ہماری ’مراعات زدہ‘عدلیہ


naseer ahmad nasirایک خبر کے مطابق سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چوہدری کی بلٹ پروف سرکاری گاڑی پر مرمت اور پٹرول کی مد میں ملازمت سے سبکدوشی کے بعد اب تک سرکاری خزانے سے چالیس لاکھ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ جس میں سے تینتیس لاکھ گاڑی کی مرمت پر اور باقی رقم پٹرول پر خرچ ہوئی۔ اطلاع کے مطابق سابق چیف جسٹس کی مرسڈیز گاڑی پر ماہانہ 100 سے 570 لٹر تک پٹرول کے اخراجات وزارتِ قانون نے برداشت کیے ہیں۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ سابق چیف جسٹس اپنی سیاسی جماعت کا اعلان کر چکے ہیں پھر بھی سرکاری گاڑی استعمال کر رہے ہیں۔ ایسا ملکی قانون کے مطابق درست ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ایک غریب اور مقروض ملک کی ایسی مراعات یافتہ بلکہ “مراعات زدہ” عدلیہ انصاف کر سکتی ہے؟ فارغ خدمتی کے بعد بھی سرکاری گاڑی اور دیگر سہولتوں کا سرکاری خزانے پر اتنا بوجھ، ایسا صرف ہمارے ملک ہی میں ہو سکتا ہے جہاں عوام کے ٹیکسوں کی ساری رقم حاضر و سابق سربراہانِ مملکت، وزرائے اعظم، وزیروں مشیروں، سیاستدانوں، اعلیٰ سرکاری افسروں، عدل گستروں اور جرنیلوں پر صرف ہو جاتی ہے اور عوام اور عام سرکاری ملازمین کو ٹیکسوں کے بدلے کچھ بھی نہیں ملتا۔ یہ مراعات یافتہ طبقہ بعد از ملازمت اور حکومتی ایوانوں سے رخصتی کے بعد بھی مالیاتی اداروں کی جان نہیں چھوڑتا اور عادی ویمپائر کی طرح بدستور سرکاری خزانے کا خون چوستا رہتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

برطانیہ اور تاجِ برطانیہ کے زیرِ نگیں ملکوں کینیڈا، آسٹریلیا، وغیرہ میں روایتی عدالتی پروٹوکول اور ادب آداب ابھی باقی ہے جبکہ باقی یورپی ممالک میں یہ طبقاتی تکلفات اور حد سے زیادہ ضابطہ پرستی بھی ختم ہو چکی ہے سوائے اس کے کہ جج صاحبان، وکلا اور پبلک پراسیکیوٹرز عدالت میں سیاہ گاو¿ن پہنتے ہیں۔ لیکن جو پروٹوکول اور مراعات ہماری عدلیہ کو حاصل ہیں پورے یورپ میں کہیں بھی نہیں۔ نہ مستقل سرکاری گاڑیاں، نہ ذاتی ملازمین، نہ پلاٹس، ریٹائرمنٹ کے بعد بس پنشن ملتی ہے جو ان کے ذوقِ باغبانی کے لیے کافی ہوتی ہے اور اکثر جج صاحبان ملازمت سے فراغت کے بعد اپنے اپنے گھروں کے باغیچوں کی تراش خراش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ کورٹ کی گاڑیاں ذاتی استعمال کے لیے نہیں بلکہ صرف کورٹ کے کاموں پر مامور ہوتی ہیں۔ ہاں ٹیکس میں اور دیگر کچھ جائز رعایتیں ان کو ضرور حاصل ہوتی ہیں جیسے ہمارے ہاں اور باقی دنیا میں بھی فوجی ملازمین کو ملتی ہیں جس کی بدولت ان کے سفری، ہوٹلوں میں قیام و طعام کے اخراجات وغیرہ میں بچت ہو جاتی ہے۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں جج عام ملازموں اور شہریوں کی طرح رہتے ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرتے ہیں اور مارکیٹوں میں سودا سلف خریدنے جاتے ہیں۔ ان ممالک میں پی اے یا سیکرٹری عموماً خواتین ہوتی ہیں، جج صاحبان عدالت میں داخل ہوتے وقت احتراماً ان کے لیے خود دروازہ کھولتے ہیں۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں کٹہرا سسٹم بھی نہیں رہا اور ملزمان کو کرسی پر بٹھایا جاتا ہے۔ نفسیاتی تجزیے میں خطرناک قرار دیے گئے ملزموں کے سوا کسی ملزم کو کمرہ عدالت کے اندر ہتھکڑی بھی نہیں لگائی جاتی۔ بلاشبہ کمرہ عدالت میں جج ڈسپلن اور اپنی اتھارٹی برقرار رکھتا ہے لیکن عدالت کے باہر جج کا رویہ عام لوگوں کی طرح ہوتا ہے۔ میرا بھائی جرمنی میں تعلیم کے دوران وہاں کی پولیس کے ساتھ اورعدالتوں میں بطورِ مترجم و سہولت کارجز وقتی کام کرتا رہا ہے۔ ایک بار وہ ٹرام میں سفر کر رہا تھا تو ایک شخص، جس نے عام سا لباس پہنا ہوا تھا اور ہاتھ میں شاپنگ بیگ پکڑ رکھا تھا، اس کا حال چال پوچھنے لگا۔ میرے بھائی نے جوابی علیک سلیک کے بعد معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے پہچان نہیں پایا۔ اس شخص نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ وہ فلاں شہر کا جج تھا جہاں عدالت میں ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ اِسی طرح ا±س کے شہر میں ایک نیا جج آیا اور رہائش کے لیے میرے بھائی سے مشورہ کیا کہ کون سا علاقہ مناسب رہے گا کیونکہ بھائی ا±س شہر میں پرانا تھا اور جج اس شہر سے ناواقف۔ بھائی نے سوچا کہ یہ جج ہے کسی اچھے علاقے میں رہنا پسند کرے گا۔ ا±س نے اپنی دانست میں بہتر جگہیں بتائیں لیکن کرایہ زیادہ ہونے کے باعث بالآخر جج نے ایک عام سے علاقے میں سستا مکان کرائے پر لیا جہاں سے وہ روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ میں عدالت آتا جاتا تھا جبکہ اس کی سیکرٹری کے پاس اپنی کار تھی۔ جب بھائی عدالت میں یا جج کے کمرے میں داخل ہوتا تو وہ احتراماً کھڑا ہو کر ہیٹ پہنا ہو تو اتار کر یا کورنش بجا لانے کے انداز میں مِلتا تھا محض اس لیے کہ میرا بھائی پی ایچ ڈی اسکالر تھا اور جج کے خیال میں اس سے زیادہ قابلِ عزت۔ یورپ میں ٹیچرز، پروفیسرز اور پڑھے لکھے افراد کا عدالتوں میں بہت احترام کیا جاتا ہے۔

اب ذرا اپنے ہاں دیکھیے۔ کیا آپ نے کسی جج یا ضلعی انتظامیہ کے کسی افسر کو بسوں ویگنوں یا میٹرو میں سفر کرتے دیکھا ہے؟ کبھی انھیں عام مارکیٹوں میں خود شاپنگ کرتے پایا ہے؟ کبھی کسی باربر شاپ میں آپ کی ان سے اچانک ملاقات ہوئی ہے؟ اور تو اور کبھی آپ نے انھیں عام پارکوں میں گھومتے اور بچوں کے ساتھ کھیلتے کھاتے دیکھا ہے؟ کبھی انھیں اپنے گھروں میں مالی کا کام کرتے اور کسی کام کے لیے کہیں قطار میں کھڑے دیکھا ہے؟ کبھی ان میں سے کسی نے سرِ راہ مسکرا کر آپ کو ہیلو ہائے کہا ہے؟ اعلیٰ پولیس افسران اور عدالتوں کے ججز تو دور کی بات ہمارے ہاں درجہ سوم کا مجسٹریٹ بھی ایسا کرنا کسرِ شان سمجھتا ہے۔ ان کی دنیا ہی اور ہے، آرام گاہیں، تفریح گاہیں، سیر گاہیں، جم خانے، کلب الگ ہیں۔ سماجیات اور ’بہت کچھ‘ مختلف ہے۔ دفتری اوقات کے بعد بھی عام شہریوں جیسی زندگی بسر کرنا، اپنی فیملی کے علاوہ لوگوں سے نارمل انسانوں کی طرح مسلمہ اقدار کے مطابق پیش آنا اور اپنے معمول کے کام کاج خود کرنا ان کی شانِ افسری و ججی کے خلاف ہے۔ ہمارے جج صاحبان سرکاری گاڑیوں کی پچھلی سیٹوں پر، از خود خلافِ قانون، کالے شیشے چڑھائے گردنیں اکڑائے یوں بیٹھے ہوتے ہیں کہ دائیں بائیں بھی نہیں دیکھتے مبادا کسی عام شہری پر نظر پڑ جائے۔ ہماری عدلیہ اور انتطامیہ کا فرائضِ منصبی اور دیانت کا معیار بھی عجیب ہے۔ ایک بار پنجاب پولیس کے ایک عرفاً ایماندار افسر نے بڑے فخر سے بتایا کہ ان کے بچے چھٹیوں میں سیر کے لیے شمالی علاقہ جات گئے تو خیبر پختون خواہ میں ان کے دوست پولیس افسروں نے حقِ دوستی ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور ہر تھانے کی حد میں داخل ہوتے ہی پولیس کی گاڑی اور عملہ ان کی محافظت اور خدمت کے لیے ’حاضر ڈیوٹی‘ ہوتا تھا۔ اسی طرح ریاست کے ایک بظاہر دیانتدار جسٹس کی عدالت میں ایک وائس چانسلر کے خلاف کیس جاتا ہے تو وائس چانسلر ان کے بیٹے کو لیکچرر بھرتی کر کے فوراً ہی مہنگے ترین اسکالر شپ پر بیرونِ ملک بھیج دیتے ہیں اگرچہ قواعد و ضوابط کے تحت اس کے لیے حسبِ اہلیت کچھ برسوں کی سروس ضروری ہے۔ جواباً جج صاحب وائس چانسلر کے خلاف فیصلہ نہیں دیتے۔ یوں دونوں کا کام بن جاتا ہے اور دیانت داری پر بھی حرف نہیں آتا۔

ایک “ایماندار” پولیس افسر اور”دیانتدار” جج کا یہ حال ہے تو جو ایماندار نہیں کہلاتے ان کا طور طریق کیا ہو گا۔ جبکہ آج کی دنیا میں امریکہ کا صدر جس کی تنخواہ لاکھوں ڈالر ہے اور جس کی حفاظت پر کروڑوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں وہ بھی اپنے خاندان کے ذاتی سیر سپاٹوں پر خلافِ ضابطہ کسی پولیس کاو¿نٹی سے ایک سپاہی اور گاڑی لینے کی جرات نہیں کر سکتا، ایسا کرنے کی صورت میں اسے صدارت سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ اور یورپ کا کوئی جج تو کیا وزیر اعظم یا صدر بھی اپنے بیٹے یا بیٹی کو خلاف قانون کہیں بھرتی کروا سکتا ہے نہ اسکالر شپ دلوا سکتا ہے۔ لیکن پاکستان میں معمولی اختیار والے عہدہ دار کے لیے بھی یہ ایک معمول کی بات ہے جسے بددیانتی یا جرم یا عہدے کا ناجائز استعمال یا برا نہیں سمجھا جاتا۔

مزید ستم یہ ہے کہ ایک ہی ملک کے ایک ہی گریڈ کے مختلف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں زمین و آسمان کا فرق اور عدم توازن ہے۔ ایک پروفیسر ریٹائر ہوا ہے تو اسے چھتیس برس کی سروس کا صلہ کل ملا کر چھتیس لاکھ روپے ملے ہیں جس سے آج کل ایک مکان بنانا تو کیا ایک پلاٹ بھی نہیں خریدا جا سکتا۔ اِسی گریڈ کا ایک بیورو کریٹ، ضلعی انتظامیہ کا افسر یا جج ریٹائر ہوتا ہے تو اتنی رقم تو اسے ملنے والی رقم کا محض سود بنتی ہے۔ یقین نہ آئے تو حالیہ دنوں میں ریٹائر ہونے والے ایک ایماندار بیوروکریٹ کی خود تشہیری مہم ملاحظہ فرما لیجیے۔ سوچیں اصل رقم کتنی ہو گی جس کا سود ہی اتنا ہے۔ ظاہر ہے پروفیسر کو ملنے والی رقم سے کئی گنا زیادہ۔ پلاٹس اور ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد نئی تعیناتیاں، نئے کنٹریکٹ اور دیگر مراعات تو اب جیسے اس صیغہ خدمت (Cadre)کا آہنی حق ہے۔ اس سے تو بہتر ہے ریٹائرمنٹ کی عمر ہی بڑھا دی جائے۔ جب تک یہ طبقاتی اور مخصوص ادارہ جاتی پیکج ختم نہیں ہوتے، چھوٹے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوتا اور تمام سرکاری اداروں کے افسران کی تنخواہوں، مراعات اور اختیارات میں معادلت اور ہم قدری نہیں لائی جاتی، پاکستان فلاحی ریاست تو درکنار اسلامی بن سکتا ہے نہ جمہوری اور نہ یہاں عدل گستری پنپ سکتی ہے۔ یہ مفروضہ کہ مخصوص کیڈر اور مخصوص عہدوں کی تنخواہیں اور مراعات بڑھانے سے ان کی کارکردگی میں اضافہ اور رشوت، بدعنوانی اور ناانصافی کا خاتمہ ہو سکتا ہے، اپنی افادیت کھو چکا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “ہماری ’مراعات زدہ‘عدلیہ

  • 29-01-2016 at 9:32 pm
    Permalink

    ’’پاکستان فلاحی ریاست تو درکنار اسلامی بن سکتا ہے نہ جمہوری اور نہ یہاں عدل گستری پنپ سکتی ہے‘‘
    اس گہرے سچ پر مبنی کالم میں نصیر احمد ناصر صاحب نے مندرجہ بالا جو نتیجہ نکالا ہے، میں اس میں موجود مایوسی کی قدر کرتا ہوں اور اس مایوسی کی وجوہات بھی سمجھ سکتا ہوں لیکن میں یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرسکتا کہ ’’ریاستِ پاکستان‘‘ کا آئین اسلامی فلاحی ریاست کا آئین ہے۔ اس آئین میں فلاحی ریاست کے جو بنیادی وظائف ہوتے ہیں ان کے احکامات بالتاکید موجود ہیں۔ ہمارا مسلہ یہ نہیں کہ ہمارے اربابِ اختیار کو کیا کیا مراعات میسر ہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ اربابِ اختیار، پاکستان کے آئین میں موجود ’’فلاحی ریاست‘‘ کے آرٹیکلز (آرٹیکلز ایک سے چالیس، خاص طور پر آرٹیکلز ۳۷ اور ۳۸) کو مسلسل معطل کئیے ہوئے ہیں اور اس کام میں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔
    میری طرف سے سابق چیف جسٹس کو جتنی حفاظت اور پیٹرول کی ضرورت ہے وہ دئیے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں اگر ریاست یہ اخراجات برداشت کرسکتی ہے اپنے ان تمام فرائض کو ادا کرنے کے اخراجات کے بعد کہ عوام کی زندگیوں، مال اور عزت کو مکمل تحفظ پہنچا دیا گیا ہو اور ان کے لیئے آئین میں موجود فلاحی آرٹیکلز پر مکمل عمل کیا جارہا ہو۔
    واضع ہو کہ عوامی فلاح کے آرٹیکلز کی عملی طور پر معطلی پر ہماری اعلیٰ عدلیہ تو سوو موٹو ایکشن لے سکتی ہے۔ اور چونکہ ہماری اعلیٰ عدلیہ ایسا کرنے کو تیار نہیں، سو میں نصیر احمد ناصر صاحب سمیت تمام صاحبان فکر سے گذارش کروں گا کہ ریاستِ پاکستان اور اس کے آئین کو ناکامی سے بچانے کیلیئے، آئین کی فلاحی شقوں پر مکمل عملدرآمد کے لیئے اپنی آواز اٹھائیں۔ بار کونسلز تک یہ پیغام پہنچائیں اور آئنی ماہرین اور انسان دوست وکلا کا پینل تشکیل دیں تاکہ اس قانونی معاملے پر قانونی طریقے سے پٹیشنز دائر کی جائیں۔ (ںعمان علی خان)

  • 30-01-2016 at 2:53 pm
    Permalink

    I am a lawyer, and have no qualms in saying that our justice system has become hostage in the hands of lawyers as well. Big Bar Councils have failed to play their role and there is no system of accountability of unethical and illegal activities of lawyers. Some groups of lawyers act like Mafia and evade law triumphantly in the name of brotherhood of lawyers. I fear that an operation Will have to be carried out one day like the one that is going on in Karachi.

  • 31-01-2016 at 2:43 pm
    Permalink

    جس معاشرے میں عام شہری بااثر طبقات کے لیے اس درجہ اجنبی ھو کہ اس کا حلیہ زبان تعلیم اور حیثیت محض غلاموں والی ھو وہاں انصاف دینے والے بھی خود کو مغلیہ حکمرانوں کی باقیات سمجھتے ہیں ۔ یورپ اور برطانیہ کے عام شہری اور بیورکریٹس ایک دوسرے سے اجنبی نہیں ہیں ان سب کے رہنے سہنے کا انداز بچوں کے سکول پارک زبان ،ریسٹورینٹ ہسپتال ، پولیس غرض سسٹم کی ہر اکائی سب کے لیے یکساں حیثیت رکھتی ہے ۔ یہاں( لندن) لوگ ایک دوسرے کو سمجھنے میں دیر اس لیے نہیں کرتے کیونکہ معاشرے کا ہر فرد ایک دوسرے کے لیے اہم ہے اجنبی نہیں ہے ۔جب کہ ھمارے معاشرے میں اکثریت کا مذھب حیثیت پرستی ہے ۔ شاید اسی وجہ سے ھمارے لوگوں میں کردار اور خدا کی موت ھو چکی ہے ۔ میری شاپ کی لیز کا مسلۂ تھا تو کورٹ جانا پڑ گیا میرا لینڈ لورڈ ایک بنگالی تھا جو ہر وقت تبلیغی جماعت والون کے حلیے میں رہتا ہے ۔ جب ھم کمرہ عدالت میں داخل ھوۓ تو اتفاق سے قابل احترام جج صاحب نے بھی داڑھی رکھی ھوئی تھی ۔ جج صاحب میری پہلی نظر سے ہی بھانپ گۓ کہ یہ مجھے بھی داڑھی والا سمجھ کر حقارت بھری نظرون سے دیکھ رہا ہے ۔ دوسرے دن جب اسی کمر عدالت میں داخل ھوۓ تو قابل احترام جج صاحب اپنی داڑھی صاف کرکے نۓ حلیے کے ساتھ اپنی نشست پر براجمان تھے ۔ تب ہی مجھے اندازہ ھو گیا تھا کہ اب یہ مقدمہ میں جیت جاؤں گا ۔

Comments are closed.