انگریزوں کا انسانی بچے بطور خوراک استعمال کرنے کا منصوبہ


ہم جانتے ہی ہیں کہ سلطنت برطانیہ، تاریخ انسانی کی ایک بے رحم ترین سلطنت تھی۔ سنہ 1729 میں اسی برطانیہ کے ایک مشہور مفکر، فلسفی اور دانشور نے ایک انتہائی ظالمانہ تجویز پیش کی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس انتہائی مذموم تجویز کو اس نے ”ایک معتدل تجویز“ کے نام سے شائع کیا تھا۔ آئیے اس کی اور اس کے ملک برطانیہ کی اصلیت جانتے ہیں جس نے یہ ”معتدل تجویز“ پڑھنے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی اور پھر کرہ ارض پر ایسی ظالمانہ حکومت قائم کی جس سے بڑی سلطنت آج تک نہیں بنی تھی۔

ہندوستان اس کا ظلم دیکھ چکا ہے جب اس نے پیسا بنانے کے لئے مانچسٹر کا مشینی کپڑا بیچنے کی خاطر ڈھاکہ کے جولاہوں کے انگوٹھے کاٹ ڈالے تھے کیونکہ وہ ایسا اعلی درجے کا کپڑا بناتے تھے جس کا پورا تھان ایک انگوٹھی سے گزر جاتا تھا۔ آپ اگر اس تاریخ سے آگاہ ہوں تو آپ کو اس ”معتدل تجویز (آ ماڈیسٹ پروپوزل)“ میں غربت ختم کرنے کے لئے ایسی ظالمانہ تجویز پڑھ کر حیرت نہیں ہو گی کہ غریبوں کے بچے کھا لئے جائیں اور یوں غربت کا خاتمہ کر دیا جائے۔

یہ گورے آج یہی تاریخ تیل سے پیسا بنانے کی خاطر عراق، لیبیا، شام، مالی اور افغانستان وغیرہ میں بھی دہرا رہے ہیں۔ ان کے لئے پیسا ہی سب کچھ ہے اور انسانی جان کی ان کے نزدیک پرکاہ برابر اہمیت نہیں ہے۔ خود ان کے لالچ اور خونریزی کا یہ عالم ہے اور ہمیں انسانی حقوق کے نام پر تہذیب سکھانے کے دعویدار بننے چلے ہیں۔

آئیے پڑھتے ہیں اس ظالمانہ تجویز کی تلخیص و آزاد ترجمہ تاکہ مغرب کے اندھے غلاموں کو پتہ تو چلے کہ ان کے آقاؤں کی اصلیت کیا ہے۔

وارننگ: کمزور دل خواتین و حضرات اس سے آگے مت پڑھیں۔ یہ نہایت ہی گھناؤنا، کراہت انگیز اور مکروہ ترین منصوبہ ہے۔

ایک معتدل تجویز

اس عظیم شہر میں پھرنے والوں کے لئے یہ ایک نہایت غمگین منظر ہوتا ہے جب وہ سڑکوں، چوراہوں، اور کچے مکان کے دروازوں کو ایسی فقیرنیوں کے ہجوم میں گھرا ہوا دیکھتے ہیں جن کے ساتھ چیتھڑوں میں ملبوس تین، چار، حتی کہ چھے چھے بچے ہوتے ہیں جو کہ ہر راہگیر سے بھیک مانگتے ہیں۔ یہ عورتیں حق حلال کی روزی کمانی کی بجائے ان بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر گلیوں میں گھوم کر بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور یہ بچے بڑے ہو کر کام کی تلاش میں ناکام ہو کر چور ڈاکو بن جاتے ہیں یا پھر اپنا ملک چھوڑ کر سپینی غاصب کے سپاہی بن جاتے ہیں یا باربادوس جا کر خود کو ہی بیچ ڈالتے ہیں۔

غریب لوگ اور ان کے بال بچے

میرا خیال ہے کہ تمام طبقاتِ فکر اس پر متفق ہوں گے کہ ہمارا ملک جس نازک دور سے گزر رہا ہے، اس میں اپنی ماؤں اور اکثر اوقات اپنے باپوں کی بانہوں، کمر یا ٹانگوں سے لپٹے ان بچوں کی اس قدر بڑی تعداد ہمارے عظیم ملک کے لئے مزید پریشانی کا باعث ہے۔ اس لئے جو شخص بھی ان بچوں کو دولت مشترکہ کا ایک اچھا شہری بنانے کا ایک موزوں، سستا اور آسان طریقہ تجویز کرے گا، قوم اس کی اتنی عزت افزائی کرنے پر مجبور ہو جائے گی کہ اس کا مجسمہ بنا کر چوک پر لگا دے گی۔

لیکن میرا مقصد صرف ان مشاق بھکاریوں کے بچوں کو سہولت دینا ہی نہیں ہے۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے اور یہ نہ صرف بھکاریوں بلکہ ایسے شدید غریب لوگوں کے بچوں کو ایک خاص عمر میں لینے کے بارے میں ہے جو کہ انہیں پالنے کے قابل نہیں ہیں۔

جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں اس مسئلے پر کئی سال سے غور و فکر کر رہا ہوں اور کئی منصوبے بنا بنا کر ان کو مختلف نقائص کی وجہ سے مسترد کر چکا ہوں۔ یہ درست ہے کہ ایک بچہ پیدائش کے بعد تقریباً ایک سال تک محض ماں کے دودھ اور ہلکی پھلکی دوسری غذا پر پل سکتا ہے جو کہ اس کی نہایت کم پیسے کمانے والی یا پھر اپنے قانونی پیشے یعنی بھیک میں ملے ہوئے ٹکڑے پانے والی ماں بھی اسے دے سکتی ہے۔ میں ایک ایسا حل تجویز کرنے جا رہا ہوں جس کے تحت یہ بچے اپنی ساری زندگی اپنے غریب والدین یا مقامی آبادی پر خوراک کی خاطر بوجھ بننے کی بجائے الٹا کئی ہزار لوگوں کو خوراک اور کپڑا لتا فراہم کرنے کا سبب بنیں گے۔

میرے منصوبے کا ایک اور بہترین پہلو یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ناجائز بچوں کو قتل کرنے کا رواج ختم ہو جائے گا۔ افسوس، صد افسوس، بہت سے لوگ ان معصوم و مظلوم بچوں کو غیرت کی وجہ سے نہیں بلکہ غالباً خرچے سے بچنے کے لئے ہی قتل کر دیتے ہیں۔ ایسا ظلم تو ایک نہایت شقی القلب شخص کی آنکھوں کو بھی نم کر دے گا اور اس کے سینے کو غم سے بھر دے گا۔

اس ملک کی آبادی کا اندازہ پندرہ لاکھ نفوس لگایا جاتا ہے اور میری اندازے کے مطابق دو لاکھ افراد کی بیویاں بچے جنتی ہیں۔ ان میں سے صرف تیس ہزار افراد اپنے بچوں کا خرچ اٹھا سکتے ہیں، گو کہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تعداد اتنی زیادہ نہیں ہو گی کیونکہ ہمارا ملک ایک بہت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی پونے دو لاکھ کے قریب غریب جوڑے باقی بچتے ہیں۔ اس میں سے پچاس ہزار وہ نکال دیں جن کے حمل میں پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے یا ان کے بچے ایک سال کی عمر تک زندہ نہیں رہ پاتے ہیں۔ یعنی ہر سال تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار انتہائی غریب جوڑے ایسے ہوتے ہیں جن کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان کی پرورش کیسے کی جا سکتی ہے، جبکہ میں بتا چکا ہوں کہ ہمارا ملک پہلے ہی ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔

نہ تو ہم انہیں دستکاری کی صنعت میں روزگار دے سکتے ہیں، نہ ہی زراعت میں، نہ ہی دیہات میں نئے گھر بن رہے ہیں جہاں وہ مزدوری کر سکیں۔ جب تک وہ چھے سال کے نہیں ہو جاتے، وہ تو بس کبھی کبھار کچھ چوری چکاری کر کے ہی گزارا کرتے ہیں۔

مجھے غلاموں کے تاجروں نے بتایا ہے کہ کوئی بھِی لڑکا یا لڑکی بارہ سال کی عمر سے پہلے فروخت کرنے کے قابل نہیں ہوتا ہے۔ اس عمر میں بھی وہ تین پاؤنڈ سے زیادہ قیمت نہیں پاتے ہیں۔ جبکہ ان کی پرورش پر کیا جانے والا خرچہ اس سے کم از کم چار گنا زیادہ ہوتا ہے۔

اس لیے میں نہایت انکساری سے اپنے کچھ خیالات پیش کرتا ہوں جن پر میرے خیال میں معمولی سی تنقید بھی نہیں ہو گی۔

مجھے لندن میں ایک صاحب علم امریکی واقف نے یقین دلایا ہے کہ ایک سال کی عمر کا ایک صحت مت بچہ، جس کو خوب کھلایا پلایا گیا ہو، ایک لذیذ، مقوی اور صحت بخش خوراک ہے، خواہ اسے نرم آنچ پر پکایا جائے، روسٹ کیا جائے، تندور میں پکایا جائے یا ابال کر کھایا جائے۔ مجھے کوئی شک نہیں ہے کہ یہ تکوں اور سالن کی شکل میں بھی بہترین رہے گا۔

میں نہایت عاجزی سے عوام الناس کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا ہوں کہ ان ایک لاکھ بیس ہزار بچوں میں سے بیس ہزار کو افزائش نسل کے لئے رکھا جائے، جن میں سے ایک چوتھائی لڑکے ہوں گے۔ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو کہ ہم بھیڑ بکریوں، مویشیوں یا خنزیروں کی افزائش کے لئے رکھی جاتی ہے۔ میری منطق یہ ہے کہ کیونکہ یہ بچے بسا اوقات ہی شادی کے بندھن کے باعث پیدا ہوتے ہیں کیونکہ شادی بیاہ کی یہ جنگلی لوگ پرواہ نہیں کرتے ہیں، اس لئے ایک مرد تقریباً چار عورتوں کے لئے کافی سمجھا جانا چاہیے۔ ایک سال کی عمر میں بقیہ ایک لاکھ بچوں کو وطن عزیز کے ایسے خوشحال لوگوں کو فروخت کیا جا سکتا ہے جو ان کا بار اٹھا سکیں۔ ان بچوں کی ماؤں کو مشورہ دیا جانا چاہیے کہ آخری مہینے میں ان بچوں کو خوب دودھ پلائیں تاکہ وہ خوب موٹے تازے ہو جائیں اور ایک خوب سجی ہوئی اعلی درجے کی کھانے کی میز کے قابل بن جائیں۔ دوست احباب کے لئے کی گئی دعوت میں ایک بچے سے دو کھانے تیار کیے جا سکتے ہیں۔ جب خاندان اپنے لئے کھانا تیار کرے تو پھر ران اور دستی کا گوشت مناسب رہے گا۔ خاص طور پر سردیوں میں تھوڑا سا مرچ مصالحہ لگا کر چوتھے دن اسے ابال کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے “اگلا صفحہ” کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 959 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

7 thoughts on “انگریزوں کا انسانی بچے بطور خوراک استعمال کرنے کا منصوبہ

  • 20/10/2016 at 12:34 pm
    Permalink

    Its a satirical essay by Jonathan swift it was written to highlight the poverty of Irish people in 18th century

  • 20/10/2016 at 9:41 pm
    Permalink

    اس قدر کامیاب ترجمے کی جس قدر تعریف کی جائے بجا ہوگی۔ اصل تحریر طنزیہ ادب کی اعلی ترین تحریروں میں شمار کی جاتی ہے۔ اسکو اردو میں مہیا کرکے آپ نے ایک احسان کیا ہے۔ خود اردو میں بھرپورطنز کی مثالیں بہت کم ہونگی ۔ اس وقت جو یاد آرہی ہیں ان پر غور کرتا ہوں تو وہ مذاح تک ہی محدود نظر آتی ہیں۔ ہم لوگ زیادہ تر فقرہ کسنے کو ہی طنز سمجھ لیتے ہیں۔

  • 21/10/2016 at 4:57 pm
    Permalink

    Jonathan Swift’s essay, ‘a modest proposal’ has been misperceived. In this essay, Swift makes a blunt criticism to the then new moral theory, utilitarianism. Utilitarianism is a consequential theory that claims that morality depends upon the consequences of an action, so whatever promotes the public good is moral. However, this theory may justify even immoral acts for the public good. Thus, Swift wrote this essay to make fun of utilitarianism. Although cannibalism was practicing in the past but getting inference from this essay that Swift proposed to eat infants is wrong. Swift criticised the theory through his satirical art with using the example of infants. This link can help to understand Swift’s intentions to write the essay (I can email the full article if someone wants to read): http://cje.oxfordjournals.org/content/39/1/281.abstract

  • 21/10/2016 at 9:25 pm
    Permalink

    کیا یہ ممکن ہے کہ جو لوگ اس تحریر کی اشاعت کو ادب اور تہذیب پر ایک حملہ سمجھتے ہیں وہ ہمیں ان اردو تحریروں کی نشاندہی بھی کردیں جو انکے نزدیک طنز کی مثالی شاہکار ہیں۔ (مذاح کی نہیں، طنز کی)۔

  • Pingback: کیا ایک مسلمان ارتقا کے نظریے کو درست مان سکتا ہے؟ - ہم سب

  • Pingback: طنز آخر ہوتا کیا ہے؟ - ہم سب

  • Pingback: نام نہاد لبرل علما قوم کو دانش سکھاتے ہیں یا گمراہی؟ - ہم سب

Comments are closed.