدہ کے بعد تہران کی سفارتی اور اقتصادی تنہائی کو ختم ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا۔ سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ ایران پر اعتبار نہ کیا جائے۔ جوہری معاہدہ ہونے کے بعد بھی وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ اس پرزور لابی کے باوجود گزشتہ موسم گرما میں عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ معاہدہ کی توثیق کر دی تھی۔ اب آئندہ چند ماہ کے دوران ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں بھی بتدریج کم ہونا شروع ہو جائیں گی۔ سعودی عرب نے ایران کے ساتھ تنازع شروع کر کے واشنگٹن کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ ملک امریکہ کے اہم ترین حلیف کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق صدر باراک اوباما سعودی۔ ایران تنازعہ کے باوجود تہران کے ساتھ طے پانے والے معاہدہ پر عملدرآمد کرنے پر مصر ہیں۔ ریاض کی طرف سے تنازعہ کو ہوا دیتے ہوئے امریکہ کو ایران سے دور رکھنے کے لئے دباﺅ میں اضافہ کیا جاتا رہے گا۔
امریکہ شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے بھی روس کے ساتھ مل کر مفاہمت پر آمادہ ہو چکا ہے۔ سعودی عرب امریکی پالیسی میں اس تبدیلی کو بھی شام اور مشرق وسطیٰ میں اپنے سیاسی عزائم کے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔ وہ جارحانہ طرز عمل اختیار کر کے خود کو مشرق وسطیٰ کی سپر پاور منوانا چاہتا ہے۔ البتہ ایران اس کے اس کردار کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ شیخ نمر کی سزائے موت کے بعد یہ اختلاف مزید شدید ہو گیا ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب کے دوست ملکوں کو سخت ردعمل کے بلند بانگ دعوے کرنے کی بجائے ریاض کی حکومت کو جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے کا مشورہ دینے کی ضرورت ہے۔ سعودی عرب اس وقت جس جارحانہ اور معاندانہ پالیسی پر عمل کر رہا ہے وہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں سے لگاّ نہیں کھاتی۔ اب تصادم کی بجائے تعاون کی بات کی جا رہی ہے تا کہ مختلف مسلمان ملکوں میں پروان چڑھنے والے دہشت گرد گروہوں کی تباہی سے دنیا کو بچایا جا سکے۔ پاکستان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کر کے صرف اپنی ہی نہیں کسی حد تک پوری دنیا اور سعودی عرب کی حفاظت کی ذمہ داری پوری کر رہا ہے۔ اس سے زیادہ کی نہ پاکستان میں صلاحیت ہے اور نہ اسے ایسا قصد کرنا چاہئے۔
سعودی عرب کو کسی ملک سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ البتہ جن انتہا پسند گروہوں اور مزاج کی آبیاری گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کی گئی ہے، وہ دوسرے ملکوں کی طرح سعودی معاشرے کے لئے بھی بہت بڑا چیلنج ہیں۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر جارحانہ کارروائی کرنے کی بجائے اپنے ملک کے اندر اقدام کرنے اور سخت گیر مذہبی مزاج کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر سعودی حکمرانوں نے اس ضرورت کو محسوس نہ کیا گیا تو وہ وقت کے ساتھ دنیا میں بھی تنہا ہو جائیں گے اور انہیں ایک ایسی جنگ کا سامنا بھی ہو گا جو تباہی اور ہلاکت کا پیغام لائے گی۔ ایسی صورت میں پاکستان تو کیا امریکہ کی عسکری قوت بھی آل سعود کی حفاظت نہیں کر سکے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali