بیانیہ تبدیل نہیں ہو گا 


 

haris azharدیکھتے ہی دیکھتے میدان لوگوں کی بہت بڑی تعداد سے بھرگیا تھا۔ بازار کے مشہور تاجر، مفتیان و شیوخ اور ریاست کے مقتدر اداروں کی جانب سے امیر شہر کو ان لوگوں کی شکایت کی گئی تھی۔ اس میں درج تھا کہ یہ لوگ نہ صرف گستاخ ہیں بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اپنے سچ سے گمراہ کر رہے ہیں۔ وہ لوگ نہ صرف یہ بات سنتے ہیں بلکہ اتنے سانحات کے بعد وہ سمجھ بھی رہے ہیں اور اس میں چھپی باریکیوں اور اندازوں سے ٹھوس حقیقتوں کی سمت نشاندہی کر رہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ کل یہ لوگ سچائی کی طرف گمراہ ہو جائیں اور اپنے اپنے ہاتھوں میں اپنی تقدیر کے ستاروں کو لے کر ہم سب کی طرف حملہ آور ہو جائیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ریاست اور اسکے حکمرانی کے مقدس ستون نیست و نابود ہو جائیں گے۔ اور یہاں نہ صرف ہمارا بلکہ اس ریاست کا بھی بھیانک انجام ہو گا۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہماری بقا اور کامیابیاں اس ریاست اور ان کے اداروں کو مقدس ثابت کرنے ہی میں مضمر ہیں۔ امیر شہر یہ سن کر کچھ پریشان ہوئے اور اپنے دربار میں تمام وزیروں اور مختلف اداروں کے لوگوں کو فوراً طلب کر لیا گیا ۔

شام تک تمام لوگ جمع ہو گئے۔ محل کے سب سے بڑے اور عالی شان کمرے میں ایک بڑی میز رکھ دی گئی ۔ امیر شہر ،ہونہار وزیر، مفتیان و شیوخ، مقتدر درباری اور عسکری محافظ سب اس میز کے گرد اس طرح بیٹھ گئے جس سے ان سب کا ایک ہی میز پر ہونے کا تاثر ملا۔ اہم اجلاس کی کارروائی شروع ہو گئی۔ سب نے اپنی اپنی آرا کا اظہار کیا اور مستقبل کے خدشات کو بیان کیا۔ طویل مشاورتی اجلاس کے بعد تمام تر خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے امیر شہرنے مختصر خطاب کیا۔ آپ لوگ فکر نہ کریں اس ریاست میں ہمیشہ کی طرح بہت بڑی تعداد ایسے سوچنے لکھنے اور بولنے والوں کی موجود ہے جو اس ریاست کے لوگوں تک وہ گمراہ کن سچ نہیں پہنچنے دیں گے جس کاا ظہار عام لوگ کر رہے ہیں۔ ہم اب بھی سبقت رکھتے ہیں کہ اس ریاست میں جب کوئی شعور کی آنکھ کھولے تو یہ ریاستی بیانیہ جو پچھلی کئی دہایﺅں سے مسلسل جاری ہے وہی ان کا مقدر بنے تاکہ وہ فقط انتشار میں رہیں۔ اور ہم لوگ اطمینان سے حکمرانی کرتے رہیں۔ یہ درباری لکھاریوں کی ہی محنت کا صلہ ہے کہ دوسرے لوگ سوچنے، سمجھنے اور اظہار کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیے جائیں۔ ریاست نے ان تمام شخصیات کو جنہوں نے شعور اور حریت کی دہلیز پار کر کے سوالات اٹھائے ان کو عبرت کی مثال بنا دیا۔

آپ سب کا یہ فرض ہے کہ بیرونی آقاﺅں کی مال و دولت اور آزاد منڈی کی نعمتوں سے فیض یاب ہوتے رہیں۔ کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ آپ کی ریاست ہتھیاروں کی افزائش اور عقائد کی تجارت پر یقین رکھتی ہے۔ یہ تمام ریاستی کاروبار اب بھی خوف کی بنیاد پر چلے گا۔ ان سانحات کے بعد ہی تو ہم لوگوں کی حفاظت کے نام پر کھلے عام ہتھیاروں کے تجربات ،خرید و فروخت ا ور افزائش کے اہل ہوں گے۔ مفتیان و شیوخ ریاست ہمیشہ کی طرح آپ کے اور ہمارے قیمتی اثاثوں کو مقتدر اداروں کی حفاظتی تحویل میں رکھے گی تاکہ کوئی آنچ نہ آئے ۔ آپ لوگ مطمعن رہیں کہ اس تازہ ترین سانحہ کے بعد بھی ہمارا عسکری اور ریاستی بیانیہ بالکل تبدیل نہیں ہو گا اور شب و روز اس بیانیے کی گونج نہ صرف سنائی دے گی بلکہ صاف صاف دکھائی بھی دے گی۔

 


Comments

FB Login Required - comments