عزیر بلوچ کی گرفتاری اور پاکستانی سیاست


mujahid aliرینجرز نے آج علی الصبح کراچی کے قریب لیاری گینگ لیڈر اور کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سابق سربراہ عزیر بلوچ کو گرفتار کر لیا۔ بعد میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے اسے 90 دن کے ریمانڈ پر رینجرز کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے عزیر بلوچ کے خلاف جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔ آج ہی لاہور میں میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ کراچی میں مکمل امن تک رینجرز وہاں کارروائی کرتے رہیں گے۔ یہ دو ٹوک بیان سندھ حکومت کی طرف سے رینجرز کے اختیارات پر اعتراضات کے باوجود دیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ وزیر داخلہ نے سندھ حکومت کی منشا کے بغیر رینجرز کے اختیارات کی مدت میں دو ماہ کا اضافہ کر دیا تھا۔ یہ مدت فروری کے دوران ختم ہو جائے گی۔ عزیر بلوچ کی کہانی کراچی میں جرائم اور ان کی سیاسی سرپرستی کی ایک طویل اور پیچیدہ داستان ہے۔ 2012 میں سامنے آنے والے اختلافات کی وجہ سے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور عزیر بلوچ کے درمیان فاصلہ پیدا ہو گیا تھا جس کے بعد اگرچہ اس کی گرفتاری کے لئے 20 لاکھ کا انعام مقرر کیا گیا تھا لیکن کبھی سنجیدگی سے اس شخص کو پکڑنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ عزیر بلوچ پر قتل ، اغوا برائے تاوان ، بھتہ وصولی اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزامات میں 55 مقدمات زیر سماعت ہیں۔

گزشتہ چند روز کے دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی طرف سے پیپلز پارٹی کی قیادت پر الزام تراشی کا جو سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں بھی عزیر بلوچ کی اچانک گرفتاری اور اس کی رینجرز کو حوالگی خالی از علت نہیں ہو سکتی۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ عزیر بلوچ پیپلز پارٹی کے اعلیٰ ترین لیڈروں کے قریب رہا ہے اور وہ ان لوگوں کی نجی زندگی اور مجرمانہ کارروائیوں کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو عزیر بلوچ کی گرفتاری صرف ایک قاتل یا گینگسٹر کی گرفتاری نہیں بلکہ وفاقی حکومت نے سوچ سمجھ کر یہ چال چلی ہے۔ حکومت کو عزیر بلوچ کی صورت میں ایک ایسا گواہ میسر آ چکا ہے جسے وہ پیپلز پارٹی کے کسی بھی لیڈر کو بدنام کرنے اور کسی بھی شخص کے خلاف گمراہ کن بیان دلوانے کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔ اس طرح اس شخص کو حکمران مسلم لیگ (ن) سندھ میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سیاسی معاملات طے کرنے کے لئے استعمال کر سکتی ہے۔ پاکستانی سیاست کا یہی پہلو ملک میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے۔ بار بار دعوے کرنے کے باوجود حکومت دہشت گردی اور اس کی مالی معاونت کرنے والے عناصر کے خلاف مو¿ثر انداز میں کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جرم کو صرف اس کے سماجی اثرات کے تناظر میں نہیں دیکھا جاتا بلکہ ان معاملات پر سیاست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ عزیر بلوچ کا یوں گرفتار ہونا اور پھر اس کا رینجرز کی تحویل میں جانا دراصل سندھ حکومت کے ساتھ کراچی میں رینجرز کی موجودگی اور اختیارات کے سوال سے جڑا ہو¿ا معاملہ ہے۔ اب وفاقی حکومت عزیر بلوچ کو مہرا بنا کر سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو دبانے کی کوشش کرے گی۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ کے حوالے سے اسی قسم کی حکمت عملی اختیار کی جا چکی ہے۔ متحدہ کے لیڈر ڈاکٹر عمران فاروق کے قاتلوں کو پاکستانی حکام نے کئی برس قبل حراست میں لے لیا تھا۔ برطانوی حکومت کے ساتھ مواصلت اور اس معاملہ میں تعاون کے دعوے اور وعدے کرنے کے باوجود متعلقہ لوگوں تک برطانوی پولیس کو رسائی نہیں دی گئی۔ بالآخر گزشتہ برس ان لوگوں کی گرفتاری ظاہر کی گئی اور بتایا گیا کہ یہ لوگ قندھار جاتے ہوئے بلوچستان میں پکڑے گئے۔ کوئی بھی حکومت کے اس دعوے کو قبول نہیں کرتا لیکن وزیر داخلہ کی سرکردگی میں وفاقی حکومت پوری دلجمعی سے اس کہانی کو فروخت کرتی رہی ہے۔ اصولی طور پر ان لوگوں کو گرفتاری کے بعد برطانوی حکومت کے حوالے کرنا چاہئے تھا تاکہ وہاں کی پولیس اپنے عدالتی نظام میں انہیں سزا دلواتی۔ اور اگر اس معاملہ میں الطاف حسین یا متحدہ قومی موومنٹ کے دوسرے لوگوں کا تعلق ثابت ہوتا تو ان کی گرفت کر سکتی۔ لیکن یہ سیدھا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ان افراد کے خلاف پاکستان میں ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور ان سے ایسے بیان حاصل کئے جا رہے ہیں جو سیاسی طور پر الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں کے خلاف استعمال ہو سکیں۔ اس طرح حکومت ایسے افراد کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتی ہے جن کو استعمال کرتے ہوئے ملک کی ایک اہم سیاسی پارٹی کو بلیک میل کرنے کا موقع میسر رہے۔ یہ خبریں بھی سامنے آ چکی ہیں کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ملوث لوگوں کو برطانیہ کے حوالے کرنے کے بدلے بعض ایسے قوم پرست بلوچ لیڈروں کو برطانیہ سے حاصل کرنا چاہتے تھے جو اس ملک میں سیاسی پناہ لے چکے ہیں۔ یہ تعاون نہ ملنے پر پاکستانی حکومت نے بھی برطانیہ میں ایک پاکستانی نژاد لیڈر کے قاتلوں کو برطانوی نظام کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔

عزیر بلوچ کے معاملہ میں بھی سیاسی کھیل کھیلنے کے لئے سنگین جرم میں ملوث لوگوں کو استعمال کرنے کی ذہنیت کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ عزیر بلوچ 2009 سے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کا سربراہ رہا تھا۔ اگرچہ یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ یہ کمیٹی فلاحی مقاصد کے لئے کام کرتی ہے لیکن دراصل یہ کراچی میں سیاسی مقاصد کے لئے کئی برس تک جرائم اور مجرموں کی سرپرستی کرنے کے کھیل میں پیپلز پارٹی کا ہتھیار تھی۔ اس سے متعلق لوگوں پر مخالفین کو قتل کرنے کے علاوہ منشیات کی اسمگلنگ اور دوسرے بہت سے کالے دھندے کرنے کا الزام عائد ہے۔ عزیر بلوچ بااثر اور طاقتور لیڈر سمجھا جاتا تھا جس کی پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور وزیراعلیٰ سندھ تک براہ راست رسائی تھی۔ البتہ 2012 ءمیں لیاری سے قومی اسمبلی کی نشست پر ٹکٹ دینے کے حوالے سے اختلافات شروع ہوئے۔ آصف علی زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی اس علاقے سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا چاہتے تھے لیکن عزیر بلوچ اس کے خلاف تھا۔ اسے راستے سے ہٹانے کے لئے اپریل 2012 ءمیں پولیس نے مشہور لیاری آپریشن کیا تھا۔ دو ہفتے تک جاری رہنے والے اس آپریشن میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے لیکن کوئی اہم شخص گرفتار نہیں ہوا۔

عزیر بلوچ 2013 ءکے انتخابات کے بعد منظر نامہ سے غائب ہو گیا۔ جون 2014 ءمیں اس کی گرفتاری کے لئے انٹرنیشنل ریڈ وارنٹ جاری کئے گئے تھے۔ اسی سال دسمبر میں وہ اومان سے کار میں دبئی آتا ہو¿ا پکڑا گیا۔ پاکستان نے اسے ملک واپس لانے کے لئے ٹیم روانہ کی۔ سندھ سے جو 4 رکنی ٹیم اس کی واپسی کے لئے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لئے ابوظہبی گئی تھی، اس کے ایک رکن کے پاس ریوالور تھا جس کی وجہ سے اسے ائر پورٹ پولیس نے عارضی حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے علاوہ سندھ پولیس ابوظہبی کے عدالتی ضرورتیں پورے کرنے کے لئے مناسب دستاویزات فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی تھی۔ متحدہ عرب امارات کے ذرائع نے میڈیا کو بتایا تھا کہ اگر پاکستان واقعی عزیر بلوچ کو گرفتار کر کے ملک لے جانے میں دلچسپی رکھتا تھا تو اعلیٰ سرکاری سطح پر رابطہ کے ذریعہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ عزیر بلوچ اپریل 2015 میں متحدہ عرب امارات کی تحویل سے رہا ہو گیا اور اس کے بعد وہ کچھ عرصہ ایک پاکستانی سیاسی شخصیت کے دوبئی میں بنگلہ پر آرام کرتا رہا۔ لیکن اس کے بعد اس کے بارے میں کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔ اب اسے کراچی میں گرفتار کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہ سمندر کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کے پاس غیر قانونی اسلحہ بھی تھا۔ تاہم مجرموں کے بارے میں پاکستانی سیاستدانوں اور نظام کی طرف سے جو طرز عمل دیکھنے میں آتا رہا ہے، اس کی روشنی میں اس بات کو بالکل اسی طرح قبول کرنا آسان نہیں ہے۔

اسی طرح یہ بھی افسوسناک حقیقت ہے کہ اگرچہ عزیر بلوچ سنگین جرائم میں ملوث ہے لیکن ملک کے بعض طاقتور سیاستدان اسے بچانے کی تگ و دو کریں گے اور بعض سیاسی حلقے اسے سیاسی معاملات میں استعمال کرتے ہوئے کچھ مفادات حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ سب کچھ قومی مفاد کے نام پر کیا جائے گا۔ لیکن سیاسی فیصلوں میں عزیر بلوچ جیسے لوگوں کا اثر و رسوخ درحقیقت قومی مفاد کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ ملک کے سیاستدان اس بات کو سمجھنے سے عاری نظر آتے ہیں۔ تاریخ ہمیں یہی سبق سکھاتی ہے۔ عزیر بلوچ کی گرفتاری کی صورت میں تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali