کیا نواز شریف مدبر ثابت ہوں گے ؟


aamir hussaini

شیخ باقر نمر الباقر کی پھانسی کے بعد سے ایران و سعودی میں سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد جو علاقائی سطح پر تبدیلی رونما ہوئی اور ایران و سعودی عرب کے درمیان لفظوں کی جنگ عملی جنگ میں بدل جانے کا خطرہ محسوس ہونے لگا تو پاکستان کے اندر بھی دونوں کیمپوں کے حامیوں میں لفظی جنگ و جدل کا بازار گرم ہوگیا –اسی دوران سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اور پھر سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ سلام بن سلمان پاکستان آئے اور انھوں نے پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت سے ملاقاتیں کیں
سعودی عرب کے انتہائی دو اہم ترین عہدے داروں کی پاکستان آمد اور منتخب سول و فوجی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد ’ افواہیں‘ زوروں پر ہیں ، ایک طرف تو یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ 34 ملکوں کے جس فوجی اتحاد میں شمولیت کرنے جارہا ہے ، اس سے برادر ملک ایران سے حالات خراب ہوں گے اور ملک میں بھی فرقہ واریت بڑھے گی ، اس حوالے سے کھل کر اظہار خیال پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کیا ہے ، انھوں نے برملا کہا کہ سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد میں شمولیت دانش مندانہ فیصلہ نہیں ہوگا ، انھون نے ایران اور سعودی عرب کے پاکستان میں سفیروں سے ملاقات کی ہے اور دونوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف چاہتی ہے کہ ایران و سعودی عرب باہمی بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں ، پاکستان پیپلزپارٹی کے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ ، چئیرمین سینٹ میاں رضا ربانی سمیت اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایک تو پارلمینٹ کو ” سعودی عرب اور ایران “ کے حوالے سے بریفینگ دی جائے اور وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ان کیمرہ بریفنگ دینے کا وعدہ کیا ہے
سعودی حکام کی فوجی اور سول قیادت سے جو ملاقاتیں ہوئیں ہیں ان کی آن دی ریکارڈ تفصیل سامنے نہیں آسکی لیکن اس موقعہ پر جو مشترکہ بیانات اور آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز جاری ہوئیں ان ممیں یہ بات مشترک تھی کہ پاکستان نے سعودی عرب اور ایران دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ بات چیت سے مسئلے کا حل نکالیں اور انتہائی اقدام اٹھانے سے گریز کریں جبکہ پاکستان دھشت گردی کے خلاف سعودی عرب کے 34 ملکی اتحاد کے قیام کی تعریف کرتا ہے اور اگر سعودی عرب کی سالمیت پر حملہ ہوا تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا
پاکستان کے فوجی اور سول عہدے دار پردے کے پیچھے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر صحافیوں کو یہ بتارہے ہیں کہ پاکستان کی فوجی قیادت نے اور سول قیادت نے یہ اصولی فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی فوج یمن ، شام وغیرہ کے تنازعے میں فریق نہیں بنے گی اور نہ ہی پاکستان کی فوج سعودی عرب کے کسی علاقے میں عوامی مزاحمت یا شورش کو کچلنے یا دبانے کے لئے جائے گی لیکن اگر سعودی عرب پر کسی اور ملک نے حملہ کیا تو اس حملے کے خلاف سعودی عرب کا ساتھ دیا جائے گا ۔ سعودی وزیر خارجہ کی آمد سے پہلے جو کورکمانڈر کانفرنس ہوئی تھی اس کے بارے میں باخبر ذرایع کا یہ کہنا ہے کہ کور کمانڈرز نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ سعودی – ایران تنازعے اور لڑائی میں پاکستان کسی ایک کیمپ میں کھڑے ہونے کی بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے گا جبکہ سعودی عرب کو فوجی ، تکنیکی امداد اور تعاون جو پہلے سے موجود ہے جاری رکھا جائے گا ، کہا گیا کہ جنرل راحیل شریف سے وزیر اعظم نواز شریف ، مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز کی جو خصوصی میٹنگز ہوئی تھیں ان میں بھی فوجی قیادت نے یہی پیغام پہنچایا تھا اور اس کے بعد ڈیفنس کیمٹی کے اعلی سطحی اجلاس میں بھی اسی موقف پر اتفاق کیا گیا
عرب لیگ کے حالیہ اجلاس کے بعد سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیری نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ کچھ ممالک نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کو کم کرانے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے ، اگرچہ عادل الجبیری نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے لیکن غالب امکان یہ ہے ان ممالک میں عمان ، پاکستان ، امریکہ وغیرہ شامل ہیں اور پردے کے پیچھے فوجی و سیاسی قیادت سے ہوئی بات چیت سے ملنے والی خبروں سے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان سنجیدگی سے دونوں ملکوں کے درمیان صلح صفائی کی کوشش کررہا ہے
اس ضمن میں میاں محمد نواز شریف کو پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان کی ایک کانفرنس بلانی چاہیے اور ان کو سعودی عرب – ایران کے حوالے سے اپنے خیالات سے آگاہ کرنا چاہیے تاکہ افواہوں ، اندیشوں کا خاتمہ ہوسکے اور اس وقت جو پاکستان کے اندر ایران نواز اور سعودی نواز کیمپوں میں لفظوں کی جو جنگ جاری ہے اس میں کمی آسکے۔
گزشتہ جمعہ کے روز بعض کالعدم تنظیموں نے اسلام آباد میں ایک پڑوسی ملک کے خلاف جو ریلی نکالی اور اس ریلی میں جو فرقہ وارانہ نعرے بازی کی گئی وہ انتہائی قابل افسوس اقدام ہے ، وزیرداخلہ چودھری نثار اور اسلام آباد کی انتظامیہ سے لوگ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ فرقہ واریت کو تیز کرنے والے اقدامات اگر اسلام آباد میں روکے نہیں جاسکتے تو کہاں روکے جائیں گے ، اگرچہ پیمرا حرکت میں آیا ہے اور اس نے ٹی وی چینلز کو تنبیہ کی ہے وہ سعودی عرب اور ایران پر بات چیت محتاط ہوکر کریں اور ایسا مواد نشر نہ کریں جس سے دونوں میں سے کسی ایک ملک کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا اندیشہ ہو ، یہ درست نوٹس ہے اور اس کا آزادی صحافت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، پاکستان میں کسی عرب ملک مردہ باد ریلی یا کسی ’ عجمی ملک مردہ باد ریلی ‘ نکالنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئیے ، اس عمل کو یہیں روک دینا چاہئیے تاکہ آگے چل کر معاملات مزید خراب نہ ہوں
دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کی سول و فوجی قیادت سعودی عرب اور ایران دونوں سے اپنے تعلقات میں خرابی نہ آنے دے ، ہمیں امریکہ کی حالیہ پالسیوں سے بھی تھوڑا سا سیکھنے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے شیخ باقر نمر النمر کی پھانسی پر محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب اور ایران کے درمیان اپنی پالیسی کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے ، سعودی عرب اور ایران کے درمیان بات چیت کا سلسلہ اگر شروع ہوجاتا ہے تو اس سے شام پر اقوام متحدہ جو درمیانی راستہ تلاش کرنے اور امکانی حل سامنے لانے کی کوشش کررہی ہے اس کو کامیابی مل سکتی ہے ، اگرچہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف خوانساری نے اقوام متحدہ کے شام پر ثالثی کا کردار ادا کرنے والے جس مندوب سے ملاقات کے دوران سعودی عرب پر جو الزامات لگائے اور عرب لیگ کے اجلاس کے بعد جس سخت لہجے میں عادل الجبیری نے بات کی ہے اس سے ” شام امن پروسس ” پر کالے بادل منڈلانے لگے ہیں، دونوں ممالک کی کوشش عالمی طاقتوں کو اپنی طرف کرنے کی ہے اور یہ عالمی برادری کے لئے بھی ایک چیلنج بن گیا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کو کیسے بات چیت کی میز کے گرد لاکر بٹھاتی ہے ، کیونکہ سعودی عرب کی قیادت کاذہن ایران سے تنازعات کا حل نکالنے کے لئے فوجی و عسکری راستہ اختیار کرنے کی جانب لگتا ہے جو ظاہر ہے کہ خطرناک ہوسکتا ہے ، جواد ظریف ایرانی وزیر خارجہ نے یو این او کے جنرل سیکرٹری بان کی مون کو جو خط لکھا اس میں اسی خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب ’ فوجی حل‘ کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ ہمیں برطانیہ کے سابق انٹیلی جنس اہلکار اور مڈل ایسٹ امور کے ماہر پیٹر کوک برن کے ڈیلی انڈی پینڈنٹ میں شایع ہونے والے اس تجزیہ کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئیے جس میں اس نے بتایا تھا کہ جرمن انٹیلی جنس ایجنسی بی این ڈی نے دسمبر 2015ءمیں یعنی ایک ماہ پہلے ایک میمو شایع کیا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع فرقہ پرستانہ نیشنلزم کے بل بوتے پر جارح قسم کی خارجہ و دفاعی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور ان کی پالیسی کو سعودی عرب میں مقبولیت حاصل ہورہی ہے اور سعودی حکومت اپنے آپشن کو تنگ کرتی جارہی ہے اور خاص طور پر تنگ دائرہ کرنے کی وجوہات ایران اور جی پلس فائیو ممالک کے درمیان ایٹمی پروگرام پر عبوری معاہدہ بھی ہے – کیا یہ اتفاق ہے کہ بالکل یہی بات ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف خوانساری نے بان کی مون جنرل سیکرٹری یو این او کے نام خط میں لکھی ہے ، برطانوی نامور صحافی رابرٹ فسک بھی یہی بات کررہا ہے ، پاکستان کو سعودی عرب کے انتہاپسندانہ راستے سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ معاملہ بہت نازک ہے اور پاکستان پاک –چین راہداری ، افغان امن پروسس اور پاک – انڈیا امن پروسس سمیت جس شاہراہ پر گامزن ہے تو اسے کسی بھی قسم کے فرقہ وارانہ بیانیے پر چلنے سے گریز کرنا ہی بہتر ہوگا ، اس کے لئے پاکستان کی فوجی اور منتخب سیاسی قیادت کو باہمی اختلافات مل بیٹھ کر دور کرنے کی اشد ضرورت ہے
میاں محمد نواز شریف، جن کے بارے میں سعودی عرب کی جانب سے یہ دعوی بھی سامنے آیا تھا کہ وہ ان کے اپنے آدمی ہیں، کی سیاست کا بھی یہ بہت بڑا امتحان ہے ، تاریخ کے اس اہم موڑ پر ان کو اپنی مدبرانہ صلاحیت ثابت کرنا ہوگی کہ وہ پاکستان کو کیسے اندرونی خلفشار سے بچاپاتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments