طرز حکومت ، رجحان اور لوگ


mirza mujhaidوزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے گذشتہ دنوں لبرل ہونے کی بات کیا کی کہ ایک بحث شروع ہو گئی۔ ہونی بھی چاہیے کیونکہ پاکستان کے کسی وزیراعظم کی زبان سے حکومت کے لبرل طرز اختیار کیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ چاہے یہ شوشہ ہی کیوں نہ ہو جسے تکنیکی زبان میں “فیلر” کہا جاتا ہے یعنی معاشرے کے متنوع حلقوں سے اس بارے میں غیر محسوس انداز میں رائے لیے جانے کا ڈول ڈالا جانا تب بھی یہ صحت مند رویہ ہے۔ لبرل ازم کے ساتھ ہی سیکولرازم کی بات بھی ہونے لگی یعنی چپڑی ہی نہیں بلکہ دو دو کی خواہش کا اظہار۔ مفکر و دانشور وجاہت مسعود نے تو سیکولرازم پر قسط وار طویل رپورٹ بھی تحریر کر ڈالی جو جمہوریت، لبرل ازم اور سیکیولرزم کا متناسب امتزاج لگی۔
اگر جمہوریت اپنی اصل میں جمہوریت نہ ہو تو الیکٹرونک میڈیا کی جانب سے تخلیق کردہ مفکر اور دانشور قسم کے اصحاب اس کے بخیے اکھاڑنے شروع کر دیتے ہیں بجائے اس کے کہ سمجھیں جمہوریت کو کونپل سے درخت بننے میں کتنا وقت لگتا ہے اور اس پر افتاد برداشت کرنے کے کتنے مراحل گذرتے ہیں۔ اسی طرح لبرل طرز اور سیکیولرزم کے رجحان بھی مہینوں یا برسوں میں پختہ نہیں ہو سکتے۔
جب ملک عزیز میں اختلاف کرنے پر بندوق نہیں اٹھائی جاتی تھی ان زمانوں میں بھی لبرل اور کنزرویٹیو حلقوں میں شدومد سے بحثیں ہوا کرتی تھیں مگر ہر فریق اپنے اپنے موقف میں محکم ہوتا تھا۔ ہمارے ایسے بھی دوست ہیں جو آج بھی وائن کا گلاس چڑھانے کی خاطر نیویارک سے پیرس جاتے ہیں اور پھر واپس نیویارک آتے ہیں وہ آج بھی امریکہ میں رہتے ہوئے لبرل ازم اور سیکولرازم کے متعلق ویسے ہی خیال رکھتے ہیں جیسے زمانہ طالبعلمی میں رکھتے تھے البتہ ان کے مخالف موقف رکھنے والوں نے معروضی حالات سے سمجھوتہ کرتے ہوئے اس ضمن میں اپنا موقف تھوڑا سا نرم یا زیادہ منطقی ضرور کر لیا ہے۔
لبرل ازم اور سیکولرازم کا متضاد کنررویٹوازم (Conservatism) اور تھی ازم (Theism) ہے جسے اردو میں قدامت پسندی اور مذہب پرستی (پاپائیت)کہا جا سکتا ہے اگرچہ انگریزی اصطلاحات کا پورا تاثر ان میں سمویا نہیں مل پاتا تاہم کوئی بھی قدامت پرست آزاد روش اختیار نہیں کر سکتا اور کوئی بھی مذہب پرست سیکولرازم یعنی ریاست، قوانین، تمدن، طرز حیات کو مذہب سے علیحدہ کرنے کے حق میں نہیں ہو سکتا۔ تاہم کسی حکومت کو یہ رجحان اختیار کرنے اور اس طرز کو اپنانے سے کوئی نہیں روک سکتا ماسوائے مستحکم پارلیمنٹ کے کنزرویٹیو یااور مذہب پرست اراکین کے۔ اب آپ خود ہی باور کر لیں کہ ہمارے نوزائیدہ پارلیمانی ایوانوں میں کیسے اراکین کی تعداد زیادہ ہے۔
رہی بات عوام کی تو مت بھولیے کہ ملک میں مذہبی رجحانات میں انتہا پرستی حتیٰ کہ شدت پسندی کا پیمانہ کس قدر بلند ہے۔ دنیا بھر میں کنزرویٹیو اور نان سیکولر یا مذہب پسند خیالات رکھنے والوں کی تعداد ہمیشہ زیادہ رہی ہے اور جب تک موت پر قابو نہیں پا لیا جاتا زیادہ ہی رہے گی۔ اور تو اور سوویت یونین میں بھی یہ تعداد انتہائی زیادہ تھی یہ اور بات کہ سب کو خوف میں مبتلا رکھ کر بے آواز کیا گیا تھا۔ آج بھی تاجکستان میں زبردستی داڑھیاں مونڈنے اور چین میں نماز روزے کی ادائیگی پر پابندیاں لگائے جانا ویسا ہی انداز ہے جیسا سوویت یونین میں روا رکھا گیا تھا۔
یورپ میں سیکولر رجحان اور لبرل طرز ڈیڑھ پونے دو سو سال میں اس لیے جڑ پکڑ گئے کیونکہ وہاں مذہب درآمد کردہ تھا۔ ویسے تو ہمارے ہاں بھی مذہب باہر ہی سے آیا تھا لیکن اسے کسی بادشاہ نے درآمد نہیں کیا تھا جیسے روم کے بادشاہ نے عیسائیت اختیار کر لی تو سب نے اسے اپنا لیا۔ مشرق وسطیٰ یا ریاست خزر سے آئے ہوئے یہودیوں کی بھلائی اسی میں تھی کہ وہ سیکولر رجحان اور لبرل طرز کے فروغ میں معاون ہوں کیونکہ ان دنوں یورپ میں یہودیوں کے لیے مسلمانوں کے ملکوں کے یہودیوں کی نسبت کہیں زیادہ پابندیاں، دشواریاں، تعصب اور عناد تھے۔ یاد رہے کہ یورپ اور امریکہ میں یہودیوں کی کثیر تعداد کنزرویٹیو اور نان سیکولر ہی ہے، اسرائیل میں بسنے والے یہودیوں کی تو بات ہی کیا کرنی ایریل شیرون، احد باراک اور بن یامین نیتن یاہو واضح مثالیں ہیں۔
اسلامی ملکوں میں جہاں اسلام مذہب نہیں بلکہ دین ہے یعنی مکمل ضابطہ حیات اگرچہ یہ دین کا مناسب متبادل نہیں وہاں کے لوگوں کی اکثریت بھلا کس طرح سیکولرازم اور لبرل ازم کے حق میں ہو سکتی ہے مستزاد ایسے زمانوں میں جب مسلمان ملکوں بشمول افغانستان، عراق، لیبیا، شام میں مغرب کی سیکولر حکومتوں اور لبرل حکام کی جانب سے کیا کیا ظلم نہیں توڑے گئے اور تاحال ردعمل کا رجحان اگر سہ آتشہ نہیں تو دوچند ضرور برقرار ہے۔
وجاہت مسعود نے استدعا کی کہ اس ضمن میں مناظرے کا انداز اختیار کرنے کی بجائے مکالمہ کیا جائے۔ مکالمہ تو وہاں ہو سکتا ہے جہاں سمجھوتہ یا مصالحت ہو جانے کا امکان ہو جہاں امکان ہی نہ ہو وہاں مباحثہ ہی ہوگا جس میں ایک فریق حق میں اور دوسرا مخالف ہوگا۔ بہر حال بحث کو جاری رکھا جانا ہمیشہ ہی مثبت ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments