پانچ روپے کی ذلت


 

razi uddin raziیوں تو اب ہمیں ذلت کا کچھ زیادہ احساس نہیں ہوتا کہ ہمارے شب و روز جس کیفیت میں گزر رہے ہیں اور جن حالات میں ہم جیون بسر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس میں ذلت نام کی چیز اب کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔ صبح سے شام تک ہمیں قدم قدم پر ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ جنہیں اب بیان کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ تو خیر اب معمول کی بات ہے۔ کبھی یوں بھی تھا کہ بجلی کی بندش پر ہم کڑھتے رہتے تھے اور اسے اپنی تذلیل سمجھتے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ جس معاشرے میں ہم بظاہر جی رہے ہیں وہاں ہمیں ان بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا ہماری تذلیل کے مترادف ہے۔ پھر یوں ہوا کہ رفتہ رفتہ ہم اندھیروں میں رہنے کے عادی ہوگئے اور برقی رو کی فراہمی کو اپنی ذلت سمجھنے لگے۔

چند برس قبل گیس کا بحران شروع ہوا تو ہم بجلی والی ذلت بھول کر نئی تذلیل کا مقابلہ کرنے کے لیے کمربستہ ہوگئے۔ اب یہ منصوبے بننے لگے کہ ایک ’باوقار‘ قوم کی حیثیت سے ہمیں مشکل کی اس گھڑی میں قوم کا کیسے ساتھ دینا ہے۔ یوں حکمرانوں نے ہماری تذلیل کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ قربانی کے جذبے میں تبدیل کر دیا اور ہم ہمہ وقت قربانی دینے کے لیے تیار ہو گئے۔

اسی دوران ہمیں پینے کے صاف پانی سے بھی محروم کر دیا گیا۔ صاف پانی کے پلانٹ حساس علاقوں میں نصب کر دیے گئے اور ہم عام شہری صبح شام خواص کے علاقے سے پانی بھرنے پر مامورہو گئے۔ واٹرپلانٹس پر لوگوں کاہجوم، چھینا جھپٹی اور قہر آلودنظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنا ہمارے معمولات کاحصہ بن گیا۔

ایک زمانہ تھا کہ ہمیں اگرکوئی ’اوئے‘ یا ’تو‘ کہہ کر مخاطب کرتا تھا تو ہمارا خون کھول جاتا تھا۔ غیرت نام کی چیز ہماری رگوں میں دوڑنے لگتی تھی اور ہم اس کے ’کھنے‘ سینکنے سے بھی گریز نہ کرتے تھے۔ صد شکر کہ حفاظتی ناکوں پر موجود مسلح اہلکاروں نے ہم سے غیرت نام کی یہ چڑیابھی چھین لی۔ اب کوئی ’اوئے‘ کہے یا ’تُو‘ہم مسکرا کر سرِتسلیم خم کرتے ہوئے ناکے سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔

ذلت کے اور بہت سے سامان بھی خلق خدا کے لیے موجودہیں۔ تھانے میں بیٹھا محرر، کچہری میں بیٹھا ریڈر، واپڈا اور محکمہ ٹیلی فون کا لائن مین، ڈاکٹر، وکیل، کلرک، افسر، رکشے والا، تانگے والا، سبزی فروش، گوالا، قصاب سب اپنی اپنی جگہ اوراپنے اپنے طورپر ہمیں ہماری حصے کی ذلت سے نوازتے ہیں۔ کوئی بجلی کا زیادہ بل بھیجتا ہے، کوئی بلاوجہ گیس یا بجلی کا میٹر کاٹ جاتا ہے، کوئی بدبودار دودھ فراہم کرتا ہے، کوئی گلی سڑی سبزی ہمارے تھیلے میں ڈال دیتا ہے، کوئی انصاف کی فراہمی کا نام لے کر سائل ہی  کو ہی مجرم بناتا ہے، کوئی زندگی بچانے کے لیے لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔ غرض کیا کہوں سب ’جہانگیر‘، ’جہاں دار‘، ’جہاں بان‘ اور ’جہاں آرا‘ بنے بیٹھے ہیں۔

ذلت کے اس ماحول میں لطف اس وقت آتا ہے جب ہمیں کوئی سہولت فراہم کرنے کے لیے ذلت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال گزشتہ روز سے درپیش ہے اور اگلے دوتین روز بھی ہمیں اسی کیفیت میں گزارنے ہیں۔ ہوا یوں کہ گزشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے قوم کویہ خوشخبری سنائی کہ پٹرول پانچ روپے لٹر سستا کیا جا رہا ہے۔ بس پھر کیا تھا ملک کے بیشتر علاقوں میں پٹرول نایاب ہو گیا۔ پٹرول پمپ بند کردیئے گئے اور ذلتوں کے مارے لوگ پٹرول کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے۔ شہر کے کسی ایک آدھ پمپ پر اگرپٹرول کی فراہمی جاری بھی ہے تو لوگوں کی طویل قطاریں اور واٹر پلانٹ والی چھینا جھپٹی دیکھنے کومل رہی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہونا ہے اور اس کیفیت میں یکم فروری بہت دور دکھائی دے رہی ہے۔ ہم اس بحث میں تو پڑتے ہی نہیں کہ عوام 15 سے 20 روپے تک کمی کی جو آس لگائے بیٹھے تھے وہ کیا ہوئی۔ ہم تو شکر ادا کرتے ہیں کہ پانچ روپے ہی میں جان چھوٹ گئی۔ اور ہمیں پندرہ یا بیس روپے کی بجائے صرف پانچ روپے کی ذلت برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “پانچ روپے کی ذلت

  • 31-01-2016 at 8:08 pm
    Permalink

    beautiful discription of our misseries

Comments are closed.