ریت اِس نگر کی ہے اور جانے کب سے ہے


عظمیٰ طور

\"society\"معاشرے میں چلنے والی چیزوں پہ میں اکثر محبت کے پردے ڈال دیتی ہوں۔ زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی۔ آسانی سے ہو جاتا۔ چند چیزیں سختی سے حملہ آور ہوتی ہیں۔ لیکن ’نہیں نہیں‘ کی گردان انہیں مجھ سے دور لے جاتی ہیں۔
اب ایسا بھی نہیں کہ میں بلی سے ڈر جانے والا کبوتر ہوں جو بلی کے نظر آتے ہی آنکھیں میچ لیتا ہے۔ مگر خوبصورتی جب بھیانک چہرے چھپائے سرگرداں نکلتی ہے تو میں خوف زدہ ہو جاتی ہوں۔ اور اس خوف کی حالت میں مَیں افسوس کو مداوا بنا کر خود کے سامنے پیش کرتی ہوں۔ تکلیف دہ ہے، مشکل ہے، بعض اوقات \”تاسف\” کے پیچھے چھپ کر مجھے اپنا آپ کچھ کچھ آنکھیں میچ لینے والے کبوتر کی مانند لگتا ہے، مگر حقیقت ہے، کیونکہ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔
’’سسرالی چشمے کے پیچھے رہنے والی آنکھ کا دل سے کوئی رابطہ نہیں‘‘
’’عورت، عورت کی دشمن ہے ہر روپ میں (محبت جس کے وجود کا خمیر اٹھائے کیا وہاں ایسا ممکن ہے)‘‘
’’بڑے عہدے دار سمجھتے ہیں ماتحت صرف کمزور ہی نہیں، لاچار ہی نہیں، زر خرید غلام ہے ‘‘
’’بڑے لوگ ( جو کہ میری نظر میں صرف نام رکھنے والے نہیں بلکہ فکر کے لوگ ہیں) ۔۔۔ خاموشی‘‘
’’ایک تجربے کی بنا پر سبھی کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا رواج ہے اور خوب ہے‘‘
’’اپنے موڈ کے پیشِ نظر چیزوں کو غلط فہمی کا شکار بنا کر سامنے والے کی تذلیل کرنا آپ کے انٹلیکچوئل ہونے کی ایک واضح نشانی ہے‘‘
’’دوسرے کی نہ سننا اور اپنی کہے جانا بھی آپ کی نظر سے گزرا ہو گا‘‘
بات پھر رویوں کی ہے۔ خود کو جان لینا پہچان لینا ایک اچھی علامت ہے اللہ کی مہربانی ہے مگر کسی کی اچھائی پا لینا ایک عجیب تسکیں دیتی ہے، جو آپ کو آپ کے اندر کو اتنا مضبوط بنا دیتی ہے کہ آپ اپنے قد سے بڑے ہو جاتے ہیں۔ \”
یہاں اپنی ایک نظم شامل کرنا چاہوں گی
کہ
بڑی دیر سے
خط کو سامنے رکھے
اسے میں الٹ پلٹ کے دیکھتی ہوں
خط کی عبارت مجھے جو کچھ جتاتی ہے
میں اس کی بابت سوچتی
خط کو بار بار پڑھتی ہوں
خط لکھنے والے نے
بڑے عجیب لہجے میں مجھے مخاطب کیا ہے
لکھا ہے
فنا کے استعارو!
تم اپنی کیا کہو گے
ہماری کب سنو گے
تمہیں کب کتابِ زیست میں محبت کے باب سے نظریں ہٹانے کی فرصت ملے گی
تمھیں ہر بار دھوکا کھانے
اور سنبھلنے میں
جو دقت درپیش ہے
اس کی سعی کرتے
تمہیں ہم دیکھتے ہیں
تمہیں ہم جانتے ہیں
تم اپنی سادہ دلی کی بدولت
جو کچھ سہہ چکے
اور آگے سہو گے
ہم اس کے پرت تمہارے سامنے کھولتے
مگر
ہمارے چہروں کے پیچھے چھپے چہرے اپنی پختہ ہیبت سے ہمیں
زنجیر کر چکے ہیں
اور تم اپنی بے احتیاط معصومیت میں اتنے
آگے جا چکے ہو کہ
اب
ہم تمھارے قبیلے کے لوگوں کو کسی صورت
اپنے کاری وار سے بچا نہیں سکتے
ہمیں ایسی بے ریا قوم کو ہر حال میں مسخ کرنا ہے
سو خدا حافظ
کشادہ دلی کے ساتھ سلامتی مانگتے رہنا اور
ہمیں ہر بار پیٹھ پیچھے وار کے مواقع فراہم کرنے کا شکریہ
فقط
’’جہاں والے‘‘
اختتام پر میرا عقیدت بھرا سلام
آئینوں میں صدا اپنے چہرے دیکھنے والوں کو میرا سلام۔۔
کم قامتی کے ساتھ جینے والوں کو میرا سلام۔
نظر کی وسعت کو محدود کر دینے والوں کو میرا سلام۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں