جنرل الیکشن نہیں ہارا کرتے


فرزندِ اقبال، ڈاکٹر جاوید اقبال کو ہم سے رخصت ہوئے قریب تین برس بیت گئے۔ مرحوم سے کئی بار ملنے اور ان کی تقاریر سننے کا اتفاق ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نہایت نفیس انسان تھے۔ ایک سچے دانشور۔ ان کی علمی حیثیت مسلمہ ہے۔ علامہ اقبال کی بہت عمدہ سوانح عمری، زندہ رود،کے عنوان سے لکھی۔ ان کی کتاب، اپنا گریباں چاک، میرے خیال میں اردو کی بہترین آپ بیتیوں میں سے ایک ہے، جس میں انھوں نے اپنے بارے میں اتنا سچ لکھ دیا کہ بندہ حق گوئی کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کتاب میں علامہ اقبال کے نام خط میں انھوں نے مسلم قومیت اور اسلامی ریاست کے مسئلے پر پدر محترم کو مخاطب کرکے کچھ سوالات اٹھائے ہیں جو مجید نظامی صاحب کو لڑ گئے تھے۔ انتظار حسین صاحب نے ایک دفعہ بتایا کہ مجید نظامی صاحب نے جاوید اقبال کو اپنی کتاب میں مذکورہ خط شامل نہ کرنے پر زور دیا تھا،اس پر جب انھوں نے اعجاز بٹالوی صاحب سے مشورہ مانگا تو ان نے تجویز کیا کہ ایسا ہرگز نہ کرنا، تمھارا وہ خط ہی تو حاصلِ کتاب ہے۔ جاوید اقبال نے یہ خط ایوان کارکنان تحریک پاکستان کی جس مجلس میں پڑھا، ہم بھی وہیں موجود تھے۔ اس تحریر کے آخر میں انھوں نے والد کو مخاطب کر کے کہا:

آپ کو یاد ہو گا جب اس دنیا میں آپ کی آخری شب تھی۔ میں کمرے میں داخل ہوا تو آپ پہچان نہ سکے۔ پوچھا: کون ہے؟ میں نے جواب دیا:”جاوید ” فرمایا: ” جاوید بن کر دکھاؤ تو جانیں!” افسوس ہے میں آپ کی خواہش کے مطابق “جاوید” نہ بن سکا۔ “

ڈاکٹر صاحب کو ایک دفعہ اس وقت بہت جذباتی تقریر کرتے سنا جب الطاف حسین نے ہندوستان میں قیام پاکستان کو بلنڈر قرار دے کر دریدہ دہنی کی تھی۔ جاوید اقبال نے اپنے نام خطوط شائع کیے تو ان میں ایسے خط بھی تھے جن میں ان پر تنقید کی گئی تھی لیکن وہ انھیں بھی سامنے لے آئے۔

مشفق خواجہ کا ایک خط جو کسی اور کے نام تھا اس غرض سے شامل کرلیا گیا کہ اس میں “اپنا گریباں چاک” پر سیر حاصل تبصرہ تھا۔ مشفق خواجہ نے ان کی اس لائن کو ،جس میں وہ جنازے کے لیے خراماں خراماں چلنا لکھ بیٹھے تھے، بہت لطف لے کر بیان کیا۔ جاوید اقبال نے لکھا تھا:

۔ ۔ ۔ معلوم ہوا کہ اسی طرح لاتعداد لوگ بادشاہی مسجد میں بھی جنازے کے منتظر ہیں لہٰذا اسلامیہ کالج گراؤنڈ سے جنازہ خراماں خراماں چلتے ہوئے موچی دروازہ کے باہر سے سے ہوتا ہوا بادشاہی مسجد پہنچا۔ “

ڈاکٹر صاحب دنیا بھر کے مردوں کی اس چھوٹی سی اقلیت سے تعلق رکھتے تھے جو ہمیشہ اپنی بیوی کی کھل کر تعریف کرتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں مالی آسودگی کا کریڈٹ بھی اہلیہ کو دیتے۔ ناصرہ جاوید اور ان کی جوڑی مثالی تھی۔ وہ فکر اقبال کے شارح بھی تھے ،اقبال کے افکار کو انہوں نے کورانہ تسلیم نہیں کیا بلکہ ایک جیتے جاگتے دماغ کی حیثیت سے ان کی شاعری اور فلسفہ پر لکھا۔ اقبال پران کا شخصی خاکہ بھی کمال کا ہے، جس میں ایک بہت مختلف اقبال ہمارے سامنے آتا ہے، جو بیٹے کو پتنگ بازی کرتے دیکھ کر روک ٹوک نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ اس تفریح میں شامل ہو جاتا ہے، یہ الگ بات کہ بقول جاوید اقبال جب جب انھوں نے پیچ لڑایا ان کی پتنگ کٹ گئی۔ پتنگ بازی پر ہی موقوف نہیں، بیٹے کے ساتھ کرکٹ کے کھیل میں بھی وہ شامل ہو جاتے۔ اقبال سے متعلق ان کا آخری کام ،جاوید نامہ، کے نثری ترجمہ کی صورت میں سامنے آیا۔

ایک ملاقات میں ہم نےان کی آپ بیتی پرآٹو گراف حاصل کر لیا تو پھر اس کے ساتھ، ان سے اقبال کا کوئی شعر بھی لکھ دینے کی درخواست کی جس پرانھوں نے یہ شعر لکھ کر دیا۔

وہی جہاں ہے ترا جس کو تو کرے پیدا

یہ سنگ وخشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے

جاوید اقبال کے ساتھ میری یہ تصویر 15 سال پہلے کی ہے،جس میں، میں پی ٹی وی کے مادر ملت کوئز پروگرام میں پنجاب بھر سے پہلی پوزیشن لینے پر انعام وصول کر رہا ہوں۔ اس موقع پر انھوں نے محترمہ فاطمہ جناح سے وابستہ یادوں کو تازہ کیا۔ ایک بات جو مجھے یاد ہے وہ ایوب اور فاطمہ جناح کے درمیان صدارتی الیکشن کے بارے میں تھی جس میں جاوید اقبال نے کھل کر قائد اعظم کی بہن کا ساتھ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ فاطمہ جناح اگر الیکشن جیت جاتیں تو پاکستان ٹوٹنے سے بچ سکتا تھا کیونکہ بنگالیوں نے اس الیکشن میں ان کی بڑی پذیرائی کی تھی۔ بات تو ڈاکٹر صاحب کی درست ہے لیکن نامور شاعرہ فہمیدہ ریاض کے بقول”کرسی نشین فوجی جنرل الیکشن نہیں ہارا کرتے”

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں