شام میں امن کی موہوم امید


mujahid aliسوٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں شام کی خانہ جنگی ختم کروانے کے لئے بشار الاسد کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا امکان پیدا ہؤا ہے۔ اگرچہ متحدہ شامی اپوزیشن ایچ این سی نے مذاکرات میں شرکت کے لئے چند شرائط عائد کی ہیں۔ البتہ یہ امر خوش آئند ہے کہ شروع میں ان مذاکرات کا بائیکاٹ کا اعلان کرنےکے بعد اب شامی اپوزیشن کی ہائی نیشنل کمیٹی کا وفد جنیوا پہنچ چکا ہے۔ یہ وفد آج اقوام متحدہ کے مندوب سٹیفن ڈی مسٹورا سے ملنے والا تھا۔ البتہ شامی اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لئے شام اور روس کو اس کے زیر کنٹرول علاقوں پر بمباری بند کرنا ہو گی۔ اس کے علاوہ شہروں اور قصبوں کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تا کہ لوگوں تک بنیادی ضرورت کی اشیا پہنچ سکیں۔ یہ وفد شامی حکومت کے زیر حراست بچوں اور عورتوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مندوب نے شامی اپوزیشن کے وفد کی آمد کے بعد امید ظاہر کی ہے کہ ابتدائی طور پر سامنے آنے والی مشکلات کو حل کر لیا جائے گا اور مکمل جنگ بندی کے لئے بامقصد مذاکرات کا آغاز ہو سکے گا۔ اس طرح 5 سال تک خانہ جنگی میں مبتلا شام میں امن کی ایک موہوم سی امید پیدا ہوئی ہے۔

شام کی اپوزیشن نے بظاہر جو مطالبات پیش کئے ہیں وہ انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے اہم ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں طویل عرصہ تک جنگ کے اثرات بھگتنے والے شہریوں کو سکون کا سانس نصیب ہو سکتا ہے۔ اس بات کا امکان بھی ہے کہ روس کے زیر اثر شام میں بشار الاسد کی حکومت ان مطالبات کو تسلیم بھی کر لے تاکہ مذاکرات کو فیصلہ کن انجام تک پہنچایا جا سکے۔ شامی حکومت کا وفد جمعہ کے روز جنیوا پہنچا تھا اور اس نے کل اقوام متحدہ کے مندوب سٹیفن ڈی مسٹورا سے ملاقات کی تھی۔ اس وقت تک ایچ این سی ان مذاکرات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کر رہی تھی۔ تاہم کل رات اس نے اپنا وفد جنیوا بھیجنے اور مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مرحلہ پر اپوزیشن اور شامی حکومت کے نمائندے بدستور ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ اپوزیشن بشار حکومت پر انسانیت سوز مظالم کا الزام دہرا رہی ہے جبکہ شامی حکومت کے وفد کا کہنا ہے کہ اپوزیشن بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے سے گریز کر رہی ہے۔ اس جنگ کے انسانی پہلوﺅں اور شام کے عوام پر اس کے اثرات سے قطع نظر بعض بیرونی عوامل فریقین کو مصالحت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان میں سب سے بڑی وجہ شام کے علاقے میں ابھرنے والی دولت اسلامیہ ہے جس نے رقہ کو اپنا مرکز بنایا ہؤا ہے۔ یہ دہشت گرد گروہ عراق کے وسیع علاقے پر بھی قابض ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ممالک اب ہر قیمت پر اس گروہ سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس نے صرف اپنے زیر تصرف علاقوں میں اسلامی خلافت قائم کرنے تک اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ دہشت گردی اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ داعش یا دولت اسلامیہ صرف اپنے کنٹرول میں آنے والے علاقوں میں حکومت کرنے کی بجائے دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنا چاہتی ہے۔ فرانس اور یورپ کے دوسرے ملکوں میں ہونے والے حملے اس بات کا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ یہ گروہ افغانستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور انڈونیشیا میں اپنے حامی گروہوں کو مستحکم کر کے مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ وسیع علاقوں پر قبضہ ہونے کی صورت میں اس گروہ کو قابل ذکر مالی وسائل حاصل ہو چکے ہیں۔ لیکن ان وسائل کو دولت اسلامیہ کے علاقوں میں عوام کی بہبود پر صرف کرنے کی بجائے دہشت گردی کے فروغ کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس صورتحال سے تنگ آ کر روس نے گزشتہ سال کے آخر میں شامی حکومت کی عملی امداد کا اقدام کیا تھا۔ اس طرح اب بشار الاسد کی حکومت کو اسلحہ کے حصول اور فضائی حملوں کے لئے روسی فضائیہ کی امداد حاصل ہو چکی ہے۔ امریکہ نے ان حالات میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ داعش کا مقابلہ کرنے اور مشرق وسطیٰ میں اس کا مرکز ختم کرنے کے لئے شام کی خانہ جنگی کا خاتمہ ضروری ہے۔ اس لئے اب مغرب کی طرف سے مذاکرات اور شام کے تنازعہ کے پرامن حل کے لئے بشار الاسد کے استعفیٰ پر اصرار نہیں کیا جاتا۔ جبکہ شامی اپوزیشن جسے سعودی عرب کی سرپرستی اور تعاون حاصل ہے بہرصورت بشار الاسد کو اقتدار سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ اس حوالے سے امریکہ ، روس اور دیگر اہم ملکوں نے نومبر میں جس روڈ میپ پر اتفاق کیا تھا اس کے تحت اپوزیشن اور حکومت کے درمیان اتفاق رائے کی صورت میں آئندہ 18 ماہ کے دوران انتخابات کروا کے نئی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ شامی اپوزیشن اور اس کے سرپرست سعودی عرب کا مسئلہ یہ ہے کہ اس معاہدے میں یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ بشار الاسد آئندہ منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ سعودی عرب کو اندیشہ ہے کہ اگر بشار الاسد بدستور برسر اقتدار رہے تو شیعہ مسلک کی علوی شاخ سے تعلق کی بنا پر ایران ان کی پشت پناہی کرتا رہے گا۔ اس طرح اس کے قرب میں ایک ایسی حکومت قوت پکڑے گی جو سعودی شاہی خاندان کے خلاف ہے۔ اس دوران اگرچہ پوری دنیا داعش اور اس علاقے میں پروان چڑھنے والے متعدد دوسرے دہشت گرد گروہوں کی قوت اور دائرہ اثر کے بارے میں تشویش کا شکار رہی ہے لیکن سعودی عرب اور اس کے علاقائی حلیف عرب ممالک یہ سمجھتے رہے ہیں کہ داعش یا دہشت گردی کی بجائے اصل خطرہ ایران کی توسیع پسندانہ حکمت عملی سے ہے۔ ایران اب دنیا کے ساتھ سفارتی و اقتصادی تعلقات بحال کر رہا ہے۔ اس طرح اسے جو نئے وسائل ، اثر و رسوخ اور طاقت حاصل ہو رہی ہے، وہ بھی سعودی عرب کے لئے تشویش کا سبب ہے۔

امریکہ اور اس کے مغربی حلیف بدستور سعودی عرب کو اس علاقے میں اپنا اہم حلیف مانتے ہیں اور ایران کے ساتھ ابھی تک اعتماد کا رشتہ بحال نہیں ہؤا ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خطرے اور دنیا میں امن کے وسیع تر نقطہ نظر سے امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے لئے پیش رفت کی تھی۔ اور اس بارے میں اپنے قریب ترین حلیف اسرائیل اور سعودی عرب کے دلائل کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کے بعد سامنے آنے والے حالات میں سعودی عرب کو مسلسل امریکہ کی حکمت عملی پر اعتراض رہا ہے۔ لیکن امریکہ اور اس کے مغربی حلیف بھی سعودی عرب میں انسانی حقوق کی صورتحال اور سخت گیر نظام حکومت کی وجہ سے میڈیا اور سیاسی اپوزیشن کی تنقید کا نشانہ بنتے ہیں۔ البتہ امریکہ اور یورپ گزشتہ برسوں میں افغانستان ، عراق ، لیبیا اور شام کے بحران کے بعد یہ سبق سیکھ چکے ہیں کہ سعودی عرب میں ایک مستحکم حکومت کو ختم کرنے سے حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں بحران کی صورت میں کئی ممالک انتشار کا شکار ہو سکتے ہیں اور امریکہ و مغرب دشمن ایران اپنے تسلط اور اثر و رسوخ میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس ممکنہ خطرے سے بچنے کے لئے شام میں قیام امن کی سرتوڑ کوشش کی جا رہی ہے۔ جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات بھی امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے آج بھی ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ شام میں امن کی بحالی سے داعش کے خلاف جنگ جلد کامیاب ہو سکے گی۔ سعودی عرب کو بادل نخواستہ امریکہ کے اس موقف کو تسلیم کرنا پڑا ہے۔ تاہم ان مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لئے امریکہ کو مسلسل سعودی حکمرانوں کے ساتھ رابطہ رکھنے اور یہ یقین دلانے کی ضرورت ہو گی کہ شام میں قیام امن سے ان کے مفادات کو زک نہیں پہنچے گی۔

شام میں امن کے حوالے سے دوسرا اہم ترین معاملہ گزشتہ برس کے دوران ترکی اور یونان کے راستے شامی پناہ گزینوں کی یورپ کی طرف یلغار ہے۔ اب تک 10 لاکھ پناہ گزین جرمنی اور وسطی شمالی یورپ کے ملکوں میں پہنچ چکے ہیں۔ لاکھوں یونان اور مشرقی یورپ کے متعدد ملکوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور جرمنی ، فرانس ، برطانیہ ، سویڈن یا ہالینڈ و بیلجئم وغیرہ پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یورپ موجودہ انتظامی اور فلاحی ڈھانچے میں اتنی کثیر تعداد میں پناہ گزینوں کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس لئے کئی ماہرین کو اندیشہ ہے کہ اگر اس تعداد کو محدود نہ کیا گیا اور پناہ کے خواہش مندوں کی اکثریت کو واپس نہ بھیجا گیا تو یورپ کا فلاحی بہبود کا نظام تباہ و برباد ہو سکتا ہے۔ یورپ کے لیڈر اس مسئلہ سے نمٹنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا تیر بہدف اور مؤثر حل یہی ہو سکتا ہے کہ جلد از جلد شام میں امن بحال ہو سکے تاکہ وہاں پر حالات کو سازگار قرار دے کر پناہ گزینوں کی اکثریت کو واپس بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔

ان دو اہم وجوہات کے علاوہ روس کی شامی خانہ جنگی میں مداخلت بھی اس بحران کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکہ اور یورپ کی خواہش ہے کہ جلد از جلد جنگ بندی اور اس کے نتیجے میں انتخابات کے ذریعے نئی حکومت دمشق میں اقتدار سنبھال سکے۔ اس صورت میں مغرب کو امید ہے کہ اگر روس کا اثر و رسوخ ختم نہ بھی کیا جا سکا تو بشار الاسد کی روانگی کے ساتھ اسے محدود ضرور کیا جا سکے گا۔ اس تنازعہ میں ملوث سب فریق اب امن کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی باالواسطہ مذاکرات کا موجودہ سلسلہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔ ان مذاکرات کے لئے 6 ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ تاہم یہ کوشش صرف اسی صورت میں کامیاب ہو سکے گی جب شام کے عوام کے نمائندے اور حکومت بیرونی تحریص اور لالچ سے قطع نظر صرف امن اور شامی عوام کی بہبود کو پیش نظر رکھیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 417 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali