تبلیغی جماعت اور تعلیمی درسگاہیں


imad zafarپنجاب حکومت نے بالآخر ایک انتہائی دانشمندانہ اقدام اٹھاتے ہوئے تعلیمی درسگاہوں میں کسی بھی قسم کی مذہبی تبلیغ پر پابندی عائد کر دی۔ ساتھ ہی درسگاہوں میں جمعے کی خطبے کو بھی سرکاری اجازت نامے کے ساتھ جاری کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس خوش کن اور مثبت فیصلے پر تو مصرعہ یاد آ گیا کہ “بہت دیر کی مہرباں آتے آتے”۔ کسی مفکر نے کہا تھا کہ اگر آپ کسی بھی قوم یا معاشرے کو ترقی سے روکنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابوں سے دور کر دیجیے۔قابل فہم بات ہے کہ جب کوی فرد یا قوم مطالعے کی عادت چھوڑ دے اور علم سے دور ہوتی جاے تو اس میں سوچنے سمجھنے اور حقائق کو جاننے کی صلاحیتیں ناپید ہوں جاتی ہیں۔آپ سوچنے کی طاقت کسی بھی فرد سے چھین لیں وہ ذہنی طور پر مفلوج ہو جائے گا اور جو چیزہیں اسے رٹائی جائیں گی ان میں ہی منجمد ہو جاے گا ۔یہی حال اقوام کا ہوتا ہے جن قوموں میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے وہ زمانہ موجود کے بجاے عہد رفتہ میں کھوئی رہتی ہیں اور جدید دور کے تقاضوں سے نابلد رہتی ہیں۔کچھ ایسا ہی حال اس وقت ہمارا ہے جہاں تعلیمی درسگاہیں بالخصوص سرکاری کالجز اور یونیورسٹیاں عرصہ دراز سے تعلیم و تحقیق کا مرکز بننے کے بجائے مذہب پر مباحث اور اپنے اپنے فرقہ کی ترویج کا باعث بن رہی تھیں۔ جہاں تبلیغی جماعت نوجوانوں کو دنیا تیاگ کر آخرت کی فکر کرنے کا کہتی اور بہت سے نوجوان اس مائینڈ سیٹ کے ساتھ ان درسگاہوں سے نکلتے ہیں کہ کفار کو دنیا میں آسانیاں ہیں۔ ہمیں تو اگلی زندگی میں بہشت اور حسین و جمیل حوریں عطا کی جائیں گی۔نتیجہ یہ کہ نوجوان زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک اچھا پروفیشنل بننے کے بجائے ایک مبلغ بننے کو ترجیح دینا شروع ہو جاتے ہیں۔ اپنے شعبے میں تحقیق و جستجو کی بجائے آنے والی نسلوں کو بھی مذہب کی ترویج کا درس دیتے، دنیا کی جدید تحقیقات سے منہ موڑ کر بس اپنے مذہب یا فرقے کی بڑائیاں پیش کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ یوں اس سوچ کا ایک گہرا اثر مجموعی معاشرتی سوچ پر پڑتا ہے اور جب زندگی کی قدر و اہمیت کو سمجھنے سے انکار کرتے ہوئے محض موت کو یاد کیا جائے اور اس کے بعد کی زندگی پر ہی سارا دھیان دیا جائے تو معاشرے میں اچھے مولوی یا تبلیغی حضرات تو پیدا کیئے جا سکتے ہیں لیکن اچھے سائینسدان، اچھے انجینئرز اور اچھے خلاباز تیار کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

کسی مذہب یا عقیدے کو ماننا اس پر عمل کرنا یقینا ہر فرد کا بنیادی حق ہے اور اس پر تحقیق و جستجو بھی۔لیکن اس کا ایک مناسب وقت اور مقام ہوتا ہے طرز معاشرت کو اور طرز عقائد کو علیحدہ رکھا جاتا ہے۔ تعلیمی درسگاہوں کا بنیادی کام دور جدید کے تقاضوں پر مبنی اعلی ترین تعلیم طلبا تک پہنچانا ہوتا ہے نا کہ مذہب کی تعلیمات۔ اگر کسی کو مذہبی تعلیمات حاصل کرنے کا اور ترویج کا شوق ہے تو اس کے لیئے وہ کسی مناسب وقت اور جگہ کا انتخاب کر سکتا ہے لیکن تعلیمی اداروں کا نہیں۔ آپ ایک اچھے حافظ قرآن ہو سکتے ہیں ایک اچھے تبلیغی یا مذہبی مقرر ہو سکتے ہیں۔ یہ فعل آپ کی ذات کے لئے آپ کے عقیدے کے مطابق تو اچھا اور باعث سکون ہو سکتا ہے لیکن معاشرے میں تعمیری سطح پر اس کی کوئی اہمیت نہیں، انسانیت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں۔ مثال کے طور ایک سوال ہے کہ ایک درد کی گولی ایجاد کر کے یا پولیو جیسی بیماری کا علاج دریافت کرنے والا انسانیت کا محسن ہوتا ہے یا ایک اچھا مذہبی تبلیغ کرنے والا؟ غالبا اس کا جواب ہمیں ہر اس لمحے ملتا ہے جب ہم اپنے بچوں کو کسی بھی درد یا تکلیف میں فورا ہسپتال لے جا کر دردکش ادوایات استعمال کرواتے ہیں یا پھر بیماریوں سے بچاو کی ویکسی نیشن کرواتے ہیں۔

پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ عام آدمی کے لئے ایک کڑوا فیصلہ ہے کیونکہ مذہب کو صنعت کا درجہ دے کر اس سے پیسہ کمانے والے افراد اور جماعتوں کا زور اور تسلط اس فیصلے سے تعلیمی درسگاہوں اور نوجوانوں پر کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ مذہب کے یہ ٹھیکیدار اس فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عوام کے جذبات کو عقیدت اور مذہب کی بالادستی کے تصورات سے نتھی کر کے مشتعل کرنے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ آخر کو حوروں کے خدو خال بیان کر کے اور جنت کا بار بار ذکر کر کے تقریریں کرنا اور ان سے پیسہ کمانا نہ صرف کسی بھی شعبے کے مقابلے میں آسان بھی ہے بلکہ ذہنوں کو تابع رکھنے کا ایک ذریعہ بھی۔ جہاد اور امت مسلمہ کے خلاف سازشوں کا چورن بیچنا سیدھا سیدھا لینڈ کروزروں اور ایک ہیرو کا درجہ دلوا دیتا ہے جو کسی بھی تخلیقی اور تعیری شعبہ میں انتہائی محنت اور قابلیت سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔ ایک طویل عرصے سے ہمارے ملک میں مذہب کو ریاستی سطح پر بھی اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا اور معاشرے میں ایک مائنڈ سیٹ تیار کر دیا گیا ایسا مائینڈ سیٹ جو مخلوط تعلیم کو آج بھی گناہ سمجھتا ہے جو اپنے سوا سب کو گمراہ اور کمتر سمجھتا ہے۔ جو کائنات کی لامحدود وسعتوں پر تحقیق کرنے کے بجائے اس بات پر تحقیق کرتا ہے کہ عورت کو کیسا لباس زیب تن کرنا چاہیئے۔ داڑھی کی لمبائی کتنی ہونی چائیے۔ مباشرت کے آداب کیا ہونے چائیں۔ یا کفار کو نیست و نابود کرنے کیلئے کتنے بم اور اسلحہ خریدنا ہے۔ یہود و نصاری کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے کی خود ساختہ ذمہ داری کیونکر اور کیسے نباہی جائے۔ اب اس مائینڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لئے ریاستی سطح پر یہ اقدام اچھا ہے۔ لیکن اس اقدام کو بلا تفریق تمام مذہبی و شدت پسند جماعتوں اور افراد پر لاگو کرنا چاہیے ۔ جہاں تبلیغی جماعت دنیا میں مقابلہ کرنے کے بجائے عہد حاضر سے منہ موڑنے اور حوروں کے حاصل کرنے کو زندگی کا مقصد جیسی سوچ اور دماغ تیار کرتی ہے وہیں جماعت اسلامی اور اس جیسی کئی مذہبی سیاست کرنے والی تنظیمیں اپنی طلبہ تنظیموں کے زریعے جہاد اور طالبان کے حامی مایینڈ سیٹ اور اقوام عالم خصوصا مغرب سے نفرت کرنے والے نظریے پیدا کرتی ہیں۔

ریاست کی گزشتہ افغان جہاد پالیسی کی پشت پر اس تنظیم نے یونیورسٹیوں اور ہوسٹلوں میں جہادی اور شدت پسند سوچ کی افزائش کے لئے دہائیوں سے تسلط قائم کر رکھا ہے۔ اسی طرح زید حامد جیسے افراد نجی اور سرکاری تعلیمی درسگاہوں میں سیمینارز میں جا کر شدت پسندی کے فروغ اور جنگی جنون میں نوجوانوں کو مبتلا کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑتے۔ اگر اس فیصلے کا اطلاق تمام ایسے افراد اور جماعتوں پر کر دیا جائے تو یقینا اس سے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ تعلیم سے انسان سوچنے کے قابل ہوتا ہے اور ان درسگاہوں میں ایک ایسا ماحول جو سوچ رکھنے اور فرسودہ خیالات و نظریات کو چیلنج کرنے میں معاون ثابت ہو یقینا شدت پسندی کے خاتمے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ایسے اساتذہ جو تعلیم کی آڑ میں اپنے اپنے شدت پسندانہ، فرقہ وارانہ یا جماعتی نظریات کی ترویج کرتے ہیں ان کے ذہنی رجحانات کو معلوم کرنے اور ان کی نشاندہی کے لئے جدید “سائیکو میٹرکس” ٹیسٹ متعارف کروائے جا سکتے ہیں اور ذہنوں کو سوچ سے عاری کر کے بنجر بنانے کا یہ فعل بھی روکا جا سکتا ہے۔پنجاب حکومت اس اچھے اقدام کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں اگر تعلیمی نصاب سے بھی شدت پسندی، نفرت اور تعصب پر مبنی مواد نکال باہر پھینکے تو شدت پسندی کے عفریت کو قابو کرنا مزید آسان ہو جائے گا۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “تبلیغی جماعت اور تعلیمی درسگاہیں

  • 10-02-2016 at 5:38 pm
    Permalink

    حضور ہم عجیب تضادات کا شکار ہیں. مولوی ترقی سے بھاگ رہا ہے اور ترقی پسند مذہب سے.بد قسمتی سے مولوی مسلک کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہے اور مذہب پس پشت ڈال رکھا ہے اوراس رویے پہ ناقد مذہب پربھی تنقید کے نشتر برسا رہا ہے.صد افسوس کہ دونوں ایک دوسرے کے وجود کا ختم ہو جانا ہی مسلے کا حل گردانتے ہیں. عالی جاہ انہی رویوں سے شدت پسندی جنم لے رہی ہے. آپ ناخن کاٹیں انگلی نہیں.

  • 24-02-2016 at 2:20 am
    Permalink

    Tableeghi jamat kisi ke zati company nhe jo band ho jaye…….Allah ny apny deen ka kam parindon sy bhe liya hai……..kam bhe Allah ka hai ly gain bhe Allah he…..Allah k rasty mai jo ata hai hidayat pata hai ya tukry tukry hojata hai……..!!!!Quran apny tw ziada parha hoga…..deen ka ilm tw apky left right mai hoga…..or deen ke smjh to shaid bachpan he sy mayyasar hai…..in sary columist ko jo yahan doctors ko doctory nhe sikhaty enginer ko enginering nhe IT spec ko uski field ka mgr afsoos moulvion ko sikhany ka bera ap sb ny ly rakha hai………….!!!

  • 14-04-2016 at 11:08 pm
    Permalink

    آپ نے اچھا مضمون لکھا ہے۔ ترقی حاصل کرنے کے لئیے نئی سوچ ، تخلیق کرنے کی اور موجودہ خیالات پر تعمیری تنقید کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ریسرچ شروع کرنے سے پہلے ہی آپ کے پاس اپنے سوالوں‌ کے جواب موجود ہوں‌گے تو آپ کبھی بھی سچ نہیں‌ ڈھونڈ سکیں‌ گے۔
    اب یہ لوگ پرانے زمانے کے گزرے ہوئے لوگوں‌ کی زندگی اور ان کے جوابوں‌پر مبنی تحقیقاتی ادارے بنائیں‌گے تو ان میں‌ سے پیراسٹامول تو نکل نہیں‌سکتی۔

Comments are closed.