مذہب کی مخالفت کیوں؟


mirza mujhaidایک عرصہ سنتے رہے بلکہ آج بھی لوگ حوالہ دے دیتے ہیں کہ کمیونسٹ مینی فیسٹو لکھنے والے اور اشتراکی نظریے کے بانی مبانی جرمن ماہر اقتصادیات اور مفکر کارل مارکس نے کہا تھا “مذہب عوام کے لیے افیون ہے” لیکن کسی نے کبھی نہیں بتایا کہ انہوں نے یہ کس تناظر میں کہا تھا۔ ممکن ہے اس لیے کہا ہو کہ ہر مذہب مشکل حالات میں صبر کی تلقین کرکے انسان کو اطمینان کے سرد پانی میں ڈبو دیتا ہے یا شاید اس لیے کہ اکثر حکمران مذہب کا سہارا لے کر لوگوں کو تسکین کی نیند سلائے رکھتے ہیں یا واقعی اس لیے کہا ہو کہ مذہب کی گہرائی میں جانے والا شخص راضی برضا ہو جاتا ہے اور دنیا کو بدلنے کی کوشش کرنے کی جانب راغب نہیں ہوتا۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ فقرہ کس تناظر میں کہا گیا تھا۔
’مذہبی مشکلات بیک وقت حقیقی مصائب کا اظہار ہیں اور حقیقی مصائب کے خلاف احتجاج بھی۔مذہب مظلوم مخلوق کی آہ ہے۔ دل سے عاری دنیا کا دل ہے اور روح سے عاری حالت کی روح۔ یہ عام لوگوں کی افیون ہے۔‘
مگر آج جب میں دنیا کے ان مشاہیر کی جو مسلمان نہیں تھے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق کہی ہوئی باتوں کو روسی زبان سے اردو میں ڈھال رہا تھا تو مجھے کارل مارکس کے اس بیان نے چونکا دیا کہ: “اپنی زندگی کو داو¿ پر لگاتے ہوئے انہوں نے بت پرستوں کو ایک خدا کی عبادت کی دعوت دی تھی اور ایک ابدی زندگی کی نوید سنانا شروع کی تھی۔ انہیں تاریخ انسانیت کی عظیم ہستیوں میں شمار نہ کرنا نا انصافی ہوگی۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کی رسالت کو اور اس بات کو کہ وہ زمین پر بھیجے گئے اللہ کے نبی ہیں، تسلیم کریں”۔
ایک بار ہم پھر اسی فقرے کی جانب آتے ہیں جس کا کروڑوں بلکہ اربوں بار حوالہ دیا گیا ہے کہ ”مذہب لوگوں کے لیے افیون ہے“جو درحقیقت ”مذہب عام لوگوں کی افیون ہے“۔ سبھی جانتے ہیں کہ اسپرین اور اس قبیل کی ادویات سے سے پہلے افیون ہی درد سے نجات دلانے والی دوا ہوتی تھی۔ استحصال، ظلم، زیادتی، ناانصافی، جبر، بے توجہی، سرد مہری وغیرہم کے نیزوں کی انیوں سے زخمی لوگ ، جب تک ان کے پاس ان مصائب سے نجات دلانے والا رہنما کوئی نہ ہو تو دوا لینا ہی مناسب اور سہل جانیں گے۔ اس کے برعکس کارل مارکس نے اپنے موخر الذکر بیان میں واضح کر دیا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بت پرستوں کو ایک خدا کی عبادت کرنے کی دعوت دی تھی اور ایک ابدی زندگی کی نوید دی تھی۔ یہ نہیں کہا کہ انہوں نے نعوذباللہ لوگوں کو مذہب کی افیون دی تھی۔ اس مذہب کے ماننے والوں نے تو ان کے وصال کے صرف اسی برس بعد ہندوستان کی سرحدوں سے لے کر بحیرہ روم کے ساحل تک ایک اسلامی دنیا تشکیل کر ڈالی تھی جو افیون کے ماتے ہرگز نہیں کر سکتے۔
انگریز مورخ ایڈورڈ گبّن نے تو اس سے بڑھ کر کہا تھا کہ: ” یہ پرچار نہیں ہے۔ ہماری توجہ کا مرکز ان کے مذہب کی طویل سرگرمیاں بنی ہیں۔ راستہ دکھانے والے کے طور پر قرآن کا کردار افریقیوں ، ایشیائیوں اور ترکوں کے لیے کم نہیں ہوگا۔ اس نظریے کے حامی شدومد کے ساتھ ہر طرح کی برگشتگی اور ٹوٹ پھوٹ کے خلاف ، اپنے جذباتی پن، رجائیت پسندی اور فکر میں مائکرون بھر کمی لائے بغیر جی جان سے لڑ رہے ہیں۔
”میں قائل ہو کر کہتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور محمدﷺ اس کے نبی ہیں”۔ یعنی اس نے کلمہ پڑھ لیا مگر مسلمان نہیں ہوا تھا۔
ایسے بیسیوں مشاہیر نے حضور صلعم کے متعلق، ان کی سعی کے بارے میں اور مذہب اسلام کے متعلق ایسی ہی مثبت باتیں کی ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔ مگر ہمارے اپنے دوست پتہ نہیں مذہب کے پیچھے کیوں پڑے رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں اتنی جرات رندانہ بھی نہیں کہ کھل کر مذہب کی مخالفت کریں۔
مذہب کوئی بھی غلط نہیں ہوتا۔ اگر مذہب کو مذہب کے طور پر نہ بھی لیا جائے تو بھی وہ ایک وقت کی فلاحی ، رفاحی، اخلاقی اور انقلابی تحریک ضرور ہوتا ہے البتہ یہ اور بات ہے کہ ہر مذہب کو استعمال کرنے والے ہمیشہ ، ہر جگہ اور ہر عہد میں پائے گئے ہیں۔ آج کے دہشت گرد بھی مذہب کا استعمال کر رہے ہیں اور اسلامی ملکوں میں انسانوں کا جی بھر کے استحصال کرنے والے بھی مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔
اشتراکی نظریے کا ہی ایک نفسیاتی حصہ ’بیگانگی‘ہے۔ بیگانگی دراصل ہر اس شے سے ہو جاتی ہے جو آپ پر جبراً یعنی آپ کی منشا کے خلاف مسلط کی جائے۔ کسی کا فائق اختیار سب سے بڑا جبر ہوتا ہے۔ جیسے بادشاہ، ویسے تو مسلمان بادشاہوں نے بھی مذہب کے نام پر بادشاہتیں قائم کی ہوئی ہیں جو اسلامی نظریے کی یکسر نفی ہے۔ بچے کے لیے ناقابل برداشت اختیار باپ کا ہوتا ہے مگر اس کے خلاف وہ احتجاج اس لیے نہیں کر سکتا کہ باپ ایک زندہ ہستی ہے جس کو معاشرے نے ایک مقام دیا ہوا ہے اور امکان ہوتا ہے کہ وہ احتجاج کی سزا کے طور پر کچھ مراعات یا سہولتوں سے ہی محروم نہ کر دے۔ دوسرا بڑا اختیار خدا کا ہوتا ہے۔ خدا سامنے نہیں ہوتا اور بلاوجہ یہ یقین بھی ہوتا ہے کہ ٹانگ نہیں ٹوٹے گی، آنکھ ضائع نہیں ہوگی، دھڑ مفلوج نہیں ہوگا چنانچہ بیگانگی کا اظہار خدا سے کیا جاتا ہے۔ اب خدا کوئی ایسی چیز تو ہے نہیں جس کے اجزا آپ کے ہاتھ سے مس ہو سکتے ہوں یا آپ کی زبان سے ان کو کچھ زد پہنچ سکتی ہو،۔ مذہب چونکہ خدا سے وابستہ ہوتا ہے جس کو ماننے والے بھی ہوتے اور اس کا استعمال کرنے والے بھی چنانچہ اس بیگانگی کی چھری سے ان دونوں کو زک پہنچائی جا سکتی ہے۔ ردعمل میں مذہبی لوگ بھی کیونکہ وہ آج سے چودہ سو برس والے لوگ نہیں ہیں اسی طرح بلکہ اس سے کہیں زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں، اس لیے ہمارے دوست تمام زیادتیوں کا ملبہ مذہب پر ڈال دیتے ہیں جو درحقیقت مذہب کا نام لے کر زیادتیاں کرنے والوں پر ڈالا جانا چاہیے۔
آج سے چالیس برس پہلے ملاّ کس قدر بے ضرر اور ضروری شے ہوا کرتا تھا مگر کچھ امیر ملکوں کی ضرورت نے انہیں ضرررساں اور انتہائی ضروری شخصیت بنا دیا ہے۔ آج مذہب مذہب کم اور سیاست زیادہ ہو چکا ہے چنانچہ غور کرنا سیکھیں اورمذہب کی مخالفت سے گریز کریں۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “مذہب کی مخالفت کیوں؟

  • 01-02-2016 at 12:43 pm
    Permalink

    great words sir. liked to read

  • 02-02-2016 at 12:18 am
    Permalink

    مجاہد مرزا صاحب مارکس کے قول کو پیش کرتے وقت حوالہ بھی دے دیتے تو زیادہ قابل غور ہوتا۔ یہ صاحب اگر اینگلز کی کتاب “کمیونزم کے اصول” ہی پڑھ لیتے تو اس قسم کی ہوائی نشریات نہ کرتے۔

  • 02-02-2016 at 6:25 pm
    Permalink

    http://www.islam.ru/content/kultura/45357
    سرور بوٹا صاحب!
    یہ روس کے مفتیوں کی معروف سائٹ ہے، جس کی نگرانی صدر پوتن کی انتظامیہ کے ذمے ہے اور جو غلط مواد شائع نہیں کر سکتے البتہ انہوں نے تمام مشاہیر کی کہی باتوں کے حوالہ جات درج نہیں کیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر باقیوں کی کہی باتیں درست ہیںتو کارل مارکس کا “قول” بھی جھوٹا نہیں ہوگا۔

  • 03-05-2016 at 1:34 am
    Permalink

    “ایسے بیسیوں مشاہیر نے حضور صلعم کے متعلق، ان کی سعی کے بارے میں اور مذہب اسلام کے متعلق ایسی ہی مثبت باتیں کی ہیں اور کرتے رہتے ہیں۔ مگر ہمارے اپنے دوست پتہ نہیں مذہب کے پیچھے کیوں پڑے رہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں اتنی جرات رندانہ بھی نہیں کہ کھل کر مذہب کی مخالفت کریں۔”

    بیسیوں‌مشاہیر کرتے ہیں‌ بالکل جو تعریف کے لائق باتیں‌ہیں‌ان کی تعریف کرتے ہیں۔ اور جو باتیں‌ تنقید کے لائق ہیں‌ ان کی تنقید بھی کرتے ہیں لیکن آپ صرف تعریف کو آگے بتائیں‌گے۔ کیونکہ ایک عام آدمی صرف وہی سننا چاہتا ہے۔ لیکن اسکالرز جانتے ہیں‌ کہ سکے کی دو سائڈیں‌ ہوتی ہیں۔ اگر آپ غور سے دیکھیں‌تو تین۔ اور ویسے بھی ہر انسان انہی باتوں‌ کے بارے میں‌جذباتی ہوتا ہے جو اس پر اثر ڈالیں۔ یہ بیسیوں‌ مشاہیر تو ان پسے ہوئے ملکوں‌ کا حصہ نہیں ہیں۔ اپنے ملکوں‌میں‌انہوں‌ نے اپنے دائیں‌بازو کو خود دبا کر رکھا ہوا ہے۔
    جہاں‌تک بات کھل کر کرنے کی ہے تو آپ دیکھیں کہ سعودی عرب میں‌، پاکستان، ایران اور بنگلہ دیش میں‌کتنے لوگوں‌کو صاف بات کرنے پر جان سے ماردیا جاتا ہے تو پھر ظاہر ہے کہ لوگ ڈر دب کر رہ رہے ہیں۔
    بلاسفمی لا اور اپاسٹسی لاز ہٹا دیں، معاشرے میں‌ سے تشدد نکال دیں‌ پھر پوچھیں۔

Comments are closed.