تبلیغی جماعت کے دہشت گرد، یونیورسٹیاں اور ایف بی آر


adnan Kakar

سنا ہے کہ حکومت نے تبلیغی جماعت کے یونیورسٹیوں میں قیام پذیر ہونے اور تبلیغ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ چارسدے کی باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے فوراً بعد جاری ہونے والے اس حکم سے تو یہی تاثر ملتا ہے کہ چارسدہ کے دہشت گرد تبلیغ کی نیت سے یونیورسٹی میں گھسے تھے، اور چونکہ ان کے حملے کا زور بھی یونیورسٹی کے ہاسٹل پر تھا، تو وہ قیام پذیر بھی ہونا چاہتے ہوں گے۔

یہ عاجز اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے حکومت کے اس بہترین قدم کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ پاتا ہے۔ وہ گزرے دن آنکھوں کے سامنے گھوم گئے ہیں جب تبلیغی صاحبان اپنے ٹریڈ مارک ہتھیار تھامے محلے سے گزر کر مسجد کی طرف جا رہے ہوتے تھے تو پورے محلے میں خوف کا عالم طاری ہو جاتا تھا۔ ہمیں اب یاد نہیں ہے کہ لوگ تبلیغی صاحبان کی کمر پر بندھے بستر سے زیادہ خوف کھاتے تھے یا اس سے لٹکے لوٹے سے، لیکن بہرحال یہ دونوں ہتھیار دہشت پھیلانے کا باعث تھے۔

tablighi_jamaat

پھر اسی دن عصر کے بعد کے بعد اچانک وہ پانچ دس حضرات کا جتھا بنا کر محلے کے کسی بھی گھر پر حملہ آور ہوتے تھے، اور جو بھی نکلتا تھا اسے ساتھ لے جانے پر بضد ہو جاتے تھے۔ ملک الموت کو ساتھ نہ لے جانے پر قائل کرنا شاید ممکن ہو، لیکن ان حضرات کو ساتھ نہ لے جانے پر قائل کرنا ناممکن تھا۔ اصرار تو ان کا یہی ہوتا تھا کہ میاں چلو، ہمارے ساتھ مل کر محلے کے اگلے گھر پر دھاوا بولو، اور جو جو بھی نکلے، اسے پکڑ کر مسجد لے چلتے ہیں۔ وہاں جا کر ان پر تبلیغ کریں گے۔ ہم تو کمزور دل سے انسان ہیں اس لئے ہمارا ایسے حملہ آور جتھوں سے خوف کھانا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن بخدا ہم نے بڑے بڑے جی داروں کو اس ناگہانی آفت سے گھبرا کر ہکلا ہکلا کر بہانے بناتے ہوئے دیکھا ہے۔

شاید یہی ہکلاتے ہوئے جی دار اب حکومت میں بھرتی ہوئے ہیں اور عوام کے تحفظ کی خاطر حکم جاری کرنے لگے ہیں۔ اور ہم اس حکم اور اس میں چھپی ہوئی حکمت کو درست جانتے ہیں۔ ذرا تصور تو کریں، کہ کسی ایک یونیورسٹی ہوسٹل پر یہ تبلیغی حضرات حملہ آور ہوں، اور وہاں سے پانچ سات سو طلبہ کو پکڑ کر جتھا بنائیں اور اگلے ہوسٹل پر دھاوا بول دیں۔ چند منٹ میں ہی ہزاروں افراد کا یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر لا اینڈ آرڈر کے پرخچے اڑا سکتا ہے۔

اور اگر ان کی باتوں میں آ کر یونیورسٹی کے طلبا بہک گئے تو کیا ہو گا؟ داخل ہوں گے ہم جامعہ پنجاب میں اور منظر جامعہ بنوریہ کا سا نظر آئے گا۔ اچھا کیا کہ حکومت نے طلبہ کو بہکنے سے بچا لیا۔ ویسے بھی جامعہ پنجاب میں تو صالحین کا راج ہے۔ خدانخواستہ اگر تبلیغی حضرات کی لچھے دار باتوں میں آ کر یہ نوجوان صالحین سدھر گئے تو پھر کشمیر وغیرہ کے جہاد کا کیا ہو گا؟

Maulana-Tariq-Jameel-Bayan-at-FBR-Office

ایک امکان یہ بھی ہے کہ یہ حسد و جلن کا عنصر ہو جس کی وجہ سے یہ پابندی لگائی گئی ہے۔ تبلیغی جماعت کا سب سے نمایاں چہرہ مولانا طارق جمیل صاحب ہیں۔ ان کے شکاروں کی فہرست میں انضمام الحق کی پوری کرکٹ ٹیم تو شامل ہے ہی، لیکن شو بز والے بھی ان سے محفوظ نہیں رہے۔ عامر خان ان کا شکار ہو چکا ہے۔ جنید جمشید تو ان کا مرید خاص بن چکا ہے۔ حتی کہ تھیٹر کے سٹیج کو تھرکا دینے والی پارہ صفت مہ پارہ نرگس بھی ان کے آگے ایسی مرجھائی ہے کہ سٹیج چھوڑ کر نیک بی بی بنی ہے اور عمرے حج کی طرف متوجہ ہو گئی ہے۔ لیکن ان کا سب سے بڑا کارنامہ تو وینا ملک ہے۔ کہاں اس بی بی کے حالات یہ ہوتے تھے کہ دسمبر کی منمجمد کر دینے والی ٹھنڈ میں بھی کپڑوں سے مکمل طور پر احتراز کرتی پائی گئی تھی، اور کہاں اب یہ عالم ہے کہ جون کی سڑی گرمی میں بھی بغیر جالی کے شٹل کاک برقعے میں نظر آنے لگی ہے۔ شاید تبلیغی جماعت پر بتدریج پابندی لگا کر شو بز والوں کو بچایا جا رہا ہے۔

اچھا ہے کہ یونیورسٹی کے طلبہ اور شو بز کی حسینائیں مولانا طارق جمیل اور ہمنواؤں سے بچ جائیں گے اور خراب نہیں ہوں گی۔ اور ہیرو حضرات اب ویلن بن کر بدمعاشیاں نہیں کریں گے۔

لیکن ایک چیز اس کم فہم کی سمجھ سے باہر ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو ایف بی آر نے اپنے بہت سے افسران جمع کر کے ان کو مولانا طارق جمیل سے درس دلوانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ کہیں حکومت طلبہ کی بجائے ایف بی آر والوں کو دہشت گرد بنا کر ٹیکس کو بھتے کی مانند وصول کرنے کا منصوبہ تو نہیں بنا رہی ہے؟ بخدا یہی منصوبہ لگتا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ تبلیغی جماعت یونیورسٹی میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ایف بی آر کے افسران پر توجہ کرے اور ان کو دہشت گرد بنا کر غریب حکومت کے سارے دلدر دور کر دے۔

سدھر جاؤ پاکستانیو۔ ورنہ جلد ہی تبلیغی جماعت کے سے انداز میں ایف بی آر کے افسران کا جتھا کمر پر بستر اٹھائے، لوٹا لٹکائے، تمہارے دروازے پر دستک دینے آ رہا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 328 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

11 thoughts on “تبلیغی جماعت کے دہشت گرد، یونیورسٹیاں اور ایف بی آر

  • 31-01-2016 at 12:05 am
    Permalink

    Excellent and creative like always!

  • 31-01-2016 at 6:37 pm
    Permalink

    well, such a great understanding of the problem. Salute you sir. Same is valid for canteen vendors, because their main job is to serve the people in universities and school with tea and eatables, but it is sad to say that in APS tragedy they were found as suspects. I think guns are not things which could be served with tea.May be some time “gun” may function as “lota” Allah bless you.

  • 31-01-2016 at 8:07 pm
    Permalink

    Mr Adnan Khan kakar. its a just hate speach against a religious movement, a non violent movement. if you want to know the reality be scientific, stay with them for some days and look what they are doing. your way of writing is funny, insulting. please there are various methods to know the reality. qualitative or quantitative. you put you all onesided view against tableegi jaaat .

    • 31-01-2016 at 10:18 pm
      Permalink

      Sir my only request to your esteemed self is, that you should not read satire or humor if you cannot understand this kind of writings

      Satire and humor will just make you more sad

  • 01-02-2016 at 11:05 pm
    Permalink

    Bohat Khoob, very Nice Dear, I like your pots.

  • 02-02-2016 at 9:18 pm
    Permalink

    ُعرفی تومیندیش زغوغائے رقیباں
    آوازِ سگاں کم نہ ُکنند رزقِ گدارا

Comments are closed.