دہشت گرد کی تصویر دھندلی ہے


Photo Mujahidمجاہد حسین

گماں غالب یہ ہے کہ رواں برس پاکستان دہشت گردی اور اس کے سدباب کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک بار پھر زیر بحث رہے گا، دنیا بھر سے میری مراد پاکستانی ذرائع ابلاغ نہیں، وہ بین الاقوامی فورم ہیں جہاں دہشت گردی اور اس کے اسباب پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے بیرونی غور وفکر اور اس کے اخذ کردہ نتائج سے البتہ ہم اتفاق نہیں کرتے اورنہ ہی اپنے علاوہ کسی دوسرے کو ایسے موضوعات پر سوچنے کی اجازت دیتے ہیں۔حد یہ ہے کہ ہم اکثر اوقات بیرونی سطح پر تسلیم کرلیے گئے نتائج کی ناگزیر تصحیح سے بھی گریز کرتے ہیں اور عموماً یکطرفہ طور پر تراشیدہ تنہائی کے زیر اثر سازشیں اوڑھے رہتے ہیں۔نیویارک میں گذشتہ برس ایک ادارے نے ایک ایسی رپورٹ شائع کی جس کا ماخذ یہ تھا کہ پاکستان اور افغانستان میں حالات تیزی کے ساتھ اس طرح کروٹ لے رہے ہیں کہ مستقبل قریب میں دہشت گرد گروہ زیادہ منظم انداز میں ایسے مقامات کو نشانہ بنائیں گے، جن کو ماضی میں دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔مذکورہ رپورٹ اور اس کے مندرجات کو ہمارے ہاں آسانی کے ساتھ یکسر مسترد کردیا گیا۔زیادہ تر دانش وروں نے اس رپورٹ کو پڑھنے کی زحمت گوارا نہ کی اور جن حضرات نے کچھ ورق گردانی کا کشٹ اٹھایا، انہوں نے اپنے اگلے فوری کالم میں اِس رپورٹ کو اغیار کی اڑائی ہوئی گرد سے زیادہ اہمیت نہ دی۔حالاں کہ مذکورہ رپورٹ میں داعش کی پاکستان افغانستان میں افزائش کو مبالغے کی حد تک بیان کیا گیا تھا۔اس حوالے سے جو نکات بیان کیے گئے تھے اُن میں لاتعداد غلطیاں اور محض اندازے شامل تھے اور آخری نتیجہ یہ برآمد کیا گیا تھا کہ اس قسم کا رویہ پاکستان کے”اجتماعی استردادی“مزاج کا حامل ہے۔

اگرچہ ہمارے ہاں دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے سوچ کے زاویے نہ صرف کسی حد تک تبدیل ہوئے ہیں بلکہ اِن میں نمایاں وضاحت کا عنصربھی محسوس کی جاسکتا ہے لیکن ابھی منڈلاتے ہوئے خطرات کی مناسبت سے مطلوبہ شفافیت میسر نہیں ہے۔مثال کے طور پر اکثریت یہ تسلیم نہیں کرنا چاہتی کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے زیادہ تر ماخذمقامی ہیں اور اِن کی آبیاری سرکاری سرپرستی میں ہوئی۔ پاکستان کی غالب سیاسی و غیر سیاسی اشرافیہ بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریق سے موجودہ عدم رواداری اور اس کے اجزائے ترکیبی کے ذمہ دار ہیں۔جب کہ ملکی مذہبی جماعتیں اس حوالے سے ذمہ دار ہی نہیں فریق کا کردار ادا کرتی ہیں۔ تحقیق سے قطعی طور پر تہی دامنی ہونے کے باعث دہشت گردی اور انتہا پسندی کے حوالے سے ہمارے پاس پیچیدہ اعداوشمار کا فقدان ہے، اِس لیے وثوق کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت کے مرتکب افراد کا اساسی تعلق کن سیاسی و مذہبی جماعتوں سے تھا۔کتنے ایسے دہشت گرد مارے گئے، پکڑے گئے یا ابھی تک مفرور ہیں جن کا تعلق ملکی سیکورٹی فورسز سے تھا، اس حوالے سے بھی میسر اعداد وشمار ادھورے ہیں۔شاید مستقبل میں اس قسم کی کوئی تحقیق ہوسکے جس کی مدد سے دہشت گردی و انتہا پسندی کی مقامیت اور اس کی آنکھوں سے اوجھل جزئیات کے مطالعے سے کوئی واضح تصویر بن سکے۔ لیکن دستیاب معلومات کی روشنی میں آسانی کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے تقریباً تمام معلوم زاویے نہ صرف مقامی ہیں بلکہ آج بھی اِن کی جڑیں ویسی ہی مضبوط اور توانا ہیں کہ ایک طویل عرصے تک اس کے اشجار پھل پھول سکتے ہیں، ہم نے محض اپنی بینائی کا زاویہ تبدیل کرنے کا تہیہ کررکھا ہے۔

ہمارے بہت سے دانش ور یہ اصرار کرتے ہیں کہ ملکی دینی مدارس کا ملک میں پائی جانے والی کسی قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی میں قطعی طور پر کوئی کردار نہیں۔اس حوالے سے گفتگو کی حد تک وہ اچھا خاصا مددگار مواد بھی پیش کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ آج تک کوئی دہشت گرد کسی دینی مدرسے کا طالب علم نہیں رہا۔مناظرے کے لیے یہ ایک اچھا اور کاری نکتہ ہے لیکن اس کو ثابت کرنے کے لیے مدعی کے پاس بھی کوئی مواد نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اس وار کے جواب میں مدعی سے یہ دریافت نہیں کیا جاتا کہ بھائی پھر ہمارے مدارس کسی قسم کی سرکاری پوچھ گچھ اور تحقیق سے کیوں بدکتے ہیں؟ ملک میں جب بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے سدباب کے لیے کوئی سرکاری کوشش کی جاتی ہے، سب سے پہلے وفاق المدارس حرکت میں آجاتے ہیں اور اس قسم کے بیانات شائع ہوتے ہیں کہ مدارس کی طرف اُٹھنے والی آنکھ پھوڑ دی جائے گی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق گذشتہ پانچ برسوں میں ملک بھر میں ایک سو ستاسی مدارس کو بند کیا گیا ہے، لیکن وزارت داخلہ کے پاس اِن مدارس کی بندش کی اطلاح کے علاوہ کچھ معلومات نہیں ہیں۔ اِنہیں کیوں بند کیا گیا؟ کس قسم کے لوگ اِن مدارس میں پڑھتے پڑھاتے تھے اور کیا یہ خیر کے مراکز نہیں تھے؟ اور اگر نہیں تھے تو ایساکیا ہورہا تھا کہ یہاں پر دین کی لازمی تعلیم کے سلسلے کو بند کردیا گیا؟وزارت داخلہ یہ بتانا پسند نہیں کرے گی کہ اصل میں یہ نام کے مدارس تھے، یعنی گھوسٹ مدرسے۔جن کے نام پر نہ صرف بیت المال سے مال لیا جاتا تھا بلکہ ہر قسم کی اندرونی و بیرونی امداد بھی حاصل کی جاتی تھی اور اِن کا واقعی دہشت گردی و انتہا پسندی سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں تھا کیوں کہ یہاں کوئی پڑھتا پڑھاتا ہی نہیں تھا۔

ہم نے اب قومی سطح پر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ کالعدم لشکر طیبہ دہشت گرد گروہ تھا کیوں کہ پاکستانی ریاست اس گروہ پر پابندی عائد کرچکی ہے اور اس کے اثاثے ضبط ہوچکے ہیں۔اس گروہ کے سابقہ عہدے دار یہ اعلان کرچکے ہیں کہ اس کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں اور اس کے ذمہ داران بھارتی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔آج بھی پاکستان کے کتب فروشوں کے پاس تین جلدوں پر مشتمل دستاویز موجود ہے جس کو ”ہم مائیں لشکر طیبہ کی“ کے عنوان سے شائع کیا گیا۔ان تین جلدوں میں پونے دو سو کے قریب شہدائے لشکر طیبہ کے حالات و کوائف موجود ہیں اور اِن میں ننانوے فیصد پاکستانی ہی نہیں، پنجابی ہیں۔یہ تمام شہدائے کرام پاکستانی مدارس میں تعلیم پاتے رہے۔ایسے ہی سینکڑوں دیگر غیر سرکاری شہدائے کرام بھی پاکستانی مدارس سے تعلیم حاصل کرنے کے دوران یا بعد میں شہادت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اگر ہم پوری قوت کے ساتھ استردادی رویے اور کذب مقدس کے ساتھ جڑے رہے تو کوئی سطح کا قومی غیر متنازع آپریشن بھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکے گا۔کیوں کہ ہم تسلیم کرنے کو شکست تعبیر کرتے ہیں اورہر قسم کے لغو تصور کے ساتھ اڑے رہنا ہمارے لیے نوید فتح ہوتا ہے۔یہی صورت حال آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے اور ہمیں یہ کہتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہیں ہوتا کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔اگلے ہی دن ہماری کوئی یونی ورسٹی دہشت گردی کا شکار بن جاتی ہے یا ہماری سیکورٹی فورسز کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہمیں اپنے اوہام کو مقامی سطح پر موجود حقائق کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ہوگا۔بصورت دیگر ہر وہ چیز جو ہمیں تنگ کرے گی بیرونی سازش ہوگی ۔


Comments

FB Login Required - comments