بیانیہ امپورٹڈ نہیں ہوتا ….


jamshe iqbalامن کے بیانیے پر بات کرتے ہوئے احباب عام طورپر گفتگو کا رخ مذہب کی سمت موڑکر ایک ہی زقند میں نتیجہ اخذ کر لیتے ہیں کہ امن کا موثر بنانیہ صرف مذہبی بیانیہ ہوگا۔ لیکن اگر ہم بیانیہ کی اصطلاح کے پس منظر پر غور کریں تو یہ اصطلاح نہ صرف اس غلطی کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ مناسب راہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔

بیانیہ کی اصطلاح 20 ویں صدی میں بعد از جدید فلسفے کی اساسی اصطلاح کے طور پر ہماری لغت کا حصہ بنی۔ اس کے خالق فرانسیسی مفکر اور ماہر سماجیات لیوٹارڈ (1924-1998) ہیں اورزیر نظر اصطلاح کی وجہ شہرت لیوٹارڈ کی استعمارکے لئے تراشیدہ“مہا بیانیہ” (narrative۔ grand) پر کڑی تنقید ہے۔اس لحاظ سے مہابیانیہ ایک منفی اصطلاح ہے اس لئے مطلوبہ بیانیہ ‘مہا بیانیہ ’ ہرگز نہیں ہو سکتا۔

بیانیے کی اصطلاح کے خالق کے نزدیک مہا بیانیہ استعمار کا ہتھیار ہے۔ وہ ایک جادو کی نظریاتی چھڑی ہے جسے استبدادی قوتیں ہر قسم کے سماجی، اخلاقی ، معاشی اور سیاسی مسئلے کے حل کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں۔ مہابیانیہ تشکیل دینے والے بیرونی حملہ آور رہے ہیں۔یہ حملہ آور مہابیانیے کی مدد سے عسکری طور پر کمزور اور مفتوحہ معاشروں کو جنت ارضی کے سراب کے تعاقب میں لگا کر یہ چرچا کرتے رہے ہیں کہ جب تک جنت ارضی کی موعودہ منزل نہیں آ جاتی، انتشاراور تشدد کو برداشت کرتے چلو۔ تشدد کے واقعات پر حسن ظن کا مظاہرہ کرو کیونکہ مظالم ظلم کے خاتمے ، جنگیں شر کے خلاف آخری فتح اور پائیدار امن کے قیام کے لئے لڑی جارہی ہیں۔
چونکہ ، مہا بیانیہ امپورٹڈ ہوتا ہے۔ اس لئے مطلوبہ بیانیہ امپورٹڈ نہیں، مقامی ہوسکتا ہے۔

مہابیانیے کے ناقابل اعتبار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے خالق مفاد پرست طاقتور طبقات ہوتے ہیں اور ان بیانیوں کو عام کرنے کا مقصد طاقت کی چکنی مچھلی دیر تک مٹھی میں بند رکھنا ہوتا ہے۔جب تک یہ بیانئے مقبول رہتے ہیں، تاریخ کی تعبیر کا حق بیانیہ سازوں کو حاصل رہتا ہے۔ مہابیانیوں کی مدد سے طاقتور انسانی تجربات اور ثقافتی رنگا رنگی نظر انداز کرتے ہوئے مقامی بیانیوںکو زبان زدِ عام افسانے قرار دیتا ہے تاکہ محکوم معاشروں میں نرگسی بحران پیدا کرکے ایسی نسلیں پیدا کی جائیں جو اپنی حقیقی شناخت پر شرمندہ ہوں تاکہ طاقتور اپنی ثقافتی و علمی برتری ثابت کرکے سب کو اپنے رنگ میں رنگ سکے۔ ایسے بیانئے وہ بنیادیں ہی ملیا میٹ کردیتے ہیں جن پر ایک گروہ اپنی شناخت اور وقار کی عمارت استوار کرتا ہے۔

اس لئے موثر بیانیہ حقیقی مقامی تاریخ و دانش سے کشیدکردہ تو ہوسکتا ہے طاقتور طبقات کا تراشیدہ نہیں ۔ یہ بیانیہ لوگوں کو ان کی حقیقی شناخت پر اعتماد دلانے والے تو ہوسکتا ہے، شرمندہ کرنے والا استعماری ہتھیار ہرگز نہیں۔

یاد رہے کچھ برس قبل تعمیر امن کا اسلامی ماڈل پیش کرنے والے یہی بات کر رہے تھے۔

1990 کی دہائی تک تعمیر امن کے میدان میں مغربی ماڈلز کا راج تھا اور مسلمان دانشور ان ماڈلز کو مغربی مہابیانیہ قرار دے کر رد کررہے تھے۔مسلم سکالرز نے بنیادی انسانی ضروریات کا نظریہ پیش کرنے والے مفکر برٹن پر ثقافتی تعصب کا الزام لگایا اور زارٹمان کی طرف جھکاﺅ ظاہر کیا تھا کیونکہ ثانی الذکر دانشور امن کے قیام کے سلسلے میں مقامی ثقافتی احیا کو سیڑھی کا پہلا قدم قرار دیتا تھا۔

شاید یہ بات عمومی (generic) اسلامی ماڈل کو مہابیانئے کے طور پر پیش کرنے والے نہیں جانتے کہ اسلامی ماڈل مغربی مہابیانیہ کو رد کرکے منظرِ عام پر لایا گیا تھا۔ لہٰذا اسے ایک مہابیانیہ بناکر پیش کرنا اپنے ہی استدلال کا مذاق اڑانے جیسا ہے۔ ایسا کرنے والے بھول رہے ہیں کہ مصر، ترکی ، انڈونیشیا اور پاکستان وغیر ہ میں مسلمان اکثریت میں سہی لیکن یہ تمام ممالک ثقافتی، تمدنی اور تاریخی لحاظ سے ایک دوسرے سے جدا ہیں۔ لہٰذا امن کا ایسا اسلامی ماڈل جس میں مقامی ثقافتی رنگ کو نہ صرف نظر انداز بلکہ ہیچ تصور کیا جائے عین اسی اصول کی مدد سے رد کیا جاسکتا ہے جس کی مدد سے اسلامی ماڈل پیش کرنے والے مغربی ماڈل کو رد کررہے تھے۔

پاکستان میں پائیدار امن کے قیام کے لئے مذہبی بیانیے کی حمایت کرنے والوں میں مخصوص مذہبی جوش و جذبہ دکھائی دیتا ہے تو اسے سامعین بھی میسر آجاتے ہیں لیکن اس بیانیے کی حمایت کرنے والوں میں انتہا پسندتحریکوں کا سائنسی مطالعہ کرنے والے نمایاں عصری مفکرین اورتعمیر امن کے ماہرین کے سنجیدہ مطالعے کا رجحان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔

مثال کے طور پر الیویر روئے عصر حاضر میں بنیاد پرست اور انتہا پسند تحاریک کا سائنسی مطالعہ کرنے والوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی ثقافتی تخریب سے جنم لیتی ہے۔ثقافتی تخریب ثقافتی اظہاریوں اور تخلیقی ثقافتی سرگرمیوں کو خلافِ مذہب قرار دے کر ختم کرنے کا عمل ہے۔انتہا پسند مذہبی تحریکیں ثقافتی تخریب کو مذہبی فریضہ قرار دے کر یہ تاثر پیدا کرتی ہیں کہ لوگوں اور خدا کے درمیان مقامی ثقافت حائل ہے۔روئے کے نزدیک دہشت گردی پر آمادہ (radicalized) سب اذہان میں ایک قدر مشترک ہے کہ ان میں اپنی ثقافت کے خلاف زہر بھرا ہوتا ہے۔

الیویر روئے کے علاوہ بابائے مطالعات امن یوہان گلٹنگ کے نزدیک ترقی اور امن کا مطلب کسی خاص ثقافت کا اپنے ضابطوں اور آفاقی توانائی کے احساس کے بعد تقویت حاصل کرنا اور ساختی تشدد کا خاتمہ ہے (واضح رہے کہ مہابیانیے ساختی تشدد کی بنیاد بنتے ہیں )۔گلٹنگ خبردار کرتے ہیں کہ حملہ آور ثقافتیں اپنے آپ کو عالمگیر ثقافت تصور کرتی ہیں اور اپنی تاریخ کو آفاقی تاریخ سمجھ کر طاقت کے زور پر دوسروں پر لاگو کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔بابائے مطالعات امن کے نزدیک تشدد ثقافتی بانجھ پن کی کوکھ سے جنم لیتاہے۔ ڈاکٹر ولی نصر’ تاریخ کے ساتھ بات چیت ‘ کے عنوان سے دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ انتہا پسندوں کی جنگ دنیا بھر کی ثقافتوں اور متبادل نظام ہائے سیاست سے ہے ؛ اس لئے انتہا پسند ی ایک سیاسی ڈاکٹرائن ہے جس کی نہ کوئی ثقافت ہے نہ ہی الہٰیات سے مطلب۔

لہٰذا مذہب کی پرامن تشریح سے امن قائم کرنے کا خواب دیکھنے والے غلط فہمی کا شکار دکھائی دیتے ہیں کہ انتہا پسند نوجوان مذہب و الہیٰات کے سنجیدہ طالب علم ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں مذہب کی درست تشریح میسر نہیں آئی۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ وہ تو حملہ کرنے سے قبل اسلام میں ذمیوں کے حقوق جیسی بنیادی کتب خریدتے ہیں اور پھر اس کا مطالعہ تو دور کی بات ورق گردانی سے پہلے ہی اپنا کام تمام کر دیتے ہیں۔

انتہا پسند وں میں اکثریت ان نوجوانوں کی ہے جو اپنی ثقافت کے باغی ہیں۔جنہیں یہ بتایا گیا کہ ان کے والدین ثقافتی مسلمان ہونے کی بنا پر بہتر مسلمان نہیں تھے۔ جو تہذیبی نرگسیت کا نہیں بلکہ ، الیویر روئے کے الفاظ میں نرگسی بحران کا شکارہیں اور کوئی ’بڑا کارنامہ‘ سرانجام دے کر ہیرو بننا چاہتے ہیں۔انتہا پسند مسلمانوں کو نرگسیت پسندآقا نہیں بلکہ مظلوم اور قابل ترس ثابت کرتے ہیں تاکہ ثقافتی اسلام سے منہ پھیرنے والے مظلوموں کی جنگ کا حصہ بنیں اور ہیرو کہلائیں۔ ثقافتی تخریب کار نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ تصور پختہ کردیتے ہیں کہ وہ اپنی مقامی شناخت تباہ کئے بغیر تاریخ میں جگہ نہیں بناسکتے۔ جب نوجوان ثقافتی اظہار کے راستے بند کردیتے ہیں توان کے پاس تشدد کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔

ہر ثقافت لوگوں کے جذبات کے اظہار کے لئے تخلیقی اور تعمیری راستے فراہم کرتی ہے۔ ثقافت لوک گیت ، شاعری ، رقص ، مصوری اور دیگر فنون لطیفہ کی مدد سے اظہارکا موقع فراہم کرتی ہے اور لوگ ثقافتی بحران کا شکار بھی نہیں ہوپاتے۔ اس لئے پاکستان میں پائیدار امن کی داغ بیل ڈالنے کے لئے ثقافتی تخریب کے عمل کی روک تھام اور ثقافتی تعمیر کے عمل کی ضرورت ہے۔

اگر ہم تنازعات کے حل کی مقامی دانش پر تحقیق کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ہاں دو لوگوں یا فریقین کے مابین صلح کرانے کے لئے مذہبی حوالوں کی بجائے مقامی کہاوتوں، اکھانوں، ضرب المثال اور صدیوں پرانی دانش سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ مثال کے طور پر سرائیکی خطے میں دو کہاوتیں گندگی سے گندگی نہیں دھوئی جاتی اور جہاں آگ جلے پہلے وہی جگہ جلتی ہے عام ہیں۔اسی طرح ایک پشتو کہاوت ہے کہ جہاں کا ہرن ہو اسے وہیں کا شیر شکار کرسکتا ہے۔ یعنی جہاں کا مسئلہ وہیں کا حل۔ یہ بھی مشہور ہے کہ حکیم اجمل خان نے ایک گورے سے کہا تھا کہ تمہارا علاج تمہارے علاقے کی جڑی بوٹیوں ہی سے کیا جا سکتا ہے۔
ہماری دیگر مقامی زبانوں مثلا سندھی ، پنجابی اور ہندکو میں بھی دانش کہاوتوں ، اشعار ، لوک کہانیوں کی صورت میں موجود ہے۔ اس میں سے کچھ ضابطہ تحریر میں لائی جاچکی ہے اور کچھ سینہ بہ سینہ چل رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مقامی زبانوں اور ثقافتوں میں سے تنازعات کے حل اور تعمیر امن کے اصول کشید کریں۔ دریاﺅں کو صحرا پڑھانے کی روش چھوڑ کر انہیں اپنی گہرائی کا احساس دلائیں۔ اپنوں کو د±وسروں کی عظمت اور بڑائی کے قصے سنانے کی بجائے انہیں اپنے آپ سے آشنا کریں اور باوقار مقامی بنائیں۔
یقیناً ثقافتی تخریب سریع الرفتار تھی، اسے طاقتور اداروں کی تائید حاصل تھی۔ تعمیر کا عمل سست ہوگا۔ فی الحال ہماری حالت اس شخص کی ہے جس کا ہزاروں سالہ حافظہ دھو کر اسے ہر روز نئی ابجد پڑھنے کو کہا جاتا ہو۔ وہ اپنا قصہ بھی بھول گیا ہو اور پرائی ابجد بھی ٹھیک سے پڑھنے کے قابل نہ ہو۔ ہمیں اس شخص کو اس کا اپنا قصہ یاد دلانا ہے۔ اسے حوصلہ دینا ہے کہ وہ سمندر ہے اسے صحرا پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ وہ ہمالہ ہے اسے ٹیلے سے مرعوب ہونے کی ضرورت نہیں۔
اس لئے تعمیر صبر طلب ہے۔ آپ ایک عمارت گرانا چاہیں تو یہ منصوبہ بندی نہیں کرنے پڑے گی کہ عمارت گرنے کے بعد کون سی اینٹ کہاں پڑی ہوگی اور کھڑکی کا چوکھٹا کہاں جا کر گرے گا۔ذہنوں کی تخریب کے دوران ہم نے بھی نہیں سوچا تھا کہ کون کیا گرے گا۔ کون کس کی گردن کہاں کاٹے گا۔کون کوہسار مارکیٹ کا انتخاب کرے گا اور کون قصہ خوانی بازار کا ۔ لیکن دورانِ تعمیر یہ سب سوچنا پڑے گا ۔ تعمیر کے وقت یہ سب میں ذہن میں رکھنا پڑے گا کہ کون کیا اور کیسے کرے گا۔ تعمیر کے لئے نعروں کی جگالی کرنے والے نہیں مشاق منصوبہ سا ز درکار ہونگے۔ تعمیر ہر ایک کے بس کا روگ نہیں اور ثقافتی تعمیر تو ہرگز نہیں۔
عمارت گرانی ہوتو کوئی مزدور پکڑ لیں ، منشیات کا عادی پکڑ لیں۔ کوئی نہ ملے تو خود شروع ہوجائیں۔ لیکن تعمیر مقصود ہو تو کہنہ مشق معمار کے بغیر کام نہیں چلے گا۔ کسی صاحب بصیرت کے بغیر کام نہیں چلے گا جو عمارت تعمیر ہونے سے قبل اینٹ بجری کے ڈھیر میں اسے دیکھ سکتا ہو۔ جیسے سنگ تراش پتھر کی سل میں خوبصورت مجسمہ دیکھ لیتا ہے۔ جیسے کسی نے کورے کینوس پر مونا لیزا کا امکان دیکھ لیا تھا۔ تعمیر جلد بازوں اور درآمد کردہ بیانیوں کے پہرے داروں کا نہیں ان کا کام ہے جو اپنے مٹی گارے میں عالیشان محل دیکھ لیں۔

 


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “بیانیہ امپورٹڈ نہیں ہوتا ….

  • 29-01-2016 at 2:08 pm
    Permalink

    جمشید صاحب نے نہایت باریک بینی سے معاشرئے میں در آنے والے پرتشدد رویوں کا جائزہ لیا ہے۔ مگر ہمیں ثقافت کے ایک ایسی واضح تعریف کرنی پڑئے گی جو سب کےلئے قابل قبول اورعام فہم ہو کیونکہ لوک گیت ، شاعری ، رقص ، مصوری اور دیگر فنون لطیفہ ثقافت کے اجزا تو ہوسکتے ہیں کل نہیں جب اس کل کی تعریف پر سارئے متفق ہو جائیں تو اس مسئلے کی حل پر گفتگو کرنے میں مدد ملے گی۔

  • 29-01-2016 at 2:31 pm
    Permalink

    بہت خوب! پورا مذہب ہی پورٹڈ ہے اس پر کیا راے ہے…..

Comments are closed.