کیپٹن صفدر: مریم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں، اب ثابت کرو ذرا


کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے سپریم کورٹ میں بیان جمع کروایا ہے اور کہا ہے کہ ان کی اہلیہ، مریم نواز صفدر، کی کوئی آف شور کمپنی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی اہلیہ پرجن اثاثوں کا الزام لگایا ان کی کبھی وہ مالک نہیں رہی۔

وزیراعظم کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے اہلیہ کی آف شور کمپنی سے متعلق عمران خان کے الزامات کو بے بنیاد اور غلط قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے موقف اختیار کیا ہے کہ ان کی اہلیہ پرجن اثاثوں کا الزام لگایا ان کی کبھی وہ مالک نہیں رہی، درخواست بے بنیاد اور جھوٹی قرار دے کر خارج کی جائے۔ عمران خان نے ان کے خلاف جھوٹا کیس بنایا۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا کہنا ہے کہ ان کی نااہلی کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو ریفرنس نہیں بھیجا گیا، الیکشن کے بعد آرٹیکل 63 کے تحت نا اہلی کا دائرہ محدود ہے، الیکشن سے پہلے آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کا سوال نہیں اٹھایا گیا، سپریم کورٹ میں اہلیت پر سوال آرٹیکل 225 کی خلاف ورزی ہے۔ وزیراعظم کے داماد کا کہنا ہے کہ انہوں نے کاغذات نامزدگی میں اثاثوں کی مکمل تفصیل فراہم کی، ان کی اہلیہ بھی باقاعدگی کے ساتھ ٹیکس ادا کرتی ہے، ٹیکس ریٹرن میں اہلیہ نے تمام اثاثے ظاہر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی درخواست بے بنیاد اور جھوٹی قرار دیکرخارج کی جائے۔

نواز شریف کے وکیل نے ان کا بیان سپریم کورٹ میں جمع کرایا ہے کہ وہ آف شور کمپنیوں، اور لندن میں پارک لین کے فلیٹوں کے مالک نہیں ہیں اور ان کا نام بھی پاناما پیپرز میں نہیں آیا ہے۔

بظاہر اب ایک طویل قانونی جنگ ہو گی، جس کا نتیجہ بیس سال میں بھی نکل آئے تو بڑی بات ہے۔

اسی بارے میں: ۔  پانامہ فیصلے کے ادبی پہلو

اب عمران خان تو کیا، نیب بھی یہ ثابت کرنے میں مشکل محسوس کرے گی کہ ان خواتین و حضرات کی کوئی آف شور کمپنی ہے۔ بے نظیر بھٹو شہید اور آصف زرداری کے خلاف کوٹیکنا کیس میں بیس سال کی مدت میں بھی کچھ ثابت نہیں ہو پایا تھا حالانکہ اس کے ثبوت، پاناما کے مقابلے میں کافی مضبوط تھے۔ جس طرح کوٹیکنا کے سوئس کیس میں محض قوم کا پیسہ ہی ضائع ہوا تھا اور غیر ملکی دورے کرنے والے سرکاری تحقیقاتی افسران کے علاوہ اس کا فیض کسی نے نہ پایا تھا، ویسا ہی پاناما کیس میں ہو گا۔

پانام پیپرز بنیادی طور پر پاناما کے وکلا کی ایک کمپنی موساک فونیسکا کی دستاویزات ہیں جو کہ اس کا کمپیوٹر سسٹم ہیک کر کے جاری کی گئی تھیں۔ کیا پاکستان کے پاس ایسا کوئی ذریعہ ہے کہ وہ موساک فونیسکا کو اس بات پر مجبور کر سکے کہ وہ اپنا مصدقہ ریکارڈ پاکستان کو دے؟ جن اخبارات اور اداروں نے موساک فونیسکا سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، انہیں وہ وکلا کی زبان میں بہلاوے دے کر فارغ کر چکی ہے اور اس نے واضح کیا ہے کہ اس نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا ہے۔

فرم کے ایک بانی رامون فونیسکا مورا نے سی این این کو بتایا کہ پبلش ہونے والی معلومات جھوٹی ہیں اور ان میں بہت سی غلطیاں ہیں اور ان پیپرز میں موجود بہت سی پارٹیاں موساک فونیسکا کی کبھی بھی کلائنٹ نہیں رہی ہیں۔

پاناما کے صدر نے اپریل میں پاناما کے معاشی نظام کو شفاف بنانے کے لئے نوبل انعام یافتہ جوزف سٹگلیز کی سربراہی میں ایک کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔ اگست میں جوزف نے استعفی دے دیا کیونکہ ان کو علم ہوا تھا کہ ان کی رپورٹ کو پبلک نہیں کیا جائے گا۔ یعنی وہ بھِی پاکستانی انداز کا کمیشن ہی تھا۔ پاناما کے وکلا نے پانام پیپرز کی لیک کو پاناما کے ’برانڈ‘ کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا اور اسے ملک کے معاشی اور قانونی نظام پر ایک براہ راست حملہ قرار دیا۔

اسی بارے میں: ۔  کشمیر پر پاکستانی سفارتکاری: ہوئے تم دوست جس کے

یعنی پاناما کی حکومت سے کسی قسم کے تعاون کی امید نہیں رکھی جا سکتی ہے۔ ایسا کرنا ان کے ملک کو شدید معاشی جھٹکا پہنچائے گا جو کہ وہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

تو پھر ادھر پاکستان میں محض شور ہی مچایا جا سکتا ہے، کچھ ثابت کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا ہے۔

دوسری طرف، روزنامہ دا نیوز کی خبر کے مطابق، عمران خان نے اپنی آف شور کمپنی ’نیازی سروسز‘ سے متعلق تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاریخی طور پر پاکستان کی ایسی تحقیقات جن میں غیر ملکوں کی اعانت چاہیے ہو، ناکام ہی ہوتی ہیں اور کچھ ثابت نہیں ہو پاتا ہے۔ اگر یہ لیڈر کرپشن ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں تو سب سے پہلے اراکین اسمبلی کا ٹیکس ریکارڈ ہی درست کروا دیں۔ یہ یقینی بنائیں کہ جس شخص کا جو لائف سٹائل ہے، اس کے مطابق وہ قانونی طور پر آمدنی بھی حاصل کرتا ہے اور اس پر ٹیکس دیتا ہے۔

ورنہ یہ سارا شور و غوغا، صرف عدالت کا وقت ضائع کرنے اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بڑھ کر کچھ نہیں کہلائے گا۔


پاناما کیس میں نواز شریف صاحب پھنس گئے ہیں

عمران خان کے پکوڑے اور شریف فیملی کے فلیٹ

کیپٹن صفدر: مریم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں، اب ثابت کرو ذرا

نواز شریف نے عمران خان کو مٹھائی کی مار ماری


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 732 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “کیپٹن صفدر: مریم کی کوئی آف شور کمپنی نہیں، اب ثابت کرو ذرا

Comments are closed.