ہزار سال پرانا آدمی


\"mujahidعالم استغراق میں وہ دنیا مافیہا سے بے خبر تھا۔

اس پر یہ کیفیت طاری ہوتی تو وقت تھم جاتا اور زمانہ چال بھول جاتا۔ لیکن یہ اس کا قیاس تھا۔ اسے آنکھیں موندے یہی لگتا کہ اگر اس نے دیکھنا بند کر دیا تو سارا جہاں بینائی سے محروم ہو چکا۔ اس نے سوچنا چھوڑ دیا تو غور و فکر کے سارے سوتے خشک ہو گئے۔

جب اسے جھنجھوڑا جاتا۔ کوئی ہمدرد کوئی خیر خواہ یا اللہ کا بندا دیکھتا اور محسوس کرتا کہ اس بے خبری کے عالم میں یہ شخص محرومیوں کا شکار اور سراسر خسارے میں ہے تو وہ اسے پکارتا ، کندھے سے پکڑ کر آواز دیتا اور توجہ دلاتا کہ تم اگر نیم مردنی سے باہر نہیں نکلو گے تو کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ باقی سب تمہیں مرا ہو¿ا سمجھ کر آگے بڑھ جائیں گے۔

ایسے میں اگر وہ آنکھیں کھول پاتا اور لاتعلقی کی کیفیت سے محسوس کرنے اور جاننے کی طرف لوٹتا تو اسے خود ہی احساس ہوتا کہ زمانہ تو بہت آگے نکل گیا۔ وقت تو تبدیل ہو چکا ہے۔ چیزیں اب اس طرح سے کام نہیں کرتیں جیسے وہ اس کے محو خواب ہونے سے پہلے کیا کرتی تھیں۔ پھر وہ تگ و دو کرتا۔ نئی باتوں کو سیکھنے کے لئے ہاتھ پا?ں مارتا اور خود پر تین حرف بھیجتے ہوئے اس وقت کو کوستا جب اس نے ایک بے نام کاہلی کو اپنا چلن بنایا اور اس مقام کو کھو دیا جو اس کی کئی نسلوں نے بڑی محنت اور تگ و دو کے بعد حاصل کیا تھا۔

پر ہو¿ا یوں کہ اس کی خوابیدہ ہونے کی عادت نہ بدلی مگر زمانہ اپنی چال بدل چکا تھا۔

اور یہ بھی ہو¿ا کہ اب جو اس نے آنکھیں موندیں اور عالم استغراق میں کیف تلاش کرنے لگا تو کسی نیک دل نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔ سب کو اپنے کام نمٹانے کی جلدی تھی۔

کہتے ہیں کبھی ایسا ہوتا تھا کہ سال دو سال یا دس بیس برس کا عرصہ بیت جاتا اور سونے والے جاگتے تو ایک ہی جست میں اسے پھلانگ لیتے۔ بس ارادہ کرنے اور نیند سے بیدار ہونے کی دیر تھی۔

یہ باتیں سننے میں کتنی عجیب لگتی ہیں۔

ایک سال میں موبائل کے تین چار نئے ماڈل دریافت ہو جاتے ہیں۔

دس سال میں انسان اتنی بڑی جست لگا لیتا ہے کہ اس کے زیر استعمال آلات کی ہئیت ، نوعیت اور کارکردگی تبدیل ہو جاتی ہے۔ اور بیس برس میں تو نسل ہی جوان نہیں ہوتی، پرانی نسل کے ساتھ اس دور کے رویے اور طریقے بھی متروک ہو جاتے ہیں۔

دادی وہ کون سا زمانہ تھا جب وقت تھما رہتا تھا۔ جب دہائیوں کی نیند کے بعد بھی خسارے کا احساس نہ ہوتا تھا۔

کیا تب وقت کی رفتار کم تھی

کیا اس وقت انسان کے سوچنے کا طریقہ مختلف تھا

دادی کے پاس جن سوالوں کا جواب نہ ہوتا تو وہ پیار بھری ڈانٹ سے مخاطب ہوتی:

مین میخ نہ نکالو۔ کہانی سنتے ہو تو سنو۔ ورنہ میں تو سوتی ہوں۔

کمسنی سے نوعمری میں داخل ہوتے بچے نے زور کا قہقہہ لگایا اور بولا:

دادی کیا تم بھی عالم استغراق میں جانے والی ہو۔ یہ نہ ہو بیدار ہو، تو تم ہم کو پہنچاننے سے انکار ہی کر دو۔

ہاں سچ کہتے ہو میرے بچے۔ یہ نیند ایسی ہی بری چیز ہے۔ اگر انسان زندگی سے مونہہ موڑ لے اور آنکھیں موند کر مرنے سے پہلے ہی مرنے کا تماشہ کرے تو وہ سراسر خسارے میں ہو گا۔

اب خود ہی سوچ لو کہ اب میں سو جاﺅں اور دس بیس برس بعد میری انکھ کھلے تو سب کچھ اجنبی ہو چکا ہو گا۔

تم جوانی سے شعور کے نصف النہار تک پہنچ چکے ہو گے اور تمہاری ماں میری طرح تمہارے بچوں کو کہانی سنا رہی ہو گی۔ ایسے میں، میں کس طرح اس عہد کو پہچانوں گی جس کا سرا خود میں نے اپنے ہاتھوں سے چھوڑ دیا تھا۔

نہ تم مجھے دادی کہو گے۔

نہ میں تم کو اپنا پوتا جان پاﺅں گی

میں تو اپنوں کو تلاش کرتے دیوانی ہو جاﺅں گی

مگر وقت دیوانوں کا ساتھ نہیں دیتا۔ یہ تو صرف سیانوں اور ہوشیار لوگوں کا ہمراہی ہوتا ہے۔

غفلت میں پڑے لوگ گلہ تو کر سکتے ہیں۔ نہ وقت کا پہیہ واپس موڑنے کی سکت رکھتے ہیں اور نہ عہد نو کے ساتھ چلنے کی صلاحیت۔

اچھا یہ بتاﺅ کہ کیا تم قیاس کر سکتے ہو کہ تمہاری دادی بس اچانک تمہاری زندگی سے چلی جائے تو کیا ہو گا۔ اور بیس برس بعد وہ آ کر پکارے …. میرے ببلو، مجھے پہچانا؟ تو تم کیا کہو گے۔ کیا کرو گے۔

جانے دو دادی۔ یہ پہیلیاں نہ بجھواﺅ، کہانی پوری کرو۔

تو سنو:

اس بار وہ عالم استغراق میں داخل ہو¿ا تو اسے سب کچھ بھول چکا تھا۔ اب تک تو یوں ہوتا آیا تھا کہ اس کی یہ غنودگی یا نیند نما کیفیت چند ہفتے، مہینے یا برس جاری رہتی۔ پھر کسی نہ کسی بہانے کوئی اسے کان سے پکڑ کے زندگی کی دوڑ میں شامل کر لیتا۔

اب یہ تو تم بھی جانتے ہو کہ زندگی کی رفتار کیسی تیز ہو چکی ہے۔ اب وہ زمانہ تو ہے نہیں کہ بیٹا قسمت آزمانے پہاڑ کے اس پار جانے لگتا تو ماں آخری بار اسے دیکھ کر خدا حافظ کہتی اور سمجھ جاتی کہ اب اپنے جنے کو پھر نہ دیکھ پاو¿ں گی۔ پھر وہ چلتا چلتا جس جہان میں پہنچتا، وہاں کے طور طریقے اور رہن سہن ہی نرالا اور مختلف ہوتا۔ بس وہ وہیں رچ بس جاتا۔ اسی طرح انسان دنیا کے کونے کونے میں پھیل گئے۔

اب تو ہوائی جہاز ہیں جو گھنٹوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب سوچو کہ پیدل چلنے والے عہد کا کوئی انسان چلتا چلتا آج اس دور میں داخل ہو جائے تو کیا ہو گا!

بس کچھ ایسا ہی اس کے ساتھ ہو¿ا، وہ سویا تو ہمراہیوں ، ساتھیوں اور عزیزوں کی لعن طعن کے باوجود بیدار نہ ہو سکا۔ سب سفر میں تھے۔ انہیں تو اپنا کام پورا کرنا تھا۔ وہ اس کے ساتھ بھلا کیوں کر رک سکتے تھے۔

ایک ہزار برس بیت گئے

ایک ہزار برس؟ حیرت سے بھری ایک چیخ بچے کے حلق سے نکلی۔

ہاں ہزار برس۔

سب کچھ بدل چکا تھا۔ بس وہ نہیں بدلا تھا۔ وہ تو ہزار برس پرانا آدمی تھا۔ نئے عہد کی انسانی نسل کے لئے ایک عجوبہ۔ ایک وحشی۔ جس کی سب عادتیں اور باتیں ناقابل فہم تھیں۔

اس نے پکارا میرا گھوڑا تیار کرو

مگر گھوڑے تو اب فارم ہاﺅس میں رکھے جاتے ہیں۔ سفر کے لئے تو موٹر گاڑی ہوتی ہے۔

اس نے کار دیکھی تو چیخنے لگا۔ اسے لگا کہ اس کے دشمن نے اس کی بے خبری کا فائدہ اٹھا کر اسے نقصان پہنچانے کا کوئی بندوبست کیا ہے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ انسانوں کی جس نسل سے اپنا تعلق بتاتا تھا، اسے بیتے ہزار برس گزر چکے تھے۔ وہ اتفاق سے نئے عہد میں بیدار ہو¿ا تھا جو برق رفتار تھا۔ جب انسان نے زندہ رہنے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کے نئے طور طریقے سیکھ لئے تھے۔

اب سب جنگ سے بچتے اور ایک دوسرے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ قبیلہ ، ذات پات ، علاقہ کی بنیاد پر تقسیم یا کسی رائے پر اختلاف کی صورت میں تلوار نکالنے کا زمانہ نہیں رہا تھا۔

وہ میری تلوار کہاں ہے۔

میری تلوار

سب ہنس پڑے۔

اب تلوار سے کون لڑتا ہے۔ یہ لفظ صرف لغت میں ہے یا اس قسم کی چیز عجائب گھر میں محفوظ ہے۔

اب لڑنے کی نوبت نہیں آتی۔ سب جانتے ہیں کہ دوسرے کو مارا تو میں خود بھی ختم ہو جا?ں گا۔

تم اناڑی ہو گے۔

غچہ دے کر دشمن کے وار سے صاف بچا جا سکتا ہے۔

وہ ہزار سال پرانا آدمی بحث کئے جا رہا تھا۔

سب نے اسے سمجھانے کی کوشش کی

نئے طور طریقے۔ رسم و رواج سکھانے کی

ہزار سال تک عالم غفلت میں رہنے والا چاہنے کے باوجود ہزار سال کی جست نہ لگا سکا۔

اس نے سال دو سال ، دس بیس برس کی چھلانگ تو لگائی تھی۔ مگر زمانہ بہت آگے نکل گیا تھا۔

نہ میں نہیں مانتا

میری تلوار مجھے دو

میں اپنا گھوڑا تیار کرتا ہوں

میری زرہ لاﺅ۔ پھر دیکھتا ہوں کون میرے مقابلے پر اتر سکتا ہے۔

میں جری ہوں۔ کسی معرکے میں نیچا نہیں دیکھا۔ یہ ہزار برس کیا ہوتے ہیں۔

وہ ہاتھ پاﺅں چلاتا تھا

چیختا چنگھاڑتا تھا۔

جنگلے سے باہر کھڑے بچے نے باپ سے پوچھا:

یہ تو انسان ہے۔ یہ یہاں کیوں بند ہے۔

باپ نے سکون سے جواب دیا:

یہ ہزار سال پرانا آدمی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “ہزار سال پرانا آدمی

  • 31-01-2016 at 1:20 am
    Permalink

    Wah wah aala sir

  • 31-01-2016 at 4:50 pm
    Permalink

    بہت خوب سیدی۔ کیا منظر کھینچا ہے جناب۔ واہ واہ۔

Comments are closed.