پرویز ہود بھائی کا غیرعلمی موقف اور اختلافی دلائل


\"wajahat1\"پرویز ہود بھائی نے مغربی سائنس پڑھی ہے۔ عمر کا بہت سا حصہ مغرب میں گزارا ہے۔ عربی اور فارسی سے نا آشنا ہیں۔ فقہ کی تعلیم نہیں پائی. مشرقی علوم میں درک نہیں رکھتے، مشرقی روایات سے نا آشنا ہیں۔ فرنگی زبان بولتے ہیں، کوٹ پتلون پہنتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ مشرق میں کیسے کیسے اسرار پائے جاتے ہیں۔ یہاں کی گپھاؤں میں سنیاسی بابا علم کے کیسے راز لئے بیٹھے ہیں۔ یہاں کے در و دیوار پہ معجون راکٹ کی سائنس لکھی ہے۔

پرویز ہودبھائی عصر حاضر کے قد آور اکابر سے چونچ لڑانے کے عادی ہیں۔ کئی دہائیوں سے پاکستان میں سائنس کا ڈھول بجا رہے ہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ ہماری زمین ایک الگ طرح کی دھرتی ہے۔ یہ اہل دل کی دنیا ہے۔ یہاں غیرتِ ناہید کی تان شعلے جیسی لپکتی ہے۔ آنکھ میں جادو کا اثر ہے۔ چشم سیاہ کا کاٹا پانی نہیں مانگتا۔ ہم میں سے کون ہے جس پر جوانی میں کھونٹی سے لٹکتے بے نام دوپٹے کا جادو نہیں چلا۔ پرویز ہودبھائی کی بات ہم مان لیں تو اردو کے دامن میں کیا بچے گا؟ نہ ناصح بچے گا نہ زلف گرہ گیر اور نہ چشم سرما آسا۔ طلسم ہوش رہا باقی رہے گی اور نہ امیر حمزہ کی داستاں۔

پرویز ہودبھائی نے جنات اور کالا جادو وغیرہ کی آڑ میں وطن عزیز کی علمی دنیا پر جو حملہ کیا ہے اس سے دیگر احباب کی طرح میرے جذبات بھی مجروح ہوئے ہیں۔ میں نے مشرقی روایات کا بستہ ٹٹولا ہے اور صدیوں پر پھیلی اس شاداب زمین سے ایسا ایسا پھول ڈھونڈا ہے کہ اپنا جواب نہیں رکھتا۔ متعدد اشعار ایسے جاندار اردو شاعری کی زنبیل سے نکالے ہیں کہ پرویز ہودبھائی کی سائنس کیا بیچتی ہے، آئین سٹائن پانی مانگ جائے گا۔ ملاحظہ فرمائیے:

اسی بارے میں: ۔  پرویز ہود بھائی کی یونیورسٹی میں روحانی تعلیم کی بے جا مخالفت

پھول نرگس کا لیے بھیچک کھڑا تھا راہ میں
کس کی چشم پرفسوں نے میر کو جادو کیا

(میر تقی میر)

تیری آنکھوں نے خدا جانے کِیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی

(بہادر شاہ ظفر)

\"Foto:

کفِ دست نازک حنائی حنائی، وہ لب ہائے شیریں شہابی شہابی
وہ باتوں میں جادو اداؤں میں ٹُونا، وہ دُزدیدہ نظریں عقابی عقابی

(اقبال عظیم)

روشنیاں ہی روشنیاں اور نوحے تھکے جہازوں کے
بارش میں جادو کے منظر کھلے ہوئے دروازوں کے

(منیر نیازی)

تیری آواز کا جادو ہے ابھی میرے لیے
تیرے ملبوس کی خوشبو ہے ابھی میرے لیے

(پروین شاکر)

بین ہوا کے ہاتھوں میں ہے، لہرے جادو والے ہیں
چندن سے چکنے شانوں پر مچل اٹھے دو کالے ہیں

(عمیق حنفی)

پیار جادو ہے کسی دل میں اتر جائے گا
حسن اک خواب ہے اور خواب بکھر جائے گا

(فصیح اکمل )

خواب کی جادو گری رہتی ہے
نیند آنکھوں میں بھری رہتی ہے

(کاشف حسین غائر)


اسلام آباد کی جدید یونیورسٹی میں جنات اور کالا جادو پر ورکشاپ

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “پرویز ہود بھائی کا غیرعلمی موقف اور اختلافی دلائل

  • 07-11-2016 at 11:34 pm
    Permalink

    Spot on Adnan Ahmed Malik.

Comments are closed.