یہاں عورت ہونا آسان نہیں ….


ramish fatimaجب کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ سمجھ سکتا ہے ایک عورت کو کس قسم کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے تو مجھے حیرت بھی ہوتی ہے اور ہنسی بھی آتی ہے.. جو سمجھنے کا دعوی کریں وہ یقیناً یہ جانتے ہیں کہ کوئی مرد کس حد تک گر سکتا ہے.لیکن مجھ پر یقین کریں کہ شاید آپ کبھی نہیں سمجھ سکتے۔

کوئی پاس سے گزرتے ہوئے آپکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ مس کرے…. اس بہادرانہ کام میں شاید کچھ نینو سیکنڈ بھی نہیں لگتے لیکن دن بھر کی ذہنی اذیت اور کرب آپ کو بھگتنا پڑتا ہے۔ کہیں کسی جگہ اکیلا دیکھ لیں تو سورما صفت ایک منٹ نہیں لگاتے، اپنی پہچان کرانے میں ….

بھرے بازار میں اگر کسی کی دست درازی پہ اس کی سرزنش کی جائے تو لوگ ہمیشہ لڑکی کے نام کے سے واقعہ یاد رکھتے ہیں کہ فلاں بنت فلاں کے ساتھ فلاں ابن فلاں نے زیادتی کی…کوئی یہ خبر بھی چلایا کرے کہ اس فلاں ابن فلاں نے کسی خاتون کے ساتھ دراز دستی کی کوشش کی تھی۔

لیکن ایسا کیسے ہو سکتا ہے اس معاشرے میں جہاں عورت کو کبھی ٹافی سے تشبیہ دی جائے تو کبھی پھول سے، آخر آپ عورت کو انسان کیوں نہیں سمجھ سکتے؟کیوں اسے کبھی مرد بنانے پہ تل جاتے ہیں اور کبھی ٹافی…. عورت ہے نا، اسے عورت کے طور پہ جینے دیں۔ اس کی زندگی کے چیلنج میں آپ جیسے مردانگی کے زعم میں مبتلا نمونوں کو روز بھگتنا لکھا ہے۔ اس کی زندگی کا چیلنج ہر مہینے پانچ سے سات دن حیاتیاتی تحدیدات کے ساتھ روزمرہ کا ہر کام کرنا ہے۔ اس کی زندگی کا چیلنج ایک بچے کو اپنی کوکھ میں پالنا ہے…. جو ایک ذرا سی خراش یا دو ٹانکے لگنے پہ ناز اٹھواتے پھرتے ہیں وہ بیٹھ کے دانشوری جھاڑتے ہیں کہ عورت مرد کا مقابلہ نہیں کر سکتی…. ارے! تم ایک خراش ا ٓنے پر اسپتال کی طرف بھاگنے والے ہمارا مقابلہ کر سکتے ہو؟

ایک صاحبِ عقل اٹھتے ہیں جی عورت کو ایسے جینا چاہیے…. دوسرے صاحبِ علم فرماتے ہیں، ’ ایسے نہیں، ویسے جینا چاہیے‘…. نقار خانے میں تیسری آواز بلند ہوتی ہے ’نہ ایسے ،نہ ویسے، سے جینا ہی کیوں چاہیے ؟ بچے پیدا کرے ، خدمت کرتی کرتی مر جائے….

جہاں ایک ریپ کیس کو ختم کرنے کیلیے اتنا ہی کافی ہے اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو پہلے سے جانتے تھے، دوست تھے، اب لڑکے سے دوستی کی ہے، تو یہ سب تو ہوگا ہی…. ایسی جگہ پر ہم اس بات کی لڑائی کیا خاک لڑیں کہ شوہر کا بیوی سے زبردستی ہم بستری کرنا بھی ریپ کی ایک قسم ہے…. بیٹے کا افیئر ہو تو سارا خاندان شادی کی تقریب میں ناچتا پھرتا ہے…. بیٹی کے افیئر پہ ناک کٹ جاتی ہے۔

بہت کچھ ایسا ہے جو میں لکھنا چاہتی ہوں۔ بہت کچھ ایسا ہے جو سب بتانا چاہتے ہیں۔ اگر ہر عورت اپنی کہانی لکھے تو یہاں کے سب پردہ نشین ماہ جبینوں سے دور بھاگتے پھریں گے۔ کسی پہ مذہب کی بندش ہے، کسی پہ سماج کی، کہیں رشتوں کی، کہیں خاندان کی…. کہیں فتویٰ بازی ہے تو کہیں رشتوں کی زنجیریں۔ کوئی نہ کوئی نوٹنکی رچائی جاتی رہی ہے۔ اگر کسی کی ہنسیکو مذہب نہیں روک سکتا تو اس کی ہنسی چھین لو، اگر کسی کو روکنا ہے آگے بڑھنے سے تو اس کے پیروں میں رشتوں کی زنجیر ڈال دو۔ اسے اپنی غیرت کہو اور پھر بے غیرتی سے اسے قتل کر دو…. دوستی کا دعوی کرو اور پھر موقع ملتے ہی ثابت کر دو کہ تم بھروسے کے قابل نہیں ہو۔ مردانگی کے زعم میں مبتلا بہت سے انفاس مطہرہ کے لئے دکھ کی خبر بس یہی ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود ہم سب جینے کی کوشش کر رہے ہیں.

 


Comments

FB Login Required - comments

25 thoughts on “یہاں عورت ہونا آسان نہیں ….

  • 29-01-2016 at 4:45 pm
    Permalink

    بہت خوب لکھا اور زور کا طمانچہ لگا دیا

  • 29-01-2016 at 5:01 pm
    Permalink

    Agreed with some shame and some shamelessness.

  • 29-01-2016 at 5:19 pm
    Permalink

    اگر عورت بننا آسان نہں ہے تو ۔۔۔ عورت بن کر رہنا اور اپنی چوڑیوں پر ناز کرنا جو حقیقت میں ہتھکڑیاں ہیں ان عزت کرنا بھی چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمت ہے تو عورت کی بقاع کے لئے لڑنا سیکھو یہ نہں سننا کہ
    بہت کچھ ایسا ہے جو میں لکھنا چاہتی ہوں۔ بہت کچھ ایسا ہے جو سب بتانا چاہتے ہیں۔
    کر کے دکھائو ۔۔۔
    کیوں بزدلی کی زندگی میں جے رہی ہے عورت
    اگر کوئی بزدل نہیں ہوتا تو اس پر بادشاہت کرنے والا پیدا ہی نہیں ہوتا ۔

  • 29-01-2016 at 6:13 pm
    Permalink

    I agree
    V.true.mje afsoos h k me is mardana muashre ka hisa hon

  • 29-01-2016 at 7:06 pm
    Permalink

    عمدہ لکھا ۔

  • 29-01-2016 at 7:34 pm
    Permalink

    بہترین …. عورت ایک جیتا جاگتا اور مکمل وجود ہے ، اس کا شخصی احترام ایک مہذب سماج میں ازحد ضروری ہے – عورت نہ تفریح ہے اور نہ مردوں کی فطری خدمت گزار ،وہ ایک مکمل انسان ہے – ہر فرد (مرد و عورت ) اپنی فطرت میں لاثانی ہے – اس کی شخصیت کا احترام و یقین ضروری ہے

  • 29-01-2016 at 7:44 pm
    Permalink

    Fatima apnay bilkul thek kaha ha

  • 29-01-2016 at 8:07 pm
    Permalink

    اس معاشرے میں کچھ بھی ھونا آسان نہیں. انسان تک ھونا بھی آسان نہیں

  • 29-01-2016 at 8:32 pm
    Permalink

    حقیقت

  • 29-01-2016 at 8:49 pm
    Permalink

    !!We need more women to speak up.

    It is time for them to fight for their rightful place in society, right next to or above mentioned. Napoleon was right that the start of a great society is with the rightful spot and treatment of women of that society.

  • 29-01-2016 at 9:02 pm
    Permalink

    100 % true fatima

  • 29-01-2016 at 11:08 pm
    Permalink

    ویری ویل ریٹن
    ویل ڈن

  • 30-01-2016 at 1:07 am
    Permalink

    Ramish Fatima
    U r a good addition in list of Writers Who are writing with heart . You are exposing contradictions of this contradictory society. I am satisfied that you are our future and our hope . Best of Luck and go ahead for achieving your goals of a liberal , moderate and geneder concious society .

    • 30-01-2016 at 1:25 am
      Permalink

      Thanks

  • 30-01-2016 at 12:03 pm
    Permalink

    naraz log yeh bhi keh dete hain ke jo doosron ke betiyon se khelta tha Allah ne use bhi chand si betiyan deen.

    sorry but hum log to kalyug main rehte hain

  • 30-01-2016 at 3:48 pm
    Permalink

    Respect your each and every single word

  • 30-01-2016 at 6:03 pm
    Permalink

    بہت عمدہ

  • 31-01-2016 at 2:36 pm
    Permalink

    Thought ptovoking.. well done Ramish..

  • 31-01-2016 at 9:13 pm
    Permalink

    بی بی سچی بات ہے کہ آپ نے لاجواب کر دیا۔ آپ کی بیشتر باتیں درست ہیں اور بطور مرد میرے لئے یہ شرمندگی کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے کی خواتین اس قدر ازئیت میں زندگی بسر کر رہی ہیں۔ درست کہا آپ نے بلکہ سچ پوچھیں تو آئینہ دکھایا۔

  • 01-02-2016 at 10:02 am
    Permalink

    Baat Tou Sach Hey… Magar Baat Hey Ruswai Ki… (Mardon K Liye)

  • 01-02-2016 at 12:47 pm
    Permalink

    میں بالکل اتفاق کرتا ہوں آپ کے خیالات سے۔۔۔
    یہ معاشرتی ڈھونگ ہے جو ہم صدیوں سے رچا رہے ہیں کہ ۔۔۔چاردیواری۔۔۔چادر ۔۔۔ایٹ سٹرا ایٹ سٹرا۔۔۔

  • 01-02-2016 at 3:42 pm
    Permalink

    I have in fact promised myself not to raise my daughter in this rape-infected society where we are not safe even at the hands of our cousins, relatives, and uncles. Yes, this is the truth.

    I have lost my heart, and I find this hell-hole unbearable, and I am very glad to see that women such as the writer here are raising their voice.

    Kind regards.

  • 03-02-2016 at 11:18 am
    Permalink

    ایک باسی تحریر ،، جس میں کچھ نیا ،، کچھ تازہ نہیں-

    کیوں کہ کہ میں عورت کو عورت کے علاوہ ایک نارمل انسان بھی سمجھتا ہوں، اس لیئے کسی خاتون کی تحریر ہونے کی وجہ سے اس کی جھوٹی تعریف نہیں کروں گا،،

    معاف کیجئے گا لیکن، عورت کا یہ رونا دھونا اتنی مرتبہ دہرایا جا چکا ہے کہ اب اس میں سے گلنے سڑنے کی سی بو محسوس ہوتی ہے ،،،

    • 05-02-2016 at 7:59 am
      Permalink

      nam nihad muashrey ki karwi haqeeqat waisey merey khiyal main reason aik taraf se nahin hoti hoti dono taraf se hai
      ab ye depend karta hai awam is ko kis lahaz se daikhti haur muashra kis lehas se daikhta hai aur rahi bat mazhab ki
      wo bimari na kabhi khatam ho gi aur na honey wali hai hamarey zehno main mazhab se relatey her chez fix kar di gai aur ye sab merey khiyal main to generation wise chalta a raha hai silsla
      kuch shaoor ki zarorat hai merey kkhiyal main to

  • 05-02-2016 at 11:42 pm
    Permalink

    اگر آپ یہ بھی لکھ دیتی کہ جب عورت کا دل چاہ رہا ہو ،،اور اس کے شوہر کا نہیں اور وہ اپنی اداوں سے اس کو اپنے ساتھ ہمبستری پر مجبو ر کرے تو اس کو کیا کہتے ہے ،ویسے یہ ڈائلاگ جو آپ نے لکھا ہے وہ انڈین فلم astitva کا ہے،،
    دنیا بھر میں عورتیں بھی مردوں کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرتی ہیں،لیکن مرد ان کو رپورٹ نہیں کرتے،
    اگر ایک لڑکی کسی لڑکے سے اکیلے میں ملے۔اور دونوں اپنی مرضی سے برہنہ ہو کر اپنی خواہش نفسانی پوری کرے ،تو اس کو ریپ کیسے کہ سکتے ہے
    کیوں آج کل کی عورت گھریلو زمہداریوں سے بھاگ کر باہر کی زمہ داریاں ادا کرنے میں خوش ہوتی ہیں ،،لیکن اس میں جو مشکلات آتی ہیں اس پر چیختی ہیں،
    تاریخ میں لکھا ہے کہ مارگریٹ تھیچر واحد خاتون تھی جس نے کھبی اپنے ساتھ کام کرنے والے مردوں سے اپنی عورت ہونے کا فائدہ نہیں لیا تھا،
    اور اخر میں آپ عورتیں جن مردوں سے تنگ ہیں وہ بھی تو عورتوں سے ہی پیدا ہوئے ،آج کی عورتیں اپنے بطن سے پیدا ہونے والے مردوں کی تربیت کرنے میں ناکام ہو رہی ہیں

Comments are closed.