مادام بواری ۔۔۔ عالمی ادب کے متنازع ناول (1)


فلابیئر کا ناول ”مادام بواری“ ایک عہد ساز تصنیف ہے جس کی ہیروئن ایما بواری غریب ہونے کے باوجود اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی جرات رکھتی ہے۔ تاہم اس کی رومان بھری آرزوئیں روایت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتی ہیں۔ بواری کا  المیہ یہ تھا کہ اسے اچھی زندگی گزارنے کی آرزو تھی مگر یہ خواہش سماج میں موجود اختیار کے سرچشموں کا مقابلہ کرنے سے قاصر رہی۔ “مادام باوری” سے قبل ادب عالیہ میں محبت شہزادے اور شہزادی کی کہانی تھی۔ مادام بواری اسے غریبوں کے گھروں تک لے آئی۔

فرانسیسی ادیب گستاف فلابیئر کا ادبی شاہکار “مادام بواری” جب 1857میں اشاعت پذیر ہوا تو اس قدر جھگڑا اٹھا کہ مصنف کو اس ضمن میں عدالتی مقدمہ کا سامنا کرنا پڑا اگرچہ بعد میں گستاف فلابیئر کو بری کر دیا گیا۔

“مادام بواری” کا سادہ خیال کچھ یوں ہے کہ ناول کی ہیروئین اور اس کا شوہر تصوراتی رومان کی دلکش وادیوں میں المیہ انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ مذہب کی توہین اور عوامی اخلاقی قدروں کو مجروح کرنے کے الزام میں مصنف، پبلشر اور پرنٹر کے خلاف عدالت میں کیس داخل کیا گیا تھا لیکن استغاثہ کی مجبوری یہ تھی کہ کمرہ عدالت میں کسی نے بھی اس ناول کا مطالعہ نہیں کیا تھا، یوں استغاثہ اس بات کو ثابت کرنے سے قاصر تھا کہ ناول کا مواد کس طرح زناکاری کو ترویج دینے والا اور شادی کے بندھن کے تقدس کو پامال کرنے والا تھا؟

ناول میں استعمال کی جانے والی زبان پر فحاشی کا الزام تھا۔ “مادام بواری” سے قبل کسی اور ناول میں جنسی اعمال و افعال کی تفصیل اس قدر کھل کر کبھی بیان نہیں کی گئی تھی۔ مصنف قاری کو دوران مطالعہ ان جگہوں تک بھی لے جاتا ہے جہاں وہ اس سے پہلے کبھی نہ گئے ہوں گے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ ایسی زبان و بیان پر پابندی عائد کی جائے کیونکہ یہ زناکاری کو فروغ دینے کا سبب ہے، جب کہ دوسری طرف یوں محسوس ہوتا تھا جیسے مصنف اس عمل کو تقدیس کا درجہ دے رہا ہو۔

اگرچہ عدالتی مقدمے میں زناکاری کو تقدیس کا درجہ دینے والے الزام پر زور دیا گیا تھا مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ناول کی ہیروئن نے اپنے گناہوں پر کبھی کسی پشیمانی کا اظہار نہ کیا تھا۔ “روڈولف کے ساتھ پہلی ملاقات کے بعد ایما اپنے گھر واپس لوٹی اور اس نے اپنے سراپے کا آئینے میں جائزہ لیا تو اپنے آپ کو یہ کہنے سے نہ روک سکی :”میرا ایک چاہنے والا ہے … ایک چاہنے والا!” عالم بے خودی میں وہ ان لمحات مسرت کو اپنا حق سمجھ رہی تھی جس کے لیے وہ عرصہ دراز سے بے چین تھی۔ وہ ایک ایسے شاندار تجربے سے گذرنے والی تھی جو جذبات سے بھرپور، ولولہ انگیز اور آسمان کی بے پایاں وسعتوں کی طرح کشادہ تھا۔ جذبات کی بلندیاں اس کے خیالات سے آب و تاب کی طرح چمک رہی تھیں”۔

“ایما نے اپنی محبت کی عظمت اور محبوب کے حصول کے اظہار کو خاوند پر ترجیح دی۔ حسن و نزاکت کے لیے چہرے پر کولڈ کریم یا رومال میں خوشبو کے بجائے اسے صرف اپنے محبوب کا خیال ہی کافی تھا۔ “ظاہر ہے کہ معاشرے کو ایسا رویہ قبول نہیں تھا کہ شادی کے مقدس بندھن کو داغدار کرتے ہوئے زناکاری کے جذبات کی یوں کھلے عام ترویج کی جائے لہٰذا ناول کے خلاف شور و غوغا بلند ہو گیا۔ عوام ایک انجانے خوف سے لرزاں تھے اور چاہتے تھے کہ اس قسم کے نئے ادب کا دروازہ نہ کھولا جائے۔

بالآخر مقدمہ میں \”مادام بواری\” ہی کو فتح حاصل ہوئی۔ گستاف فلابیئر اور ناول کے ناشر کو تمام الزامات سے بری کیا گیا۔ یہ فیصلہ فلابیئر اور دنیا کے دیگر مصنفین کے لیے فتح کی نوید تھا۔ اس مقدمے میں آزادی اظہار کی فتح نے ادب کے لیے تمام بند دروازے وا کر دیے کہ ادب حقیقی طور پر کسی بھی چیزکے متعلق ہو سکتا ہے اور کہانی کی ایسی تمام جزوی تفصیلات سے قاری کو مطلع کر سکتا ہے جو اس کے علم کو شعور کا احساس دے سکیں۔

اگرچہ گستاف فلابیئر نے مقدمہ جیت لیا تھا مگر متوسط طبقے کے خلاف دل میں پوشیدہ اپنے بغض کو وہ کبھی دور نہ کر سکا۔ اسی بغض کا اظہار اس نے اپنی سوانح کے اس حصے میں بھی کیا ہے جس میں اس نے “مادام بواری” کے مقدمے کی تفصیل لکھی ہے۔

یہ بات شاید دلچسپی سے خالی نہ ہو کہ اسی ناول کی بنیاد پر انگریزی میں تو بے شمار فلمیں بنائی گئیں لیکن ہندی میں بھی ہدایت کار کندن مہتا نے دیپا ساہی، فاروق شیخ اور شاہ رخ خان کو لے کر 1993 میں “مایا میم صاب” بنائی تھی۔

گستاؤ فلابیئر کے بارے میں احمد عقیل روبی لکھتے ہیں

گستائو فلابئیر19ویں صدی کا نامور فرانسیسی ناول نگار تھا، اس کی تحریروں کو رومانویت پسندی اور حقیقت نگاری کا امتزاج کہا جاتا ہے۔ مادام بواری اس کا سب سے مشہور ناول ہے مگرفلابئیر کی اپنی زندگی بھی کسی ڈرامائی ناول سے کم نہیں تھی۔ اس کا باپ پیرس کے قریب ایک گائوں کے ہسپتال میں ڈاکٹر تھا۔ فلابئیر اسی گائوں میں 1821ء کو پیدا ہوا، ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی، پیرس وہ قانون پڑھنے گیا، ادیبوں سے دوستیاں ہوئیں، جن میں وکٹر ہیوگو بھی شامل تھا۔ اس نے سیر وسیاحت میں بھی بہت وقت صرف کیا۔ ایک شاعرہ لوسی کولٹ سے طوفانی قسم کا عشق کیا مگر شادی نہ کر سکا۔ لوسی کولٹ خود بھی ایک متنازع کردار تھی۔ لوسی ایک موسیقار (Colet) کی بیوی اور پیرس کے ادبی حلقوں میں بہت مشہور تھی۔ فلابیئر سے وہ پانچ سال بڑ ی تھی۔ پہلی بار ملنے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر اندر فلابیئر اس پر عاشق ہو گیا۔ لوسی کولٹ شاعروں اور ادیبوں کے لیے ایک جاذبِ نظر شخصیت تھی۔ اس سے مل کر شاعر اور ادیب بڑی تخلیقی طاقت حاصل کرتے تھے۔ یہی فلابیئر کے ساتھ ہوا۔ لوسی کولٹ خود بھی فلابیئر سے مل کر اس کی گرویدہ ہو گئی۔ فلابیئر نے اپنی ماں کے پاس (Croisset) جاتے ہی لوسی کو ایک طویل محبت بھرا خط لکھا اور پھر دونوں میں خطوط نویسی کا سلسلہ شروع ہو گیا اور باقاعدہ عشق کا سلسلہ چل نکلا۔ لوسی کولٹ چاہتی تھی کہ فلابیئر پیرس آ کر رہنا شروع کر دے مگر اسے یہ بات قبول نہیں تھی۔ فلابیئر کی ماں کو بھی یہ بات پسند نہیں تھی۔ لوسی کولٹ کی بیماریاں خاص طور پر مرگی کی بیماری نے اس کی ماں کو پریشان کر رکھا تھا۔ وہ ہر وقت اس کے اردگرد منڈلاتی رہتی تھی۔ لوسی کولٹ کے ساتھ فلابیئر کے تعلقات دو تین سال رہے۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ لوسی سے صرف چھ بار مل سکا۔ ایک بار وہ اسے Croisset ملنے آئی جو شاید آخری ملاقات تھی۔ لوسی کولٹ کا خاوند فوت ہوا تو لوسی شدت سے فلابیئر کو پیرس آکر رہنے پر زور دینے لگی۔ وہ انکار کرتا رہا‘ لوسی کولٹ کو یہ بات بہت کھلتی تھی۔ اس نے ایک بار فلابیئر سے کہا: ’’تمہاری ماں تمہاری ایک کنواری لڑکی کی طرح رکھوالی کرتی ہے۔ نہ تم پیرس میں قیام کرتے ہو نہ مجھے ملنے آتے ہو۔ شاید تم مجھ سے محبت نہیں کرتے۔‘‘ فلابیئر نے اسے جواب میں لکھا: ’’محبت تو کرتاہوں لیکن میں محبت کو زندگی میں پہلی نہیں دوسری حیثیت دیتا ہوں۔‘‘

اسی بارے میں: ۔  ہم سب والو! ہمیں نواز شریف نے تیس برسوں میں آخر دیا کیا ہے؟

فلابیئر لوسی کولٹ کی محبت سے فارغ ہو کر اپنے پہلے باقاعدہ ناول The Temptation of St. Antony کی طرف متوجہ ہوا۔ جب یہ ناول مکمل ہو گیا تو اس نے اپنے دو دوستوں کو اپنے پاس بلوایا اور مسلسل چار دن یہ ناول پڑھ کر سنایا۔ آخری دن وہ ساری رات ناول پڑھتا رہا اور دونوں دوست خاموشی سے سنتے رہے۔ ان کی طرف دیکھ کر فلابیئر نے میز پر ایک زور دار مکہ مارا اور کہا: ’’اب کہو۔ تم کیا کہتے ہو‘‘ دونوں دوستوں نے بیک زبان کہا:

“اسے چولہے میں ڈالو اور آئندہ کبھی اس کا نام نہ لینا”

دوستوں کی یہ بات سن کر فلابیئر سیخ پا ہو گیا۔ دوستوں نے مشورہ دیا کہ اپنے ناول کے لیے کوئی ایسا موضوع تلاش کرو جو روز مرہ زندگی کے قریب ہوں جس کے کردار عام زندگی سے تال میل رکھتے ہوں۔ یہ مشورہ سن کر وہ دوستوں کے ساتھ پھر سیاحت پر چلا گیا۔ 1850ء میں واپس آ کر اس نے ’’مادام بواری‘‘ پر کام شروع کر دیا۔ اس پر اس نے پانچ سال صرف کئے اور یہ اس کی تخلیقی زندگی کا ایک شاندار کارنامہ ثابت ہوا۔ مادام بواری کی کامیابی کے بعد اس نے بقول اس کے اپنے لافانی شاہکار پر کام شروع کیا۔ یہ اس کا ناول سلیمبو تھا۔ جس میں اس نے (Carthage) کے تمام سفری تجربات شامل کر دئیے۔ اس کتاب کو اس نے 1862ء میں شائع کیا لیکن اسے مادام بواری جیسی پذیرائی نہ ملی۔ اپنا ناولSentimental Education اس نے سات سال میں مکمل کیا۔ ’’تین کہانیاں ‘‘ کے نام سے اس کی کتاب 1877ء میں چھپی۔ فلابیئر کی آخری کتاب Bouvard et Pecuchet جسے وہ اپنی اعلیٰ ترین تخلیق کہتا تھا، اس کی موت کے بعد چھپی۔ یہ انسانی دانش اور علم پر بہت بڑا طنز تھی۔ اس پر بہت بُرے تبصرے ہوئے اور یہ کتاب نقادوں کی بے توجہی کا شکار ہو کر رہ گئی۔ فلابیئر بڑے زرخیز ذہن کا مالک تھا۔ وہ بیک وقت مختلف مکتب ہائے فکر کا پرچارک تھا۔ بحیثیت مصنف وہ رومانویت پسند بھی تھا اور حقیقت نگار بھی۔ حقیقت نگاری نے فلابیئر کی تحریروں ہی سے ابتدائی سفر شروع کیا۔ اس نے اپنے اسلوب کو نکھارنے کے لیے بہت محنت کی۔ کبھی کبھی تو وہ ایک صفحے پر دو دو ہفتے محنت کرتا تھا۔ اس کے خطوط پڑھ کر دیکھ لیں تو پتا چلتا ہے کہ اس نے اپنا اسلوب بنانے کے لیے کتنی جانفشانی سے کام کیا۔

ایک نقاد اس کے بارے میں کہتا ہے: “His style was achieved through the unceasing sweat of his brow” اس کے اسلوب نے اپنے بعد آنے والے ناول نگاروں کو بے حد متاثر کیا۔ اس فہرست میں موپساں، زولا، ترگنیف، سارتر اور کافکا کے نام نمایاں ہیں۔ مشہور نقاد جمیزوڈ (James Wood) اپنی کتاب How Fiction Works میں کہتا ہے: “Novelists Should Thank Flaubert the way poets thank spring” فلابیئر کے قریبی دوست مصنف میکسم کیمپ کا خیال تھا کہ فلابیئر نے اپنے آپ کو کروسے کے قصبے میں قید کر کے اپنے تجربات اور مشاہدات کو محدود کر لیا ہے۔اسے پیرس میں آکر رہنا چاہیے تھا تا کہ لوگوں سے مل کر زندگی کا وسیع تجربہ حاصل کرتا اور اپنے ناولوں کے لیے مواد حاصل کرتا۔ وہ دنیا کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ اس نے ساری زندگی اپنی ماں کی گود میں گزاردی۔ اگر کبھی نکلا بھی تو لوسی کے پاس چلا گیا لیکن اس سے ہاتھ چھڑا کر پھر ماں کے پاس چلا آیا۔ کیمپ نے لوسی کو خط میں لکھا: ’’فلابیئر چار سال میں احمق بن جائے گا۔‘‘ فلابیئر نے اس بات کا بہت برا منایا اور جواب دیا کہ وہ جو زندگی گزار رہا ہے اس کے لیے موزوں ہے اور وہ اس زندگی سے مطمئن ہے۔ فلابیئر نے اسی زندگی سے اپنے ناولوں کا مواد اکٹھا کیا اور ’’مادام بواری‘‘ جیسا عظیم ناول لکھ دیااور کیمپ نے اس ناول کو قسط وار رسالے (Revue de Paris) میں شائع بھی کیا۔ ’’مادام بواری‘‘ چھپ کر مارکیٹ میں آئی تو پبلشر اور مصنف دونوں کو عدالت میں بلا لیا گیا۔ ناول پر بہت لے دے ہوئی۔ فلابیئر نے اس ناول میں فرانس کی سوسائٹی اور اس میں رہنے والوں کو بے نقاب کیا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  علامہ گوگل

مادام بواری ایک عورت کی بدکاریوں کی داستان ہے جو آخر میں ایک برے انجام سے دو چار ہوتی ہے۔عدالت نے وکیل صفائی کے ان دلائل سے متاثر ہو کر پبلشر اور مصنف کو با عزت بری کر دیا اور ’’مادام بواری‘‘ کو ساری دنیا نے فلابیئر کا ایک شاہکار تسلیم کر لیا۔ فلابیئر کے اس ناول کو شروع شروع میں لوگوں نے سمجھا نہیں لیکن مقدمہ ختم ہوتے ہی اسے عظیم شاہکار تسلیم کر لیا گیا۔ فلابیئر کے اسلوب اور اس کی بھرپور فنی صلاحیت کے سامنے سب نے سر جھکا دئیے۔ مشہور نقاد شاعر ایذرا پائونڈ نے تو یہاں تک کہہ دیا: ’’جو فلابیئر کی نثر سے واقف نہیں، جس نے ’’مادام بواری‘‘ کا مطالعہ نہیں کیا وہ نہ اچھی شاعری کر سکتا ہے نہ اچھی نثر لکھ سکتا ہے…‘‘ ایک نقاد نے زور دے کر کہا: ’’اگر فلابیئر نہ ہوتا تو موپساں بھی نہ ہوتا۔ موپساں فلابیئر کو پڑھ کر ہی موپساں بنا‘‘

اردو ادب کے معروف استاد عارف وقار نے اپنے رنگ میں مادام بواری کا ذکر کیا ہے

ناصر ادیب نے بھی 1988 میں اپنی ٹوپی سے ایک نیا خرگوش نکالا یعنی میڈم باوری کے نام سے ایک فلم۔ پاکستان میں یہ ضیاالحق کا دور تھا جب آرٹ اور کلچر کے خلاف ایک غیرعلانیہ سی جنگ جاری تھی۔ رقص اور پاپ میوزک پر باقاعدہ پابندی عائد تھی۔ تھیٹر، ٹیلی ویژن اور فلم پر سخت ترین سنسر نافذ تھا۔ شراب نوشی، جُوا، ریس اور طوائفوں کے مناظر دکھانا ممنوع تھا۔ کسی شادی شدہ مرد یا عورت کا کہیں اور معاشقہ نہیں دکھایا جا سکتا تھا۔ فلمی مناظر میں اُس وقت ایک مضحکہ خیز صورتِ حال پیش آتی جب چَھٹے ہوئے بدمعاش اپنے خفیہ تہہ خانے کے اندرعیش و عشرت میں ڈُوبے دکھائے جاتے لیکن ساقی کے فرائض انجام دینے والی خاتون اُن کے گلاسوں میں شراب کی جگہ کوکا کولا اُنڈیل رہی ہوتی۔

اِن تمام تر پابندیوں کے باوجود ناصر ادیب نے 1988 میں’میڈم باوری‘ کے نام سے ایک ایکشن فلم بنائی۔ اس فلم کا عالمی شہرت یافتہ ناول ’مادام بواری‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن ناصر ادیب نے ہر طرح کے سنسر قوانین کو چیلنج کرتے ہوئے اس کہانی میں ایسا مصالحہ بھر دیا تھا کہ یہ گستاوفلابئیر کے کلاسیکی ناول سے بھی زیادہ متنازعہ بن گئی تھی۔

ناصر ادیب کی کہانی ایک ایسی نادار عورت کے گرد گھومتی ہے جو بھوک، غُربت، ارد گرد کے لوگوں کی جِنسی ہوس، پولیس کے ظلم و ستم اور عدالتی نظام کے کھوکھلے پن سے تنگ آ کر بغاوت پر اُتر آتی ہے اور موقعہ ملنے پر سب سے گِن گِن کے بدلے لیتی ہے۔ اس فلم میں لڑائی مار کُٹائی کے مناظر سے لیکر منشیات کی سمگلنگ، بلیک میلنگ، ریپ، جیل سے فرار، اصلی اور نقلی پولیس مقابلے اور تھانے کچہری سے لیکر ہسپتال اور پاگل خانے تک ہر وہ لوکیشن اور سچویشن موجود تھی جو ایک ایکشن فلم کو کامیابی کی ضمانت بخشتی ہے۔


لیڈی چیٹرلے کا عاشق۔۔۔ عالمی ادب کے متنازع ناول (2)

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔