سحر انگیز سکردو


(حسین جاوید افروز)

\"hussain-javed\"

کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ زندگی محض 9 سے 5 کی روٹین کا نام نہیں ہے یہ درست ہے کہ وقت کے ساتھ ذمہ داریوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دفتری مصروفیت اور روز مرہ کی بھاگ دوڑ کو ہم زندگی گزارنا سمجھ لیتے ہیں معذرت کے ساتھ یہ ہی زندگی نہیں ہے یہ محض زندگی کا ایک حصہ ہے جس کو ہم اپنے اور حاوی کرلیتے ہیں کبھی کبھی ایسی کوشش ضرور کرنی چائیے کہ زندگی کو کوئی نئے رنگ دیے جائیں۔ کبھی کبھی کچھ ساعتوں کے لئے ہی سہی اپنا راستہ تھوڑا معمول سے بدل لیا جائے۔ اس کے لئے سفر سے بہتر کوئی آپشن نہیں ہے۔ یہ سفر ہی ہے جو ہماری زندگی میں ایڈونچر کے خانے کو بھر دیتا ہے اور زندگی کو نئی راہ مل جاتی ہے آپ کی اپنی روح قدرت کی منظر کشی کا مشاہدہ کر کے تروتازہ ہوجاتی ہے۔

آپ میں چھپی جمالیاتی حس مکمل طور پر بیدار ہوجاتی ہے۔ ہر سال کم از کم کسی ایک مقام کو ٹارگٹ بنائیں اور اسے چیلنج سمجھ کر چل پڑیے۔ یقین مان لیں سفر کے اختتام پر آپ کچھ پا لینے کا ایسا احساس محسوس کریں گے جس کا کوئی مول نہیں۔ ایسی ہی کچھ کوشش ہم نے 2011 مئی میں کی جب ہم نے اپنی توجہ کا مرکز بلتستان کے دل سکردو کو بنا لیا۔ یوں تو سارا گلگت بلتستان ہی حسین نظاروں کی آماجگاہ ہے مگر سکردو کو اس دلکش جنت اراضی میں ایک سحر انگیز مقام کی حیثیت حاصل ہے۔ پاکستان کا ایسا شہر جہاں فطرت کے سارے رنگ، جھیل سے لے کر دریا، ریگزار سے لے کر برف پوش چوٹیوں شامل ہیں موجود ہیں۔

ہماری ٹیم تین افراد پر مشتمل تھی۔ حسین طارق جو ورلڈ بینک میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ان کی خوبی یہ ہے کہ یہ دن بھر کی ڈرایؤنگ کرنے کے بعد بھی ہشاش بشاش رہتے ہیں اور ہر دم ایڈونچر کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دوسرے ممبر کاشان حیدر ہیں جو کہ ایک نجی بینک میں ملازمت کرتے ہیں ان کی خوبی یہ ہے کہ راستے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں یہ ہمیشہ مسکراتے رہیں گے اور غصہ ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا۔ دوران سفر ان کی زندہ دلی نے سفر کو یادگار بنا دیا۔ ہم تینوں شاہراہ قراقرم پر چلاس جا رہے تھے۔ مزے کی بات ہے کہ تینوں کا سکردو جانے کا یہ پہلا اتفاق تھا لہذا جوش، سنسنی میں کوئی کمی نہیں تھی۔ میرا یہ شمال کا پہلا دورہ تھا لہذا نئے راستوں کو دیکھنے کا اپنا ہی ایک خاص لطف تھا۔ بقول حسن، شاہراہ قراقرم ایک پائیدار شاہراہ ہے کیونکہ وہ اور کاشان چار سال قبل گلگت ہنزہ کا سفر کر چکے تھے لہذا ہم گلگت میں رات گزارنے کے خواب دیکھنے لگے، لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ شاہراہ ریشم بشام سے چلاس تک ناگفتہ بہ حالت میں تھی لہذا گلگت تو کیا پہنچتے ایک جان توڑ، سفر کے بعد ہم شام ڈھلے چلاس پہنچے اور یہیں قیام کیا۔

\"شنگریلا\"

چلاس سے ذرا پہلے بادلوں میں ایک سفید عظیم ہیولاسا دکھائی دیا۔ پھر علم ہوا یہ ہے نانگا پربت جس کی ہیبت ایک عالم پر حاوی ہے یہ منظر ہمیشہ کے لئے ہمارے ذہنوں میں انمٹ ہوگیا۔ اگلی صبح ہم سکردو کے لئے روانہ ہوئے مگر خراب سڑک کی بدولت دن دو بجے جگلوٹ پہنچے جہاں ایک روڈ سائیڈ ڈھابے سے کھانا کھایا گیا۔ وہاں فیض اﷲ نامی لڑکے نے یہ خبر سنائی ’’سکردو کیوں جاتا ہے اس پر جانے والا پل ٹوٹ چکا ہے وہاں جانا بے فضولی ہے‘‘ گویا سارے ارمان دریائے سندھ میں بہتے نظر آئے لیکن جگلوٹ سے آگے عالم پل قائم تھا اور ہم اس پر گامزن تھے۔ بلتی سلطنت کا آغاز ہوچکا تھا۔ گلگت سکردو روڈ کا فاصلہ 178km ہے۔ ہمیں لگا کہ پانچ چھ گھنٹے سے کم کیا سفر ہوگا لیکن ہمیں سکردو پہنچنے میں 8 سے9 گھنٹے لگ گئے۔

حراموش سلسلے کے بلند بالا پہاڑ ایک جانب، درمیان میں مختصر سی سکردو روڈ اور بائیں جانب کھائیوں میں چنگھاڑتا دریائے سندھ ۔ یہ بھی ایک جان توڑ، جان لیوا سفر رہا راستے میں سسی، ہانوچل، انصر کیمپ، دمبوداس اور روندو کے مقامات آئے۔ شام کے گہرے سائے میں راستے میں ایک بلتی بزرگ سے جب سکردو کا راستہ پوچھا تو اس نے زور دے کر کہا ’’سکردو ضرور جاؤ مگر ہمارا گاؤں ابھی چلو اتنی دور سے آئے ہو ہمارے مہمان ہو ‘‘سچ پوچھئے اس بلتی بزرگ کی مہمان نوازی کی پیشکش نے دل جیت لیا رات گئے ہم سکردو شہر پہنچے۔ ہماری بکنگ شنگریلا ریزارٹ میں آرمی میس میں تھی۔

\"شنگریلا\"

اگلی صبح حسین شنگریلا جھیل ہمارے سامنے تھی ہمارے کمرے اس کے کناروں سے چند قدم ہی دور تھے تب خیال آیا کہ شاید یہ ریزارٹ برصغیرکے حسین ترین ریزارٹ میں سے ایک ہے۔ بلند بالا پہاڑوں کے درمیان شنگریلا ریزارٹ اور جھیل آپ پر ایک دیرپا اثر مرتب کرتے ہیں۔ ہم نے یہاں کشتی رانی کے مزے بھی لئے اور پھر سکردو کی تسخیر کے لئے نکل پڑے۔ آج ہماری منزل شگر تھا جہاں قلعہ فونگ کھر اپنی مثال آپ ہے۔ سکردو سے شگر کا فاصلہ آدھے گھنٹے کا ہے لیکن بلند کوہساروں کے درمیان شگر روڈ جس کے دونوں اطراف ریت موجود تھی۔ ذرا ہی دور دریائے سندھ موجیں مار رہا تھا۔ صحیح معنوں میں یہ شاید پاکستان کی حسین ترین روڈ ہے جس کے ارد گرد فطرت کی رنگا رنگی اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ شگر ایک چھوٹا سا شہر ہے جہاں’’ قلعہ فونگ کھر‘‘ دریائے شگر کنارے آن بان سے کھڑا ہے۔

\"شنگریلا\"

آغا خان فاؤڈیشن نے کمال مہارت سے اس قلعے کو نفاست اور صفائی کے ساتھ سجایا ہے عماچہ خاندان کے راجہ شگر کے کمرے، باروچی خانہ، بیگمات کے زیورات تمام چیزیں نہایت قرینے سے رکھی ہیں اور ایک نوجوان بلتی گائیڈ نہایت تفصیل سے قلعے کی تاریخ کو اجاگر کرتا ہے۔ شگر سے آگے ہی کے ٹو ٹریک کے راستے نکلتے ہیں اس پر کولے وہ آخری مقام ہے جہاں تک جیپ جاتی ہے۔ اب شگر کو ضلع کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے یہاں کی امبورک مسجد شاہ ہمدان نے تعمیر کرائی جس کو یونیسکو کی جانب سے ایوارڈ بھی ملا ہے۔ یہاں سے اگلی منزل’’ کھرفوچو فورٹ‘‘ تھا جو سکردو بازار سے ہوکر ایک خاصی اونچائی پر قائم ہے۔ کھرفوچو نے بھی ماضی کے سرد گرم دیکھے ہیں۔ مشہور بلتی بادشاہ’’ علی شیر خان انچن‘‘ نے اسے تعمیر کرایا۔ یہاں سے سارے سکردو شہر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

راستہ چڑھائی کا تھا اور تیزا ہوا چل رہی تھی کہتے ہیں شیر خان انچن کی ملکہ’’ میندوق کھر‘‘ نے قلعے سے ایک خوبصورت نہر نکلوائی تاکہ شیر انچن کو جنگ سے واپسی پر ایک سرپرائز دے لیکن میندوق کھر کی تیار کردہ نہر انچن کو پسند نہ آئی اور اس نے کہا کہ بہتر تھا کہ نہر نہ نکالی جاتی اس پر میندوق کھر بہت افسردہ ہوئی۔ اپنے محبوب سے ستائش کی امید بر نہ ہونے پر اس نے اسی اداسی میں جان دے دی۔ اسی کھرفوچو قلعے کو ڈوگرا جرنیل زور آور سنگھ نے تہہ و بالا کیا اور بلتی فوج کو شکست دی، بعد ازاں 1947 میں مجاہدین شمال نے اسی قلعے کی بلندیوں پر قابض ہوکر ڈوگرہ فوج کو چھاؤنی میں محصور کردیا اور سکردو پاکستان کا حصہ بن گیا۔

\"اپر

بہر حال اب اس قلعے میں محض ایک مسجد اور دو تین کوٹھریاں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ یہاں سے اب ہماری منزل’’ اپر کچورہ جھیل‘‘ تھی جو کہ کچورہ گاؤں میں واقع تھی۔ یہاں سے ایک راستہ استور کی جانب بھی جاتا ہے لیکن یہ ٹریکر حضرات کے لئے زیادہ موزوں ہے۔ اپر کچورہ جھیل ایک قدرتی جھیل ہے جہاں گویا ہر طرف رومانوی داستانیں بکھری ہو ں۔ جھیل کے ارد گرد سبزہ اسے اور بھی خوابیدہ بناتا ہے۔ اس کے خاموش کناروں پر کاشان اور حسن باربی کیو کی تیاریوں میں مشغول رہے اور یوں ایک بلتی مرغی اپر کچورہ کے کناروں پر امر ہوگئی۔ واپسی پر ایک دلچسپ قصہ ہوا کہ کچورہ گاؤں پہنچنے تک رات ہوچکی تھی کہ یکایک پہاڑوں پر بلاسٹنگ شروع ہوگئی اور اس پر ستم یہ کہ ہم راستہ بھول چکے تھے اب ہم کچورہ گاؤں کے پانی بھرے کھیتوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے لیکن بھلا ہو اہل کچورہ کا کہ انہوں نے ہماری راہنمائی کے لئے کچھ لڑکے بھیجے کہ پردیسی پھنس نہ جائیں یوں وہ ہمیں گاؤں سے باہر گاڑی تک لے آئے اور ہم واپس شنگر یلا پہنچ گئے۔ اہل شمال کا یہی تعاون اور بے لوث جذبہ ہی ہے کہ ہم شمال کے لئے ہر سال دوڑے چلے آتے ہیں۔

\"سد

آخری روز ہماری منزل ’’صدپارہ جھیل ‘‘ تھی جس کے بارے میں ہماری ریسرچ کہتی تھی کہ یہ ایک جیپ ٹریک ہے لیکن حسن نے سکردو سے 6 کلومیٹر دور اس جھیل کے جیپ ٹریک پر کار چلا دی اور یوں صدپارہ کے سبز مرمریں پانیوں سے ہمارا سنگم ہوگیا۔ اس جھیل میں دیوسائی سے آنے والے کئی نالے گرتے ہیں اور یہ شیر خان انچن ہی تھا جس نے اس جھیل پر بند کی بنیاد رکھی اب یہاں صدپارہ ڈیم کے ذریعے سکردو شہر کو پانی کی فراہمی جاری رہتی ہے۔ ان پانیوں میں کشتی رانی ایک ناقابل فراموش تجربہ ہے۔ وقت کی کمی کے باعث ہم خپلو نہ جاسکے جو سیاچن جاتے ہوئے بلتستان کا آخری شہر ہے لیکن کچھ مقامات ایسے ہونے چاہیے جن کو’’ پھر کبھی سہی‘‘ کی نذر کرنا چاہیے تاکہ دوبارہ آنے کا سامان پیدا ہو سکے۔ سکردو کو’’ تبت خورد ‘‘یعنی چھوٹا تبت بھی کہا جاتا ہے۔ ایک زمانے میں شیر خان انچن نے لداخ، کارگل، چترال اور بلتستان تک کے سارے علاقے فتح کیے۔ پھر لداخ اور بلتستان 1947 میں بٹ گئے۔

\"دریائے

سکردو شہر شاید پاکستان کا حسین ترین شہر ہے جہاں ہمیشہ ایک ڈسپلن ایک سکون کی سی کیفیت چھائی رہتی ہے۔ یہاں کا چوک یادگار اپنی مثال آپ ہے اور ٹریکنگ پر جانے والوں کے لئے کیمپنگ مارکیٹ ایک سرمائے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہیں سے کھرمنگ، اولڈنگ، خپلو اورگیاری کے لئے راستے نکلتے ہیں افسوس ہمارے میڈیا نے سکردو اور سارے بلتستان کو نظر انداز کردکھا ہے لیکن داد دیں’’ ڈیگو بنل‘‘ کو جس نے Net Geo پرپاکستان کے لئے بنائے گئے اپنے پروگرام میں سکردو کوجگہ دی اور اسے دنیا کا حسین مقام قرار دیا۔ بطور پاکستانی سیاح میری حکومت سے درخواست ہے کہ گلگت سکردو روڈ کی تعمیر جنگی بنیادوں پر کی جائے اور سکردو ائیر پورٹ کو ہر موسم کے لئے قابل استعمال بنایا جائے اور یہاں کی بلتی تاریخ کو اجاگر کیا جائے۔ بلتی ورثہ اور بلتی لوگ ہمارے کلچر اور ہماری قومی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش کردار ہیں۔

(فوٹوگرافی: قمر عباس)



Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔