ثریا کی گڑیا …. اور دور جاہلیت کی کہانی


ramish fatimaایک دفعہ کا ذکر ہے ایک لڑکی تھی ,عمر بارہ یا شاید پندرہ سال ؟ سوال نہ کریں …. بس کہانی سنیں…. اس لڑکی میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ بہت سی لڑکیوں کی طرح عام سی زندگی تھی ۔ جو لہک لہک کر نظم پڑھتی تھی…. ثریا کی گڑیا تھی بھولی بہت۔ اسے ہمیشہ گھر والوں نے یہی سکھایا تھا کہ باہر نکلتے وقت دوپٹہ سر پہ نہ رکھنا ،اونچی آواز میں ہنسنا ،اور کسی اجنبی سے بات کرنا بری بات ہے ….ایک بات جو گھر والے نہ خود سمجھ سکے اور نہ اسے سمجھا سکے وہ یہ کہ زمانہ کے چال چلن میں وہ بہت بھولی بھالی اور معصوم تھی…باہر کے مگرمچھوں سے خود کو بچانا ، آستین کے سانپوں کو پہچاننا اور ان سے خود کو محفوظ رکھنا اس کی تربیت ہی میں نہیں تھا…. نہیں، جو آپ سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہوا اس کے ساتھ۔ وہ کوئی دور پرے کا رشتے دار ہو یا قریبی وہ صرف اس کے چھونے کے انداز ہی سے ڈر جاتی تھی ، آنکھوں میں چھپی ہوس کو پہچان کر چھپتی پھرتی تھی، مسلسل ذہنی کرب میں مبتلا رہتی تھی ۔ کیا ضرورت تھی اسے جسمانی اذیت پہنچانے کی؟ وہ تکلیف جو کبھی کسی کو نظر نہ آئی…. بس ایک سبق تھا جو اس لڑکی نے سیکھا…. عمر میں ہر بڑا آدمی لازمی نہیں کہ بڑا بھی ہو…. – اور اس کے بڑے یا تو انجان ہیں یا لاعلم ، اگر وہ یہ سب جانتے ہوتے تو اسے بچا لیتے برسوں کے اس عذاب سے….
ایک اور کہانی سنیں …. ایک لڑکا ہے ۔ اس کا نام بھی آپ نہیں جانتے اور نہ پہچانتے ہیں – ممکن ہے وہ آپ ہوں یا آپ کے پاس بیٹھا کوئی یار دوست…. اس کے والدین کو تمام والدین کی طرح شوق تھا اپنے بچے کو قرآن پڑھانے کا ، مگر مدرسے نہیں بھیجنا چاہتے تھے ،کیوں؟ یہ سوال آپ سوچیں۔ مجھے بس اتنا بتانا ہے کہ جن صاحب کو قرآن کی تعلیم کی یہ ذمہ داری سونپی گئی وہ اس کے والد صاحب کے قریبی دوست تھے۔ انکل بلاناغہ آتے تھے اور ایک گھنٹہ بہت تفصیل سے قرآن پڑھاتے – والدہ پردے کی پابند تھیں کیسے جاتیں کمرے میں اور والدصاحب دفتر سے واپس آتے تو یارِ غار بچے کو تعلیم دے کر جا چکے ہوتے …. وہ دن اور آج کا دن ہے اس بچے کو داڑھی اور مذہب سے نفرت ہے…

کیکر پہ انگور چڑھانے والوں کو شاید باقی گچھے بھی زخمانا تھے اس لیے ایک اور کہانی بھی سنائی جا سکتی ہے – اس بچی کی عمر محض پانچ سال تھی ، گھر سے کسی کام کو نکلی ، دو دن تک باوجود انتھک کوشش کے کسی کو بھی نہ ملی اور جب ملی تو حالت ایسی تھی جیسے کسی درندے نے نوچ کھایا ہو – تحقیقات ہوئی تب یہ معلوم ہوا کہ درندہ اسی محلے کا ایک بیس سالہ نوجوان تھا – آج وہ بچی کہیں بھی نہیں ہے مگر وہ جوان ؟ …. نہیں نہیں بھئی وہ جیل میں کیوں ہو گا ، وہ تو اسی ملک اور اسی شہر میں ایک باعزت و باوقار زندگی جی رہا ہے – اس بچی کے گھر والے بھی ایک سبق سیکھ گئے برسوں پہلے ، کہ پیسہ ایک تلخ حقیقت ہے ، اور اسی حقیقت کے آگے وہ اپنی بچی کے لہولہان لاشے کو بھلا کر سجدہ ریز ہو گئے ….

درندگی ،حیوانیت اور وحشت کی یہ کہانیاں برسوں پہلے کے قصے نہیں بلکہ یہ ایسی ستم گر کتھا ہے جو آج تک روز اول سے بار بار دہرائی جا رہی ہے اور معصوم کچلے جا رہے ہیں – یہ محض ایک دفعہ کا ذکر نہیں بلکہ ان گنت دفعہ یا دوسرے لفظوں میں ہربار کا افسانہ ہے … میں منتظر ہوں اس زمانہ کی ، جب ایسی باتیں محض کہانیوں میں ہی رہ جائیں گی – جب کہیں ان کا ذکر ہو گا تو کہا جائے گا ، نہ کرو یارو ، اس دور جاہلیت کا ذکر نہ چھیڑو….


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “ثریا کی گڑیا …. اور دور جاہلیت کی کہانی

  • 01-02-2016 at 7:17 pm
    Permalink

    YOU
    ARE
    A VERY
    BRAVE
    WOMAN

  • 01-02-2016 at 8:21 pm
    Permalink

    I wish whayeber you wish comes true in the future..

  • 02-02-2016 at 12:36 am
    Permalink

    Dil ko choonay wali tehreer.. God bless you! Keep using your pen as your weapon…

  • 02-02-2016 at 2:43 am
    Permalink

    رامش فاطمہ کی یہ تحریر ھمارے معاشرے ، ( معذرت چاھتے ھوئے جی یہی چاہ رھا ھے کہ یہاں بجائے معاشرہ ” مباشرہ” لکھوں، فغاں کروں اور پھر کہوں کہ ھاں یہ معاشرہ نہیں ، مباشرہ ھی ھے ) میں موجود ان سماجی اکائیوں کی کتھا بیان کر رھی ھے کہ جن اکائیوں کی مجموعی حالت ھی کو توڑ کے رکھ دیا گیا ھے۔
    یہ تحریر ایک جواں ھمت لڑکی کے قلم کی دلیری ھی نہیں، ایک بالغ اور پر فکر سوچ کی بھی نشان دہی کر رھی ھے، ” ھم سب” اس لحاظ سے نہایت خوب ھے کہ یہاں وہ آوازیں بھی سننے کو مل رھی ھیں ، جن کا بولا جانا نہایت ضروری ھے۔ مبارک باد رامش آپ کے لئے، جاری رکھئیے۔

    • 02-02-2016 at 11:29 am
      Permalink

      آخر کسی کو کتنا ڈرایا جا سکتا ہے,ایک حد کے بعد ڈر ختم ہو جاتا ہے ,پھر جو دیکھا اور جو ہوا سب کچھ لکھا جا سکتا ہے…

  • 03-02-2016 at 5:00 pm
    Permalink

    Keep it going dear sis! Raise your voice higher

  • 20-03-2016 at 3:26 am
    Permalink

    almia nahin ya soch ka ghatiya pan hy k masoom dilon say unka bachpan unki ‘gudian patoly’ aur unki azadi cheen le jaye jabky kissi b shakhs ke azadi wahan khattam ho jati hy jahan sy agly ke nak shoro hoti hy ,,,,weldone Ramish Fatima

Comments are closed.