حسینیت – مزاحمت کا استعارہ


عابدہ علی


\"aabida-ali2\" اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام اما م عالی مقام حسین علیہ السلام سے موسوم ہے۔ سنہ 61 ہجری میں کربلا کے میدان میں خانوادہ رسولﷺ کی بے مثال قربانی کو مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے مختلف انداز میں مناتے ہیں۔
اپنے نظریے کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دینے والی لازوال قربانی سے نہ صرف مسلمان بلکہ دیگر مذاہب اور عقائد پر یقین رکھنے والے بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے یہی وجہ سے کہ نثر ہو یا نظم امام عالی مقام کی شان میں گلہائے عقیدت کا خزانہ ادب کی ہر شاخ میں ملتا ہے۔
امام عالی مقام کے روضہ کا سرخ پھریرا مزاحمت کا استعارہ ہے اور ہر دور کے یزید کے خلاف منظم ہو کر ڈٹ جانے کا پیغام دیتا ہے۔ پسے ہوئے طبقات کو اپنے غلامی کی زنجیریں توڑ کر اپنے نظریے کی خاطرسب کچھ لٹا دینے اور ظالم سے ٹکرانے کی طاقت بخشتا ہے۔
دنیا کی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے اچھائی اور برائی ظالم اور مظلوم طبقے کی جنگ روز اول سے جاری ہے اس کی شکلیں تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ کربلا کے میدان میں ہم اسے حسین اور یزید کے درمیان دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر علی شریعتی لکھتے ہیں کہ ہر انقلاب کے دو رخ ہیں۔ \”خون اور پیغام\” اور ہر انقلاب کے دو پیروکار ہیں ۔\” سرخ پیروکار\” اور \”سیاہ پیروکار\” کربلا میں حسین نے اپنا خون بہا کر انقلاب کی بنیاد رکھی تھی اور زینب نے وہ پیغام آگے پہنچایا ۔ خون بہہ جاتا ہے پیغام ہی اصل صورت ہوتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سرخ پیروکار زندگی بھر ناانصافی، آمریت، جبر واستحصال کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ۔
امام کے روضے کا سرخ پرچم بھی اس انقلاب کی علامت ہے۔ اورہر دور میں ظلم کو سہنے سے انکار کر کے اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑے ہونے پر ابھارتا ہے۔ اس دور کے سرمایہ دارانہ نظام کے جبر و استحصال کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے محنت کشوں کو سرخ پیروکار بننے کی دعوت دیتا ہے۔ حق پر ڈٹ جانا، پوری طاقت سے منظم ہو کر اس دور کے یزید سے ٹکرانا ہی حسینیت کا اصل پیغام ہے جو محنت کش طبقے کو صدیوں کی غلامی اور ناانصافی سے نجات دلا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں