مشرق اور مغرب : اب نہ پچھوا ہے نہ پروائی ہے….


aasimاساتذہ ادب کے سامنے گستاخی ہوتی ہے کہ فقیر ادبی تنقید کا ادنیٰ طالبعلم بھی نہیں لیکن ایک سادہ لوح قاری کی حیثیت سے سلیم احمد کی مشہور نظم’ مشرق ہا رگیا‘ کو جب بھی پڑھا ایک سوال ذہن میں ضرور کلبلایا۔ وہ یہ کہ نظم اپنے اظہارئیے میں ایک کیفیتِ اضطراب کو تو خوب ابھارتی ہے لیکن آئینوں پر کالک ملنے اور تصویروں پر تھوکنے کے بعد تاریخ کی دیوی سے مانگتی بھی ہے تو کیا؟ نفرت اور غصہ؟ پھر نفرت اور غصہ بھی ایسا جس سے نکلنے والے شعلوں میں شاعر صرف اپنی ذات (یا شعورِ ذات؟) کو فنا کرنے کی المیہ ساز تصویر پیش نہیں کر رہا بلکہ سارے ہی کو جلا کر خاک کر دینا چاہتا ہے۔اس پہ مستزاد یہ کہ نفرت کا یہ سودا بھی بہت حسرت ناک ہے یعنی مجھ سے میرا سب کچھ لے لو اور اس کے بدلے مجھے غصہ اور نفرت میں تول دو۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کسی تاریخی دیومالا میں مشرق اپنی شکست تسلیم کر کے میدان جنگ تو چھوڑ ہی رہا ہے لیکن جاتے جاتے کائنات کواپنی نفرت اور غصے سے اس لئے فنا کر دینا چاہتا ہے کہ اس جنگ کا فاتح یعنی مغرب بھی اپنی جیت کا جشن نہ منا سکے۔اگر آپ کو اس سارے منظر سے اتفاق ہے تو بطور قاری شاعر کی شعری کائنات سے باہر کوئی مفروضے قائم نہ کرتے ہوئے اب آپ کے لئے تفہیم و تعبیر کے دو ہی راستے باقی بچتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس معرکہ روح و بدن میں مشرق کی جسم سے مزید اوپر اٹھنے کی کوشش کسی ہارے ہوئے قیدی کی طرح بے سود ہے اور دوسرا یہ کہ مشرق کی یہ کوشش سرے سے تھی ہی لاحاصل۔ انتخاب کچھ بھی ہو،یہ اشارہ بہرحال اپنی حیثیت میں مسلمہ ہے کہ روح و بدن کے معرکے میں مشرق کا مقدمہ کچھ ایسے مفروضوں پر قائم ہے جن کو شاعر کے مطابق مغرب اپنے پاو¿ں تلے روند کر گزر چکا ہے۔ چونکہ عنوان کے مطابق ’کیوں‘ نظم کا موضوع نہیں لہٰذا شاعر اس طرف اشارہ کرنے سے گریز کرتا ہے کہ مشرق کے مفروضوں میں ایسی کیا کمزوری تھی کہ وہ یوں پامال ہوئے؟ یہ دلچسپ منظر تو محض ایک ہارے ہوئے دیوانے کی شکست کا جشن ہے۔ دیوانہ آخر دیوانہ ہے سو وہ غصے میں بھرا ہوا اپنی پامالی کا ذمہ دار مغرب کی عیارہ، لالچی مارکو پولو اور شہوت زدہ چکلوں کو ٹھہراتا ہے۔

ظاہر ہے بحث یہ تو نہیں کہ یہ منظوم بیانیہ منطقی معیارات پر کتنا پورا اترتا ہے کیوں کہ یہ تو بہرحال کسی بھی منظوم تخلیق کے ساتھ ایک ظلم کے مترادف ہو گا لیکن کم از کم یہ تعبیر پیش کرنا تو ہمارا حق ہے کہ سلیم احمد کا یہ لازوال شاہکار آج دن تک ہمارے مجموعی رویوں کا بہترین عکاس ہے۔ اپنے ارد گرد دیکھئے تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے تاریخ میں منجمد کوئی ایسا تصورِ انسان و کائنات ہے جو ہم سے کھو چکا ہے اوراب ہماری کل جمع پونجی یہی ہے کہ مغرب کو کوسنے دینے پر اکتفا کیا جائے۔ مغرب کی عیاری ظاہر کرنے کے لئے تو خیر لارڈ میکالے کی اصلی و نقلی تقریریں ہی کافی ہیں اور لالچ اور شہوت انگیزی کے خاتمے کے لئے شہر میں سود اور فحاشی کے خلاف پوسٹر لگانے کی مہم جاری ہے۔ظاہر ہے اس کھیل کا جو نتیجہ نکل سکتا ہے وہ نکل رہا ہے۔ غصے اور نفرت کی اندھی آگ سست رفتاری سے ہماری نوجوان نسل کی رگوں میں سرایت کر رہی ہے اور بدلے میں ہمارا بچا کھچا اجتماعی شعور بھی ضائع ہوتا جا رہاہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم واضح کرتے چلیں کہ قدامت پسندی ہمارے لئے کوئی معیوب بات نہیں۔ کئی اعتبارسے یہ الزام ہم پر بھی صادر آتا ہے مثلاً گرمیوں میں ائیر کنڈیشنڈ کی بجائے ہمیں پسینے میں شرابور رہنا پسند ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے کوفت ہوتی ہے لیکن غلامانہ ذہنیت کے ہاتھوں مجبور و مرعوب ہو کر جدیدیت کی چکاچوند کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ اور وطنِ عزیز کے اسکولوں میں انگریزی میڈیم کی بجائے اردو میڈیم کے حق میں ہیں۔ لہٰذا اگر اپنے پیش قیاسی مفروضوں کو اٹل حقیقت کے طور منوائے جانے سے گریز کیا جائے تو ہمارے دوستوں کی قدامت پسندی بھی ہمارے لئے اتنی ہی محترم ہے جتنی کوئی ایسی فکر جو ہمارے مفروضوں کے مطابق خرد افروز ہو۔لہٰذا استدلال کا تقاضا یہی ہے کہ ان مفروضوں کو عیاں کرتے ہوئے اس قدامت پسندطرزِ فکر کا مختصر ترین استدلالی خاکہ قارئین کے سامنے رکھ دیا جائے۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ ہم مشرق میں اپنا راہبانہ ضمیر لئے گم تھے کہ مغرب کی عیار تاجرانہ فکر نے اپنے لالچ سے مجبور ہو کر عیارانہ حربوں کے ذریعے استعمار کا پنجہ گاڑ دیا۔سلطانی جمہور کا غوغا بلند ہوا، سرسید جیسے کچھ لوگوں نے فکری غداری کی، قادیانی سازش کے ذریعے جہاد حرام ٹھہرایا گیا اور مجبوراً بندوق کے زور پر مشرق ایک سمجھوتے کے بعد چنگیز سے تاریک اندروں والے مغرب کے روشن چہرے کے ڈھکوسلے میں آ کر جمہوری نظام قبول کر بیٹھا۔ یہاں تک پہنچ کر مسلم سماج میں فکر کا ایک متنوع دھارا جدیدیت سے سمجھوتے پر مائل ہو جاتا ہے اور قدامت پسندوں کو اپنی شکست خوردہ انا کی تسکین کے لئے ایک مستقل ہدف مہیا کر دیتا ہے جبکہ دوسرا رجعت پسند دھارا کئی پیچیدہ جہتوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جنہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرنا ذرا سنجیدہ اور طویل غوروفکر کا متقاضی ہے۔ لیکن اپنی عمومی حیثیت میں پہلے تو یہ طبقہ جدیدیت کے تمام مظاہر کو مطعون ٹھہراتا رہتا ہے لیکن پھر بدلتے ماحول کے ساتھ آخرکار اپنا تھوکا ہوا چاٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور جدیدیت کے چشمہ حیات پر آیات و وظائف کا دم کر کے اس سے بے دریغ استفادہ کرتا ہے۔( تصویر، ٹیلی وڑن، اعضا کی پیوندسازی، غرضیکہ کتنی ہی پیش پا افتادہ مثالیں ہیں جو اب تکرار کے باعث کسی سنجیدہ مکالمے میں بحالتِ مجبوری بھی دہرانے پر دل نہیں مانتا۔) اس کے ساتھ ساتھ جدیدیت کی قبیح صورتوں سے جنم لیتے مغربی استعمار کے خلاف خود مغرب میں ہی اٹھتی شدت پسند مذہب پسند تحریکوں کے انسانیت کے خلاف بے دریغ بہیمانہ ظلم پر دل ہی دل میں مسکراتا رہتا ہے۔ ہماری رائے میں یہ مسلم فکر کی وہ لاچار جہت ہے جو نہ تو صاف چھپنے پر قادر ہے اور نہ ہی کھل کر سامنے آنے پر۔ اگر مسلمان معاشروں میں افراد کی ایک بڑی تعداد اب مذہب کو اپنی سنجیدہ اور بامعنی شناخت تک تسلیم کرنے سے قاصر نظر آتی ہے تو اس کا الزام بھی مذہب کی اس نمائندہ قدامت پسند جہت کے فکری بانجھ پن کو ہی جاتا ہے۔ایک طرف تو یہ غالب اکثریت مغرب پر سارا الزام دھر کر مسلسل خلطِ مبحث پر مائل ہے اور دوسری طرف مسلمان معاشروں میں متن پرست طبقات کے خلاف اٹھنے والی گنی چنی جدیدیت پسند آوازوں کو انیسویں صدی کے اواخر کی مغربی استعماریت کاپٹھو سمجھتی ہے۔

ہماری رائے میں پچھلی نصف صدی کے مواصلاتی طوفان نے جس طرح بین الثقافتی مظاہر اور ان کی تہہ میں موجود فکری بہاو¿ کی ترسیل و ترویج کی، اس کے بعد مشرق و مغرب کی ایک ایسی باہم پیوست تہذیب وجود میں آ رہی ہے جسے ایک دوسرے سے جدا سمجھ کر علاحدہ ٹھوس اکائی کے طور پر تجزیہ کرنا فی الحال تو محض ایک بھاری غلطی سمجھا جا سکتا ہے لیکن آنے والا محقق اس کو شاید ہمارے مغربی تہذیب کی گمراہیوں کی داستانیں لکھنے والے نقادوں اور مصلحین کا مجرمانہ فعل گردانے۔ یہ دیکھنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ اگر زمانے کو لوٹا نہ دیا جائے تو ازمنہ وسطی اور ماقبل جدید دور کے ان جداگانہ تہذیبی دھاروں تک رسائی ناممکن ہے۔ علمِ تاریخ اور بشریات کی ذیل میں یہ ایک اہم سوال ضرور ہے لیکن اسے قدری مباحثہ بنا کر کوئی عملی نتیجہ حاصل کرنا بالکل ناممکن۔ ہم نہیں جانتے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اولین ادوار سے جنم لیتی ہوئی پیچیدہ مسلم تہذیب کے مشرق و مغرب میں سرعت کے ساتھ پھیلاو¿ کو قدیم استعمار ہی کی ایک شکل کہنا علمی طور پر کتنا محل نظر ہے، لیکن اگر ہم کچھ دیر کے لئے ایک مسلمان کی بجائے ایک انسان کے طور پر اس تاریخی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو چاہے مسلمان جنگجووں کی تلوار زیادہ تر نیام سے باہر ہی رہی ہو، یہ ماننا تو پھر بھی ناممکن ہے کہ اسلامی تہذیب و تمدن اور علمی روایتوں کا پھیلاو¿ کسی جبر و استبداد کا نتیجہ تھا۔ بالکل اسی طرح یوروپی استعمار بھی یقیناً ایک سیاسی قوت کے نتیجے میں بزورِ طاقت ہم پر مسلط ہوا، لیکن مغربی تہذیب کے بارے میں یہ سمجھنا کہ یہ ہم پر خارج سے مسلط کی گئی، ہماری رائے میں صرف غصے اور نفرت پر مبنی شکست خوردہ ذہنیت کے ردعمل اور جذباتیت پر مبنی ایک سہل فکری کی علامت ہے۔

زیادہ معقول بات یہ ہے کہ ایک تہذیبی فکر دوسری تہذیب کی قلب ماہیت صرف اسی وقت کر سکتی ہے یا اس کے مظہری خدوخال میں تبدیلی صرف اسی وقت لا سکتی ہے، جب فکری سوتے خشک ہو جائیں اور زمینیں نئے سرے سے تخم ریزی کا تقاضا کرتی ہوں۔خارج سے کوئی تہذیبی استعمار اس وقت تک کیسے آ سکتا ہے جب تک کسی قوم کی ذہنیت فکری طور پر استعمار قبول کرنے کے لئے ایک داخلی خلارکھتی ہو؟

لیکن اس سے بھی اہم ترین جہت کا تعلق انسانی ذہن کی ماہیت سے ہے جو اب پچھلی دو صدیوں کے تیز رفتار تہذیبی تعامل کے باعث شاید کسی ایک تہذیبی منطقے یعنی مشرق یا مغرب تک ایک مکمل تعین سے قابلِ تحدید نہیں۔ آج ایک طرف تو مغرب میں مذہب سے جڑی مختلف مثبت و منفی تحریکیں جنم لے رہی ہیں تو دوسری طرف ہمارے ہاں کا مذہبی ذہن اپنے مخصوص تناظر میں نئے سوال وضع کرنے پر بھی مائل نظر نہیں آتا۔ ہم اپنے تئیں کسی تہذیبی روایت میں گندھے قدامت پسند دوستوں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ کی رائے میں اب اس دوغلا پن(hybridity) اور نقالی (mimicry ) وغیرہ کے نتیجے میں جنم لینے والے ثقافتی شعور میں جو فتنے بیدار ہوئے ہیں ان سے چھٹکارے کا یہی واحد ناممکن طریقہ بچا ہے کہ ہمارے سماج کا فردآپ کے زوردار مطالبے پر اپنے شعور کی تہوں میں موجود مجموعہ مجموعہ اجزا کو اجنبی مداخلت مان کر اسے نکال باہر پھینکے؟ سوئے ظن کہہ لیجئے، لیکن ہمارا گمان یہی ہے کہ آپ کے پاس اس ہدف کی رسائی کا واحد معقول طریقہ قومی ریاست کو مذہب کی قبا پہنا کر جبر کا بازار گرم کرنا ہے۔

اگر ایسا نہیں تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ دلیل کے زور پر ہمیں غلط ثابت کر دیجئے۔ اس سلسلے میں ہماری التجا یہی ہے دعووں کی بجائے کچھ نئے سوالوں پر سمجھوتے سے اس طرح ابتدا کی جائے کہ ان سوالوں کی بنیاد وں میں موجود مفروضوں پر آزادانہ علمی بحث کے ذریعے سنجیدہ اعتراضات اٹھائے جا سکیں۔ ریاست کے خلاف نبرد آزما شدت پسند وں کو اس مکالمے سے مستثنیٰ مانتے ہوئے ،ہم میں سے جو حضرات اس مفروضے پر متفق ہیں کہ قومی ریاست ( نیشن اسٹیٹ) کا مغربی تصور ہمیں کسی شعوری و غیرشعوری اگر مگر کے بغیر آج بھی قابلِ قبول ہے وہ کیوں نہ مل جل کر جدید معاشرت کی پیچیدگیوں کو ایک عالم گیر مذہب کے وارث انسان کے طور پر ہی سمجھنے کی سعی ہی کر لیں؟ہماری تہذیبی جنگیں تجزیاتی میدان میں اپنی ا ہمیت کے باوجود اب محض تصورات کی تاریخ کا ایک مسئلہ ہیں۔ عصرِ حاضر اور مستقبل میں اگر ہم اپنے آپ کو مغربی تہذیب کے مقابل تصور کرنے پر اصرار ہی کرتے رہتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم کچھ بکھرے ہوئے موہوم تصورات کے سامنے کھڑے ہیں جن کی مدد سے ایک مکمل بامعنی تصویر بنانے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔ اس عدم دل چسپی کی سب سے بنیادی وجہ یہ دیوانہ وار اصرار ہے کہ ہمارے پاس پہلے ہی سے ایک مکمل تصویر ہے۔ اگر ایسی کوئی تصویر ہے بھی تو اب اسے دیکھنے والی آنکھ کی ماہیت اتنی بدل چکی ہے کہ اس مطالبے کو وجدانی طور پر تسلیم کر لینے والوں کی نگاہیں بھی محض کچھ آڑھی ترچھی تجریدی لکیروں سے زیادہ دیکھنے سے قاصر ہیں۔لہٰذا اگریہ اب تک کوئی تہذیبی جنگ ہے بھی تو عصرِ حاضر میں ان میں سے ایک تہذیب تو خیر کسی قدیم گمشدہ آدرش کی بگڑی ہوئی حقیقی شکل ہے جبکہ دوسری محض ایک ایک موہوم سا تصوراتی ہالہ۔ حبس ہیں مشرق و مغرب دونوں، اب نہ پچھوا ہے نہ پروائی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

5 thoughts on “مشرق اور مغرب : اب نہ پچھوا ہے نہ پروائی ہے….

  • 01-02-2016 at 9:12 pm
    Permalink

    عاصم بخشی صاحب آپ نے نپے تلے لفظوں میں حقیقی تصویر پیش کرکے فیصلہ پڑھنے والے پر چھوڑ دیا ہے۔ یہ ایک مبسوط و مدلل اور متوازن تحریر ہے جو ہمارے تضادات اور نرگسیت پسندی کا پردہ فاش کرتی ہے۔

    • 01-02-2016 at 9:33 pm
      Permalink

      بہت شکریہ مجاہد صاحب۔

  • 02-02-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    02-02-2016
    محترم عاصم بخشی صاحب
    السلام علیکم!
    میرے ایک عزیز دوست نے تقریباً ایک ماہ قبل آپ کا مضمون”روایتی مسلم ذہن میں الحاد کی غلط تفہیم” پڑھنے کے لئے دیا۔میں آپ کے اِس خیال سے کلی طور پر متفق ہوں کہ فی زمانہ اسلام کی مذہبی سماجی روایت کے سامنے ردعمل کے مباحث ترتیب دینے کا مسئلہ تو سرے سے درپیش ہے ہی نہیں کیوں کہ اِس کا تعلق تو بہرحال کسی نہ کسی طرح مسئلے کے حل سےہے۔ یہاں تو فی الحال مسئلے کے خدو خال پر ہی اتفاق زیرِالتوا ہے۔جب ایسے سوال ہی سامنے موجود نہ ہوں جن پر ایک سماج میں باہمی اتفاق پایا جاتا ہو تو جواب چہ معنی دارد۔ذاتی حوالے سے میرے تجربات بھی روایتی مذہبی لوگوں اور روایتی غیر مذہبی عقلیت پسندوں کے ساتھ آپ سے مختلف نہیں۔
    اتفاق سےمیں نے 2013 میں وہی دستاویزی فلم‘God, the Universe and Everything Else’دیکھی جس کے بعد میں نے اسٹیفن ہاکنگ کو ایک ای میل بھیجی۔بعدازاں2015میں اپنے اُسی عزیز دوست جس نے مجھے آپ کا مضمون دیا تھا،کے اصرار پراپنے26برسوں پر محیط سفر کے نتائجِ فکر کو “اللہ تعالیٰ کا عظیم منصوبہ”کے زیرِعنوان کتابی شکل میں پیش کرنے کا ارادہ کیا۔ اب اسٹیفن ہاکنگ کے نام ای میل کو اور میری کتاب کومیرے “Answering the BIG Questions” Facebook Page پر پڑھا جا سکتا ہے۔
    link
    https://www.facebook.com/Answering-the-Big-Questions-1654842951467956/?ref=hl
    مجھے آپ کی تحریر میں صداقت اور اِخلاص کی مہک محسوس ہوئی ہےاور یہی وہ صفت ہے جو ربِّ کریم کو سب سے زیادہ پسند ہے۔اللہ تعالیٰ آپ پر ہمیشہ اپنی رحمت کا سایہ رکھے۔ آمین۔
    پرویز ہاشمی

    • 02-02-2016 at 8:42 pm
      Permalink

      بہت شکریہ قبلہ پرویز ہاشمی صاحب۔ آپ کی دعائیں اور نیک خواہشات میرے لئے بیش قیمت ہیں۔ میں نے آپ کا خط دیکھا اور کتاب کے متعلق انٹرویو بھی دیکھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی سچی جستجو اور نیک نیتی سے اپنی نادر تفہیم خلقتِ خدا تک پہنچانے کا صلہ عطا فرمائے۔ سلامت رہئے۔

  • 04-02-2016 at 11:11 am
    Permalink

    بخشی صاحب کا پروفائل پسند آیا ہے ۔ کالم بھی اچھے ہیں سوچنے کی دعوت ہے جو کہ بہت ضروری اور قیمتی ہے۔ اختلاف کا حق سب کو ہے اور “ہم سب” پر تو یہ حق ہونا تو اوربھی ضروری ہے

Comments are closed.