سیکولرازم کیا ہے (پانچواں حصہ )


wajahatسیکولر ریاست میں مذہب اور ریاستی امور میں مکمل علیحدگی لازم ہے 

سیکولر ریاست چند عملی اصولوں کی بنیاد پر معاشرے کے تمام شہریوں اور گروہوں کے باہمی تعلقات کو منضبط کرنے کا طریقہ کار ہے۔ ان عملی اصولوں پر اتفاق رائے کے لیے تمام شہریوں کا کسی ایک مذہب پر کاربند ہونا ضروری نہیں بلکہ اگر کسی ایک مذہب کے عقائدکو اجتماعی امور کی بنیاد قرار دیا جائے تو دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے سیکولر ریاست سے وابستگی مشکل ہو جاتی ہے۔ چنانچہ سیکولر ریاست میں تمام عقائداورمذاہب کا یکساں احترام کیا جاتا ہے۔ عقیدے کو ہر شہری کا ذاتی معاملہ قرار دیا جاتا ہے اور اسے اپنے عقائد پر کاربند ہونے کی پوری آزادی ہوتی ہے تاہم سیاسی عمل اور ریاستی امور میں کسی مذہبی عقیدے کو بنیاد نہیں بنایا جاتا۔ سیکولر ریاست کی کامیابی کے لیے مذہب اور ریاستی امور میں مکمل علیحدگی لازمی ہے۔

انسانی معاشرے میں مذہب اور عقیدے کا تنوع ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مختلف مذاہب کے عقائد میں اختلاف تو ایک طرف، ایک ہی مذہب کے پیروکاروں میں بھی عقائد کا حیران کن اختلاف ممکن ہوتا ہے۔ بحث مباحثے یا جبرکے ذریعے انسانوں کوکسی مذہب کی پیروی پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ہر شہری اپنے انفرادی ضمیرکی روشنی میں عقیدہ اختیار کرنے کا حق رکھتا ہے۔

عقیدہ فرد انسانی کا شعوری فیصلہ ہے۔ عقیدہ شعور کی خاصیت ہے چنانچہ غیر جاندار اشیا میں رائے اور عقیدے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ ریاست عقل و شعور سے متصف کسی جاندارکا نام نہیں بلکہ ایک انتظامی بندوبست اور ایک ادارہ ہے ۔ ریاست کا کوئی عقیدہ نہیں ہو سکتا البتہ ریاست میں بسنے والے شہریوں کی مذہبی وابستگیاں ہوتی ہیں اور ریاست میں ہر شہری کو اپنی فہم اور ضمیر کے مطابق اپنا عقیدہ متعین کرنے کا حق ہے۔

ایک ادارے کی حیثیت سے سیکولر ریاست کسی مذہب پر رائے زنی نہیں کرتی۔ یہ کسی مذہب کی تصدیق کرتی ہے نہ تردید ، کسی عقیدے کی تکذیب کرتی ہے نہ توثیق۔ سیکولر ریاست مذہب کو اپنے شہریوں کا نجی معاملہ اور اُن کی بنیادی انسانی آزادیوںکا حصہ قرار دیتی ہے۔ سیکولر ریاست اپنے شہریوںکے اس حق کا احترام کرتی ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی روشنی میں جو عقیدہ چاہیں اپنائیں۔ اپنے عقائد کا اظہار اور ترویج کریں۔ اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کریں اور اس کی تعلیمات پر عمل کریں۔ لیکن سیکولر ریاست سمجھتی ہے کہ مذہبی عقیدہ فرد کا نجی معاملہ ہے اور اس کا ریاست کے اجتماعی امور سے کوئی تعلق نہیں۔

سیکولر ریاست ایسے کسی معاملے میں کوئی اجتماعی قدم نہیں اٹھاتی جس پر ریاست کے تمام شہریوں کا بغیرکسی مذہبی امتیاز کے اتفاق رائے ممکن نہ ہو۔ سیکولر ریاست میں کسی عقیدے کے پیرو کاروں کو دوسرے مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر کسی قسم کا اختیار نہیں دیا جاتا۔ مذہبی احکامات کی پابندی کرانے کے لیے کوئی قانون بنایا جاتا ہے اورنہ کسی کو مذہبی شعائر پرکاربند ہونے سے روکنے کے لیے کوئی قانون بنایا جاتا ہے۔ کسی عقیدے کے ماننے والوں کو عقائد کی بنیاد پر سیاسی ، معاشی اور سماجی مواقع میںکوئی رعایت نہیں دی جاتی اور نہ کسی شہری کی مذہبی شناخت کی بنا پر اس کی سیاسی ،سماجی یا معاشی ترقی میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ سیکولر ریاست مذہبی امتیاز سے مکمل طور پر خالی ہوتی ہے۔

یہ فرض کرنا درست نہیں کہ معاشرتی وحدت کے نتیجے میں ریاست میں مذہبی وحدت بھی قائم ہونی چاہیے ۔انسانوں کے سماجی تعلقات، معاشی لین دین اور سیاسی مکالمے میں عقائدکا اشتراک لازم شرط کی حیثیت نہیں رکھتا۔ سیکولر ریاست شہریوں کے اس یقین کی بنیاد پر ایک باقاعدہ رضاکارانہ معاہدے کے نتیجے میں قائم ہوتی ہے کہ ریاست کا قیام تمام شہریوں کے اجتماعی مفادمیں ہے۔ سیکولر ریاست مذہبی جبر کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتی اور نہ اپنی طاقت کے بل پر شہریوں کو کوئی عقیدہ قبول کرنے پر مجبورکر سکتی ہے۔ البتہ سیکولر ریاست تمام شہریوں کے لیے یکساں رتبے اور حقوق کی ضمانت کی مدد سے ہم آہنگی اور رواداری کے جذبات کو فروغ دینے کی سعی کر سکتی ہے۔

انسانی تاریخ میں مختلف مذاہب کے مذہبی پیشواﺅں کی بالادستی کا طویل اور تلخ تجربہ موجود ہے۔ مذہبی پیشوا ﺅں سے مراد وہ افراد ہیں جو کسی مذہب کے بانی داعیوں سے بعد کے زمانے میں نمودار ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ مذہب کو اپنا پیشہ قرار دے کر مذہبی عقائد کی تشریح اور توجیہہ پر اجارے کا دعوی کرتے ہیں۔ مذہبی پیشواﺅں کی سیاست میں مداخلت اور معاشرے پر بالادستی تفرقے، غیر رواداری ، جنگ و جدل ، معاشی جمود اور انسانی تمدن کی تباہی پر منتج ہوتی ہے۔ مذہبی پیشوا اپنے پیروکاروں میں جذباتی وابستگی کی بنیاد پر اثر و نفوذ کو سیاسی ، معاشی اور سماجی استحصال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ انہیں اپنی بالادستی کی غرض سے استحصالی اور رجعت پسند قوتوں کا ساتھ دینے میں بھی عار نہیں ہوتا ۔

مذہبی پیشوا اپنی فکری افتاد کے پیش نظر تقلید کو تخلیق اور روایت کو ارتقا پر ترجیح دیتا ہے ۔ اس سے انسانی فکر و عمل کی آزادی کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ تخلیق کا عمل جرات انکار اور روایت سے انحراف کے بغیر ممکن نہیں۔ مذہبی پیشواﺅں کی قیادت میں تقلید بنیادی قدر قرار پاتی ہے لہذا تخلیق ، فکر ، ایجاد اور دریافت کے چشمے خشک ہو جاتے ہیں۔ کسی مذہب کے پیرو کاروں کی دوسرے عقائد پر بالادستی تسلیم کرنے والے معاشرے میں بالادست مذہب کے پیشوا ہر اس ادارے ، روایت اور فکر کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکتے ہیں جس پر اُنہیں پورا اختیار نہ ہو۔

ہر مذہب کے پیشوا حقیقت اور سچائی کے حتمی اور جامد تصور کے دعویدار ہوتے ہیں ۔دوسری طرف انسانی خیال اور عمل کی ترقی دشوار پہاڑی راستوں میں بل کھاتی ندی ہے جو اپنے راستے میں آنے والے نالے ، جھرنا اور آبشار سمیٹتی منہ زور دریاﺅں کا روپ دھارلیتی ہے ۔ یہاں موج سے موج نکلتی ہے ۔ پانی کی اس دھارا کے کسی نقطے پر نہ تو اس کی سمت کا پہلے ٹھیک ٹھیک اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور نہ اس کی آئندہ قوت کی  پیش گوئی کی جا سکتی ہے ۔سائنسی فکر میں فکر و عمل کی سچائی کا تصور حتمی نہیں بلکہ لمحہ موجود میں پائے جانے والے علمی ، معاشی اور سماجی حقائق کے تابع ہے ۔ اسی لئے ہر عہد میں انسانی فنون و علوم مذہبی پیشواﺅں کی چیرہ دستی کا شکار رہے ہیں۔ مذہبی پیشواﺅں نے ہمیشہ انسانی آزادی ،ترقی اور امکان کی مخالفت کی ہے کیونکہ انہیں تکثیریت کی نفی کرتے ہوئے اصرار ہوتا ہے کہ زندگی کا وہی زاویہ واحد درست راستہ ہے جو ان کا فرمودہ ہو اور ان کے توسط سے انسانوں تک پہنچے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ مذہبی پیشواﺅں کو سیکولر ریاست کے دیگر شہریوں کی طرح مساوی استحقاق اور رتبے کا حامل قرار نہیں دیا جاتا یا اُن کی مذہبی آزادی میں مداخلت کی جاتی ہے یا مذہبی شعائر کی بجا آوری پر کوئی قدغن لگائی جاتی ہے۔ سیکولر ریاست میں بسنے والے دیگر شہریوں کی طرح مذہبی پیشواﺅںکو بھی اپنا نقطہ نظر بیان کرنے ، سیاست میں حصہ لینے اورطے شدہ طریقہ کار کے مطابق ریاستی انصرام میں شرکت کا پورا حق ہے تاہم سیکولر ریاست اپنی بنیادی ہیئت پر کسی خاص عقیدے کے پیروکاروں کی بالادستی قبول نہیں کرتی۔ انتظامی اور سیاسی امورمیں مذہب کی بنیاد پر فیصلے نہیں کئے جاتے بلکہ عقلی دلائل اور عملیت پسندی کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

سیکولر ریاست میں مختلف عقائد کے ماننے والے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ مکمل مذہبی آزادی ، مساوات اوررواداری کی بنیاد پر میل جول رکھتے ہیں۔ اس سے ایک گروہ کے پیروکاروں کو دوسرے گروہ کے ماننے والوں سے مختلف سماجی، فکری، تمدنی، اثرات قبول کرنے کا موقع ملتا ہے۔ معاشرے میں تنوع اور تکثیریت کی کمیت اور توانائی بڑھتی ہے۔ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے باہم میل جول سے سماجی رکھ رکھاﺅ ،طرز تعمیر ، زبان و بیان ، فنون ، رہن سہن میں ترقی کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ سیکولر ریاست اپنی سرحدوں میں بسنے والے تمام گروہوں اور شناختوں کو ایک دوسرے سے تعاون کا موقع دیتی ہے اور تفرقے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ تفرقے کی سیاست حقیقی سیاسی مسائل میں گمراہ کن ابہام پیدا کرتی ہے۔ سیکولر ریاست میں سیاسی عمل کی بنیاد مذہبی شناخت پہ نہیں رکھی جاتی۔ سیکولر ازم کا مقصد شہریوں کو زبان، نسل ، ثقافت اور عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کر کے اُنہیں کمزور کرنا نہیں بلکہ اُنھیں ایک دوسرے کے قریب لا کر ریاست کے حقیقی سرچشمے یعنی سماج کو طاقتور بنانا ہے۔ سیکولر ریاست میں شہریوں اور ریاست کے مفادات ایک ہی ہوتے ہیں چنانچہ ریاست شہریوں کی طاقت سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔


Comments

FB Login Required - comments