’ہم سب‘ کا نیا سنگ میل – 593


\"2016-11-06-alexa-593\"

’ہم سب‘ آج پہلی مرتبہ ویب سائٹس کے معتبر ترین سمجھے جانے والے الیکسا رینک میں 500 کی لائن میں آ گئی ہے۔ آج صبح ’ہم سب‘ کا رینک پاکستان میں دیکھی جانے والی تمام سائٹس میں 593 ہے۔

جب جنوری 2016 میں ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ شروع کی گئی، تو اس وقت اردو میں اظہار رائے کی ایک ایسی ویب سائٹ موجود نہیں تھی جو قوم کے تمام مکاتب فکر کا نقطہ نظر معتدل انداز میں پیش کرتی ہو۔ اس وقت موجود ویب سائٹس میں صرف ویب سائٹ کے منتظمین کے اپنے موقف کو پذیرائی ملتی تھی۔ نتیجہ یہ کہ تقسیم گہری کرتے کرتے یا تو یہ انتہائی رجعت پسند یا پھر انتہائی جدیدیت پسند نظریات کی ترویج کا باعث بنتی تھی۔

انتہا پسند رجعت پسند سائٹوں پر جذباتیت کا غلبہ ہے۔ وہاں جذبات کو بھڑکا کر ریڈر شپ بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے اور ان کے لکھاری بحیثیت مجموعی منطقی انداز میں سوچنے سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ وہ ایک یوٹوپیا کی تلاش میں دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو دنیا کا ہر غیر پاکستانی شخص، چوبیس گھنٹے پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف دکھائی دیتا ہے اور اس موقف سے اختلاف کرنے والے کو وہ غالباً صدق دل سے پاکستان اور مذہب کا دشمن قرار دیتے ہیں۔ ان کی تحریریں پڑھ کر یہی لگتا ہے کہ پاکستان میں صرف وہی محب وطن ہیں اور باقی سارے غدار ہیں۔ بہرحال وہ اپنے مخالفین کے مؤقف کو احترام دینے کے قائل معلوم نہیں ہوتے۔ اپنی صف سے باہر کھڑا ہر شخص ان کو دشمن ممالک کا ایجنٹ دکھائی دیتا ہے۔

دوسری طرف خود کو ترقی پسند کہنے والے انتہا پسندوں کی ویب سائٹس ہیں جن کو ہماری ہر قسم کی روایات سے اختلاف ہے۔ ان کی رائے میں پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا ہے جب تک کہ ہر پاکستانی شہری مذہب اور اپنی روایات سے مکمل طور پر دامن نہ چھڑا لے۔ وہ بھی ایک یوٹوپیا کی تلاش میں ہیں اور ان کی رائے میں ان سے اختلاف کرنے والا ہر شخص جنونی رجعت پسند اور ترقی کا دشمن ہونے کے علاوہ عقل سے بھی عاری ہے۔

ایسے میں جب ’ہم سب‘ نے سب کو ساتھ لے کر چلنے کا کام کر کے دکھایا، اور ہر دو قسم کی انتہا پسندی سے اظہار برأت کرتے ہوئے معتدل تحریروں کو جگہ دی، جو کہ سستی جذباتیت سے پاک ہوتی تھیں، اور کسی بھی ایک موقف کو جذبات کا سہارا لے کر نشانہ بنانے پر مبنی نہیں ہوتی تھیں، تو ہر دو حلقوں کی جانب سے اسے برا کہا گیا۔ لیکن عام پڑھے لکھے پاکستانی کی جانب سے ’ہم سب‘ کو خوش آمدید کہا گیا۔

’ہم سب‘ اپنے لبرل نظریات کے باعث سب کو برداشت کرنے کی داعی ہے۔ یہ ہر موقف کو شائع کرنے کی قائل ہے خواہ انتظامیہ کے افراد اس سے شخصی طور پر کتنا ہی اختلاف کیوں نہ رکھتے ہوں۔ صرف ایسی تحریروں کو روکا جاتا ہے جو کہ نفرت کا پرچار کرنے والی یا واقعاتی طور پر مشکوک ہوں، سستی خطابت سے بھی ہم گریز کرتے ہیں۔

’ہم سب‘ کا ماننا ہے کہ زندگی کی رنگا رنگی ہی زندگی کا حسن ہے۔ مختلف موقف اور نظریات رکھنے والے افراد، مختلف عقائد اور تہذیب رکھنے والے گروہ، مختلف انداز زندگی رکھنے والے طبقے ہی پاکستان اور دنیا کو خوبصورت بناتے ہیں۔ مختلف فکر رکھنے والے افراد ہی قوم اور انسانیت کو ترقی دے پاتے ہیں۔ دوسروں کو برداشت کرنے سے قوم متحد ہوتی ہے، اور دوسروں کو یکسر ٹھکرا دینے والے تفرقے اور تباہی کا باعث ہوتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے والا ذہن باہمی محبت اور ترقی کی طرف لے جاتا ہے اور جامد ذہن نفرت اور تباہی کی ترویج کرتا ہے۔

ہماری رائے میں ’ہم سب‘ کی اس مقبولیت کا راز اس کی ہر نقطہ نظر کو پیش کیا جانا ہی ہے۔ ’ہم سب‘ ایک رنگا رنگ دنیا آباد کر رہے ہیں جہاں ایک شخص سیاست پر بات کر رہا ہوتا ہے، دوسرا ادب پر، تیسرا ڈرامے اور فلم کو موضوع بنا رہا ہوتا ہے، تو چوتھا انسانی حقوق پر بات کر رہا ہوتا ہے۔ کہیں حقوق نسواں اور خواتین کی تعلیم کی بات ہو رہی ہوتی ہے تو دوسرے گوشے میں اردو زبان کا بہترین ادب جگمگا رہا ہوتا ہے۔ تنوع میں ہی زندگی کا حسن ہے اور تنوع کو برداشت کرنا ہی ایک بے کیف زندگی کو رنگا رنگ کر دیتا ہے۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ ’ہم سب‘ کے لئے لکھنے والوں اور اسے پڑھنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمارے لئے یہ بہت فخر کی بات ہے کہ معتدل سوچ رکھنے والوں کا ایک بڑا طبقہ ’ہم سب‘ کو اپنی تحریریں بھیجنے کا اعزاز بخش رہا ہے۔ خاص طور پر یونیورسٹی کے اساتذہ اور خواتین کی جانب سے ’ہم سب‘ کو اپنا موقف پیش کرنے کے لئے بطور پلیٹ فارم منتخب کرنا ہمارے لئے بہت حوصلہ افزا بات ہے۔ سوچنے سمجھنے والے ایسے افراد ہمارے ارد گرد جمع ہو رہے ہیں جو کہ انتہا پسندانہ سوچ رکھنے کی بجائے سب کو برداشت کرنے اور معاشرے کی فلاح اور بہتری کے لئے سوچ کے نئے زاویے دینے کی طرف توجہ دلا رہے ہیں۔ پاکستان کے کئی ممتاز کالم نگاروں نے ’ہم سب‘ کو اپنے کالم شائع کرنے کی اجازت دی ہے۔ اہم پاکستانی مصنفین ’ہم سب‘ کے لئے خصوصی تحریریں لکھ رہے ہیں۔ ’ہم سب‘ اس محبت پر ان لکھاریوں کے نہایت شکر گزار ہیں۔

اس موقعے پر ’ہم سب‘ ان لکھاریوں سے بھی معذرت کرنا چاہیں گے جن کی تحریروں کو درست کرنے کے لئے بہت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور ادارے کے کم وسائل کے باعث ان کو شائع کرنا ممکن نہیں ہو پاتا ہے۔ شروع دن سے لے کر آج تک ’ہم سب‘ پر بیس سے زائد تحریریں روزانہ شائع ہوتی ہیں اور ہر تحریر کا ایک ایک لفظ پڑھ کر ہی اسے شائع کیا جاتا ہے۔

تو آئیے، ہم سب مل کر چلیں اور اپنے وطن کو عظیم سے عظیم تر بنانے کی طرف قدم بڑھاتے رہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 599 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar