اقبال کی مظلومیت


اس ملک میں مظلومیت کا دعویٰ بہت لوگ کرتے ہیں اور کچھ تو اس کے عوض مدت سے رائے دہندگان کے ووٹ بھی حاصل کرتے آئے ہیں۔ ہماری سوچی سمجھی رائے میں مظلومیت کا ایک پیمانہ یہ ہے کہ مظلوم شخص اپنے بارے میں کہی جانے والی بات کا کوئی جواب نہ دے پائے۔ یہ صفت بلا شبہ سب سے زیادہ گہرائی میں، مرحومین میں پائی جاتی ہے۔ اگر مرحومین عوام و خواص میں مشہور ہوں اور بالخصوص ان کی ذات سے دور حاضر کا کوئی کاروبار بھی وابستہ ہو، تو ان کی مظلومیت میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ فہرست تو طول طویل ہے، مگر آج ہمیں علامہ اقبال کی مظلومیت کا بے طرح احساس ہو رہا ہے۔ علامہ کی مظلومیت تو خیر پہلے سے مسلم الثبوت ہے کہ اس عنوان سے ان کے بھتیجے شیخ اعجاز احمد ایک پوری کتاب لکھ چکے ہیں۔

دوستوں نے دیکھا ہوگا کہ کٹر مارکسیوں سے لے کر طالبان تک، ہر کوئی علامہ کے اشعار سے اپنی پسند کی چیز چن کر اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ کبھی ”مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا“، تو کہیں، ”کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر ہم نے“۔ سب سے زیادہ علامہ کے اکا دکا اشعار جمہوریت کو معطون کرنے کے لئے لکھ کر نہایت بلند بانگی سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ علامہ گویا فوجی آمریت کے حامی تھے۔ اس کے مقابلے میں ”سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ“ پڑھنے والوں کی آواز، آمریت کے پروردہ نقار خانے میں طوطی کے مانند دب جاتی ہے۔ کہیں علامہ مسولینی سے متاثر نظر آتے ہیں تو کبھی فسطائیت سے بیزار۔ ہمارے سماج کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ سنجیدہ موضوعات کا احاطہ کرنے والی نثر پڑھنے کی کسی کو فرصت نہیں ورنہ کلام اقبال سے جمہوریت کی تنقیص کرنے والے نجانے کہاں منہ چھپاتے پھرتے۔ اگر لوگوں کو پتا چلتا کہ علامہ نے ”تشکیل جدید۔ “ والے خطبات میں اجتہاد فقہی یعنی متشابہات اور شرعی حدود میں ترمیم کا حق پارلیمان کو دینے کی بات کی تھی۔ اس قضیے کو بھی چھوڑیں چونکہ علامہ خود کہتے ہیں کہ، ”اقبال خود اقبال سے آگاہ نہیں ہے“۔

اب تو ایسی باتیں بھی سننے میں آنے لگی ہیں کہ علامہ اقبال کے یوم پیدائش پر عام تعطیل کے رواج کی تنسیخ دراصل اقبال کو ہی اس قوم کے حافظے سے کھرچ دینے کی سازش کا پیش خیمہ ہے۔ اسی کلیے کی رو سے برطانیہ میں ورڈزورتھ اور شیکسپئر اور جرمنی میں گوئٹے کی مقبولیت کے پیچھے ان کے ایام ولادت پر چھٹی ہونا چاہئیے۔ یا ایران میں حافظ، سعدی، جامی اور تاجکستان میں رودکی و عینی کے یادگاری ایام پر عام تعطیل ان کے صحیح مقام کی یادآوری کے لئے لازمی ٹھہرنی چاہیے۔ چلیں اس بات کو بھی جانے دیں کہ وہ تو غیر ممالک ہیں، مگر اس سوال کی کھوج ہم اپنے سے زیادہ پڑھے لکھے احباب پر چھوڑ دیتے ہیں کہ اس ملک میں فیض، فراز، جون ایلیا، غالب، میر، ناصر کاظمی وغیرہ کے اشعار کیونکر زبان زد خاص و عام ہیں، حالانکہ ان کے ایام ولادت پر چھٹی تو درکنار، محترم عقیل عباس جعفری جیسے محققین کو چھوڑ کر، کسی کو ان ایام کے بارے میں سرے سے علم ہی نہ ہو گا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں