سرکاری سکولز کی خطرناک عمارات


مبشر مجید


\"mubashir-majeed\" بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ یہی بچے جب قوم کا مستقبل درخشاں بنانے کے لیے تعلیم حاصل کرنا شروع کرتے ہیں تو والدین سمیت پوری قوم میں امید کی ایک کرن پھوٹتی ہے لیکن اگر ان ننھے ستاروں کو حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے تعلیمی اداروں میں مناسب سہولیات ہی میسر نہ ہوں تو ان کی روشنی ناصرف مانند پڑ جائے گی بلکہ فروغ تعلیم کے بلند و بانگ حکومتی دعوے بھی محض خواب محسوس ہوں گے۔

وہاڑی میں 130 پرائمری،مڈل اور ہائی سکولوں کی عمارتیں اس قدر خستہ ہو چکی ہیں کہ چند ماہ قبل خطرناک قرار دی جا چکی ہیں صرف یہی نہیں سیکرٹری ایجوکیشن پنجاب کی جانب سے ان کی دوبارہ تعمیر کے لیے فنڈز جاری ہوئے بھی کئی ماہ گزر چکے ہیں لیکن متعلقہ افسران نے اس کام کو انتہائی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر انداز کر دیا تھا جس سے ناصرف یہ پراجیکٹ کئی ماہ تک درمیان میں لٹکا رہا بلکہ ان سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ننھے پھولوں کے سر پر لٹکتی تلوار کی مانند خطرے سے دوچار حالات بھی جوں کے توں رہے۔

چند روز قبل ڈی سی او علی اکبر بھٹی نے ان خطرناک عمارات کی تعمیر کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس بلایا جس میں معلوم ہوا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود اس پر کام شروع نہیں کرایا جا سکا جس پر انہوں نے متعلقہ افسران کی نہ صرف سرزنش کی بلکہ محکمہ بلڈنگ سے اس پراجیکٹ کو ٹرانسفر کر کے محکمہ پبلک کے ایکسیئن شاہد بلال اور ان کی ٹیم کے سپرد کر دیا ہے۔

محکمہ پبلک ہیلتھ کے اعداو شمار کے مطابق 130 سرکاری سکولوں میں تین سکول انتہائی خطرناک قرار دیے گئے ہیں جن میں گورنمنٹ پرائمری سکول بہرام واہ، گورنمنٹ پرائمری سکول ٹاہلی واہ، گورنمنٹ پرائمری سکول ممتاز آباد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع وہاڑی کے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ایچ بلاک وہاڑی، گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول وہاڑی، گورنمنٹ ہائی سکول تیمور شہید کی عمارات بھی خطرناک قرار دے کر دوبارہ بنانے کے منصوبے میں شامل ہیں۔

کئی ماہ قبل فنڈز جاری ہونے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال کیوں نہ شروع کیا گیا اور اس کے کیا نقصانات سامنے آئے ہیں یہ جاننے کے لیے سکول ہیڈ، ماہرین تعلیم، ماہرین عمارات اور دیگر لوگوں سے بات چیت کی گئی جو آپ کے گوش گزار ہے۔

گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول سے ڈپٹی ہیڈ ماسٹر منیر احمد جوئیہ نے بتایا ایک ہفتہ قبل ڈسٹرکٹ آفیسر ایجوکیشن (سیکنڈری) کی جانب سے لیٹر موصول ہوا ہے جس میں سکول ہٰذا کی خطرناک عمارت میں شمار 3 کلاس رومز کو خالی کروا لیا گیا ہے اور منصوبہ بارے تعمیری پلان مکمل کرنے کے لیے ضلعی افسر تعمیرات کو لیٹر ارسال کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ محکمہ بلڈنگ کی جانب سے تخمینہ لگایا جائے گا اور سٹرکچر کی تفصیل مہیا کی جائے گی جس کے بعد ٹینڈر نوٹس کے ذریعے پراجیکٹ مکمل کرنے کے لیے دے دیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ سکول کی خطرناک عمارت کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرانے کا اقدام خوش آئند ہے کیونکہ خطرہ کی بدولت کمرے خالی کرا لیے گئے تھے جس کے بعد کلاس رومز کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ کمروں کی تعمیر سے دوبارہ کلاس رومز فنکشنل ہو جائیں گے۔

ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر (سیکنڈری)جاوید احمد باجوہ کا کہنا ہے کہ ویسے تو اس منصوبہ کا تخمینہ گزشتہ سال لگوایا گیا تھا لیکن مالی بجٹ آنے کے بعد جولائی میں ٹھیکہ جات کے ریٹ ریوائز ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تخمینہ دوبارہ لگوانے کی ضرورت پیش آرہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ لیٹر تمام سیکنڈری سکولز کو بھجوا دیے ہیں جس کے پیش نظر سکول ہیڈ محکمہ بلڈنگ سے ایسٹی میٹ لگوائیں گے اور آخری اپروول ڈی سی او علی اکبر بھٹی دیں گے تو کام شروع ہو جائے گا۔
ای ڈی او ایجوکیشن شوکت علی طاہر کا کہنا ہے کہ خطرناک عمارات کو دوبارہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خطرناک عمارات کی تین کیٹگری ہیں جن میں CRITICAL Dangerous،COMPLETE Dangerous اور PARTEILY Dangerous شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی دو کیٹگری کی 61 عمارتیں 165 ملین کی گرانٹ سے تعمیر کے مرحلہ سے گزر کر مکمل ہو چکی ہیں جب کہ باقی بچ جانے والی 130 عمارتوں کے لیے بھی جلد کام شروع ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی ای او سیکنڈری کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ عمارتوں کا ایک مرتبہ پھر معائنہ کر لیں۔

انہوں نے بتایا کریٹیکل خطرناک عمارتیں وہ ہیں جن کے نیچے بیٹھنا خطرہ سے خالی نہیں جب کہ پارشلی خطرناک عمارت کو معمول کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن احتیاطاً ان کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں