چودھری نثار: اک معما ہے….


 

asif Mehmoodاکثر سوچتا ہوں۔ چودھری نثار علی خان مسلم لیگ (ن) میں اتنے طاقتور کیسے ہوگئے؟ وہ کون سی خوبیاں ہیں جن کی بدولت مسلم لیگ (ن) میں آج ان کے سامنے کسی کا چراغ نہیں جل پاتا؟ قیادت نے انہیں ناک کا بال بناکر رکھا ہوا ہے، وہ جس طرف نگاہِ التفات اٹھا دیں اس کی مانگ ستاروں سے بھر جائے اور جس سے وہ ناراض ہو جائیں وہ پل بھر میں راندہِ درگاہ ہو جائے اور خزاں رتیں اس کے آنگن میں بسیرا کر لیں۔ ان کی ناز برداریوں کا یہ عالم ہے کہ گاہے گماں گزرتا ہے وہ کھیلنے کو چاند بھی مانگ لیں تو رائے ونڈ سے ایک اڑن طشتری اسی وقت خلاﺅں میں بھیج دی جائے۔ آمریتوں اور شہنشاہیتوں کا معاملہ الگ ہوتا ہے ، وہاں کوئی ایاز سارے دربارپر بھی بھاری ہو سکتا ہے لیکن اہل جمہور کا معاملہ قدرے جدا ہے ۔ ایک جمہوری جماعت میں کسی کو اتنی غیر معمولی قدرومنزلت بلاوجہ نہیں مل سکتی۔ یہاں صرف اس کی عزت ہوتی ہے جو خود کو قابلِ تکریم ثابت کر دیتا ہے۔ چودھری نثار علی خان میں آخر کچھ تو ہو گا جو انہیں دوسروں سے ممتاز کیے ہوئے ہے ۔ میرے پیشِ نظر اب یہی اب سوال ہے کہ وہ خوبی کیا ہے؟

کیا وہ غیر معمولی مقبولیت رکھتے ہیں اور قیادت کو یہ خوف ہے کہ ان کی ناراضی پارٹی کی بنیادیں ہلا دے گی؟ قرائن بتاتے ہیں کہ ایسا نہیں۔ وہ کسی بھی طور پر ایک عوامی آدمی نہیں۔ ان کی عمومی شہرت لوگوں کو فاصلے پر رکھنے کی ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میںبھی ان کے پاس موبائل فون نہیں۔ ان کے دروازے بھی قسمت والوں کے لئے ہی کھلتے ہیں۔ عام آدمی کی تو بات ہی چھوڑیے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بھی ان سے ملنے کے لئے کئی کئی ہفتے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مزاج کے جملہ حوالوں سے وہ ایک عوامی رہنما کم اور ایک طاقتور بیوروکر یٹ زیادہ ہیں۔

تو کیا پارٹی کے لئے ان کی خدمات اتنی غیر معمولی ہیں کہ ان کے سامنے کوئی ٹھہر نہیں سکتا اور نگاہیں احترام سے جھک جاتی ہیں؟ اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ ان کا تعارف کسی صاحب عزیمت کا بھی نہیں۔ ن لیگ میں جاوید ہاشمی کو صاحب عزیمت کہا جا تا تھا،ان کے بعد آپ صدیق الفاروق کو صاحب عزیمت کہہ سکتے ہیں جنہیں نیب والوں نے ’ ڈمپ کیا اور بھول گئے‘۔ چودھری تنویر کا شمار بھی اہل دل میں ہوتا ہے۔ مشرف کی سیاہ آمریت کے بے رحم موسموں میں جب کلثوم نواز راولپنڈی تشریف لائیں تو پورے پنڈی میں ایک چودھری تنویر تھا جس نے دیدہ دل فرشِ راہ کر دیا ، باقیوں کے تو پتے پانی ہو گئے۔ لیکن بدلتے وقت میں عزت ہاشمی کو ملی نہ چودھری تنویر کو اور نہ ہی صدیق الفاروق کو بلکہ وہ چکری جا کر چودھری نثار صاحب کے درِ دولت پر فدا ہو گئی۔ آمریت کو للکارنے والا جاوید ہاشمی سوتیلا ہو گیا لیکن آمرانہ دور میں آسودگی سے زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے والے چودھری نثار پر قیادت جی جان سے نثار ہونے لگی۔ مشرف آمریت میں چودھری نثار ایک روز کے لئے بھی جیل نہ جا سکے۔ جب میاں صاحب نے سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پاکستان لوٹنے کی کوشش کی اور ائر پورٹ ہی سے واپس بھیج دیے گئے اس روز بھی چودھری نثار گھرکی دہلیز سے نکل کر ایر پورٹ جانے کا تکلف نہ کر سکے۔ چودھری صاحب کا حلقہ مبصرین کے بقول پاکستان کا واحد حلقہ ہے جہاں سے مسلم لیگ جیتتی تو ہے لیکن جہاں وہ تنظیمی دفاتر تک قائم نہیں کر سکی۔ تنظیم سازی کبھی چودھری صاحب کی ترجیح نہیں رہی۔ لیکن چودھری صاحب پھر بھی پارٹی کی ترجیحِ اول ہیں۔ گاہے لگتا ہے کہ صرف پنڈی ہی نہیں ساری مسلم لیگ (ن) خراج میں چودھری صاحب پر نثار کر دی گئی ہے۔ میجر نادر پرویز تو ایک مثال ہے کوئی جائے اور جاوید ہاشمی سے پوچھے انہیں مسلم لیگ ہاﺅس میں ایک مرکزی رہنما نے گالیاں کیوں دی تھیں اور میاں نواز شریف اس پر خاموش کیوں بیٹھے رہے۔ کوئی ایکشن کیوں نہ لیا؟

تو کیا وہ بہت بڑے صاحب دانش ہیں جماعت جن سے رہنمائی لیتی ہے اور ان کی ناراضی کی متحمل نہیں ہو سکتی؟ وہ ناراض ہو جائیں تو پارٹی فکری طور پر بانجھ ہو جائے ؟ دستیاب شواہد سے استصواب کریں تو معلوم ہوتا ہے ایسی بھی کوئی بات نہیں۔ ابھی تک کوئی ایسی چیز سامنے نہیں آ ئی کہ انہیں اس باب میں لکھا جائے۔

پھر کیا وہ مقتدر قوتوں کے نمائندہ ہیں؟ بادی النظر میں اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔ یہ درست ہے کہ ان کے بھائی جرنیل تھے مگر ان کا اب انتقال ہو چکا ہے۔ چودھری صاحب جس طرح سے جنرل شجاع پاشا پر گرجے برسے تھے کہ وہ پی ٹی آ ئی کی سرپرستی کر رہے ہیں اس کے بعد یہ تصور کرنا خاصا مشکل ہو گا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے آدمی ہیں۔ عام رائے تو یہ ہے کہ اہلِ سیاست میں سے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف اگر کوئی آدمی پورے طنطنے کے ساتھ بات کرتا ہے تو وہ چودھری نثار ہی ہیں۔ ایسے آدمی کو اسٹیبلشمنٹ کا نمائندہ کیسے کہا جا سکتا ہے۔

اب اگر وہ نہ تو صاحب عزیمت ہیں، نہ ہی ان کی پارٹی کے لئے کوئی انتہائی غیر معمولی خدمات ہیں، نہ ہی انہیں اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل ہے،نہ ہی وہ کوئی بہت بڑے صاحب دانش ہیں،نہ ہی ان میں کوئی غیر معمولی کشش ہے کہ عوام الناس ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے جوق در جوق امنڈ پڑتے ہوں تو پھر کیا راز ہے کہ اس وقت پارٹی میںدور دور تک ان کا کوئی مدمقابل نہیں۔

سیاست کو اسی لئے آمریت سے بہتر سمجھا جاتا ہے کہ یہاں اجتماعی دانش کارفرما ہوتی ہے اور فردِ واحد معیارِ حق نہیں رہتا۔ چودھری نثار علی خان اس باب میں ایک استثنیٰ ہیں۔ قلت و کثرت کے معیارات سے بے نیاز وہی پلڑا بھاری رہتا رہے جس میں چودھری نثار اپنا وزن ڈال دیں۔ ایک عرصے سے وہ یہ کامل اختیار انجوائے کر رہے ہیں مگر کوئی کامرانی مسلم لیگ (ن) کے دامن میں نہیں ڈال سکے۔ کسی قد آور آدمی کو انہوں نے ابھرنے نہیں دیا۔ چھوٹے لوگوں کی سرپرستی کی۔ انجم عقیل خان انہی کا انتخاب تھے ،اربوں کی کرپشن کے سکینڈل کا بوجھ جنہوں نے پارٹی کی کمر پر لاد دیا۔ حاجی پرویز کو بھی انہی کی آشیر باد حاصل تھی جو بعد میں نقل کے ایک کیس میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہو گئے اور پارٹی کو بدنام کر دیا۔ لیکن اس سب کے باوجود آج بھی چودھری صاحب ہی کا فرمایا مستند ہے ۔ وجہ کیا ہے؟

اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی میں نے بہت کوشش کی مگر تا حال کامیاب نہیں ہو سکا۔ اسلام آباد سے ن لیگ کے ایک رکن قومی اسمبلی سے ایک روز میں نے یہی سوال کیا تو انہوں نے جواب میں فرطِ جذبات سے چودھری صاحب کے فضائل بیان کرنے شروع کر دیے۔ جب کیمرے آف ہوئے تو کہنے لگے: آصف صاحب کیوں ایسے سوال کر کے مرواتے ہو یار؟ بعد میں چائے کی چسکیاں لیتے لیتے حسرت بھرے لہجے میں کہنے لگے ©: کاش چودھری نثار آج کا پروگرام دیکھ لیں ، میری تو زندگی بن جائے۔ اب اگر ایک ایم این اے کا حال یہ تھا تو آپ اندازہ لگا لیجئے باقی کس قطار میں ہوں گے۔

ایک روز ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے میرے اس سوال کا جواب بڑے اہتمام سے دیا تھالیکن وہ مرحوم کی آف دی ریکارڈ گفتگو تھی۔ آپ میری کنپٹی پر پستول بھی رکھ دیں تو نہیں بتاﺅں گا۔ چودھری نثار صاحب کو اللہ مزید ترقی دے لیکن معمہ ابھی باقی ہے، سمجھنے کا نہ سمجھانے کا….


Comments

FB Login Required - comments