اقبال شکنی کی ادبی روایت


پروفیسر فتح محمد ملک کی تازہ ترین تصنیف \’\’انجمن ترقی پسند مصنفین۔۔۔پاکستان میں‘‘ کئی دنوں سے زیر مطالعہ ہے۔ کتاب کیا ہے، ایک نئے جہانِ معنی کی دریافت ہے۔

ادب میں ایک سے زیادہ نظریات مروج ہیں۔ ملک صاحب کا نظریہ واضح ہے۔ ان کے نزدیک اعلیٰ ادب کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے عہد کی تعمیر سے غیر متعلق نہ ہو۔ ادیب اور شاعر کے ہاں تخلیقی عمل کا ظہور ممکن نہیں، اگر واردات ادب بننے سے پہلے اس کے دل پر نہیں گزرتی۔ محض الفاظ کے در و بست کا نام ادب نہیں۔ ملک صاحب کا تمام تنقیدی کام ان کے اس نظریے کا بیان ہے۔ اس باب میں ان کے ہاں جو تسلسل اور فکری نظم ہے، وہ حیران کن ہے۔

پروفیسر فتح محمد ملک کا علمی کام محض تنقید نہیں ہے۔ یہ ایک ادبی نظریے کی اشاعت و ترویج ہے جو اصلاً فکر اقبال کا فیضان ہے۔ اقبال ہماری روایت میں اُس ادب کے سب سے بڑے نمائندہ ہیں جو ایک عہد کے فکری چیلنج سے پھوٹا ہے۔ پاکستان محض جغرافی وحدت کا نام نہیں تھا۔ یہ انسان اور بالخصوص مسلمانوں کے تہذیبی سفر میں ایک سنگ میل ہے۔ قومیت، اشتراکیت، سرمایہ دارانہ نظام۔۔۔۔دنیا نئے نئے آدرشوں کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی۔ اقبال کو بطور شاعر اس سفر میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ یہ کردار ایک مسافر کا نہیں، حدی خواں کا تھا۔ یوں اقبال نے محض ادب تخلیق نہیں کیا ، ایک نیا فلسفۂ ادب بھی پیش کیا۔ بطور نظریہ، یہ فلسفہ نیا نہیں تھا۔ لیکن اقبال نے اس میں نئی معنویت کا اضافہ کیا۔ یہ اجتماعیت کے باب میں، نئے تجربات کی روشنی میں فکر اسلامی کی تشکیلِ نو ہے۔ پاکستان اس سارے عمل کے لیے ایک تجربہ گاہ بننے والا تھا۔

پروفیسر فتح محمد ملک کے تنقیدی شعور نے انہیں اس عمل کا حصہ بننے پر مجبور کیا۔ یوں انہوں نے ادبی فن پاروں کے جمالیاتی پہلو ہی کو اپنا موضوع نہیں بنایا، یہ جاننے کی بھی سعی کی کہ غالب، سرسید اور اقبال کے بعد جنم لینے والا ادب، اپنے عہد کے شعور سے کس حد تک بہرہ مند ہے۔ اسی باب میں، وہ ہماری روایت سے جو کچھ دریافت کر کے لائے، وہ حیرت انگیز ہے۔ ن م راشد، سعادت حسن منٹو اور فیض صاحب کے تخلیقی کام پر ان کی تحقیق اور تنقید معرکہ آراء ہے۔ یہ ان ادبی شخصیات کی بازیافت ہے۔ ملک صاحب کے تحقیقی کام سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ان شخصیات کی درست تفہیم نہیں ہوئی۔ اسی نظری تسلسل میں، اب انہوں نے اس فکری معرکے کی بھی تفہیم نو کی ہے جو انجمن ترقی پسند مصنفین کے قیام سے برپا ہوئی اور اس نے ہمارے نظریاتی افق کا احاطہ کر لیا۔ ملک صاحب کی اس کتاب کا ذیلی عنوان ہے ۔

\’\’اسلامی روشن خیالی اور اشتراکی ملائیت‘‘۔ یہ عنوان اس نئی معنویت پر ناطق ہے۔

پاکستان میں پروان چڑھنے والی ادبی روایت کو ہم عام طور پر دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ترقی پسند ادب اور اسلامی ادب۔ اس کا پس منظر عالمی سطح پر برپا وہ فکری انتشار تھا جس نے دنیا کو سرمایہ دارانہ اور اشتراکی تصورات میں منقسم کر دیا۔ مغرب اور سوویت یونین نے اُن کے پرچم اٹھالیے۔دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم اسی پس منظر میں سامنے آئی۔ اسلامی ادب کا ہدف اشتراکی نظریہ تھا۔ اسی وجہ سے طویل عرصہ تک اسلام پسندوں کو امریکہ نواز ہونے کا طعنہ سننا پڑا۔ لوگ عام طور پر معاملات کی سادہ تفہیم کے قائم ہوتے ہیں، صد بش کی طرح۔ اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں تو پھر لازماً دہشت گردوں کے ساتھ ہیں۔ یا پھر جنرل ضیاالحق کی طرح: اگر آپ اسلام چاہتے ہیں تو اس کا ناگزیر نتیجہ یہ ہے کہ میں پانچ سال کے لیے ملک کا صدر ہوں۔ اب آپ کے پاس یہ انتخاب نہیں کہ آپ اسلام کو چاہیں اور جنرل صاحب کا انکار کریں یا امریکہ کے استعماری عزائم کو مسترد کریں اور ساتھ دہشت گردی کو بھی۔کچھ ایسا ہی معاملہ دائیں بائیں کی تقسیم کے دوران بھی ہوا۔ اگر آپ اشتراکیت کے ناقد ہیں تو لازماً جماعت اسلامی میں ہیں اور اگر آپ نے ترقی پسندی کی کوئی بات کہہ دی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اشتراکی ہیں۔ اسی تقسیم میں سوشلزم کفر قرار پایا۔

پروفیسر فتح محمد ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ تقسیم بے معنی ہے۔ ترقی پسند ہونے کا مطلب لازماً اشتراکی ہونا نہیں ہے۔ حسرت موہانی اور اقبال بھی ترقی پسند تھے، جبکہ ان کا فکری ماخذ اسلام ہے۔ روس کے زیر اثر وجود میں آنے والی انجمن ترقی پسند جو خود کوعالمی اشتراکی تحریک کا حصہ سمجھتی تھی، اس کاا یجنڈا روسی نظریے اور عزائم کا فروغ تھا۔ اس کے عالمگیر تصورِ انقلاب میں پاکستان کا قیام ایک بے معنی عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جب اس کی داغ بیل ڈالی گئی تو یہ اس انجمن ہی کا ایک باب تھا جس نے ہندوستان میں جنم لیا، کانگرس کے سیاسی مسلک کو قبول کیا اور اسے پاکستان میں بھی پھیلانے کی کوشش کی۔

ملک صاحب نے اس حوالے سے سجاد ظہیر کا جو کردار بیان کیا ہے وہ چونکا دینے والا ہے۔ ابتدا میں ہندوستان کی کمیونسٹ پارٹی مسلمانوں کے حق ِخودا رادی کو تسلیم کرتی تھی، لیکن سجاد ظہیر تقسیم کو بٹوارا سمجھتے تھے۔انہوں نے تحریکِ پاکستان کے دنوں میں متحدہ قومیت کے تصور کی حمایت کی۔ ملک صاحب بتاتے ہیں کہ انہیں خفیہ طور پر بھارت سے پاکستان کی کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنا کر بھیجا گیا۔ وہ لکھتے ہیں :\’\’سجاد ظہیر پاکستان میں اپنے قیام کے دوران روپوش رہے۔ روپوشی کے اس عالم میں کمیونسٹ پارٹی اور انجمن ترقی پسند مصنفین میں سازشوں کے جال بننے میں مصروف رہے۔ ان سازشوں میں سب سے بڑی اور آخری سازش پاکستان میں منتخب قومی حکومت کا تختہ الٹنے کی پہلی کوشش ہے جسے \’\’راولپنڈی سازش1951ء ‘‘کے نام سے موسوم کیا جا تا ہے۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کا ایک مقصد اقبال شکنی بھی قرار پایا۔ مذہب چونکہ کسی صورت گورا نہیں تھا، اس لیے اقبال کا مذہبی تشخص انہیں ترقی پسند ماننے کی راہ میں حائل ہو گیا۔ ادبی تاریخ کی اس سادہ تفہیم میں، ہمارے ہاں فیض صاحب کو بھی ان کی اشتراکیت پسندی کے سبب روس کے زیر اثر جنم لینے والی اس ترقی پسند تحریک ہی کا حصہ سمجھا گیا۔ ملک صاحب نے اس کو بھی رد کیا ہے۔ ملک صاحب فیض صاحب صاحب کی ایک عبارت نقل کرتے ہیں: \’\’1949ء میں حکم ہوا کہ علامہ اقبال کو demolishکریں۔۔۔۔ پھر ایک روز مظہر علی خان کے گیراج میں انجمن کی میٹنگ ہوئی۔ صفدر میر صدر تھے۔ قاسمی صاحب نے علامہ اقبال کے خلاف ایک بھر پور مقالہ پڑھا۔ ہمیں بہت رنج اور صدمہ ہوا۔ ہم نے اعتراض کیا یہ کیا تماشا ہے۔ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ یہ تو سکہ بند قسم کی بے معانی انتہا پسندی ہے۔ ہماری نہ مانی گئی۔ ہم بہت دل برداشتہ ہوئے۔ اس کے بعد انجمن کی محفلوں میں شریک نہ ہوئے‘‘۔

احمد ندیم قاسمی کے جس مقالے کا یہاں ذکر ہے، اس کا ایک حصہ عبداللہ ملک نے مرحوم کی روایت سے اس کتاب میں نقل کیا ہے۔ ندیم صاحب کے فکری ارتقا کا یہ ایک مرحلہ ہے، ورنہ انہوں نے اقبال کو اپنا مرشد مانا اور اسلام کے ماخذ سے کسبِ فیض کو اپنا ادبی مسلک قرارد یا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کو دہریت کے اثرات سے آزاد کرنے کی کوشش کی جب وہ اس کے سیکرٹری جنرل بنے۔ فیض صاحب اور ندیم صاحب کے ادبی مسلک اور نظریات کو سمجھنے کے لیے فتح محمد ملک صاحب کی کتب \’\’فیض۔۔۔شاعری اور سیاست‘‘ اور\’\’ندیم شناسی‘‘ کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

کالم تما م ہوا لیکن اس کتاب کے مباحث باقی ہیں۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے پاکستان کے پس منظر میں جس ادبی وعلمی شعور کی آبیاری کی ہے، شناخت کے قومی سفر میں اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔کم لوگ ہوں گے جنہوں نے اقبال کے فکری سفر کو اس ریاضت اور والہانہ پن کے ساتھ آگے بڑھایا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

One thought on “اقبال شکنی کی ادبی روایت

  • 09/11/2016 at 9:45 pm
    Permalink

    سجاد ظہیر صاحب کی روپوشی یا زمین دوزی کا کہا جاتا ہے کہ یہ حال تھا کہ لوگ ان سے ملنے لاہور جم خانہ کلب چلے جایا کرتے تھا۔ راولپنڈی سازش میں ایک صاحب اکبر خان بھی تھے، پتہ نہیں ملک صاحب نےانکے بارے میں کیا لکھا ہے۔ اور ملک اور ندیم صاحب اقبال کے اس شعر کی کیا ترجمانی کرتے ہیں : آن کلیم بے تجلی، آن مسیح بےصلیب + نیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتاب۔ کمیونسٹ پارٹی نے غلط یا صحیح پاکستان کی تشکیل کی حمایت کی تو تھی۔ جماعت اسلامی نے کیا کیا تھا اور کیوں؟ ملک صاحب کو اب ادھر بھی توجہ کرنی چاہئے۔ ترقی پسندوں کو کوسنا تو اس وقت وہی مثال ہے کہ موئے کو ماریں شاہ مدار۔

Comments are closed.