ہمارے وزیر داخلہ کی دور اندیشی ….


muhammad Shahzadہمارے وزیرِ داخلہ آج کل غصے میں ہیں۔ رفیع صاحب کا گانا یاد آ رہا ہے۔ ’وہ ہیں ذرا خفا خفا جو نین یوں چرائے ہیں‘۔ اتنے غصے میں تھے کہ چارسدہ ہو کے گذر گیا مگر کوئی پریس کانفرنس ہی نہیں ہوئی۔ کوئی رونق میلہ ہی نہیں لگایا۔ میڈیا کی کوریج چوہدری صاحب کے بغیر ایسی دال ہے جسے تڑکا ہی نہ لگایا گیا ہو۔ موصوف علیل تھے اسی لیئے خاموش تھے۔ لیکن کوئی نہ کوئی موقع تو نکال ہی لیتے ہیں میلہ لگانے کا۔ سرکار نے سکول بند کردیے ۔ وجہ بتائی کہ سردی ہے۔ یہ تو سکھ والا لطیفہ ہو گیا۔ سکھ پریشان رہتا تھا کیونکہ اسے اپنی بیوی اکثر نوکر کے ساتھ صوفے پر لیٹی نظر آتی تھی۔ سکھ نے اس ٹنٹے کا حل یہ نکالا کہ صوفہ ہی بیچ دیا۔ سرکار نے سکول بند کردیے۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ مگر چوہدری صاحب کو تو موقع مل گیا نہ میلہ لگانے کا۔ تو خوب غصہ اتارا کہ کیوں صوفہ بیچا! سوری کیوں سکول بند کئے۔ مجھے کہتے ۔ لکڑیوں کے ٹرک پہ ٹرک روانہ کر دیتا۔ سردی کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالتا۔ اور یہ کہ سکول بند کر کے ہم نے دہشت گردوں کو یہ پیغام دیا کہ ہم ڈر گئے۔ ہم دبک گئے۔ ہم کمزور ہیں۔ ہمیں طاقت کا پیغام دینا چاہیے۔ ہمیں اتفاق کا پیغام دینا چاہیے۔

چوہدری صاحب کبھی غلط نہیں کہتے۔ ہم بھی ان کی جگہ ہوتے تو یہی کہتے کی بھائی سکول کیوں بند کرتے ہو۔ کونسے ہمارے بچے جاتے ہیں ان گھٹیا سکولوں میں۔ ہمارے بچے تو امریکہ یا برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان سکولوں میں تو غریبوں یا سفید پوشوں کے بچے پڑھتے ہیں۔ اور ان کی حیثیت ہی کیا ہے۔ کیڑے مکوڑوں کی طرح پیدا ہو جاتے ہیں اگر سو دو سو سکولوں میں مر بھی گئے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمیں دہشت گردوں کو دیوار کے ساتھ نہیں لگانا چاہیے ورنہ وہ ہم پر حملہ آور ہو سکتے ہیں۔ انہیں سافٹ ٹارگٹ مہیا کرتے رہنا چاہیے تا کہ ان کی توجہ ادھر ہی رہے۔ ہماری طرف نہ آئے۔ اسی وجہ سے تو ہم لال مسجد کے مولوی کو بھی کچھ نہیں کہتے۔ لگانے دو اسے اپنا رونق میلہ۔ اگر اسے پٹہ ڈالا تو وہ ہماری اینٹ سے اینٹ بجا دے گا۔ ہم کوئی بیوقوف تھوڑا ہی ہیں۔ ہمیں پتہ ہے کہ مولوی اشتہاری ہے۔ داعش کا اسلام آباد میں گشتی سفیر ہے۔ بھئی کیا ضرورت ہے بھڑوں کے چھتے میں انگلی دینے کی؟ اور بھونکنے والا کتا کاٹتا تھوڑا ہی ہے۔ ہمارا کیا جاتا ہے اگر جمعے کے جمعے اپنے دل کا غبار نکال دیتا ہے۔ ہم تو فون سروس بھی بند کر دیتے ہیں جب وہ وعظ کر رہا ہوتا ہے ۔ ہمیں ہیرو بننے کی کیا ضرورت؟ جن کا بچہ ہے وہی بھائی لوگ مذاکرات کر رہے ہیں اس سے۔ وہی اس کا بندوبست کر لیں گے۔ ہمارا ہدف تو پانچ سال ایسے پورا کرنا ہے کہ سب ہم سے خوش رہیں تا کہ ہم اگلے پانچ سال بھی اسی طرح دندنا سکیں۔ کچھ نا ہنجار ہمیں طیش دلاتے ہیں کہ ہم ڈرپوک ہیں۔ ڈرتے ہیں لال مسجد کے مولوی سے۔ ہمیں ہتھکڑی ڈال دینی چاہیے اس کے ہاتھوں میں تو جناب ہم تو ہیں بلڈی سویلین۔ ایک کمانڈو نے تو لال مسجد پر ایسے ٹوٹ پڑا تھا جیسے بش طالبان پر۔ پر ہوا کیا؟ لال مسجد کا مولوی تو وہیں بیٹھا ہوا ریاست کا منہ چڑا رہا ہے اور وہ کمانڈو عدالت کی پیشیاں بھگت رہا ہے۔ ایسے طاقت کے مظاہرے سے ہم باز آئے۔ہم سیاستدان ہیں، سولجر نہیں۔

سو دوستو! چوہدری صاحب کی مجبوریاں سمجھیں۔ اگر ان کے اختیار میں کچھ ہوتا تو وہ واقعی کر گذرتے۔جو کچھ وہ کر سکتے ہیں ضرور کرتے ہیں مثلاً ڈبل سواری پر پابندی لگانا۔ ایسے بندے کو اندر کر دینا جو تندور سے پچاس یا اس سے زائد روٹیاں لگوا رہا ہو۔ جمعے کے جمعے موبائل فون سروس بند کروا دینا۔ چبھتے ہوئے سوال کرنے والے صحافی کی طبیعیت دورانِ پریس کانفرنس صاف کر دینا۔ قائم علی شاہ جیسے ’درویش‘ کوگورنر راج کی تڑی لگا دینا، وغیرہ وغیرہ۔ ویسے چوہدری صاحب یہ بیان بھی دے سکتے تھے کہ سب کشل منگل ہے۔ سارے مدرسے کھلے ہوئے ہیں۔ وہاں کوئی سیکورٹی بھی نہیں ہے۔ یہ احمق لوگ اپنے بچوں کو سکول، کالج یونیورسٹی کیوں بھیجتے ہیں؟ جہلا! انہیں چاہیے کہ اپنی بیٹیوں کو جامعہ حفصہ اور اس سے ملحق مدرسوں میں جو کہ بستی بستی پھیلے ہوئے ہیں میں داخل کروائیں اور بیٹوں کو لال مسجد بھیجا کریں۔ ان سے زیادہ محفوظ درس گاہیں پورے ملک میں نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments