لمر – لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ روحانیات کی اہم ریسرچ


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

باہر سے پڑھے ہوئے چند نام نہاد علما یہ دعوی کرتے ہیں کہ پاکستانی یونیورسٹیاں رو بہ زوال ہیں اور کسی بھی بین الاقوامی رینکنگ میں ان کا نام ڈھونڈے سے نہیں ملتا ہے کیونکہ یہاں ڈگری بانٹی جاتی ہے، علم نہیں۔ ہم نے سوچے سمجھے بغیر یہ بات ایک محفل میں دہرا دی تو وہاں موجود ایک شخص نے، جسے سب پروفیسر صاحب کہہ کر مخاطب کر رہے تھے، ہمیں دعوت دی کہ ہم سنی سنائی بات پر اعتبار کرنے کی بجائے ان کے ساتھ ان کی یونیورسٹی کا دورہ کریں اور پھر کوئی رائے قائم کریں۔ اگلے دن ہم ان کے ساتھ لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ روحانیات گئے جو کہ لمر کے نام سے مشہور ہے۔

’یہ یونیورسٹی، امریکہ کی ایک مشہور فاؤنڈیشن کی گرانٹ سے قائم کی گئی ہے تاکہ پاکستان میں تعلیم کا معیار بہتر ہو سکے‘۔ پروفیسر صاحب نے ہمیں یونیورسٹی کی عظیم الشان عمارت میں داخل ہوتے ہوئے مطلع کیا۔

’سب سے پہلے ہم ڈیپارٹمنٹ آف ایپلائیڈ میتھمیٹکس کا دورہ کرتے ہیں‘۔ پروفیسر صاحب ہماری راہنمائی کرتے ہوئے ایک شعبے کی جانب لے گئے۔ شعبے کی دیواروں پر عربی اور رومن حروف تہجی اور ان کے آگے مختلف ہندسے لکھے ہوئے طغرے آویزاں تھے۔ ایک کمرہ جماعت میں داخل ہوئے تو ایک صاحب نے بلیک بورڈ پر کچھ حروف اور جملے لکھے ہوئے تھے اور طلبا ان کو دیکھ دیکھ کر اپنے سامنے رکھے کاغذات پر کچھ لکھ رہے تھے۔

\"oxford-university\"

’یہ پروفیسر اکمل حسابی صاحب ہیں اور اس وقت ان کے طلبا علم جفر کی مشق کر رہے ہیں۔ علم جفر ریاضی کی قدیم ترین شکل ہے۔ اسے یونانیوں نے ایجاد کیا، عبرانیوں نے اسے ترقی دی، اور عربوں نے اسے اوج ثریا تک پہنچا دیا۔ اس کی مدد سے نہ صرف یہ کہ آپ افراد پر ان کے ناموں کے اثرات کا جائزہ لے سکتے ہیں، بلکہ ان کی مدد سے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر بھی دے سکتے ہیں۔ اس وقت ہماری ریسرچ کا فوکس یہ ہے کہ چینی زبان سے کیسے نمٹا جائے جس میں حروف تہجی نہیں ہوتے ہیں‘۔ پروفیسر صاحب نے ہمیں مطلع کیا۔

اگل ڈیپارٹمنٹ علم فلکیات کا نکلا۔ وہاں ماہر علم نجوم پروفیسر انجم شناس موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’علم سے نا آشنا لوگ چاند اور مریخ وغیرہ پر انسانوں اور خلائی گاڑیوں کو اچھلتے کودتے دیکھ کر ان سے متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان کی بھیجی ہوئی تصویروں پر مر مٹتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ناسا سے بڑھ کر علم فلکیات پر کوئی کام نہیں کر رہا ہے۔ مگر لمر کے ڈیپارٹمنٹ آف آسٹرولوجی میں ستاروں کی اصل چال ڈھال اور ان کے انسانوں پر اثرات پر مکمل تحقیق کی جاتی ہے۔ آپ اپنی تاریخ پیدائش اور وقت پیدائش بتائیں، ہمارے ماہرین ستاروں کی روشنی میں نہ صرف آپ کی گزشتہ زندگی کے بارے میں بتا دیں گے، بلکہ مستقبل کی پیش گوئی بھی کر دیں گے۔ اسی علم کی مدد سے افراد اور اقوام کی تقدیر جانی جاتی ہے اور یہ پتہ چل جاتا ہے کہ کون سا کام کرنے کا کون سا وقت سعد اور کون سا منحوس ہے‘۔

\"parrot-fal-fortune\"

پروفیسر صاحب ہمیں اب لمر کے ڈیپارٹمنٹ آف پولیٹیکل سائنس میں لے گئے۔ وہاں مختلف طلبا اپنے سامنے طوطے رکھے بیٹھے تھے جن کے سامنے لفافے ایک ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ پروفیسر طائر لاہوتی نے وہاں بانٹے جانے والے علم کے متعلق بتایا۔ ’یہ طلبا اس وقت اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ پاکستان کی افغان پالیسی کیا ہونی چاہیے اور نریندر مودی پاکستان پر حملہ کرے گا یا نہیں۔ آئیے ان سوالات کا جواب جانتے ہیں۔ شاباش بیٹے، تم بتاؤ‘۔ پروفیسر طائر لاہوتی نے ایک طالب علم کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے اپنے پنجرے کا دروازہ کھولا، اس میں سے ایک طوطا باہر نکلا اور اس نے ایک لفافہ اٹھا کر طالب علم کے حوالے کیا۔ طالب علم نے لفافہ کھول کر کاغذ پڑھا، تفہیمی انداز میں سر ہلایا اور کہنے لگا ’اگلے ماہ میں افغان صدر اشرف غنی پاکستان پر حملہ کر دے گا اور نریندر مودی اپنی فطری بزدلی کے باعث محض زبانی کلامی دھمکیاں دینے سے بڑھ کر کچھ نہیں کرے گا‘۔

\"tablighi_jamaat\"

ڈیپارٹمنٹ آف سوشیالوجی بہت دلچسپ نکلا۔ وہاں مولانا پروفیسر اشرف العباد صاحب نے طلبا کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیا ہوا تھا۔ ہر طالب علم نے سر پر بستر اٹھا رکھا تھا، کاندھے پر ایک بیگ لٹک رہا تھا اور ہاتھ میں ڈوری سے بندھا ہوا لوٹا جھول رہا تھا۔ ’یہ تبلیغی مشن کے لئے تیار ہو رہے ہیں جو کہ آدمی کو انسان بنانے کی خاطر کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی سے فراغت پا کر یہ ایک جتھا بنائیں گے اور گھر گھر جا کر وہاں سے آدمیوں کو اکٹھا کریں گے اور کسی ایک جگہ لے جا کر انہیں انسان بنائیں گے سوشیالوجی اسی کا نام ہے۔ اس وقت ہم ان کو یہ سکھا رہے ہیں کہ بستر کیسے باندھا جائے، بیگ میں کیا کیا ہونا چاہیے اور کسی بھی حال میں لوٹے کو خود سے جدا نہیں کیا جانا چاہیے‘ مولانا پروفیسر اشرف العباد صاحب نے ہمیں بتایا۔

\"bengali-baba-2\"

ڈیپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکشنز میں ہونے والی تدریس تو ہمارے لئے ہوشربا تھی۔ وہاں چھیاسی سالہ بنگالی بابا موجود تھے جو کہ کالے علم کی کاٹ پیٹ کے ماہر ہیں اور تعویذ گنڈوں کے ذریعے جادو کو کرنے والے پر ہی پلٹا دیتے ہیں۔ آپ نے کسی کا بھی حال جاننا ہو، کسی کی بھی خبر لینی ہو، کسی کے دل میں کوئی خیال ڈالنا ہو، کسی کو اپنا ہم خیال بنانا ہو، سنگدل محبوب کو نرم کر کے اپنے قدموں میں ڈالنا ہو، یا محبوباؤں کی پوری پلٹن چاہتے ہوں، تو بنگالی بابا کے موکل پلک جھپکتے میں یہ کام کر سکتے ہیں۔ اس ڈیپارٹمنٹ میں نہ صرف موکل کو اپنے بس میں کرنے کی تعلیم دی جاتی ہے، بلکہ یہ ریسرچ بھی کی جاتی ہے کہ یہودیوں کے کنٹرول میں چلنے والے بین الاقوامی میڈیا کے مقابلے میں موکلوں کے ذریعے ایسا متبادل میڈیا کیسے تیار کیا جائے جو کہ یہود و ہنود کے پراپیگنڈے کا توڑ کر کے اصل سچائی کو ساری دنیا کے ہر فرد تک پہنچا دے۔

\"ubqari-abqari\"

ڈیارٹمنٹ آف اپلائیڈ میڈیسن میں محیر العقول کام ہو رہے تھے۔ پروفیسر پیر حاذق الولی نہ صرف یہ کہ طلبا کو کینسر، امراض قلب اور جگر کا بغیر کسی آپریشن یا دوائی کے صرف وظائف کے زور پر علاج کرنا سکھا رہے تھے، بلکہ وہ قلب کی روحانی صفائی کے ذکر اذکار بھی شاگردوں کو ازبر کرا رہے تھے تاکہ مریض کی جسمانی کے علاوہ روحانی بیماریوں کا بھی شافی علاج کیا جا سکے۔

لیکن لمر کے جس ڈیپارٹمنٹ میں سب سے اہم کام ہو رہا ہے، وہ ڈیپارٹمنٹ آف کوانٹم اینڈ نیوکلئیر فزکس ہے۔ اس ڈیپارٹمنٹ میں عامل کامل پروفیسر پیر جابر الجنہ کی سرکردگی میں دو ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ پہلی ٹیم کا زور اس بات پر ہے کہ جنات کو قابو میں کرنے کے نت نئے اور آسان طریقے دریافت کیے جائیں جبکہ دوسری ٹیم ان قابو شدہ جنات کی مدد سے نہ صرف یہ کہ بجلی وغیرہ پیدا کرے گی، بلکہ ملک کو ترقی دینے کی خاطر میگا پراجیکٹس کسی بھی بیرونی امداد کے بغیر ان جنات کی مدد سے تعمیر کیے جا سکیں گے۔ اندازہ کریں کہ سی پیک کے دونوں روٹس پر آٹھ لین کی موٹر وے بنانی ہو، یا بھاشا، کالا باغ یا ایسے دوسرے ڈیم بنانے ہوں، یہ جنات حکم ملتے ہی پلک جھپکتے میں یہ کر گذریں گے۔ بلکہ پیر جابر الجنہ کا کہنا تو یہ ہے کہ مغرب کے سائنسدان جو بھی نت نئے آلات وغیرہ بنائیں گے، ان بنے بنائے آلات کو یہ جنات اٹھا کر ہمارے لئے لا سکتے ہیں۔

\"alladin-jinni\"

اس کے علاوہ یہ گورے جو کہ ہمارے سابقہ آقا تھے اور بے شمار مال و دولت یہاں سے لوٹ کر لے جا چکے ہیں، جنات کی مدد سے یہ لوٹی ہوئی دولت بھی واپس لائی جا سکتی ہے۔ جنات سے کام لینے کے امکانات کے بارے میں ابتدائی درجے کے طلبا کو آگاہ کرنے کے لئے ان کو الف لیلہ اور قصہ الہ دین پڑھانے سے تدریس کا آغاز کیا جاتا ہے۔

آپ جان چکے ہوں گے کہ لمر (لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ روحانیات) میں بے شمار امکانات پر نہایت اہم ریسرچ کی جا رہی ہے جو کہ ملک و قوم کی تقدیر بدل دے گی۔ اب یہ شکوہ نہیں کیا جانا چاہیے کہ پاکستان میں سائنس پر کام نہیں ہو رہا ہے اور یہاں کی یونیورسٹیاں کچھ نہیں کرتی ہیں۔ اس مغربی رینکنگ میں روحانیات کے پوائنٹس بھی رکھے جائیں تو ہماری یونیورسٹیاں ٹاپ پر ہوں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1059 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “لمر – لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ اینڈ روحانیات کی اہم ریسرچ

  • 08/11/2016 at 9:00 pm
    Permalink

    ایک شاہکار تحریر۔ جی خوش ہو گیا۔

Comments are closed.