تم ہمیں نہیں، دینہ سے ملنے آئے تھے


naseerگلزار ایک ایسے فنکار، ایسے شاعر ہیں جن کے فن اور الفاظ کی خوشبو پاک و ہند سرحد کے دونوں جانب پھیلی ہوئی ہے۔ ایک طرف ان کا وطن ہے جہاں وہ پیدا ہوئے اور دوسری طرف ان کا ملک ہے جس کے اب وہ شہری ہیں۔ یوں تو شاعر، ادیب، فنکار ہمیشہ ہی سے ایک دوسرے کے دل و درد آشنا ہوتے ہیں لیکن ادبی اعتبار سے کہا جائے تو گلزار سے میرے دوستانہ مراسم نوے کی دہائی یعنی “فنون” اور “تسطیر” کے زمانے سے ہیں۔ میں ان کا اور وہ، بقول ان کے، میرے مداح ہیں۔ جنوری 2013 کی ایک شام جب محترم دوست اور ممتاز سائنس دان ڈاکٹر انور نسیم کا فون آیا کہ کل گلزار دینہ پہنچ رہے ہیں اور انھوں نے بطورِ خاص آپ سے ملاقات کے لیے کہا ہے تو حیرت اور مسرت سے میں جواباً کچھ نہ بول سکا۔ مجھے گلزار کی پاکستان آمد کی خبر تو تھی لیکن دینہ کا پروگرام اچانک اور غیر متوقع تھا۔ اسی عالمِ حیرانی میں شاعرِ محبت ایوب خاور سے بات ہوئی۔ ایوب خاور نے بتایا کہ گلزار نے پاکستان میں خاص طور پر جن لوگوں سے ملنے کی خواہش کی ہے ان میں ایک آپ اور دوسرے گل شیر بٹ ہیں جنھوں نے ان پہ کتاب لکھی ہے۔ اگلی صبح ڈاکٹر انور نسیم نے مجھے گھر سے لیا اور ہم پروگرام کے مطابق دینہ ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے، کیونکہ گلزار سب سے پہلے دینہ ریلوے اسٹیشن دیکھنا چاہتے تھے۔ دینہ ڈاکٹر انور نسیم کا بھی آبائی قصبہ ہے اور وہاں ان کے عزیز و اقارب رہتے ہیں جنھوں نے ان کی رہنمائی میں اس دن کے سارے انتظامات کیے تھے۔ ان کی دینہ یاترا کو ذاتی اور خفیہ رکھا گیا تھا، میڈیا اور مقامی انتظامیہ کو بھی اطلاع نہیں تھی۔ گلزار آئے اور جس اپنائیت سے بار بار گال سے گال لگا کر ملے اور سارا دن میں نے وہاں گلزار کو جس کیفیت میں دیکھا وہ ایک طویل داستان ہے۔ ملتے ہی ان کا سب سے پہلا جملہ یہ تھا ” ارے ہم تو آپ کے بہت مداح ہیں”۔ پھر دو تین بار بے ساختگی سے گلے لگایا۔ سچ تو یہ ہے کہ مجھے بعد میں شرمندگی محسوس ہوتی رہی کہ میں اپنی کم آمیز طبع کے باعث شاید ان سے اتنی شدت سے نہیں ملا جس محبت اور شدت کا انھوں نے gulzar3اظہار کیا۔ لیکن میرے خیال میں انھیں میری خاموش طبع اور کم آمیزی کا اندازہ تھا۔ لاہور سے ان کے ساتھ وشال اور ریکھا بھردواج، ایوب خاور، حسن ضیا، ظفر حسن، شہزاد رفیق، گل شیر بٹ اور وصی شاہ آئے تھے۔ ریلوے اسٹیشن پر گلزار نے خاصا وقت گزرا۔ ایک اک عمارت اور ریل کی پٹڑیوں کو عقیدت بھری نظروں سے دیکھا۔ اسٹیشن ماسٹر سے ملے۔ انھیں اپنے بچپن کی کئی نشانیاں یاد تھیں۔ میں بنیادی طور پر ایک ہجوم و شہرت گریز شخص ہوں۔ جب ان کے پاس ایک خاص کمرشل اور تشہیری مقاصد کے لیے تصویریں اور ویڈیوز بنانے والوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی تو میں ایک طرف ہو جاتا تھا۔ انہوں نے کئی بار بازو کھینچ کر مجھے اپنے قریب کیا اور اپنے آبائی گھر کی دہلیز پر سب سے پہلا قدم میرا بازو تھام کر رکھا یہاں تک کہ فوٹو گرافر بھی بعد میں اندر داخل ہوا۔ گلزار دینہ میں اپنے گھر، گلیوں اور اسکول میں اس طرح گھوم رہے تھے جیسے بچپن میں واپس چلے گئے ہوں۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل آئے اور ان کے ساتھ یوں گھل مل گئے جیسے وہ کبھی یہاں سے گئے ہی نہیں تھے۔ میں اسکول کی عمارت میں خاموشی سے منظر کے ایک طرف فوکس سے باہربیٹھا یہ سب دیکھتا رہا اور میرے اندر ایک نظم سی بنتی اور کسی فلم کی طرح چلتی رہی۔

گلزار! تم ہمیں نہیں دینہ سے ملنے آئے تھے
ہم تو یونہی وہاں جا پہنچے تھے
ڈھلتی سہ پہر کے سرمئی سایوں کی طرح
ایک جگہ سے دوسری جگہ
دن گزاری کے لیے
کہ اچانک وقت ہماری گرفت میں آ گیا
ریلوے اسٹیشن سے باہر
01ایک سفید سائے سے گلے مِلتے ہوئے
یوں لگا جیسے
بارش اور دھوپ کو ایک ساتھ چھو لیا ہو
جیسے تیسرے پہر کی ملگجی روشنی میں
چاندنی اوڑھ لی ہو
پتا نہیں تمہارے ہاتھ میں ٹائم مشین تھی یا کیا تھا
زمانے پیچھے کی طرف چل پڑے تھے
تم ننھے سے جیوڑے
دینہ، ریل کی فولادی پٹڑی کے پاس
کوکتی، چھینکتی، ہانپتی، سانسوں کی دبیز بھاپ نکالتی
ریل گاڑی کو دیکھ رہے تھے
اور میں بستہ لیے
اسکول سے گھر جانے کے بجائے
کھاریاں، ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر
پرانے چوبی بینچ پہ بیٹھا ہوا تھا
اور کسی کو خبر نہیں تھی
کہ دینہ اور کھاریاں اس وقت اپنی اپنی جگہوں پر نہیں
ہماری فینطاسیہ ایک، عینیت ایک تھی
لیکن زمانے اور قصبے الگ الگ
اور اب تو ملک بھی الگ الگ ہیں
اور دنیائیں بھی
تم شہرت اور فیم کے بوجھ تلے دبے ہوئے
اور میں گمنامی کا مارا ہ±وا
لیکن ہماری مونچھوں کا رنگ ایک جیسا ہے
ہنسی جیسا روشن سفید….

گلزار! ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں
اور گلی کا ہر کونا کھدرا
جیسے تمہارے ہی گھر کا حصہ ہو
مجھے یوں لگا
کہ بچپن کے گھر میں داخل ہونے کے لیے
جیسے تم میرے ہی منتظر تھے
اور جب میرا بازو پکڑے ہوئے
تم دروازے سے گزر رہے تھے
تو تمہارے پاو¿ں جیسے سدِ صوت کو پار کر رہے تھے
تمہاری خاموشی کی آواز گمبھیر ہو گئی تھی
اور نیم تاریک صحن میں
کسی بڑی عمر کی لڑکی کو نہ پا کر
جیسے تمہارے خوابوں کی گولک ٹوٹ گئی تھی
اور عمروں کی جمع ریزگاری
وہیں پڑی رہنے کے لیے بکھر گئی تھی
اور تمہاری آنکھوں میں
جہلم کا کوئی سیلابی ریلا امنڈ آیا تھا
فلمی لوگوں کو
یہی تو سہولت ہے
کہ جب چیزیں حد سے
اور جذبات بس سے باہر ہو جائیں
تو فوراً سین “کٹ” کر کے
اپنی مرضی کے مطابق دوبارہ شوٹ کر لیتے ہیں
دیکھتے ہی دیکھتے
تم نے اسکول میں داخلہ لیا
حاضری لگوائی
سبق یاد کیا
اور اک دم فلیش بیک سے نکل کر
02اپنے نام سے منسوب کالرہ بلاک کے سامنے آ کھڑے ہوئے
دوسری ہجرت کے لیے
فلم بنتی رہی
فوٹو سیشن ہوتے رہے
اور میں فوکس سے باہر
واحد تماشائی
منظر کے ایک سرے پر بیٹھا
تمھیں اساتذہ کے جھرمٹ میں
بچوں کی طرح
تاریخ اور جغرافیے کا رٹا لگاتے دیکھتا رہا
جانے کب تک آموختہ آمیخت ہوتا رہا
جانے کب تک پنسل اور ربر سے
لکیریں بنتی اور مٹتی رہیں
یہاں تک کہ ایک بار پھر سین کٹ ہوا
اور تم گولی کی سی تیزی سے سرحد کی طرف چل پڑے

اور پھر واقعی یہی ہوا۔ نظم نے میرے ذہن سے چھلانگ لگا کر حقیقت کا روپ دھار لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسکول میں اپنے نام سے منسوب کالرہ بلاک کے سامنے، اساتذہ کے جھرمٹ میں، گلزار نے حاضری لگوائی، سبق یاد کیا، تاریخ اور جغرافیے کا رٹا لگایا، پنسل اور ربر سے لکیریں بنائیں اور مٹائیں، سین، جو ابھی او کے نہیں ہوا تھا، کٹ کیا اور گولی کی سی تیزی سے واپس چل پڑے، وطن سے اپنے ملک کی طرف۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کا دل بے قابو ہو گیا تھا۔ کہنے والوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ سے ان کے کسی دوست نے ان کی جان کو خطرے کا شبہ ظاہر کیا اور سفارت خانے سے کال آئی تھی۔ لیکن وہاں کوئی خطرہ تھا نہ دہشت نہ کوئی دہشت گرد۔ اپنے “وطن” دینہ کی گلیوں اور لوگوں میں گلزار کسی حفاظتی انتظام کے بغیر اپنے “ملک” سے کہیں زیادہ محفوظ تھے۔ شاید کوئی یہ نہیں چاہتا تھا۔ کہنے والے کچھ بھی کہہ سکتے تھے۔ میرے ذہن میں ان کا ایک ہی امریکی دوست تھا۔ خطرہ تھا تو یہی کہ وطن کی مٹی گلزار کو اندر ہی اندر کہیں کھینچے لیے جا رہی تھی۔ شاید گلزار واقعی اداسی کی آخری حد پار کر چکے تھے۔ اندازوں کا وقت نہیں تھا۔ مکئی اور باجرے کی روٹیاں، سرسوں کا ساگ، مکھن، لسی، گڑ کی بھیلیاں سب کچھ ڈاکٹر انور نسیم کے عزیزوں کے گھر کھانے کی میز پر دھرا رہ گیا۔ اور ہم سب بھی وہیں ایک دائمی تذبذب میں۔۔۔۔۔۔

گلزار! میں نے پہلی بار تمھیں جلدی میں دیکھا
ورنہ تم تو جہاں رکتے تھے
وہیں کے ہو جاتے تھے
جیسے ہر دل تمھارے آبائی وطن کا احاطہ ہو
وہ کیا تھا جو ہمیں معلوم ہوتے ہوئے بھی معلوم نہیں تھا
جو تم جانتے ہوئے بھی بتانا نہیں چاہتے تھے
آنے میں اتنا ٹھہراو¿
کہ بار بار گلے ملتے تھے
اور گال سے گال مَس کرتے تھے
اور جانے میں اِتی عجلت
کہ سین او کے ہوئے بغیر پیک اپ کر دیا
ساگ اور مکئی کی روٹی
جس کی اشتہا
تمھاری غزلوں، نظموں اور تمھارے گیتوں سے ٹپکتی تھی
اور گڑ کی بھیلی
جسے چکھنے کے لیے
تم نے جنم جگ انتظار کیا
کھانے کی میز پر دھری رہ گئی
موبائل کی گھنٹی بجی
اور کہیں آدھے رستے کی دوری سے
کوئی الوداعی آواز سنائی دی
“ناصر صاحب، ناصر صاحب”
پتا نہیں وہ تم تھے
جو تھوڑی دیر پہلے پاکستان کے دینہ کے باسی تھے
یا ہندوستان کے شہری بالی وڈ کے گلزار….!

03


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “تم ہمیں نہیں، دینہ سے ملنے آئے تھے

  • 31-01-2016 at 9:52 pm
    Permalink

    ناسٹلجیا ہے کہ کوئی مرصّع خنجر۔۔۔ خوبصورت مگر گھاتک
    آپ کی اوپر درج نظمیں ہوں یا گلزار کی اپنی’چلو دینے چلیں گے۔۔۔‘
    ہرسطر وزیر آغا صاحب کے الفاظ میں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے،’اتنی دیر کیوں کر دی۔۔۔!‘
    مایئکل اونڈاچی نے کئی برس پہلے کہیں لکھا،’ہم سب کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ ہم وہاں ہیں جہاں ہمیں نہ ہونا چاہئے تھا۔۔۔‘۔ برسوں بعد مجھ سے ایسا ہی کچھ اک نظم میں سرزد ہوگیا،’میں بھی اب وہاں نہیں ہوتا جہاں پر میرا ہونا بنتا تھا۔۔۔‘ اور میں حیرت زدہ ہو کر رہ گیا۔ کیا صدیوں سے ایک ہی بےچین روح ہے جو کبھی کسی کے دل میں گھس بیٹھتی ہو تو کبھی کسی کے۔۔۔ اپنی بنیاد کو لوٹ جانے کی اک کسک، پیشتر اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔۔۔

  • 01-02-2016 at 4:15 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر
    سلمن مچھلی سارا سمندر گھوم کر اپنی جاۓ پیدائش پر پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے ۔ انسان میں بھی اپنے آبائی وطن سے محبت فطری ھوتی ہے ۔ اور اگر اپنے آبائی وطن میں اپنی ہی پرچھائی نظر آجاۓ تو انسان ایسے بے اختیار سا ھوجاتا ہے جیسے وہ جیتا جاگتا آدمی نہیں کوئی روح گھوم پھر رہی ھو۔ یوگی کہتے ہیں کہ دنیا میں انسان کی سات پرچھائیاں ھوتی ہیں یہ دنیا میں مختلف یاکبھی کھبار ایک جیسی زندگی گزار رہے ھوتے ہیں یہ ایک دوسرےسے ناواقف ھوتے ہیں ۔ بعض اوقات یہ یا ان کے جاننے والے اتفاقا مل جاتے ہیں تو اپنا یا اپنے کی پرچھائی دیکھ کر دل میں اپنائیت کے ایسے سرچشمے پھوٹتے ہیں کہ جنہیں روک پانا ان کے بس میں نہیں رہتا ۔
    ایسے موقع پر گلزار احمد یا نصیر احمد ناصر کے احساسات یا جذبات کی ترجمانی کرنا تودور کی بات ہے ۔ ھم تو اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ ان دو بڑے شعراء حضرات کے عہد میں پیدا ھوۓ ۔ دعا ہے محبت کے یہ دو سرچشمے دو ملکوں کی سنگلاخ چٹانوں اور بنجر زمینوں کو محبت امن اور مثالی دوستی سے اک دن سرسبزو شاداب کردیں ۔ آمین

Comments are closed.