محمد عامر کی آزمائش ختم؟


mohammad amirبالآخر محمد عامر کو نیوزی لینڈ کا ویزہ مل گیا۔ یہ ویزہ لینے کے لئے ان کو طویل امتحانوں سے گزرنا پڑا۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں محمد عامر پر 2010ءمیں پانچسال تک کرکٹ کھیلنے کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ عامر کرکٹ کا ایک عام کھلاڑی نہیں بلکہ پوری دنیا میں انتہائی کم عمر میں شہرت کے جھنڈے گاڑنے والا کھلاڑی ہے۔ جس کی بولنگ نے  پوری دنیا کو متاثر کیا اور اس بولنگ کو دیکھنے والوں نے اسے مستقبل کا وسیم اکرم قرار دیا جبکہ خود وسیم اکرم نے اسے خود سے زیادہ باصلاحیت قرار دیا۔
عمران خان نے کہا کہ وہ وسیم سے زیادہ صلاحیت والا ہے کیونکہ وسیم اکرم عامر کی عمر میں اتنی اچھی بولنگ نہیں کرتا تھا۔ عامر نے بہت زیادہ کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ اس کے ریکارڈز کا جائزہ لیں تو وہ صرف  چودہ ٹیسٹ ، پندرہ  ون ڈے اور اٹھارہ ٹی ٹوئنٹی کھیل سکا ہے۔ ابھی اسے کرکٹ کا ایک طویل سفر کرنا تھا۔ لیکن وہ کرکٹ کی جوا مافیا کے جال میں پھنس گیا جس سے نکلنے کے لئے پوری دنیا کی ہمدردیاں اس کے ساتھ تھیں لیکن اس کو اس سے نکلنے میں تقریبا پانچ سال لگ گئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عامر کی بولنگ انتہائی خطرناک ہوا کرتی تھی۔ اس پر دو سینئیر کھلاڑیوں کے ہمراہ اسپاٹ فکسنگ کے الزامات ثابت ہوئے تھے جس کے بعد ان تینوں نے 3 ماہ برطانیہ کی جیل میں سزا کاٹی تھی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے 2011ءمیں ان پر پانچسال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ محمد عامر اور آصف کے ساتھ ساتھ اس وقت کے قومی ٹیم کے سلمان بٹ پر 2010 میں دورہ انگلینڈ کے دوران لارڈز ٹیسٹ میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے جان بوجھ کر پیسوں کے لیے نوبال کیں ۔ آئی سی سی نے 2011 ءمیں ان پر پابندی عائد کردی تھی لیکن پابندی لگانے والے جج نے اس قانون پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آئی سی سی سے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔ اسپاٹ فکسنگ الزامات ثابت ہونے پر عامر پر پانچ سال، سلمان بٹ پر دس سال اور آصف پر سات سال پابندی لگائی گئی تھی جبکہ تینوں کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی تھی۔پی سی بی کی جانب سے گزشتہ سال آئی سی سی سے درخواست کی گئی تھی کہ محمد عامر پر لگائی جانے والی پابندی میں نرمی کر کے ان کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے۔
23 سالہ محمد عامر کی مشکلات کاخاتمہ پی سی بی کی کوششوں سے ہوا، سابق چئیرمین پی سی بی نجم سیٹھی نے گزشتہ سال آئی سی سی سے اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم اور محمد عامر کو رعایت دلانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا۔آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ میں ترمیم کے بعدپی سی بی نے طریقہ کار کے مطابق محمدعامر کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت کے حوالے سے درخواست آئی سی سی کوبھیجوائی تھی۔ آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ نے عامر کا انٹرویو بھی لیا اور ان کے حوالے سے مثبت رپورٹ آئی سی سی بورڈ کو بھجوائی۔
جس کے بعد انہیں باقاعدہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی گئی۔اسپاٹ فکسنگ کیس میں پانچ سالہ پابندی کا شکار ہونے والے محمد عامر کو ان کے مثبت رویے اور آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ سے تعاون کرنے کی بنا پر چھ مہینے کی رعایت دی گئی۔ لیکن ان کی آزمائش ختم نہ ہوئی۔ جب ان پر پابندی لگی تو آسٹریلیا کے وزیر اعظم تک نے ان کے حق میں بیان دیا۔ جیل کاٹنے اور پابندیاں ختم ہونے کے بعد ان کے ساتھ کھلاڑی اظہر علی اور عبدالحفیظ نے ساتھ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ اور یوں لگتا تھا کہ شاید ایک کے بعد ایک بحران ان کا انتظار کر رہا ہے۔ پابندی ختم ہونے کے بعد یہ بھی کہا گیا کہ جرائم میں ملوث کھلاڑی کو نیوزی لینڈ کا ویزہ نہیں ملے گا۔لیکن بالاخر قدرت کو ان پر رحم آگیا ہے اور ان کو ویزہ مل گیا ہے۔ اب وہ اس جہاز میں سوار ہوں گے جس میں پاکستانی ٹیم نیوزی لینڈ کا دورہ کرے گی لیکن شاید ان کے پاس بہت بڑی غلطیاں کرنے کی مہلت ختم ہوگئی ہے۔ پوری دنیا کی نظریں ان پر لگی ہیں اور ان کے کیئریر میں ان پر کارکردگی دکھانے کا دباﺅ دوسرے کھلاڑیوں سے زیادہ ہوگا۔


Comments

FB Login Required - comments