قرآن سے میری ناقص عقل نے کیا سیکھا ؟


faizullah khanسب سے اہم بات تو یہ ہے کہ جب بھی ہم قرآن پاک کا ترجمہ طویل وقفے کے بعد پڑھتے ہیں تو ہمیشہ ایک نیا نکتہ واضح ہوتا ہے جو کہ ایک نعمت ہے۔ قرآن کا انسانوں سے بنیادی مطالبہ توحید و اطاعت کے بعد اس دین کی دعوت کو بلاتخصیص ہر فرد و معاشرے تک پہنچانا ہے ، اسکا معروف طریقہ ہمیں دعوتی انداز میں نظر آتا ہے انفرادی و اجتماعی طور پہ مخلص مسلمین کی جماعتیں دعوتی پہلو لے کر مغرب و مشرق کے انسانوں سے مکالمہ کرتی ہیں۔ ریاستی سطح پر صرف سعودی عرب کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ وہ دین کی اشاعت و ترویج کے لئے کام کرتے ہیں۔ مساجد تعمیر ہوتی ہیں، توحید کی دعوت پر مبنی کتب اور فرقان حمید کے مختلف زبانوں میں تراجم عام کئِے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بھی قابل غور و عمل ہے (یہاں ان کا سیاسی پہلو زیر بحث نہیں)۔
معاملے کا دوسرا لیکن سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ دنیا میں پہلے مسلمانوں کی ریاست قائم کی جائے تاکہ دعوت کا کام مربوط اور بہتر انداز میں کیا جاسکے۔ ریاست اگر اللہ کی جانب سے عائد کردہ ذمہ داری نبھائے گی تو یقیناً اس کے زیادہ مثبت اثرات دنیا کے مختلف معاشروں پہ نظر آئیں گے۔ اسلام کا معاملہ تو یہ ہے کہ لوگوں نے اسے گیارہ ستمبر کے حملوں سے بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر گیارہ ستمبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے کچھ کے قریبی عزیزوں نے اسلام قبول کیا۔ تو ایسے میں دین کا آفاقی کام دعوتی انداز میں کیسے پذیرائی نہیں پائے گا؟
سیکولر نظام کی ایک خصوصیت یہ ہے آپ کسی بھی مذہب کی تبلیغ کرسکتے ہیں اور آپ کو کوئی شخص یا ادارہ منع نہیں کرتا ہے (یہاں موجودہ مخصوص حالات کی بات نہیں ہورہی ہے، اسے اس نظام کے تناظر میں سمجھا جائے)۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ جب بھی اسلام کو بطور نظام کے نافذ کرنے کی بات کی جائے گی تو وہیں سے مفادات کا ٹکراﺅ شروع ہو جائے گا۔ مثلاً نبی علیہ السلام کو مکہ میں نظام سے دستبرداری کی صورت میں حکومت اور مال و دولت کی پیش کش کی گئی۔ تصادم وہاں بھِی نظام کی برتری کا ہی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی علیہ السلام نے ہجرت اور مصائب کو تو قبول کیا لیکن طاغوت کی دی گئی سمجھوتوں پر مبنی “آفر” رد کردی۔
عین یہی معاملہ آج کل کی اسلامی و دعوتی تحاریک کو درپیش ہے۔ دنیا میں اس وقت جمہوریت اور سیکولر ازم کی بالادستی ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جسے جدید دنیا نے صلیبی پاپائیت سے نجات کے بعد وضع کیا۔ بدلتے ہوئے حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں نے بھی اسے قبول کیا۔ اسلامی تحاریک نے اسے اپنی حکمت عملی سے تعبیر کیا جو کہ بدقسمتی سے اب منہج بن چکا ہے۔ اس میں مصر کے اخوانیوں و سلفیوں اور ھند و پاک کے دیو بندیوں و جماعتیوں کی کوئی تخصیص نہیں، اب جمہوریت کا منہج ہمارا مشترکہ حمام ہے۔
اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جب بھی دنیا میں رائج نظام کو امارت اسلامیہ یا خلافت اسلامیہ کی صورت میں چیلنج کرنے کی کوشش ہوگی تو اسے قطعاً معاف نہیں کیا جائیگا (یہاں صرف اشارتاً بات ہورہی ہے۔ طالبان و دولت اسلامیہ کا طریقہ کار اور ان کا انداز بالکل بھی زیر بحث نہیں، جو کہ ایک الگ موضوع ہے)۔ مستقبل میں جب بھی اسلامی نظام کو اسکی اصل شکل میں نافذ کرنے کی کوشش کی جائے گی تو معاملہ جنگ و جدل اور پابندیوں کی طرف ہی جائے گا۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ مسلمانوں کی دیگر جماعتیں مخلص نہیں ہیں کیونکہ اب تک جتنا بھی دین کی دعوت کا کام ہوا اس میں انہیں سے وابستہ داعیان نے اپنی کوششیں صرف کیں۔
اسلامی دنیا کے مخلص اسکالرز کو سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے کہ دین کے اس اہم فریضے کی ترویج کے لئیے کونسا راستہ اختیار کیا جانا چاھئِے؟ کیا ریاست کے قیام کے معاملے کو کچھ عرصے کے لئے موقوف کرکے صرف دعوتی کام کیا جائے؟ یا پھر اسلامی ممالک میں دین کو بطور نظام رائج کرنے کی کوشش کو ہی اولین ترجیح بنایا جائے؟ لیکن یاد رہے کہ اس کام کے لئیے سرکار کے خرچے پہ پلنے والے علما پر بالکل بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے وہی کہنا ہے جو انہیں کہنے کا حکم دیا جائے گا۔ ویسے بھی جب یہ علما فرماتے ہیں کہ فلاں تنظیم یا فلاں شخص نے قرآنی آیات کی من چاہی تشریح کی جس کا دین سے کوئی تعلق نہیں تو اس لمحے قہقہے لگانے کا دل کرتا ہے کیونکہ گروہوں پر الزام لگاتے ہوئے وہ ان حکام کو بھول جاتے ہیں جنہوں اپنے مفادات کی خاطر قرآن تو کیا پوری امت ہی گروی رکھ دی ہے۔
اس تحریر سے اتفاق یا اختلاف رکھنا آپ حق ہے لیکن میری مجہول رائے میں ہماری بنیادی ذمہ داری دین کی دعوت کا کام پھیلانا ہے اور اسکا بہترین طریقہ ریاست کے قیام کے سوا دوسرا کچھ نہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “قرآن سے میری ناقص عقل نے کیا سیکھا ؟

  • 12-01-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    دیں اسلام کی دعوت کی آپ نے بات کی جس میں کوئی مضائقہ نہیں البتہ میرا سوال یہ ہے کہ کیا باقی ادیان مزاہب اور نظریات کو بھی تبلیغ کا یہی حق حاصل ہے کہ نہیں۔ میرا دوسرا سوال یہ کہ اگر باقی ادیان مزاھب اور نظریات بھی ریاست قائم کرنے پر لگ جائیں تو ایک شدید جنگ و جدل نہیں شروع ہو جائے گا؟

  • 07-02-2016 at 4:53 pm
    Permalink

    آپ نے جمہوریت بارے فرمایا کہ یہ ایک ایسا نظام ہے جسے مغرب نے صلیبی پاپائیت سے چھٹکارے کے لئے اپنایا۔۔اور اب ساری اسلامی دنیا بھی جمہوریت پہ لٹو ہے۔۔۔تو اسکا مطلب یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی اسلامی پاپائیت رائج ہوچکی جسکی رد عمل میں ہم جمہوری نظام کے طرف راغب ہوئے؟
    رہا سوال یہ کہ موجودہ جمہوری نظام، اسلامی ہے یا غیر اسلامی تو اسکا فیصلہ شاید مفتی شفیع عثمانی مرحوم کر سکتے ہیں نہ کہ میں اور آپ۔۔انہوں نے ووٹ ڈالنے کو واجب قرار دیا تھا–والسلام

  • 17-03-2016 at 4:15 am
    Permalink

    یہ مسئلہ تو خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد مسلمان علماء کے درمیان ایک مزید تنازع کا باعث ہے، میں عنوان پڑھ کر سمجھا کہ شائد آپ نے قرآن سے اس مسئلے کا حل دریافت کر لیا ہے، لیکن پورا مضمون پڑھنے پر معلوم شد کہ ہنوز دلی دور است۔

Comments are closed.