’ ہم سب ‘دوستوں کی عدالت میں


salim javedدعا گو ہوں کہ خدا وجاہت مسعود صاحب اور ان کے ہم مزاج سیکولر ساتھیوں کو عافیت سے رکھے کہ ایک تنگ نظر معاشرے میں، مکالمے کو رواج دینے کا جہاد کر رہے ہیں۔ خاکسار کے کالم کے جواب میں، محترم وجاہت مسعود صاحب نے اپنے جوابی مضمون “کیا ہم عورت کے دشمن ہیں” میں، خاکسار کو” ایک متوازن لکھاری” قرار دیا۔ بخدا، ان کے یہ الفاظ میرے لئے ایک اعزازی سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔

میں اعتراف کرتا ہوں کہ شاید اپنے متذکرہ مضمون ’ اپنی فطرت پر قیاس، اصناف نازک سے نہ کر‘ میں اپنا نکتہ نظر پوری طرح واضح نہ کرسکا۔ ایک بدگمانی یہ بھی ہے کہ شاید وجاہت مسعود صاحب، اپنی بے پناہ مشغولیت کے سبب، صرف مضمون کا شروع کا پیرا گراف ہی دیکھ پائے ہیں۔

ہر دوصورت میں مزید وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے جو میں ’ّہم سب‘ دوستوں کی عدالت میں پیش کر رہا ہوں۔

عرض یہ ہے کہ یہ مضمون، اصلاً مابعد الموت کے ایک مسئلے کی طرف تھا جس میں عورت اور مرد کے فطری تفاوت کو بیان کرتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ جو چیز ، مرد کے لئے انعام ہے، وہ چیز عورت کے لئے فطری طور پر ایک سزا ہے۔ خاکسار کا موقف ہے کہ قدرت نے عورت کی فطرت پہ اس کے جذبات حاوی کر رکھا ہے۔

مگر، اس مضمون کے جواب میں لکھی گئی تحاریر سے یہ شبہ ہوتا ہے گویا خاکسار، عورت کو گھر بٹھانے کا حامی ہے یا اس کو کمانے سے منع کرنے لگا ہے۔ (حالانکہ خاکسار کی بیٹی جو میڈیکل فاینل میں ہے، اس کے نکاح میں ایک ہی شرط لکھوائی ہے کہ اسے اس مقدس ڈیوٹی سے منع نہیں کیاجائے گا)۔

میرا اس بارے کیا موقف ہے؟ اس مضمون سے پیشتر، اسی ’ہم سب‘میں شایع شدہ اپنے مضمون” کم عمری کی شادی پہ واویلا کیوں؟” کا ایک اقتباس نقل کرتا ہوں۔ ملاحظہ کیجئے کہ خاکسار نے کیا لکھا تھا؟

” بہرحال، جنسی تعلقات کے ضمن میں، دونوں فریق، یکساں سودو زیاں کا سامنا نہیں کرتے۔ زیاں ، عورت کے حصے میں آتا ہے۔ اسلئے، اسلام میں، کفالت کی ذمہ داری مرد پر ہے اور عورت کو مرد کی آمدنی میں سے، مروج نان و نفقہ کے بقدر، بغیر بتائے بھی خرچ کی اجازت ہے۔ دوسری طرف، اگر بچوں کی تربیت میں فرق نہ آتا ہو (جس کا تعین خاندان کی باہمی رضامندی یا قاضی کرے گا) توعورت کو اپنا کاروبار / نوکری کرنے کی اجازت ہے، لطف کی بات یہ کہ بیوی کی آمدنی پہ مرد کا حق نہیں۔ یہ بھی نوٹ کرلیجئے کہ مرد، کسی معقول وجہ کے بغیر، عورت کو کمانے سے روک نہیں سکتا(اور یہ بھی کہ ، کسی بھی حالات میں، اس کو کمانے پہ مجبور بھی نہیں کرسکتا)۔ “

آپ اسے دوبارہ پڑھ لیجئے، اس سے کیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ خاکسار، عورت کو گھر میں محصور رکھنے کا حامی ہے؟

البتہ، زیر تبصرہ مضمون میں ضمنی طور پر، خاکسار نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عورت کی فطری ذمہ داری، گھرداری اور گھر والے کو سنبھالنا ہے۔ ہماری تاریخ کا یہ واقعہ شان رسالت ﷺ کا حصہ ہے کہ اس کائنات کا سب سے مضبوط مرد، جب غار حرا کے واقعے کے بعد، ٹوٹ کر گھر واپس آتا ہے تو خدیجہ کی دلجوئی اسے پاو ¿ں پہ کھڑا کرتی ہے۔

برسبیل تذکرہ، عورت کو کمائی کو بے برکت کہنے والے یاد رکھیں کہ اسلام کی اولیں نمو میں ایک عورت کی کمائی کا بنیادی حصہ ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ نبی، نبوت ملنے سے پہلے بھی کوئی عیب دار کام نہیں کیا کرتا اور ہمارے نبی ﷺ کی پہلی ملازمت، ایک عورت کے ہاں تھی۔

خیر، میرا موقف یہ ہے فطری طور پرعورت، گھرداری کی طرف راغب ہوتی ہے۔ آپ گردو نواح پہ نظر ڈالئے۔ ایک یکساں تعلیم یافتہ اور ہم عمر، ایک جیسے گریڈ پہ فایز میاں بیوی کا گھرانہ دیکھئے گا، جن کے گھر میں نوکروں کی فوج کام کرتی ہو۔ آپ دیکھ لیجئے گا کہ کچن کی طرف کس کا دھیان زیادہ رہتا ہے؟ یہ عورت کی فطری جبلت ہے۔

خاکسار، سرکاری امور کے سلسلے میں اٹلی کے شہر، میلان میں راڈار فیکٹری کے معائنے پر گیا تو مینوفکچرنگ ہال میں سب ہی خواتین کارکنان تھیں۔ اطالوی میزبان نے اس کی توجیہ بیان کی کہ عورت کو باریک اشیا پر فطری طور پر زیادہ ارتکاز حاصل ہوتا ہے۔ (جیسے کشیدہ کاری میں سوئی دھاگہ استعمال کرنا)۔ اس لئے راڈار کی باریک تاروں کی نیٹ ورکنگ کے شعبہ میں ہم نے عورتوں کو کام دیا ہوا ہے۔

خدا نے مرد کو فوقیت بخشی ہے۔ یہ فوقیت اس معنی میں ہے کہ گھر کے کام کاج میں وہ عورت کا برابر کا حصہ دار ہے (رسول ﷺ نے اپنے عمل سے ثابت کیا)، مگر مزید یہ کہ، گھر کا چولہا جلائے رکھنے سے لے کر، کائنات کی تسخیرتک، مرد کو اضافی ذمہ داری دی گءہے۔ اس فوقیت کے لفظ کو عورتوں کی جذباتی بلیک میلنگ کے لئے استعمال نہ کیجئے۔ یہ فوقیت، اس سے ملتی جلتی ہے جیسے روڈ پر ایک بابے کی غلطی سے ایکسیڈنٹ ہوجائے تو نوجوان کو یہ کہہ کر منایا جاتا ہے کہ بھائ، وہ بزرگ ہیں، انکی قدر کرو۔ یہ بزرگی کا لفظ فوقیت ( اور برتری) کے لئے، تسلط کے لئے نہیں۔ (یہ ایک مثال ہے۔ اپنے موقف کو واضح کرنے کے لئے مثال دینا، قرآنی اور نبوی طریق ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مثالوں کی تقطیع اور تحلیل بھی ایک خوشگوار مشغلہ ہے۔ کفار نے خدا کی دی ہوئی مکھی اور مچھر کی مثال کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔ ہمارے ایک محترم، خوش ذوق اور خوش جمال لکھاری دوست نے ہماری دی ہوئی الیکٹران، پروٹان کی مثال سے عورت اور مرد کا ایٹمی وزن اخذ کرنا شروع کر دیا۔ یعنی مرد کو شیر لکھا جائے تو گویا شیر کے اور مرد کے دانت گنے جائیں۔ بہرحال، یہ نوک جھونک ہی تو محبت بڑھاتی ہے)

میں ایک مغربی سروے کو پڑھ رہا تھا جس میں بتایا گیا کہ وہ مرد، جو بے روزگار ہوں اور بیوی کی کمائی پہ پلتے ہوں، وہی زیادہ تر، اپنے بیویوں سے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وجہ یہ بیان کی گئی تھی کہ چونکہ، اپنی بیوی کے ساتھ، ان کو اپنی مردانگی پہ چوٹ پڑتی محسوس ہوتی ہے پس وہ دوسری عورتوں سے تعلقات بناتے ہیں جہاں نفیساتی طور پر، وہ خود کوزیر محسوس نہیں کرتے۔ یہ سروے بھی عورت اور مرد کا فطری فرق واضح کرتا ہے۔

آمدم برسر مطلب، خاکسار کا خیال ہے کہ آج کل کے حالات میں، عورت کو مرد کا معاشی بازو بننا چاہئے۔ اس موقف پر، خاکسارنے ’بہشتی زیور‘کے عنوان سے ایک تحریر لکھی ہوئی ہے (تین سال قبل) اور آپ کو ارسال کرے گا۔ تاہم، یہ معاشی امداد، گھرہستی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہئے۔ گھرہستی، جس میں اولاد کی تربیت بھی شامل ہے۔

(علما اس کی تائید کریں گے کہ دنیا میں کوئی ولی اللہ ایسا نہیں آیا جس کی ماں پہلے سے ولیہ نہ ہو)۔ تاہم، اس سب کے باوجود، اگر خاوند یا والدین، عورت سے نوکری نہیں کرانا چاہتے تو مدعی سست، گواہ چست کی طرح، کسی دوسرے شخص کو اس پر سیخ پا ہونے کی ضرورت نہیں۔ کون نہیں جانتا کہ اولاد کو تعلیم یافتہ بنانا چاہئے؟ اس کے باجود، اگر ایک میمن سیٹھ، اپنے بیٹے کو پڑھانے کی بجائے، بزنس پہ بٹھا دیتا ہے اور اس کا موقف یہ ہے کہ پڑھے لکھے لوگ، آ کر اس کی نوکری کریں گے تو ہم اس سیٹھ کے موقف سے اختلاف کے باوجود، اس پہ اپنی رائے مسلط کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔

برسبیل تذکرہ، عرض ہے کہ جو لوگ، اپنی بیٹیوں کو محض، اچھے رشتے کی خاطر ڈاکٹر بناتے ہیں اور بعد میں اس سے سروس نہیں کراتے تو یہ معاشرے پر ظلم ہے۔ اگرچہ یہ ایک الگ موضوع ہے مگر اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے، خاکسار یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ لیڈی ڈاکٹر جو نوکری نہیں کرتیں اور وہ مرد ڈاکٹر جو سی ایس ایس کرکے، میڈیکل لائن چھوڑ دیتے ہیں، ان سے تعلیمی اخراجات واپس لئے جائیں۔

اب میں گذارش کروں گا کہ میرے متذکرہ مضمون کو واپس، ” ما بعد الموت” کے موضوع پر دیکھا جائے کہ کیوں مرد کے لئے کئی حوریں ہوں گی جب کہ عورت کے لئے ایک ہی مرد ہو گا۔ (اس اضافی نوٹ کے ساتھ کہ حور اور دنیاوی عورت، دو مختلف اجناس ہوں گی، پس کامل موازنہ نہیں ہوسکتا تو اس لئے آپس میں حسد بھی نہیں ہوسکتا)۔


Comments

FB Login Required - comments

8 thoughts on “’ ہم سب ‘دوستوں کی عدالت میں

  • 31-01-2016 at 9:32 pm
    Permalink

    Very nice saleem sb. …

  • 31-01-2016 at 9:42 pm
    Permalink

    بہت شکریہ سلیم صاحب۔ سچ پوچھئیے، بہت خوشی ہوئی آپ کی وضاحت دیکھ کر۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آداب و سلام۔

  • 31-01-2016 at 10:23 pm
    Permalink

    I already Saleem Sb, I will be glade if reader understand your point of view instead of examples and sentences used… Isn’t it?????

  • 31-01-2016 at 10:24 pm
    Permalink

    I already said / commented.
    above comment stared as…..

  • 31-01-2016 at 11:52 pm
    Permalink

    Adaalat na kahain mehfil kahain. ..dost bhee keh rahay hain aur lafz Adaalat bhee istamaal kar rahay hai….

  • 01-02-2016 at 10:37 am
    Permalink

    بہترین وضاحت اور زبردست اسلوب۔ مجھے کبھی یہ گمان ہوتا ہے کہ ہر طبقے میں تحصب موجود ہے۔ چاہے وہ لبرل ہوں، آزادخیال ہوں یا کہ بنیاد پرست مذہبی ہوں۔

  • 01-02-2016 at 11:25 am
    Permalink

    جناب عاصم بخشی صاحب اور دیگر دوستوں کی طرف سے حوصلہ افزائ کا شکریہ-جناب دوستوں کی عدالت تو ہمارے ہاں روز لگتی ہے اور ہم ایسی عدالتوں کی طرف سے عائد کئے گئے جرمانوں کی مد میں کئ مطاعم کا بزنس بڑھا اور اپنا پیٹ بڑھا چکے ہیں-لیکن وہ جو عربی میں کہتے ہیں”ضرب الحبیب، زبیب”–خوش رہیئے-

  • 01-02-2016 at 12:36 pm
    Permalink

    Dear Salim sb, I agree with you to the extent of “natural tendencies” of women. Even in primordial matriarch societies when the women used to control the families, they preferred to stay home, and to do household chores. But here a question arises, isn’t this nature a result of consistent practice of centuries?? Couldn’t it be changed by developing practices to the contrary??

Comments are closed.