تھر کے بچے …. گھر کے بچے


farnood01یہ نوے کا اوائل ہے۔ سوڈان خانہ جنگی کا شکار ہے۔ قحط سالی نے جنوبی سوڈان کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ عالمی اداروں نے امدادی کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ سب رزق کی تلاش میں ہیں۔ سوڈان کے مسلح گروہ بھی امدادی کیمپ لگانے والے بھی اور ان امدادی کیمپوں میں رسوا ہونے والے بھی۔ فرق اتنا ہے اس چھینا جھپٹی میں جن کا ہاتھ کمزور پڑگیا ان کے حصے میں رسوائیاں آگئیں۔

دور جنوبی افریقہ میں بیٹھے فوٹو گرافر کیون کارٹر کو بھی اپنا دانہ پانی سوڈان کی قحط زدہ زمین پر نظر آگیا۔ اس نے اپنا کیمرہ تھاما اور سن ترانوے کے آغاز میں سوڈان پہنچ گیا۔ کیون کارٹر ان مقامات کی تلاش میں تھا جہاں بلکتی بھوک کو قریب سے دیکھا جا سکے۔ اسے تلاش تھی ایسی رسوائیوں کی جو آج دن تک دیکھی گئی ہر رسوائی سے مختلف ہو۔ کیون کارٹر کا نصیب ہی کہیئے کہ جس منظر کی اسے تلاش تھی اس سے کہیں اچھا منظر جنوبی سوڈان میں اس کی مہارتوں کا منتظر تھا۔ یہ ایک بچی ہے۔ اس کا پیٹ سمٹ کر پیٹھ سے لگ گیا ہے۔ اس کی پسلیاں کسی نوحے کی قافیہ و ردیف بنی ہوئی ہیں۔ کچھ فرلانگ پہ خوراک کا ایک کیمپ ہے۔ یہ بچی پہنچنا چاہتی ہے مگر ہڈیوں میں اتنا گودا بھی نہیں ہے کہ اس کے دھان سے وجود کو پل دو پل کا سہارا ہی دے سکے۔ رینگ کر جانے کی ایک کوشش ہی کی جا سکتی ہے مگر اس کوشش کو کھچوے کی سی رفتار بھی میسر نہیں ہے۔ کیا بعید کہ زمین کے حشرات نے یہ منظردیکھ کر ہنسی اڑائی ہو کہ انسان کو اچھی خاصی ٹانگیں میسر ہیں مگر رینگنے کی بے کار کوشش
kevin carterمیں مصروف ہے۔ بچی نے زمین پہ اپنا ننھا سا وجود کچھ لمحوں کیلئے تو گھسیٹا مگر ہمت جواب دے گئی ہے۔ تھک ہار کر اس نے اپنا ماتھا زمین پہ ٹیک دیا ہے۔ اس کی جبینِ نیاز بندوق سے ملنے والی عنایتوں پہ کفرانے کا سجدہ ادا کررہی ہے۔ ہانپتی کانپتی بچی کے نتھنے زمین کی دھول اڑاکر آخری سانسوں کی پکار سنا رہے ہیں۔ کوئی تو آئے کہیں سے تو آئے۔ کھلا آسمان ہے، پھیلا ہوا میدان ہے اور یہ بچی ہے۔ اس کے سوا ذلت رسوائی بے بسی اور بے کسی ہے جو بیک زبان موت سے شکوہ کناں ہیں کہ انسان کی بے التفاتیاں تو سمجھ آتی ہیں مگر تجھ پہ کس آسیب کا سایہ پڑگیا ہے جو ادھر کا رخ نہیں کرتی۔ کارٹر نے کیمرہ نکالا اور بھوک کی ہر اس زاویئے سے تصویر کشی کرنے لگا جس میں انفرادیت کا کوئی بھی پہلو پنہاں ہو۔ کیمرے کی آنکھ سانس کی آخری ڈور کو بھی کٹتا دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ موت کو اترتا ہوا بھی دیکھنا چاہتی ہے۔ قسمت کی دیوی اس آنکھ پہ اس قدر مہربان ہے کہ جو خاکہ اس کے پردوں پہ ابھرتا ہے اس سے کہیں بہتر منظر اس کے روبرو ہوتا ہے۔ انتہا دیکھئے کہ منظر کشی کے دوران ہی ایک گدھ آیا اور بچی سے کچھ ہی فاصلے پہ بیٹھ گیا۔ گدھ زندگی کے احترام میں اور رزق کے انتظار میں بیٹھا رہا۔ آنکھ کے سامنے وہ منظر تھا جو اب تک کتابوں میں پڑھا گیا تھا۔ یہ گدھ نہیں تھا بلکہ قسمت کی دیوی تھی جو کارٹر کے سامنے آکر بیٹھ گئی تھی۔ کارٹر کے ہاتھ موقع آگیا تھا کہ دنیا نے جس حقیقت کو 12nصرف کان سے سنا ہے وہ آنکھوں سے اس حقیقت کو آشکار کرنے کا اعزاز حاصل کرلے۔ کیون کارٹر نے دس میٹر کے فاصلے پر کیمرہ نصب کردیا۔ کیمرے کی آنکھ یہ منظر تاریخ کے حوالے تو کر رہی تھی مگر تصویر ادھوری تھی۔ یہ تصویر تب مکمل ہوتی کہ جب ایک دوسرا فوٹو گرافر آکر اس منظر کو کیون کارٹر سمیت محفوظ کرلیتا۔ دنیا دیکھ پاتی کہ آسمان و زمین اور انسان و حیوان موت کی دہلیز پہ تڑپتی بچی کا کس طرح تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ میں کیون کو دوش نہیں دیتا۔ دے بھی نہیں سکتا۔ کیا کریں دماغ کا انحصار ہی معدے پہ ہے صاحب۔ بچی کو اگر کیمپ کی تلاش تھی تو کارٹر کو بھی تصویر کی تلاش تھی۔ وہ کیمپ ہو کہ تصویر دونوں ایک روٹی کا سوال ہے۔ کارٹر کے لئے تو یہ امکان سے امید اور امید سے یقین کی طرف لمحوں میں بڑھتا ہوا ایک ناقابل یقن سفر تھا۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا ہوگا کہ تقدیر اس کے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہے۔ اسے کیا کرنا چاہیے تھا؟ جو ا س نے خود کے لئے بہتر سمجھا وہی اس نے کیا۔ فیصلے کی طاقت سے محروم کارٹر صرف تصویر کے لئے زاویئے بدلتا رہا۔ بیسویں منٹ میں پہنچ کر کیمرے کی آنکھ نے وہ شاہکار تخلیق کر ڈالا جس کا اس نے گمان تک بھی نہ کیا تھا۔

کیون کا مقصد پورا ہوا۔ سرشاری کا انتہائی احساس اس کے روئیں روئیں سے لپٹا ہوا تھا۔ بچی کو اجل کے رحم وکرم پہ چھوڑ کر کیون کارٹر kevin-carterبھاگ چلا۔ اس نے وہ تصویرِ شاہکار بیچ کر روٹی کمانی تھی جس میں ایک بچی روٹی کیلئے رینگ رہی تھی۔ یہ تصویر مارچ سن ترانوے میں ہی نیو یارک ٹائمز میں شائع ہوگئی۔ صرف دو ماہ بعد کیون کارٹر کو اس تصویر پہ عالمی ایوارڈ بھی مل گیا۔ اور کیا چاہیئے۔

تالیوں کا شور بڑھنے لگا۔ شہرت کا ڈنکا پٹ گیا۔ داد وتحسین کے ڈونگرے برسنے لگے۔ ہر گزرتی رات کے ساتھ بات بھی گزرتی جارہی تھی۔ کارنامہ اب ماضی کا دفینہ بننے کو تھا۔ کیون کارٹر کا خمار اترنے لگا۔ آنکھوں کے سامنے سے کامیابی کی دھند بھی چھٹ گئی۔ اسے جنوبی سوڈان تک کا منظر صاف دکھائی دینے لگ گیا۔ یادوں کے دریچے سے اس نے باہر جھانک کر دیکھا تو اس کی نگاہیں الٹے قدموں اس وسیع میدان میں پہنچ گئیں جہاں وہ بچی کو چھوڑ آیا تھا۔ اس نے ماضی کے فیتے پہ خود کو لیٹا ہوا پایا۔ بچی کی ڈوبتی ہوئی سانسوں کا مطلب سمجھنے لگا۔ اس نے کچھ ہی فاصلے پہ کھڑے گدھ کو دیکھا اور سہم گیا۔ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔ ضمیر سے آواز اٹھی

”کیون۔! تم سے بہتر تو یہ گدھ ہے جو انسان کو اپنی خوراک بنانے کے لئے موت کا انتظار تو کرتا ہے۔ تم نے تو اس بچی کو رزق بنانے کیلئے موت کا انتظار بھی نہیں کیا۔ اسے وقت اور گدھ کے رحم وکرم پہ چھوڑ کر چلے گئے“

کیون کے اندروں سے اٹھتی ہوئی آواز نے اس کی روح کو چھلنی کر کے رکھ دیا۔ بیس منٹ کا یہ منظر دیکھ کر واپس اپنے آپ میں لوٹا تو اسے خود سے نفرت ہوچکی تھی۔ داد و تحسین کی ہر آواز نشتر کی طرح چبھ رہی تھی۔ اپنا ایوارڈ اسے اپنی بے حسی کا تمغہ محسوس ہونے لگا۔ بے چینی اسے اپنے بچپن میں لے گئی۔ معصوم شرارتیں بے فکردنیا، بے نیازیاں نازبرداریاں یاد آنے لگیں۔ وہ میدAdd Contact Formان یاد آنے لگا جہاں وہ کھیلتا تھا۔ وہ مکمل طور پہ بچپن کی اس دنیا میں چلا گیا جہاں ایک ضد پوری نہ ہونے پر صدمہ لاحق ہوتا تھا۔ ایک کھلونا ٹوٹ جانے پر جہاں زندگی کا کل اثاثہ لٹ جانے کا احساس گھیر لیتا تھا۔ زندگی کے ان بیس منٹ نے کیون کو غم غلط کرنے کے لئے قحبہ خانوں میں پہنچا دیا۔ ایک دن کلب میں بیٹھا تھا ایک دوست نے پاس آکر کہا

‘’کیون۔! تم نے کبھی سوچا کہ تم نے اس بچے کے لئے کیا کیا؟ کبھی سوچا کہ تمہارے آنے کے بعد اس بچے کا کیا بنا ہوگا؟“

دوست کا یہ جملہ کیون کے ضمیر پہ ناقابل برداشت کچوکا ثابت ہوا۔ کیون گھر چلا آیا۔ اس نے دو ماہ مسلسل غور کیا کہ میری زندگی کے نامے سے ان بیس منٹوں کو کیسے کھرچا جا سکتا ہے۔ وہ کون سی سزا ہے جو میرے ضمیر کے کندھوں سے بیس منٹ کا یہ بوجھ اتار سکے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ اس نے گاڑی اسٹارٹ کی اور اسی میدان کی طرف نکل گیا جہاں اس نے بچپن کے دن گزارے تھے۔ اس میدان کے وسط سے اس نے آخری بار جنوبی سوڈان کے ایک صحرا میں چلتی بیس منٹ کی فلم دیکھی۔ وہ اترا، ایک پائپ نکالا، پائپ کا ایک سرا سائلنسر پہ اٹکایا، دوسرا سرا گاڑی اندر رکھ کر شیشے بند کر دیئے۔ گاڑی اسٹارٹ کی۔ گاڑی میں دھواں بھرنے لگا، آکسیجن کی کمی شروع ہوگئی، سانسیں اکھڑنے لگیں، کیون نے نکلنا چاہا مگر اعصاب سے چمٹے ہوئے بیس منٹ نے اسے ہلنے نہیں دیا۔ یوں کیون کارٹر نے اذیت ناک انداز میں اپنی جواں سال زندگی کا تتمہ لکھ ڈالا۔

54638c2151adcکبھی لگتا ہے کہ ہمارے جذبات بھی ہمالیہ کے سینے میں پکتا ہوا الاو ہیں۔ کبھی لگتا ہے ہمارے احساسات سربیا کے سرد پہاڑ ہیں جن پر دور تک بے فکری کی برفاب چادر تنی ہوئی ہے۔ حالات نے ہمیں اس موڑ پہ لاکھڑا کیا ہے کہ جب تک خون کے چھینٹے نہ مل جائیں ہم انسان کا دکھ نہیں سمجھ سکتے۔ اب تو خفتہ و خوابیدہ احساس کو جگانے کیلئے پندرہ بیس انسانوں کی لاشیں بھی کم پڑجاتی ہیں۔ یہ سوختہ لاشیں بھی ہمارے احساس کا اس قت تک کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کہ جب تک میڈیا پس منظر میں سو زیدہ و رنجیدہ موسیقی چلا کر ان کی تصویریں نہ دکھادے۔

طرفہ تماشہ دیکھئے۔!

ہمیں آرمی پبلک اسکول میں قتل کئے گئے بچوں کے ان قاتلوں کی تلاش ہے جو کبھی نہیں ملنے والے۔ ہمیں باچا خان یونیو رسٹی کو خون میں نہلانے والے وہ ذمہ دار چاہئیں جو اوہام کے کسی کوہ قاف میں ہیں۔

ذرا ادھر بھی تو دیکھئے۔!!

تھر کے صحراو¿ں میں ایک بوند پانی کو ترسے ہوئے بچے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ گودیں مسلسل اجڑ رہی ہیں۔ ذمہ داران بالکل سامنے ہیں، ہمیں ان کی تلاش بالکل نہیں ہے۔ کیا یہ انتہا نہیں ہے کہ ہم ان بچوں کو زیر بحث لانا ہی ضروری نہیں سمجھتے۔ ہم اس لمحے میں وہی کر رہے ہیں جو کیون کارٹر کی طرح خود کے لئے بہتر سمجھ رہے ہیں۔ ہم ان بچوں کی تصویر کشی کررہے ہیں۔ تصویروں کے قدآدم اشتہارات بنا رہے ہیں۔ اشتہارات چوک چوراہوں پہ لگا کر اربوں میں صدقہ خیرات لوٹ رہے ہیں۔ لینے والے تصویر دکھا کر صدقہ لے رہے ہیں۔ دینے والے تصویر دیکھ کر صدقہ دے رہے ہیں۔ لینے والے کو خیرات چاہیے۔ دینے والے کو اپنی بلائیں ٹالنی ہیں۔ آج کی تاریخ تک تھر کے بچے قحط کی وجہ سے موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں۔ قبلہ عالی مقام قائم علی شاہ نے فرمایاکہ جنوری کے بائیس دنوں میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد ستر سے تجاوز کر گئی۔

کیا ہم نے تھر کے بچے کو گھر کا بچہ جانا۔؟ نہیں

کیا ہمیں احساس ہے کہ تھر میں ایڑیاں رگڑتی بچی کی بھی ماں ہوتی ہے؟ نہیں۔

کیا ہم نے کبھی تصور کیا کہ بازو تک سفید چوڑیاں چڑھائی ان ماو¿ں کے سینے میں بھی دل دھڑکتا ہے۔؟ نہیں۔

کیا ہم نے فرسودہ خیالوں کا احتساب کیا؟ نہیں۔

کیا ہم نے اپنے راہنماو¿ں سے سرزد ہوتے جرائم کی نشاندہی کی؟ نہیں۔

کیا ہم حق کی گواہی دے رہے ہیں۔؟ نہیں۔

کیا ہمیں اندازہ ہے کہ دس برس کا عرصہ احساس پہ جمی برف پگھلانے کے لئے بہت ہوتا ہے؟ نہیں۔

ایک کام تو کر ہی سکتے ہیں۔

حکمرانوں سے لے کر رعایا تک تجزیہ کاروں سے لیکر مصلح کاروں تک سارے انسانوں کے دس برسوں کو کیون کارٹر کے بیس منٹ کے ساتھ رکھ کر دیکھتے ہیں۔

کیا سچل سرمست کی دھرتی پہ موجود بھٹو شہید کے پیروکار ہمیں پڑھتے ہیں؟


Comments

FB Login Required - comments