الف لیلا کی گم شدہ کہانیاں


zeffer2گندے بچو! اسی زمانے کا ذکر ہے، یہاں سے قریب ایک گاﺅں ہے، اس کا المیہ یہ ہے، کہ اس پر کبھی اس کے باسیوں کی حکومت نہیں رہی۔ کیوں کہ وہ آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ اس گاﺅں کو ہمیشہ بدیسی حملہ آور تاراج کرتے رہے لیکن ہر بادشاہ یہی تاثر دیتا آیا ہے، کہ وہی ان کا سچا اور اپنا حکم ران ہے۔ جوں جوں زمانہ بدلا، حکم رانی کے انداز بدلے۔ غلام اس لیے بھی غلام رہے، کہ نہیں بدلے تو ان کے انداز نہیں بدلے۔ اور….

گندے بچو! اوپر والی کہانی کی بقیہ کڑیاں آپ خود ملا لیجیے گا۔ آپ کو ایک اور کہانی سناتے ہیں۔ یہ بھی اسی زمانے کا قصہ ہے، یہاں سے قریب ایک گاﺅں ہے، اس گاﺅں کے معرضِ وجود میں آتے ہی، اس پر ایک بلا مسلط ہوگئی، جس کا دعویٰ تھا، کہ وہ گایوں والوں کی خیر خواہ ہے۔ اس بلا کے حامیوں میں قابلِ ذکر دو عقاب تھے۔ ایک عقاب نقار خانے کے دروازے پر بیٹھتا تو دوسرا انصاف گھر کی چوٹی پر۔ در اصل یہ عقاب خوف کے تحت، بلا کی ہر بات مانتے تھے، کیوں کہ ا±نھیں اپنے پروں کی طاقت کا شعور نہ تھا۔ ایک دن حادثاتی طور پر یہ دونوں عقاب آزاد ہواوں میں چلے گئے۔ آزاد ہوائوں کی بو باس اتنی مسحور کن تھی، کہ انھوں نے زمین پر آنے اور بلا کے زیرِ اثر رہنے سے انکار کردیا۔ چوں کہ بلا، بلا ہوتی ہے، آسانی سے پیچھا نہیں چھوڑتی، چناں چہ بلا نے ایک بساط بچھائی۔

گندے بچو! جب تک آپ ان دونوں عقابوں کے نام جانیں، ہم آپ کو ایک اور کہانی سناتے ہیں۔ اسی زمانے کا ذکر ہے، یہاں سے قریب ایک گاﺅں ہے، جس کے باسیوں نے پہلی بار جاننے کا حق استعمال کیا، انھوں نے جانا، کہ جاننا، نہ جاننے سے بہتر ہے۔ اور یہ بھی کہ جاننے کا خوف بہت ہوتا ہے، جیسے۔ خدا کو جانتے ہی پیغمبروں پر کپکپی طاری ہوجاتی تھی۔ چناں چہ کمزور دِل، نہ جاننے کو، جاننے سے بہتر جانتے ہیں، اس لیے بھی کہ پیغام کا در بند ہوچکا۔ وہ جان بھی لیں گے تو پیمبر نہ بن سکیں گے۔ بچو! یہ بھی جان لو کہ نہ جاننے کا ڈر، فرعون کے حق میں جاتا ہے، یوں اس کے سامری بچھڑے کو خدا بنا سکتے ہیں۔ یوں موسیٰ کی قوم تقسیم کی جاسکتی ہے۔ پھِر یوں ہوا، کہ خبر کے ہر ذریعے کو مشکوک بنا دیا گیا۔ ایسے میں بنی اسرائیل کی نگاہ میں موسیٰ اور سامری ایک ہوئے…. اور نا شکرے لوگوں کے لیے فرعون ہی کافی ہے۔

پیارے بچو! کہانیاں تو کہانیاں ہی ہوتی ہیں، ان پر اعتبار نہیں کرنا چاہیے، آئیے حقیقت کی بات کرتے ہیں۔ سنا ہے، اب عدلیہ آزاد ہو گئی ہے۔ میڈیا کو مکمل آزادی مل گئی ہے، کہ وہ جس بھی سیاست دان کی پگڑی اچھالنا چاہے، اچھالے۔ جیو ٹیلے ویژن نیٹ ورک کے چینلز چھاﺅنی کی حدود میں نشر ہونے لگے ہیں۔ فوج، پارلیمان کو جواب دہ ہوگئی ہے، اور اس کا احتساب ہونے لگا ہے۔ یہ بھی کہ اب اہم فیصلے صرف اور صرف سیاست دان کرنے لگے ہیں۔ ریاست نے افغان جہاد کی پالیسی کو ماضی کی بڑی غلطی تسلیم کرتے ہوے، قوم سے معافی مانگ لی ہے۔

معافی چاہتے ہیں، ہمیں “بریکنگ نیوز” کے لیے کٹ کرنا پڑے گا۔ ابھی ابھی اطلاع ملی ہے، کہ آزادی چوک میں دو عقاب مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہوے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 84 posts and counting.See all posts by zeffer-imran