تبلیغی جماعت پر پابندی اور جگا لائلپوری


 husnain jamal (3)ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ کہیں ڈاکا پڑ جاتا تو یار لوگ اگلا پورا مہینہ اس کی خبریں مصالحہ لگا کر ایک دوسرے کو سناتے تھے۔ پورا مہینہ گزر جانے کے بعد قصے کا رنگ کچھ سے کچھ ہو جاتا لیکن سنانے والوں کی زبان کی چاشنی ختم نہیں ہوتی تھی۔ سننے والے بھی ہر بار وہی قصہ سنتے اور ہر بار ایک نیا رنگ ہوتا۔ کئی دفعہ پڑھا کہ اس زمانے میں بدمعاش کی سب سے بڑی عیاشی گراری دار چاقو رکھنا ہوتی تھی اور جہاں چاقو نکلا اس کی کڑ کڑ سے ہی اگلوں کا پتا پانی ہو جاتا۔ پھر کسی کی جرات نہ ہوتی کہ حامل چاقو سے کوئی مچیٹا کر سکے۔ اور وہ واقعات کئی برس یاد رکھے جاتے، یہاں سے اندازہ کر لیجیے کہ لڑائی، جھگڑے، چوری، ڈکیتی کے واقعات باقاعدہ فوک لور کا حصہ بنتے اور صدیوں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے۔

جگے ماریا لائل پور ڈاکا

تے تاراں کھڑک گئیاں

اب ان جگا سنگھ قبلہ کو دیکھ لیجیے، گوروں کے دور میں علاقے کے سارے پٹواری، نمبردار، تھانیدار ، سفید پوش، ذیلدار وغیرہ ایسے لوگوں کے بارے میں معلومات اکھٹی کرتے رہتے اور انھیں کسی نہ کسی بہانے سے مقدمات میں الجھا لیتے تھے تاکہ وہ مزید کسی پریشانی کا باعث نہ بن سکیں۔ جگا صاحب بھی الجھے رہتے تھے۔

وہ درمیانی قامت اور مضبوط جسم کے جوان تھے۔ عادات و خصائل وہ تھے جو آپ فلموں میں کسی بھی مشہور ڈاکو کے دیکھتے ہیں۔ امیروں کے گھر لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتے۔ ان داتا اور سخی مشہور تھے۔ پٹواریوں کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ صدر پاکستان تک ان سے نہیں الجھ سکتے۔ ہم آپ تو کسی قطار و شمار میں ہی نہیں۔ ایک بار جگے صاحب پٹواری کے پاس اپنی زمینوں کی فرد لینے کے لیے گئے اور پٹواری سے کوئی خاص عزت و تکریم سے پیش نہ آئے تو پٹواری نے بھی انہیں فرد دینے سے انکار کر دیا، انہوں نے ہاتھ کے ہاتھ ان کی دھلائی کر دی اور پھر پٹواری سے فرد لے کر ہی ٹلے۔ اس واقعے نے جہاں گوروں کی نظر میں انہیں شرپسند بنایا وہیں عوام نے انہیں ہیرو سمجھ لیا۔

جگے نے پہلا ڈاکہ گاﺅں کے سنار کے گھر مارا۔ اس نے سنار کے گھر سے تمام سونا لوٹ لیا اور وہ تمام کھاتے بھی جلا دئیے جن میں غریب لوگوں کو سود پر دئیے گئے روپوں کا حساب تھا۔ اب غریب لوگوں میں جگا اور زیادہ مشہور ہو گیا۔ ان کی جان سود در سود سے کیا چھوٹی جگا ان کا ہیرو ہو گیا۔ پھر ایسے کئی اور کام کیے۔ ایک اور کام جو ان کی وجہ شہرت بنا وہ یہ تھا کہ جگے صاحب جہاں بھی ڈاکہ مارنے جاتے، پہلے تھانے میں خبر کروا دیتے تاکہ پولیس بعد میں بے قصور لوگوں کو نہ اٹھاتی پھرے۔

جگے کی زندگی صرف انتیس سال تھی، اسی کے ایک ساتھی لالو نائی نے دھوکے سے اسے گھر بلا کر مار دیا اور حکومت سے دس مربع زمین اور ایک عدد گھوڑا انعام میں پایا۔ جگے کی موت کے کچھ عرصے بعد جب وہی لالو نائی کسی مقدمے کے چکر میں جیل گیا تو دوسرے قیدیوں نے اسے اتنا مارا کہ وہ مار کھاتا ہوا اسی جگہ مر گیا۔

جگا امر ہوا

لالو نائی کتے کی موت مرا

جگا وڈھیا بوڑھ دی چھاویں

تے نو من ریت بھج گئی

تو جگا جو ایک ڈاکو تھا، جگا جو ایک بدمعاش تھا، جگا جو ایک غنڈہ تھا، جگا جو ایک چور تھا، جگا جو بستہ الف کا بدمعاش تھا وہ جگا عوام کا پسندیدہ کیسے ہو گیا، لوگ اسے تاریخی مقام کیوں دینے لگ گئے، ماہئیے اس کے نام سے کیوں منسوب ہوئے، لوک گیت اور داستانیں کیوں بنیں، وہ لیجنڈ کیسے بن گیا، اس کا فیصلہ آپ کیجیے۔

آپ خدا اور اس کے رسول کا پیغام گھر گھر پھیلاتے ہیں۔ لوگوں کو نیک عمل کی تلقین کرتے ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر سال میں کئی دفعہ خدا کی راہ میں تبلیغ پر نکلتے ہیں۔ اثاثہ آپ کا ایک بستر بند اور دو تین ضروری برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جو سادگی ہمارا مذہب سکھاتا ہے، آپ اس کا عملی نمونہ بن کر دکھاتے ہیں۔ عبادات و نوافل پر آپ ارتکاز رکھتے ہیں۔ دور دراز کے علاقوں میں، جہاں لوگ درست کلمہ تک پڑھنا نہیں جانتے، آپ وہاں لوگوں کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھاتے ہیں۔ تمام دنیا کے بڑے شہروں میں آپ کے تبلیغی مراکز ہیں۔ کتنے ہی غیر مسلم آپ نے اور آپ کے اسلاف نے دائرہ اسلام میں داخل کیے۔ آپ کے اکابرین کیسی خوب صورت اور ایمان افروز گفت و گو فرماتے ہیں۔ ہر برس دو بار آپ کے اجتماعات ہوتے ہیں جو حج کے بعد غالبا مسلم دنیا کے بڑے اجتماعات ہیں جہاں خدا کا ذکر ہوتا ہے۔ رقت آمیز دعاوں پر ان اجتماعات کا اختتام کیا جاتا ہے۔ ہر اجتماع کے بعد نہ جانے کتنے ہی لوگوں کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ انہیں دنیا اور آخرت میں فلاح کا راستہ مل جاتا ہے۔ جوق در جوق لوگ آپ کی درس و وعظ میں شریک ہوتے ہیں۔ بارشوں آندھی طوفانوں کے باوجود آپ لوگ اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں اور یہ سب خدا اور اس کے بندوں کی بے لوث محبت میں ہوتا ہے۔

تو ایسا کیوں ہوا کہ عام آدمی آپ سے دور جانے لگا، کیوں ہوا کہ لوگ آپ کے گروہ کو دیکھ کر فرار کا سوچنے لگے، کیوں ہوا کہ آپ کی صفوں میں چند لوگ ایسے پناہ گزین ہوئے کہ جن سے آپ چشم پوشی کرنے لگے جب کہ باقی دنیا میں ’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے‘ والا معاملہ تھا۔

ایسا کیوں ہوا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر پریشان ہونے لگے، خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے، اقلیتیں پناہ مانگنے لگیں۔ ہزارہ میں پیش آئے واقعات، احمدیوں کے ساتھ مظالم، مسیحیوں پر ظلم و ستم، پشاور میں بچوں پر حملہ، باچا خان یونیورسٹی میں بچوں پر حملہ، پیرس حملہ، ملالہ پر حملہ، ان سب کے خلاف آپ کے ہاں سے کوئی واضح مخالفت (متفقہ بیان کی موجودگی) نہ ہوئی۔ ایسا کیوں ہوا؟

بے شک آپ ہمارے وہ بھائی ہیں جو معاشرے کی فلاح و بہبود میں اور صالح عمل کی تلقین میں سب آگے رہتے ہیں۔ کہیں کوئی آسمانی آفات آئیں، آپ کے مددگار کیمپ نمایاں ہوتے ہیں، لیکن، جو زمینی آفت اس وقت دہشت گردی کی صورت ہم سب پر مسلط ہے اس پر آپ کی طرف سے ایک بھی متفقہ بیان کیوں نہیں آتا۔ ایسا کیوں ہے؟

آپ کے اور ہمارے عزیز از جان مولانا بھی اس طرف نہیں آتے۔

دیکھیے فقیر کی تو بات کرنے کی بھی کوئی اوقات نہیں۔ گناہ گار ہے، اپنی حیثیت جانتا ہے۔ بلکہ شرمندہ بھی ہے کہ چھوٹا منہ بڑی بات، صرف ایک عرض ہے بلکہ سمجھ لیجیے کہ گذارش ہے۔

جو پابندی اس وقت حکومت نے آپ پر لگائی، اس پر برافروختہ ہونا آپ کا حق ہے، آپ اپنے جمہوری حق کو استعمال کیجیے، اپنی آواز سامنے لائیے لیکن، کیا ہی اچھا ہو اگر آپ یہ بیان دے دیں کہ ’اس ملک کا ہر بچہ ہمارا اپنا بچہ ہے۔ ہم اپنے بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں اور کل سے جو بچہ تعلیم حاصل کرنے نکلے گا وہ ہماری ذمہ داری ہو گا۔ جس نے ان کو نقصان پہنچایا اس کے خلاف ہم سب ایک ہوں گے، کیا فوج، کیا حکومت، کیا سول سوسائٹی اور کیا ہم، سب اکٹھے دہشت گروں کا خاتمہ کریں گے۔

‘اور پھر اپنی صفوں کو ایک بار دوبارہ ترتیب دے لیجیے اور جو عناصر شدت پسند نظر آئیں، ان کی ذہن سازی پھر سے اعتدال کی راہوں پر شروع کر دیجیے تو یقین جانیے ہمارے لوگ تو ایسے معصوم ہیں جو سناروں اور پٹواریوں کو لوٹنے والے جگے کو ہیرو بنا لیتے ہیں، آپ تو ہیں ہی ہم میں سے، آپ کو تو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ آپ ہی نجات دہندہ کے طور پر سامنے آئیں گے اور نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ آپ کی طرف مائل ہو جائے گا۔ کجا یہ کہ آپ کو تعلیمی اداروں اور ان کے ہاسٹلوں میں جانے کی کوئی ضرورت بھی پیش آئے۔

آخر میں ہلالی چغتائی شہید کا ایک شعر دیکھیے اور ترجمہ بھی، اور اندازہ کر لیجیے کہ یہ درخواست گزارنے کی نوبت ہی کیوں کر آئی۔

می روم گریہ کناں، نعرہ زناں، سینہ کتاں

مست و دیوانہ و رسوائے جہانم، چہ کنم؟

گریہ کناں، نعرہ زناں، پارہ پارہ دل کے ساتھ چلا جا رہا ہوں، مست ہوں، دیوانہ ہوں، رسوائے جہاں ہوں تو اور بھلا کیا کروں؟

 


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

6 thoughts on “تبلیغی جماعت پر پابندی اور جگا لائلپوری

  • 01-02-2016 at 12:24 am
    Permalink

    Thought provoking article , the question you raised need answer very badly ?

  • 01-02-2016 at 1:21 pm
    Permalink

    جمال صاحب آپ کا تجزیہ سراسر نامکمل معلومات پر مشتمل ھے ۔ تبلیغی جماعت پر نا کوئی الزام ھے اور نا ہی ان کی صفوں سے دہشت گرد پکڑے گئے اور نا ہی عوام ان سے خوف زدہ ھیں
    بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری ریاست کا کام ھے نا کہ کسی تنظیم کا
    دوسرا کب آپ نے تبلیغی جماعت کی طرف سے امدادی کیمپ دیکھے ؟ یہ تو مدد اور امداد کے قائل ھی نہیں

  • 01-02-2016 at 2:28 pm
    Permalink

    حسنین جمال بھائ۔۔۔یقین رکھئے، نہ تبلیغ والے اس پابندی سے برافروختہ ہیں، نہ وہ کوئ احتجاج وغیرہ کریں گے-نہ وہ کسی کی مذمت کریں گے نہ کسی کو فریاد۔۔۔جیسا کہ آپ نے فرمایا، وہ ایک اور دنیا کے راہی ہیں۔۔۔کوئ آن ملے تو فخر نہیں، چھوڑ جائے تو گلہ نہیں۔۔۔دروازہ اور دل کھلا ہے۔۔مذہبی قائدین انکا مقدمہ لڑنے کی سوچ رہے حالانکہ انہوں نے کوئ ایسی التجا نہیں کی۔۔نہ انکی کوئ ممبر شپ، نہ رجسٹریشن، نہ دفتر نہ فنڈ ۔۔فقیرانہ آئے، صدا کر چلے۔۔۔سب کو دعا۔۔۔۔عرض ہے کہ آپ یا ہم،انکے بارے میں لکھیں تو اپنی نیت کا اجر پاییں،ورنہ انکی طرف سے ایک چپ۔
    اسی خامشی میں پنہاں، مرے سارے جوابات
    مجھکو ، تیری شکست سے کئ بار ہوئ مات
    آپکو بہت سے دعاؤں کے ساتھ، نیاز کیش۔سلیم جاوید۔۔۔والسلام

  • 01-02-2016 at 7:52 pm
    Permalink

    تبلیغی جُماعت کے بارے میں نامُکمل معلُومات کے باوجُود آپ نے اُنہیں ہدف تنقید بناڈالا،اگریہ جُماعت سیاسی جُماعت ھوتی
    تو بیشتر اسلامی ممالک میں تبلیغی جُماعت کاجھنڈا لہرارھا ھوتا۔
    ریاض خان ھزاروی

  • 02-02-2016 at 3:00 pm
    Permalink

    معذرت کے ساتھ معلومات درست نہیں۔ آج تک کسی ایک واقعہ میں بھی دہشتگردوں کے تبلیغی جماعت کے بھیس میں آنے کا ثبوت نہیں ہے۔ دوسرا تبلیغی جماعت کے اکابرین تو جہاد کے ہر تصور کے ہی مخالف ہیں اور ابھی مکی دور میں جہاں کلمہ درست کروایا جاتا ہے زندہ ہیں۔ آخری بات آپ نے کس قدرتی آفت میں ان کے امدادی کیمپ دیکھ لئے جو کبھی لگے ہی نہیں۔ شائد آپ کسی اور جہادی یا سیاسی مذہبی جماعت کے ساتھ ان کو خلط ملط کر رہے۔

    • 19-02-2016 at 1:37 am
      Permalink

      جناب عالی. گمان ہے کہ آپ نے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ نہیں پڑھی. اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ شجاع پاشا کا بیان ہے کہ 2010میں احمدیوں کی مسجد میں قتل وغارت گری کرنے والے دہشت گردوں نے رائے ونڈ میں قیام کیا تھا.امید ہے آپ اپنی رائے پر نظر ثانی فرمائیں گے

Comments are closed.