جنگ کا دھواں یا دھوئیں کی جنگ ؟


wisi 2 babaبرا وقت تھا…. شاید اچھا ہی تھا ۔ اپنا بھی جہازوں کا ایک چھوٹا سا اسکوارڈن ہوتا تھا۔ یہ سارے جہاز یوں گود لینے پڑے کہ میرا ہیلپر زمان ان پر تب پانی ڈال دیا کرتا تھا جب ابھی ان کی پرواز آدھے آسمان پر بھی نہیں پہنچی ہوتی تھی۔ بیچارے پکا سوٹا لگا کے ابھی سیدھے بھی نہ ہوئے ہوتے کہ زمان ان پر پانی ڈال کر انکو آسمان سے ہی گرا دیتا تھا۔

پھر ان مفلوک الحال جہازوں کا ایک جرگہ میرے پاس پہنچ کر سیاپا کرنے آتا۔ بڑی مشکل سے زمان کا ان سے راضی نامہ کرایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جہاز جہاں مجھے دیکھ لیتے میرے گرد جمع ہو کر کورنش بجا لاتے لوگ مجھے چرس کا کوئی چھوٹا موٹا ڈیلر سمجھتے ہوں گے…. شاید بڑا ہی سمجھتے ہوں۔
اپنے دفتر سے نو کلومیٹر دور گھر اکثر پیدل جانا پڑتا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ دفتر سے نکلتا تو کوئی جہاز گھیر لیتا کہ آج سارا دن رلتے رہنے کے باوجود اتنے پیسے نہیں ہوئے کہ ایک سوٹا لگا سکوں۔ جیب میں موجود سو پچاس کا زرکثیر ان کی نذر کرنا پڑتا اور پیدل مارچ کرتے گھر پہنچتا تو سورج نکل رہا ہوتا تھا۔

ستمبر گیارہ والا واقعہ ہو چکا تھا۔ پشاور بدل رہا تھا۔ افغانستان میں امریکی اتر چکے تھے۔ جہاز تقریبا روز ہی پیسے مانگنے لگ گئے تھے۔ سوٹا لگانے کو رقم اکٹھی کرنے میں اپنی ناکامی کو وہ اس جنگ سے جوڑا کرتے۔ وہ کہا کرتے ٹول چل اے منگ تہ جوڑ کڑے دے اس کا مطلب یہ ہے کہ سارا چکر ہمارے لئے چلا رکھا ہے کہ سوٹا مہنگا ہو۔

چھوٹی چھوٹی باتیں پتہ لگیں جیسے کہ مافیا کا فیصلہ تھا کہ اچھی چرس صرف پشاور اور کوئٹہ ہی میں ملے گی۔ گھٹیا کوالٹی باہر بھیجی جائے گی۔ سب سے گھٹیا ایکسپورٹ کی جائے گی۔ یہ جان کر ہی سمجھ آئی کہ کیوں پاکستان بھر سے نشئی پشاور کی گلیوں میں خوار پھرنے آتے ہیں۔

انہی جہازوں نے بتایا کہ وادی تیراہ میں مذہب کے نام پر متحارب دو گروپ جو ایک دوسرے کے نشانے لگا رہے وہ اصل میں چرس پوڈر کے راستوں پر قبضے کی جنگ ہے۔ اپنے قبائلی رابطوں سے پتہ کیا تو ان کا جواب تھا کہ آئو کانا (اور کیا؟) ، ساتھ ہی یہ اضافہ بھی کر دیا کہ ٹرانزٹ ٹریڈ کے لئے آنے والا جو سامان افغانستان سے پاکستان اسمگل ہوتا تھا، اس کے راستوں پر ایک ٹیکس امیر صاحب کے نام پر بھی لیا جاتا ہے۔

امیر صاحب کے نام پر لیا جانے والا یہ ٹیکس آج کل کتنے ملین روپئے روزانہ ہے نہ پوچھئے آپ کا دل بیٹھ جائے گا۔

جہاز قسم کا ہمارا ایک بے خبر طالبان کے نئے امیر کے پوڈر چرس کے کام میں ملوث ہونے کا بتا بتا کر ہمارا ایمان متزلزل کیا کرتا تھا۔ امیر صاحب کے آریانہ ائیر لائین کا ڈائریکٹر ہونے، قندھار ائیر پورٹ کا انچارج ہونے، اس کے بعد ہوابازی کا وزیر ہونے، ان عہدوں اور ان ترقیوں کو اسی کام میں اعلی کارکردگی سے جوڑا کرتا تھا۔ ہمیں یقین نہیں آتا تھا اب بھی نہیں آتا۔ اس کمبخت نے قندوز پر حملے تک کو اسمگلنگ کے ایک اہم راستے پر قبضے کی لڑائی بتایا۔ قندوز سے پسپائی پر بھی اس نے کہا تو بس اتنا کہ اب وہاں رہنے کی ضرورت ہی نہ تھی کہ اس روٹ پر آمدن میں طالبان کا حصہ مان لیا گیا ہے۔

ایک طالبان ذریعے سے جب پوچھا تو اس نے امیر صاحب کے ان کاموں میں ملوث ہونے کو اس وقت کی قیادت کے فیصلے پر مخلصانہ محنت سے کیا گیا عمل درآمد کہہ کر ہمارا ایمان باردیگر مضبوط کر دیا تھا۔

اب ہوا یہ ہے کہ خراسان کے لئے داعش کے امیر حافظ سعید خان کا ایک انٹرویو منظر عام پر آیا ہے جس میں حافظ سعید خان نے افغان طالبان ملا اختر منصور کے منشیات کے کام میں ملوث ہونے کا دعوی کیا ہے۔ یہ تک کہا ہے کہ اسمگلنگ طالبان کی گاڑیوں میں ان کی حفاظت میں ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی دعوی کیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے امیر ملا فضل اللہ نے ملا اختر منصور کی بیعت کر رکھی ہے۔

یہ پہلی بار ہے کہ ایک اہم کمانڈر یہ الزامات سرعام لگا رہا ہے۔ ان الزامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کچھ عرصہ پہلے تک حافظ سعید خان اسی نظم کے تحت تھے اور بہت اہم بھی تھے۔

افغان طالبان کو اب ٹی ٹی پی کی قتل و غارت کا جواب دینا ہوگا ساتھ ان کے پاکستانی حامیوں کو بھی یہ بتانا ہو گا کہ وہ اب کیا کہتے ہیں۔ ہمیں تو بس اتنا کہنا ہے کہ اگر پیسہ ہی مقصد تھا تو منشیات کی کمائی کیا بری تھی؟ اسی تک محدود رہتے…. ہزاروں پاکستانی اور افغانی کیوں مروا دئیے؟


Comments

FB Login Required - comments