اعلانِ مراکش۔ 2016


aasemمسلمان معاشروں میں مذہبی اقلیتوں کےحقوق کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے اس ہفتے  مراکش میں ایک اعلیٰ سطح کی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں  مختلف ممالک سے مذہبی علماء کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء میں تمام اہم مذاہب کے  اہل علم شامل تھے،بالخصوص ایسے مذاہب  جو مسلمان معاشروں کے اقلیتی مذاہب ہیں۔ کانفرنس کا مقصد روایتِِ میثاق مدینہ سے اصلاح و راہنمائی لیتے ہوئے ان تین  امور پرمکالمہ اور دعوتِ   تحقیق تھی: اول،  مسلمان معاشروں میں اقلیتی حقوق سے متعلق بحث کا مرکز الہامی اور مذہبی متون  کو بناتے ہوئے ان سے عمومی اصول، مقاصد اور  قانونی طریقۂ کار کی دریافت؛ دوم،  اس مسئلے کی تاریخی جہت کا مطالعہ اور سوم، اس سلسلے میں ان معاشروں کے  مقامی قوانین کا بین الاقوامی  حقوق کے تناظر میں  ایک جائزہ۔  کانفرنس کے اختتام پر ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا گیا  جس کا ترجمہ  پیشِ خدمت ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 اکثریتی مسلم معاشروں میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق  سے متعلق اعلانِ مراکش کا خلاصہ

25 تا27 جنوری  2016

۱۔ چونکہ مسلم  دنیا  میں جابجاباہمی اختلافات کے حل  کے لئے شدت پسندی، مسلح  جدوجہد اور اپنی رائے دوسروں پر مسلط  کرنے  کے باعث حالات خطرناک حد تک مخدوش ہو چکے ہیں؛

۲۔ چونکہ ان حالات کی وجہ سے باجواز قانونی  حکومتوں کا اختیار کمزور ہوا ہے اور  جرائم پیشہ جتھے اسلامی احکام پر مشتمل فتوے اس طرح نشر کر رہے ہیں  کہ بنیادی اسلامی اصولوں اور مقاصد  کی بگڑی ہوئی تعبیر مجموعی طور پر ساری معاشرت کو ہی بری طرح متاثر کر رہی ہے؛

۳۔ چونکہ آج  اُس میثاقِ مدینہ کو چودہ  سو سال ہو چکے ہیں جو حضرت محمد ﷺ اور مدینہ کے عوام کے درمیان  کسی بھی عقیدہ و مذہب کی تفریق سے بالاترمذہبی آزادی و رواداری  کا آئینی معاہدہ تھا؛

morroco

۴۔ چونکہ آج   ایک سو بیس ممالک سے سینکڑوں مسلمان اہلِ علم و فکر  ، اسلامی اور بین الاقوامی تنظیموں کے مندوبین اور متنوع مذہبی  انجمنوں اور قومیتوں کے راہنما  مراکش میں  اس  لئے جمع ہوئے ہیں کہ اس  اہم کانفرنس میں میثاقِ مدینہ کے اصولوں کی تجدید کر سکیں؛

۵۔ چونکہ یہ کانفرنس   مراکش کے شاہ محمد السادس  کی سرپرستی میں اور مراکش کی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور  اور  متحدہ عرب امارات  کے مسلم  امن فورم  کے تعاون سے منعقد کی جا رہی ہے؛

اور  ان حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے  جو پوری دنیا کے  مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں  کے لئے باعثِ ایذا ہیں یہاں موجود تمام مسلمان اہلِ علم و فکر  :

۱۔ میثاقِ مدینہ میں بیان کردہ اصولوں سے اپنی مکمل وابستگی کا اعلان کرتے ہیں جس کے مشمولات میں آئینی شہریت کے معاہدے  سے متعلق کئی اصول موجود ہیں مثال کے طور پر  آزادانہ نقل و حمل، جائیداد کی ملکیت، باہمی یگانگت و   دفاع اور قانونی انصاف و مساوات ؛ اور

۲۔  یہ کہ  میثاقِ مدینہ کےاصول و مقاصد مسلم اکثریت والے ممالک میں  قومی  آئین سازی کا ایک  معقول ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں اور  اقوامِ متحدہ کا منشور اور  متعلقہ دستاویزات،

مثلاً  انسانی حقوق کا بین الاقوامی منشور، میثاقِ مدینہ سے نہ صرف ہم آہنگ ہیں بلکہ عوامی امن عامہ کی مکمل رعایت رکھتے ہیں۔

۳۔ مزید برآں  یہ مانتے ہوئے کہ انسانیت کو  درپیش بحرانوں پر گہرا  غوروفکر اس  ضرورت کا متقاضی ہے کہ تمام مذہبی گروہوں  کے بیچ ایک فوری اور حتمی باہمی  تعاون پر زور دیا جائے، ہم  توثیق کرتے ہیں کہ  یہ باہمی اشتراک و تعاون ایک ایسی’ مشترکہ  اصطلاح‘ پر مبنی ہو جو (اپنے معنی میں) اس امر کو لازم کرتی ہو کہ  یہ تعاون باہمی  رواداری اور احترام سے آگے بڑھتے ہوئے  تمام مذہبی گروہوں کے حقوق اور آزادیوں کو ہر  اس مہذب طریقے سے ممکن بنائے گا جو  جبر،  تعصب اور تحقیر  سے احتراز کرے۔

 مندرجہ بالا  اعلانات کی بنیاد پر ہم

 ۱۔ دنیا   کے ہر مسلمان اہل علم اور مفکر کو  دعوت دیتے ہیں کہ وہ ’’شہریت‘‘ کے تصور پر ایسی فقہ مرتب کرے تو متنوع گروہوں پر محیط ہو۔ اس فقہ کی بنیادیں اسلامی روایت  میں ہوں گی اور عالمگیر تبدیلیو ں سے آگاہ ہوں گی؛

۲۔ مسلم علمی اداروں اور اربابِ اختیار  کو  دعوت دیتے ہیں کہ وہ علمی نصاب پر  ایک ایسی جرأت مندانہ  نظر ثانی  کرے جو  دیانتدار اور پراثر طریقے سے اس تمام مواد  کو موضوع بنائے  جو  جارحیت اور شدت پسندی پر ابھارتا ہے، جنگ و جدل کا باعث ہے اور جس کا نتیجہ  ہمارے مشترکہ معاشروں کا انہدام ہے۔

۳۔ سیاسی اربابِ اختیار کو وہ تمام سیاسی و قانونی اقدامات اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں جو شہریوں کے مابین  ایک آئینی معاہدہ قائم کر سکیں، اور  ان تمام ضابطہ بندیوں  اور کاوشوں کی سرپرستی کریں  جو مسلم دنیا میں مختلف مذہبی گروہوں کے در میان  تعلقات اور باہمی تفہیم کے عمل کے لئے کوشاں ہیں۔

۴۔ اپنے  معاشروں میں علم و  فنون  سے متعلق تخلیقی طبقات اور سول سوسائٹی کی انجمنوں  کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مسلم ممالک میں مذہبی اقلیتوں سے انصاف کے لئے بڑے پیمانے پر مہم چلائیں تاکہ ان کے حقوق  کے بارے میں رائے عامہ ہموار ہو سکے اور ان تمام کوششوں کی بارآوری کے لئے مل جل کر جدوجہد جاری رہے۔

۵۔ کسی مخصوص قومیت سے وابستہ ان تمام مذہبی گروہوں کو  دعوت دیتے ہیں کہ  وہ  اپنے اس مخصوص مشترکہ   نسیان   سے آزاد ہوں جس نے  صدیوں سے سانجھی زمین پرقائم متنوع  زندہ روایتوں کو ان کے ذہن سے حذف کر دیا ہے۔ ہم ان کو دعوت دیتے ہیں  کہ وہ  اس زندہ دلی کی روایت کو زندہ کر کے ماضی  کی تعمیرِ نو کر یں  اور  اپنا وہ   باہمی بھروسہ بحال کریں جو   شدت پسندوں نے  دہشت گردی اور  جارحیت کے باعث کہیں تاریخ میں محو کر دیا ہے۔

۶۔ مختلف مذاہب ، فرقوں اور  مکاتبِ فکر  کے نمائندوں کو دعوت دیتے ہیں  کہ وہ  ہر قسم کے مذہبی تعصب، بدکلامی،قابلِ تعظیم شعائرِ مقدسہ  کی تذلیل و تحقیر  اور نفرت و تعصب پھیلانے والی  تقریر و تبلیغ کا مقابلہ کریں،

اور آخر میں ہم توثیق کرتے ہیں  کہ مسلمان ممالک میں رہنے والی مذہبی اقلیتوں کے خلاف مذہبی جارحیت  عدل و انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

مراکش

27 ، جنوری2016

(ترجمہ اور تعارف: عاصم بخشی )


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 47 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

3 thoughts on “اعلانِ مراکش۔ 2016

  • 30-01-2016 at 12:34 pm
    Permalink

    A good effort in right direction.
    kindly give its link where compete detail of declaration and participants available.

  • 03-02-2016 at 8:47 pm
    Permalink

    باوجود اس کے کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے اور اسکی توثیق عین اسلامی تعیلمات کی روح کے مطابق لازم ہے۔ لیکن میں اسے موجودہ حالات کے تناظر میں بوجوہ مسلم امہ بالخصوص حکومتی سطح پراس کانفرنس اور اسکے اعلامیہ کو وقت کی ضرورت سے بہت کم اور لاحاصل کوشش تصور کرتا ہوں۔
    یہ اعلامیہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسلم ممالک میں غیر مسلم اور غیر مسلم ممالک میں مسلمان یکساں مقامی نفرت کا شکار ہورہے ہیں۔ یہ یکطرفہ پیش قدمی مثبت ہی سہی پرناکافی ضرور سمجھی جاۓ گی۔ اس میں بھی شاید دو آرا نہیں کہ ہر دو اطراف کمزور اقلیت کو ظلم اور نفرت کا نشانہ بنانے والے ہاتھ کسی قانون کے تابع نہیں یا قانون کو اپنے تابع کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ لہذا قانون کو ماننے والوں کی ایک کمزور اور غیر نمائندہ اقلیت کی کوشش پر کتنا خوش ہوا جاسکتا ہے۔
    دنیا میں بالعموم اورمسلم دنیا میں بالخصوص بدامنی اور دہشت گردی کی دکھائ اور سنائ جانے والی ظاہر وجوہ میں یقینآ ایک حد تک صداقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں کہ ان حالات کے ذمہ دار بہرحال جاہل مسلمان اور انکے خودغرض حکمران ہیں۔ لیکن ایک پہلو پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے کہ اسلحہ سازی، جنگی جنون اور عالمی سیاست کے کھلاڑی کس شوق اور خوف میں مبتلا ہو کر یہ سب کر رہے ہیں ؟ کہیں یہ سارا کھیل وسائل پر قبضہ اور کا تو نہیں ؟ یہ تہذیبوں کا ٹکراو دراصل مفادات کا ٹکراو تو نہیں ؟ اس سارے کھیل میں بنییفشری کون ہے ؟

Comments are closed.