سید احمد خان ۔ قدامت سے جدیدیت تک کا سفر(1)


\"Pervezبرصغیر ہند و پاک کے دانشور اور عالم جب کسی شخصیت پر تبصرہ کرنے کی غرض سے اپنا قلم اٹھاتے ہیں تو عام طور پر دو انتہاﺅں پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک یہ کہ اپنی پسندیدہ شخصیت کی بے دریغ تعریفیں کی جاتی ہیں اور اس شخص کو بے حد قد آور، عظیم اور بے عیب ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کو ایسے خوبصورت الفاظ سے نوازا جاتا ہے کہ قارئین کے سامنے ایسی شفاف تصویر بن کر آئے جس پر کوئی ہلکا سا دھبہ بھی نہ ہو۔ دوسری طرف کسی ناپسندیدہ شخص کے لئے سخت سے سخت کلام سے بھی گریز نہیں کیا جاتااور اس کی خوبیوں کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ غرض یہ کہ اردو زبان میں لکھے ہوئے تبصروں اور مضامین میں اعتدال پسندی اور مثبت تنقیدکی روایت عام نہیں۔ کیا یہ اس زبان کی کمزوری ہے کہ اس کے لکھنے اور پڑھنے والوں کی؟

حقیقت یہ ہے کہ انسانی معاشرے ایک طویل ارتقائی عمل سے گزر کر بنتے ہیں اور اسی لئے ان میں ہر قسم کی پیچیدگی اور ٹیڑھا پن ہوناایک فطری بات ہے۔ ان کے اندر تضادات اور اختلافات کی بھرمار بھی ہو سکتی ہے اور اسی لئے انہیں سمجھنے کے لئے مختلف پہلوﺅں کو بیک وقت مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔ جس طرح قوس قزح میں کئی رنگ پائے جاتے ہیں، اسی طرح ایک فرد کے اندر بھی طرح طرح کے افکار، جذبات اور رجحانات ساتھ ساتھ رہائش پذیر ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا اس کا تجزیہ کرتے ہوئے تمام پہلوﺅں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ یقینا شخصیت پرستی درست طرز عمل نہیں اور یہ معروضیت اور حقیقت پسندی کے عین منافی ہے۔

سر سید احمد خان (1898-1817ئ) برصغیر پاک و ہند کی ایک قد آور اور تاریخ ساز ہستی ہیں ، جن کے مداحوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ مگر ساتھ ساتھ وہ ایک متنازعہ شخصیت کے طور پر بھی دیکھے جاتے ہیں اور ان کے نکتہ چین بھی کم نہیں۔ انہیں یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ دائیں بازو اور بائیں بازو، دونوں ان پر تنقید کرتے ہیں۔ \"sir-syed-ahmed-khan\"ایک طرف کچھ لوگ ان کے مسلمان ہونے پر شک کرتے ہیں کیونکہ ان کے مذہبی افکار و نظریات روایتی طرز سے ہٹ کر ہیں۔ ان پر انگریز دوستی کا الزام بھی لگایا جاتا رہا۔ جمال الدین افغانی، جو ان کے ہم عصر تھے، نے بھی سر سید پر کڑی تنقید کی تھی۔ ان کے بقول سر سید ’نیچری‘، انگریزوں کے خدمت گاراور خان بہادر کے سوا اور کچھ نہیں۔ دوسری طرف بائیں بازو کا اعتراض یہ ہے کہ سر سید نے عورتوں کی پردہ داری کو ضروری قرار دیا تھا اور خواتین کی تعلیم کو مسترد کیا۔ یہ اعتراضات کتنے درست ہیں، اس سے ہمیں سردست غرض نہیں۔ معروضیت کا تقاضا ہے کہ کسی بھی شخص کے کردار پر رائے دینے سے قبل اس زمانے کے سماجی اور سیاسی ماحول سے آشنائی حاصل کی جائے۔

برصغیر پاک و ہند میں انگریز استعماریت کی آمد سے کافی وقت پہلے مسلمان حکومتیں زبوں حالی کا شکار ہو چکی تھیں۔ مغل سلطنتیں اندر سے ٹوٹ پھوٹ رہی تھیں اور اسی لئے سامراجی قوتیں صرف ایک معمولی فوجی نفری کی مدد سے ان کو زیر کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یاد رہے کہ انگریز نے ہندوستان میں قریباََ ڈھائی سو برس راج کیا لیکن اس کی فوج میں پچاس ہزار سے زیادہ نفری کبھی نہ رہی۔ دوسری طرف بڑے سے بڑے لشکر مقابلے کو اٹھے مگر ان کو شکست در شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ مسلمان جو تیغ و تلوار لے کر عرب سے اس خطے میں آئے ، انہیں بندوقوں اور توپوں کے سامنے پسپا ہونا پڑا۔ لیکن اس کا سبب صرف بہتر اسلحہ نہیں تھا، جدید مواصلاتی نظام، دخانی جہازاور جدید طرز کی حکمت عملی کا بھی بہت بڑا کردار تھا۔ بالآخر فاتح بنے مفتوح اور حاکم بنے محکوم۔

سر سید نے مسلمانوں کی اصلاح و ترقی کا بیڑا اس وقت اٹھایا تھا جب مسلمان انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے۔ 1857 ء کی جنگ میں مسلمان، انگریز استعماریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے لیکن انہیں نہایت بے دردی سے کچل دیا گیا۔ ہر طرف نعشوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے اور وہ جنگ ایک ناکام بغاوت ثابت ہوئی۔ \"p0402020301\"اس کے نتیجے میں مسلمانوں پر حالات مزید تنگ ہونا شروع ہو گئے۔ سر سید احمد نے اس صورت حال کو مسلمانوں کے لئے نقصان دہ پایا اور مراد آباد پہنچتے ہی ایک کتابچہ لکھنا شروع کیا ، جس کا عنوان تھا’ اسباب بغاوت  ہند‘۔ اس کتابچے میں انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ مسلمان باغی ہرگز نہیں اور وہ حکومت سے وفاداری کا عہد کئے ہوئے ہیں۔ یہ تصور درست نہیں کہ وہ انگریزوں سے نفرت کرتے ہیں، البتہ انگریزوں کے امتیازی سلوک کی وجہ سے وہ سخت تکلیف دہ حالات میں مبتلا ہو گئے اور یہ بغاوت اسی کا نتیجہ ہے۔ مسلمانوں کی بے چینی کی بنیاد ان کا معاشی طور پربدحالی کا شکار ہونا ہے۔ سر سید کے مطابق اس اضطراب کا تدارک ہونا چاہئے اور اصلاح احوال جلد ہونا چاہیے وگرنہ ”مسلمان سائیس، خانساماں، خدمت گار اور گھاس کھودنے والوں کے سوا اور کچھ نہ رہیں گے۔ “

مگر وہ کیا سبب ہے جس نے مسلمانوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور یہ کہ حالات کو کیسے سدھارا جائے؟ اس اہم ترین سوال پر بہتوں نے سوچا ہے اور اس کے بہت سے جواب دیئے گئے ہیں۔ سر سید کا اپنا موقف وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا گیا لیکن منزل و مقصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ مسلم اشرافیہ کے مفادات کا کیسے تحفظ کیا جائے، یہ ان کی تحریر ، تقریر اور عمل کا زندگی بھرمحور اور مرکز رہا۔

(جاری ہے)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں