مولانا شیرانی کی امید افزا تجویز ….


mujahid aliاسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ وہ ملک کے توہین مذہب کے قوانین پر نظر ثانی کے لئے تیار ہیں تاہم اس بارے میں حکومت کو باقاعدہ تجویز بھیجنی چاہئے۔ مولانا شیرانی سخت گیر رجحان کے حامل شخص ہیں اور وہ بنیادی نوعیت کے اہم امور پر اسلام اور شریعت کو آڑ بنا کر غیر انسانی اور ظالمانہ فیصلے کرواتے رہے ہیں۔ ماضی میں ان کے کردار اور نقطہ نظر کے تناظر میں یہ تجویز امید کی ایک کرن ہے۔ حکومت کو فوری طور پر مولانا شیرانی کی نگرانی میں کام کرنے والی کونسل سے رابطہ کرنا چاہئے تا کہ اس سوال پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے کہ کیا اسلامی نظریاتی کونسل عصر حاضر میں اسلام کی مثبت اور روشن خیالی پر مبنی تصویر سامنے لانے کی صلاحیت رکھتی ہے یا اس پر بدستور ان لوگوں کا قبضہ ہے جو سیاسی رسوخ کی بنیاد پر کونسل کے رکن یا چیئرمین تو بن جاتے ہیں لیکن عام طور سے مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینے والے فیصلے کرتے ہیں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی کی رکن ماروی میمن کو بچیوں کی کم عمری میں شادی پر پابندی کی تجویز اسلامی نظریاتی کونسل کے فتویٰ کی وجہ سے ہی واپس لینی پڑی تھی۔

مولانا محمد خان شیرانی نے نیا موقف بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو دیتے ہوئے اختیار کیا ہے۔ اگرچہ انہوں نے ملک کے نہایت سخت گیر قوانین توہین مذہب کے بارے میں کوئی رائے پیش نہیں کی بلکہ یہ کہا ہے کہ تبدیلی کی تجویز سامنے آنے پر یہ غور کیا جا سکتا ہے کہ اس قانون میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے اور کیا اس حوالے سے موت کی سزا کا تعین درست ہے یا نہیں۔ اور کیا اس قانون کو نرم کرنے کی ضرورت ہے یا اسے مزید سخت کیا جائے۔ اس سخت گیر لب و لہجہ کے باوجود اسلامی نظریاتی کونسل کے رہنما کا یہ اعتراف کہ توہین مذہب کے قانون پر بحث اور نظر ثانی ہو سکتی ہے، بجائے خود ایک خوشگوار کامیابی ہے۔ اس سے قبل ملک کے نیم حکیم خطرہ جاں قسم کے علمائے دین نے توہین مذہب کے قانون پر بات کرنے کو ہی ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ البتہ سپریم کورٹ نے گزشتہ برس ممتاز قادری کیس میں اپیل مسترد کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ توہین مذہب کا قانون بھی دیگر قوانین کی طرح تعزیرات پاکستان کا حصہ ہے۔ اس لئے ہر شہری کو اس پر رائے دینے ، اسے تبدیل کروانے کی کوشش کرنے یا اس پر تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو جنوری 2011 میں ان کے ایلیٹ فورس کے گارڈ ممتاز قادری نے قتل کر دیا تھا۔ اس کا عذر تھا کہ سلمان تاثیر توہین مذہب کے قانون کو تبدیل کرنے کی بات کر کے توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مجرم ممتاز قادری اور اس کے وکیل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے توہین مذہب کا ارتکاب کیا تھا۔

توہین مذہب کے قوانین کو مذہبی سیاست کی بنیاد پر اس قدر حساس بنا دیا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی شخص پر توہین قرآن ، مذہب یا رسالت کا الزام عائد کر کے علاقے کے مولوی کی مدد سے ہجوم اکٹھا کرتا ہے اور کسی بھی بے گناہ شخص کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ سابق فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں متعارف کروائے گئے اس قانون کا سہارا لیتے ہوئے متعدد بے گناہ لوگوں کو مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مروایا جا چکا ہے۔ اس طرح اصل اہمیت قرآن یا شریعت کو حاصل نہیں رہی بلکہ ضیا الحق کی نگرانی میں پاکستانی قانون میں شامل کی گئی دفعات کو تقدیس کا وہ درجہ دے دیا گیا ہے کہ ان کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں ہے اور کوئی بھی خود ساختہ مولوی اس قانون کا سہارا لیتے ہوئے لوگوں کو اشتعال دلوانے اور قتل و غارت گری کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ ایسی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں کہ اس قسم کے الزامات کو عام طور سے خانگی یا جائیداد کے جھگڑے نمٹانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اگست 2012 میں اسلام آباد کے نواح میں گیارہ برس کی عیسائی بچی رمشا مسیح پر قرآن کے اوراق جلانے کا الزام لگا کر اسے مارنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس ہنگامہ آرائی کے پس منظر میں بھی زمین کے ایک ٹکڑے پر کسی گروہ کی طرف سے قبضہ کرنے کی خواہش کارفرما تھی۔ یہ بچی عالمی ردعمل کی وجہ سے مقدمہ کا سامنا کرنے سے محفوظ رہی لیکن اسے اپنے اہل خاندان سمیت خفیہ طور سے ملک چھوڑنا پڑا تھا۔

یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ توہین مذہب کی حدود کیا ہیں ۔ فقہی طور سے اس سوال پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ یہ رائے بھی مسلمہ ہے کہ قرآن کے اوراق ضائع کرنے کے لئے انہیں جلا دینا اور راکھ کو پانی میں بہا دینا مناسب ہے۔ گو کہ اس پر اختلاف رائے بھی موجود ہے۔ لیکن اس ملک میں قرآن کے صفحات جلانے کا الزام لگا کر کئی لوگوں کو زندہ جلا دیا گیا ہے۔ نومبر 2014 میں لاہور کے قریب ایک عیسائی جوڑے شمع بی بی اور سجاد مسیح کو صرف اس الزام میں اینٹوں کے بھٹے میں جھونک کر زندہ جلا دیا گیا کہ وہ ایسی چٹائی پر سو رہے تھے جس پر قرآنی آیات درج تھیں۔ حالانکہ یہ جوڑا ان پڑھ تھا اور اسے ہرگز علم نہیں تھا کہ ان کے زیر استعمال چٹائی پر کیا لکھا ہوا ہے۔ لیکن اس لاعلمی کی پاداش میں انہیں دردناک موت کا سامنا کرنا پڑا۔

اب مولانا محمد خان شیرانی نے یہ اعتراف کیا ہے کہ توہین مذہب کے حوالے سے علمائے دین میں مختلف رائے پائی جاتی ہے اور ملک کے قانون کا اس تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ ملک کے مذہبی رہنماﺅں نے اس سے قبل اس اختلاف رائے کو واضح کرنے اور توہین مذہب کے قانون کو تبدیل کرنے کی کوئی مہم نہیں چلائی ہے۔ اس کے برعکس یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اس قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگانے اور اس کی بنیاد پر لوگوں کو مشتعل کرنے ، افراد یا گھروں پر حملے کرنے اور قتل تک کرنے کے واقعات میں کوئی نہ کوئی مذہبی رہنما ملوث رہا ہے۔

اس حوالے سے یہ کہنا بھی بے جا نہ ہو گا کہ صرف وہ مظلوم شخص ہی ان جاہل مذہبی لیڈروں اور شدت پسند مذہبی گروہوں کا نشانہ نہیں بنتا جس پر اس قسم کا الزام لگایا جاتا ہے بلکہ اس کا دفاع کرنے کی کوشش کرنے والے وکیل یا ایسے مقدمہ کی سماعت کرنے والوں ججوں کو بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور ان پر حملے کئے جاتے ہیں۔ مئی 2014 میں ملتان کے ہر دلعزیز اور انسان دوست ایڈووکیٹ راشد رحمٰن کو صرف اس ’گناہ‘ کی پاداش میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا کہ انہوں نے ایک ایسے استاد کا مقدمہ لڑنے کا حوصلہ کیا تھا جس کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس بات کے شواہد سامنے آ چکے ہیں کہ ملتان کی بہاﺅ الدین ذکریا یونیورسٹی کے لیکچرر جنید حفیظ کو ایک خاص جماعت سے تعلق رکھنے والے طالب علموں نے اختلاف رائے کی بنا پر توہین مذہب کے الزام میں گرفتار کروایا تھا۔ سال بھر تک کسی وکیل کو اس مقدمہ میں ملزم کا دفاع کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔ راشد رحمٰن نے جب یہ ذمہ داری قبول کی تو انہیں دھمکی دی گئی کہ اگر وہ اس مقدمہ سے علیحدہ نہ ہوئے تو انہیں ختم کر دیا جائے گا۔ رحمٰن نے ان دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی اور انتہا پسند مذہبی گروہ نے اپنی دھمکی کو عملی جامہ پہناتے ہوئے انہیں قتل کروا دیا۔ ابھی تک راشد رحمٰن کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے اور نہ جنید حفیظ کو انصاف مل سکا ہے۔

جس قانون کو اس قدر مقدس بنا کر ملک میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا کی گئی ہے، اسے بہت سال پہلے ختم ہوجانا چاہئے تھا۔ لیکن ملک کے مذہبی گروہ اگرچہ عام انتخابات میں عوام کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ حکومت کو دباﺅ میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر حوصلہ مند سیاستدان تھے۔ انہوں نے ایک ایسے قانون کو تبدیل کرنے کی بات کی تھی جو انسانوں کا ناحق خون بہانے یا انہیں غیر منصفانہ طور سے جیل میں بند رکھنے کا سبب بن رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان کی حفاظت پر مامور ممتاز قادری نے سرکاری ہتھیار ہی سے انہیں قتل کر دیا۔ سپریم کورٹ سے سزا کی توثیق ہونے کے باوجود ملک کے مذہبی گروہ اس مجرم کی رہائی کے لئے مہم جوئی کر رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ان حالات میں اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کی طرف سے توہین مذہب قانون کے عیوب و محاسن کا جائزہ لینے کی بات کرنا گھپ اندھیرے میں روشنی کی ہلکی سی کرن کی مانند ہے۔

بدنصیبی سے پاکستان میں اسلام اور شریعت کے حوالے سے اجتہاد کرنے ، اس کا انسانی اور اخلاقی پہلو اجاگر کرنے اور اہم فقہی مسائل پر علمی اور بصیرت افروز مباحث کا آغاز کرنے کی بجائے انتہا پسندی اور مذہب کے نام پر تشدد کے رجحان کے فروغ کا کام زیادہ سرگرمی سے کیا جا رہا ہے۔ مذہبی گروہوں کے اس رویہ اور طرز عمل کی وجہ سے پوری دنیا میں نہ صرف پاکستان بدنام ہوتا ہے بلکہ پاکستانیوں کو ایک ایسے وحشی گروہ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو دلیل اور عقل کی بات سوچنے یا سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔ توہین مذہب کے معاملات میں خاص طور سے جس قسم کے مظاہر ملک میں آئے دن دیکھنے میں آتے ہیں، ان کی روشنی میں اس رائے کو مسترد کرنے کا کوئی جواز بھی موجود نہیں ہے۔ ہم اس وقت ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں دنیا کے ایک بڑے حصے میں مذہب اور اس سے متعلق روایات کا تمسخر اڑانا یا ان پر تنقید کرنا ایک جائز جمہوری عمل اور آزادی¿ رائے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ مغربی ممالک میں سیاستدانوں اور میڈیا کا یہ رویہ بعض اوقات مسلمانوں کے لئے دل آزاری کا سبب بنتا ہے لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں توہین مذہب کے نام پر ناانصافی ، تشدد اور ظلم کا جو طرز عمل سامنے آتا ہے، اس کی وجہ سے مغرب کے مذہب دشمن رویوں پر دلیل یا حجت بھی نہیں کی جا سکتی۔

اس طرح مسلمانوں کی اکثریت دو انتہاﺅں کے بیچ پھنسی ہوئی ہے۔ ان کے مذہبی رہنما اپنی دکانداری چمکانے میں تو مستعد ہیں لیکن مسلمانوں کے قول و فعل کے تضاد کو ختم کرنے کے لئے اقدام کرنے پر راضی نہیں ہیں۔ یہ کام کئے بغیر دنیا میں نہ تو مسلمانوں کی عزت بڑھے گی اور نہ ہی ان کی جائز بات کو بھی غور سے سنا جائے گا۔ یہ فیصلہ خود مسلمانوں اور ان کے لیڈروں کو کرنا ہے کہ وہ اپنا تعارف بے لگام وحشی اور جاہل گروہ کے طور پر کروانا چاہتے ہیں یا انہیں مہذب اور دلیل و حجت سے بات کرنے والے لوگ سمجھا جائے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 416 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

4 thoughts on “مولانا شیرانی کی امید افزا تجویز ….

  • 29-01-2016 at 2:58 pm
    Permalink

    سید مجاہد علی صاحب کے اس کالم کے پیراگراف
    “پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو جنوری 2011 میں ان کے ایلیٹ فورس کے گارڈ ممتاز قادری نے قتل کر دیا تھا۔ اس کا عذر تھا کہ سلمان تاثیر توہین مذہب کے قانون کو تبدیل کرنے کی بات کر کے توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ مجرم ممتاز قادری اور اس کے وکیل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ انہوں نے توہین مذہب کا ارتکاب کیا تھا۔”
    پڑھنے کے بعد سکتے میں آگیا ہوں کیونکہ سوال یہ ہے اگر سلمان تاثیر پر توہین مذاہب ثابت جاتا تو کیا ممتاز قادری یا کسی اور شخص کو قتل کرنے اجازت دی جا سکتی ہے۔ ناچیز کی رائے میں توہین مذہب /توہین رسات ثابت ہو بھی جائے تو اس پرسزا دینے کا اختیارکسی شخص کو نہیں ریاستی اداروں کو ہوتا ہے اگرسپریم کورٹ نےاپنے فیصلے میں یہی واقعی یہی بات لکھی ہے تو اس پر نظرثانی کی درخوست بھی دائر ہونی چاہیے اگر توہین مذہب کے قانون کوہی سرا سے ختم کر دیا جائے تو معاشرئے میں اور انارکی پھیل جائے گی لہذا توہمن مذہب کے قانون میں کوئی خامی ہے اس درست کرنا چاہیے نہ کہ ختم ۔

    • 30-01-2016 at 5:41 pm
      Permalink

      “ہم اس وقت ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں دنیا کے ایک بڑے حصے میں مذہب اور اس سے متعلق روایات کا تمسخر اڑانا یا ان پر تنقید کرنا ایک جائز جمہوری عمل اور آزادی¿ رائے کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ ”
      تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ ہمارے ملک جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہیں ایک فرد یا محدود اقلیت کو اس بات کی آزادی دینی چاہئے کہ وہ کھلم کھلا’دن دہاڑے’ ڈھٹائی کے ساتھ اکثریت کے مذہب اسلام اور ان کے اقدار وروایات کا مزاق اڑائے۔۔۔؟؟؟؟
      جمہوری عمل اور ازادی رائے کا یہ مطلب ہے کہ کوئی بندہ بھیج چوراہے کھڑے ہوکر کسی دوسرے کا مزاق اور تمسخر اڑائیں ‘ ان کی بے عزتی کریں اور گالیاں دیں۔۔۔۔۔!!!
      گالیاں دینے والے کو مکمل آزادی مگر جس کی عزت نفس مجروح ہورہی ہے ان کے دفاع اور تحفظ کیلئے کوئی قانون اور ضابطہ تک نھی۔۔۔!!!
      عجیب منطق ہے۔۔۔۔

  • 29-01-2016 at 6:37 pm
    Permalink

    فدا حسین صاحب یہ بات سپریم کورٹ کے فیصلے کا حصہ ہے اور اخبارات میں رپورٹ بھی ہوئی ہے۔ البتہ فیصلے میں آگے چل کر سپریم کورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا کسی شخص کو منصف بننے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ میں اس بات سے متفق ہوں کہ سپریم کورٹ کو ضمنی طور پر ہی سہی ، یہ بات نہیں کہنی چاہئے تھی۔ لیکن ممتاز قادری کے دفاع کا سارا زور اس بات پر تھا کہ سلمان تاثیر نے توہین رسالت کی تھی۔ شاید یہ فقرے اسی تناظر میں ہوں گے۔ میں نے پورا فیصلہ نہیں پڑھا۔

    • 30-01-2016 at 12:03 pm
      Permalink

      سید مجاہد علی صاحب بہت شکریہ آپ کے جواب کا۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہمارا قومی میڈیا اس فیصلے کی پوری تفصیل شائع کردئے تاکہ اس کے حسن و قبح پر کھل کر بات ہو سکے۔ میرئے نقص رائے میں اس کیس کی بنیاد قرآن کی زبان میں ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل جسیے رہنما اصول کے مطابق ہونا چاہیے۔ لگتا ایسا ہے کہ یہ مقدمہ ممتاز قاری کے دفاع کےلئے قائم کیا گیا تھا جو ثابت نہ ہونے پر سزا کا مسحتق ٹہرایا گیا اصل سوال توہےکہ ایک شخص نے توہین مذہب کے آڑ میں قانون ہاتھ میں لیا مذہب اور توہین مذہب کے نام پر اس نے مذہب اور انسانیت کر شرم سار کرایا۔ گویا اس نے ایک سلمان تاثیر کو قتل نہیں کیا بلکہ ان تمام لوگوں کو قتل کیا ہے جو کسی قانون پر تنقید عقل کے خلاف ہونے پر کرتا ہے دوسرئے الفاظ میں اس نے اختلاف رائے رکھنے والوں کو قتل کیا ہے اگر ان باتوں کو حذف کر دیا جائے تو مجھے سلمان تاثیرسے کوئی ہمدری نہیں ہے۔

Comments are closed.