فوجی کی بیٹی کے نام قوم کا ایک خط


\"omair27 اکتوبر 2016 کو اسلام آباد میں پولیس نے تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن سے کئی کارکن گرفتار کر لیے۔ کارروائی کا شکار ایک کارکن سماویہ طاہر بھی تھیں۔ لیڈی پولیس اہلکار نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تو گتھم گتھا ہو گئیں، اہلکار کی وردی نوچی، واقعے کی فوٹیج میں سنا جا سکتا ہے کہ کوئی مرد سماویہ کو چھوڑنے کی ہدایت کرتا ہے۔ اتنی دیر میں ایک پولیس اہلکار آتا ہے اور خود سماویہ کو چھڑانے کی کوشش کرتا ہے۔ خاتون پولیس اہلکار پہلے تو چھوڑنے پر رضا مند نہیں ہوتی، لیکن بار بار کہنے پر اپنی گرفت ڈھیلی کر لیتی ہے۔

میڈیا بھی اس موقع پر موجود ہے۔ سماویہ طاہر پولیس کو برا بھلا کہتی ہوئے یہ الفاظ استعمال کرتی ہیں:

تم لوگوں میں غیرت نہیں ہے۔ شرم آنی چاہیے تم سب کو۔ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے محافظ ہیں یہ لوگ۔۔۔ اور آ کر عورتوں کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں۔۔۔ تم لوگ ظالم ہو اسی لیے ایسے حکمران بیٹھے ہیں تمہارے سروں پر۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تم لوگ آج دن تک ترقی نہیں کر سکے ہو۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ تم ان حکمرانوں کا ساتھ دیتے ہو۔۔۔

ہماری ہمدردیاں سماویہ طاہر کے ساتھ ہیں۔ اپنی مرضی کے سیاسی نظریات رکھنا، اور ان کی ترویج کرنا ان کا حق ہے۔ کسی سیاسی اجتماع میں شرکت کرنے کا بھی استحقاق رکھتی ہیں۔ ایسے میں پولیس ہلہ بول کر گرفتار کرے تو مدافعت بھی فطری سی بات ہے۔ گھبراہٹ میں یہ نہیں سوجھتا کہ مزاحم ہاتھ کسی کی وردی پر پڑ رہا ہے یا منہ پر۔

لیکن اس کے بعد سماویہ صاحبہ نے جو کچھ کہا، اس پر عاجز کو معمولی سا اعتراض ہے۔ آپ نے فرمایا:

نواز شریف صاحب آپ جو مرضی ہے کر لیں، یہ بات یاد رکھیے گا، دو نومبر کو ہمارا ہر ورکر نکلے گا اور انشاءاللہ تمہارے اس تخت و تاج کو نیست و نابود کرکے نہ رکھ دیا تو ہمارا نام بدل دینا۔ سماویہ طاہر نام ہے میرا، دیکھ لو۔ میں نہ تم سے ڈرتی ہوں نہ کسی اور سے۔ ایک فوجی کی بیٹی ہوں اور میں اپنی فوج کی طرف سے تمہیں بتا رہی ہوں کہ تم لوگ انشاءاللہ اتنا بھگتو گے اتنا بھگتو گے کہ یاد رکھو گے۔۔۔ پی ٹی آئی کے کسی ورکر سے تم نے پنگا لیا تھا، پاکستان کی عوام سے پنگا لیا تھا۔ یہ بات یاد رکھنا۔

سماویہ صاحبہ، برائے مہربانی فرق کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ آپ فوجی کی بیٹی ہیں، فوج کی ترجمان نہیں۔ پھر آپ پوری فوج کی جانب سے کوئی پیغام کیسے دے سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ کے والد صاحب کی ہمدردیاں تحریک انصاف کے ساتھ ہوں لیکن فوج بطور ایک ادارہ قطعی غیر جانب دار ہے۔ ہماری فوج ایک آئین پسند ادارہ ہے، اور کبھی اپنے آپ کو سیاست میں ملوث نہیں کرتی۔ آپ ایک سیاسی ورکر کے طور پر تو پولیس کی وردی پر ہاتھ ڈال سکتی ہیں، لیکن کوئی فوجی ایسا کرتا ہے، نہ کر سکتا ہے۔ فوج ملک کی محافظ ہے اور اس کا سیاست سے کچھ لینا دینا نہیں۔ فوج بھی پولیس کی طرح ہی حکومت کی تابع ہوتی ہے۔ احکامات دیے جائیں تو ماننے سے انکار نہیں کرتی۔

جب آپ کہتی ہیں کہ آپ ایک فوجی کی بیٹی ہیں تو یقیناً اپنی بہادری کا تذکرہ کرنا چاہتی ہوں گی۔ یعنی چونکہ آپ کے والد فوجی ہیں، تو آپ بھی ایک فوجی کی طرح محاذ پر ڈٹی رہیں گی، مشکلات کا مقابلہ کریں گی، ہتھیار نہیں ڈالیں گی، جو ذمہ داری سونپی جائے گی وہ پوری کریں گی، اور دوسروں کو بھی ان کی ذمہ داریاں ادا کرنے دیں گی، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن کچھ کج فہم آپ کی بات کو اپنی مرضی کا مطلب بھی پہنا سکتے ہیں۔

آپ کے الفاظ تھے۔۔۔ میں نہ تم سے ڈرتی ہوں نہ کسی اور سے۔ دیکھیے ہم تو آپ کی جی داری کے قائل ہیں ہی، معلوم ہو گیا آپ ڈرتی ورتی نہیں ہوں گی، لیکن کچھ کوڑھ مغز جانے کس کا جملہ کس سے جا ملائیں۔ جہاں ایک قانون پسند ریاستی ادارے کا ذکر ہو، وہاں زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔

آپ خاتون ہیں، سیاسی کارکن ہیں، اس ناتے آپ کا احترام ہم پر واجب ہے۔ لیکن آپ فوج کی جانب سے یوں پیغام رسانی کریں گی تو اس معتبر ادارے کے لیے پریشانی کا باعث نہ بن جائیں۔

پولیس کا سماویہ طاہر صاحبہ کے ساتھ رویہ اور ان کی گفتگو یہاں سنی اور دیکھی جا سکتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عمیر محمود

عمیر محمود ایک خبری ٹیلی وژن چینل سے وابستہ ہیں، اور جو کچھ کرتے ہیں اسے صحافت کہنے پر مصر ہیں۔ ایک جید صحافی کی طرح اپنی رائے کو ہی حرف آخر سمجھتے ہیں۔ اپنی سنانے میں زیادہ اور دوسروں کی سننے میں کم دلچسپی رکھتے ہیں۔ عمیر محمود نوک جوک کے عنوان سے ایک بلاگ سائٹ بھی چلا رہے ہیں

omair-mahmood has 31 posts and counting.See all posts by omair-mahmood