ہمارے ادب کے بے خواب کواڑ


zeffer1انقلاب کی بات کریں، تو جن معاشروں میں انقلاب آیا، ان معاشروں کے ادب میں میں برسوں پہلے اس کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں۔ پاکستانی ادب کو دیکھ کر کیا پیش گوئی کی جا سکتی ہے؟ کیا یہاں کسی انقلاب کا د±ور قریب کوئی نشان ملتا ہے؟ یا انقلاب پسندوں کو ابھی کچھ لکھنا ہے؟

ادب برائے ادب اور ادب برائے زندگی کی اصطلاحیں میری سمجھ سے بالا تر رہی ہیں۔ دوستوں سے کئی بار مکالمہ ہوا، تو میرا موقف یہی رہا، کہ ادیب مبلغ نہیں ہوتا۔ وہ جو دیکھتا ہے، ا±سے اپنے سانچے میں ڈھال کر دکھا دیتا ہے۔ مقصدیت کا سوال بھی میرے لیے مہمل ہی رہا۔ میری نظر میں۔ دہراتا ہوں، میری نظر میں، ایسی تحریر جو پروپیگنڈے کے لیے لکھی جائے، اسے مقصدیت سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ ایسی تحریر اشتہاری مہم سے بڑھ کر نہیں مانی جاے گی۔ میری رائے کو مستند نہیں مانا جاے گا، کہ میری رائے ایک قاری کی رائے ہے۔ نقاد کی راے نہیں۔ نکتہ یہ ہے، کہ کسی خاص مقصد کو مدِ نظر رکھتے، ایک آزاد تحریر لکھی جا سکتی ہے؟ وہ تحریر جو آزادی لیے نہ ہو، وہ ادب پارہ کہلائی جا سکتی ہے؟ یہاں میں آئی ایس پی آر کے تعاون سے بننے والی دو فلموں کا حوالہ دینا چاہوں گا۔ “خدا کے لیے”، اور “بول”۔ یہ فلمیں ایک خاص مقصد کو مدِنظر رکھتے بنائی گئیں۔ ہو سکتا ہے، یہ پروپیگنڈا میں کام یاب رہی ہوں، لیکن آزاد فکر کی حامل نہیں ہیں۔ ان کا اثر ایک اشتہار کے اثر سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ ان مثالوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔

منٹو، کرشن، بیدی اور اس عہد کے لکھنے والوں کا امتیاز یہ تھا، کہ ا±نھوں نے اپنے ارد گرد کے حالات پر لکھا، اور بے لاگ لکھا۔ تقسیم ہند و پاک کے المیوں کی داستان بھی رقم کی۔ لیکن ایسا نہ تھا کہ وہ کہانیاں کسی خاص ادارے یا فرد نے فرمائش پر لکھوائیں۔ مصنفین پر حالات کا اتنا اثر ہوا کہ وہ لکھنے پر مجبور ہو گئے۔ ان کہانیوں میں کسی ایک گروہ، مذہب، زبان، ثقافت، تہذیب، یا فرد کو نشانہ نہیں بنایا گیا، بل کہ واقعات یا کرداروں کا اچھا برا احوال دکھایا گیا ہے۔ اس زمانے کے درد کو آپ ان کہانیوں میں محسوس کر سکتے ہیں، یہ کہانیاں فی زمانہ زندہ کہانیاں ہیں۔ لیکن اردو ادب کے نام پر جو آج لکھا جا رہا ہے، اسی کو چالیس پچاس برس بعد پڑھا گیا، تو وہ آج کی تصویر کہلائے گی؟ کہا جا سکتا ہے کہ جی بالکل وہ آج کی تصویر کہلائے گی۔ اگر وہ آج کے واقعات، کرداروں، سانحات سے لگا نہیں کھاتی تو؟

یہ کیوں نہ کہا جائے کہ ایسی تحریریں جو اپنے زمانے کا عکس نہ ہوں، وہ چالیس پچاس برس بھی زندہ رہیں گی، تو کیوں کر جئیں گی!

ہم افغان جہاد کے ثمرات سے براہ راست مستفید ہوئے۔ گیارہ ’ستم بر‘ نے ہمارے بخیے ادھیڑ دیئے، لیکن مجال ہے، ہمارا ادب گواہی دے رہا ہو، کہ کوئی تبدیلی آئی ہے۔ یا یہ کہ یہاں سماجی نا انصافی اپنے عروج پر ہے، یا اس ملک میں بے امنی کا دور دورہ ہے۔ عشق معمولی جذبہ نہیں، لیکن کیا یہی ایک موضوع رہ گیا ہے؟ اور پھر یہ بھی کہ عشق پر مبنی کوئی ایسی کہانی بھی تو نہیں لکھی جا رہی جو معمولی درجے سے اوپر کی ہو۔

میں نے اوپر یہ لکھا کہ ادیب مبلغ نہیں ہوتا، اس میں اضافہ کرتے یہ کہ دوں کہ ادیب جو لکھتا ہے، وہ “خیال” مرتا نہیں، سفر کرتا ہے۔ ایک سے دوسری نسل میں۔ دوسری سے تیسری نسل میں۔علیٰ ہذا القیاس۔ تو کیا بہتری کا، تبدیلی کا، انقلاب کا ’خیال‘پاکستانی ادب کی ان تحریروں میں سفر کر رہا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے، تو یقین سے کہا جا سکتا ہے، کہ اس مملکت میں رہنے والوں پر، ان سے بہتر اقوام راج کریں گی۔ ان کا مقدر ماضی کی طرح غلامی میں جینا ہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran

2 thoughts on “ہمارے ادب کے بے خواب کواڑ

Comments are closed.